Bihar Board Class 12 Kahkashan Chapter 12 Solutions Guftagu, گفتگو

اردو نظم کی جدید تحریک مغرب کی تعلیم و فکر اور سرسید تحریک کے اثرات کے زیر اثر اُبھری۔ 1865 میں محکمہ تعلیم، حکومت پنجاب نے انجمن پنجاب قائم کی تاکہ علم و ادب کی فروغ کی جائے، اور محمد حسین آزاد کی نظامت میں اس میں جان پڑی۔ 1867 اور 1874 میں محمد حسین آزاد نے تعلیم اور نظم و ادب کے موضوعات پر لکچر دیے، خاص طور پر 19 اپریل 1874 کو ان کی نظم شب قدر اردو کی پہلی جدید نظم قرار دی گئی۔ حالی، محمد حسین آزاد اور اسماعیل میرٹھی نے اپنی تخلیقات کے ذریعے اردو نظم میں رجحان پیدا کیا۔ بعد میں ڈپٹی نذیر احمد، شبلی نعمانی، عبدالحلیم شر اور اکبرالہ آبادی نے اس صنف کو مزید فروغ دیا۔

بیسویں صدی میں اقبال نے نظم میں ہیئت اور موضوع کے لحاظ سے واضح تبدیلیاں کیں اور عالمانہ موضوعات پر تجربات کیے۔ ترقی پسند تحریک کے دوران جوش ملیح آبادی، فیض احمد فیض، مجاز، علی سردار جعفری، جمیل مظہری اور دیگر شعرا نے قومی، سماجی اور سیاسی مسائل پر نظم گوئی کو نئی بلندی دی۔ حلقہ ارباب ذوق کے شعرا جیسے ن.م. راشد، میراجی اور اختر الایمان نے اردو جدید نظم میں اہم کردار ادا کیا۔

جدید دور میں نثری نظم کو بھی الگ صنف کے طور پر تسلیم کیا گیا اور شاعرہ جات جیسے شفیق فاطمہ شعریٰ، پروین شاکر، فہمیدہ ریاض وغیرہ نے اردو نظم میں نیا رنگ بھرا۔ آج بھی اردو نظم دانشورانہ فکر کے اظہار کے لیے سب سے مؤثر اور معتبر صنف مانی جاتی ہے، جس نے موضوع، ہیئت اور زبان کے لحاظ سے مسلسل ارتقا پایا۔

علی سردار جعفری
نومبر 29، 1913 کو علی سردار جعفری، بلرام پور (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔ لکھنو، دہلی اور علی گڑھ کے اسکولوں اور کالجوں میں انہوں نے تعلیم مکمل کی۔ ترقی پسند تحریک کے ابتدائی رہنماؤں میں انہیں شمار کیا جاتا ہے۔ آزادی کے بعد جب سجاد ظہیر پاکستان چلے گئے، تو انہیں انجمن ترقی پسند مصنفین کا جنرل سکریٹری بنایا گیا۔ بعد میں وہ اس کے ترجمان اور نیا ادب کے مدیر بھی بنے۔ کافی عرصہ بعد انہوں نے گفتگو نام سے ایک رسالہ نکالا جس کا ضخیم ترقی پسند ادبی نمبر بہت مشہور ہوا۔

سردار جعفری نے اپنی ادبی زندگی افسانہ لکھنے سے شروع کی۔ 1938 میں ان کے افسانوں کا مجموعہ منزل شائع ہوا۔ پھر وہ شاعری کی طرف راغب ہو گئے۔ پرواز (1943)، خون کی لکیر (1949)، پتھر کی دیوار (1953)، ایک خواب اور (1964)، پیراہن (1965)، اور لہو پکارتا ہے (1978) ان کے اہم شعری مجموعے ہیں۔ ایشیا جاگ اٹھا (1951) اور نئی دنیا کو سلام (1964) ان کی طویل نظمیں ہیں، جو ان کے تجرباتی ذہن کا پتہ دیتی ہیں۔ شاعری میں جعفری نے پابند اور آزاد دونوں طرح کی نظمیں کہیں، لیکن آزاد نظم کا انداز انہیں زیادہ پسند تھا اور اسی انداز میں انہوں نے بہترین شاعری دی۔

سردار جعفری مسلسل تنقیدی مضامین لکھتے رہے۔ ترقی پسند تحریک کے دور میں ترقی پسند ادب (1953) کے عنوان سے انہوں نے ایک کتاب لکھی۔ بعد میں یہ سلسلہ جاری رہا۔ لکھنو کی پانچ راتیں (1965)، اقبال شناسی، پیغمبران بخن (1970) ان کی مشہور تنقیدی کتابیں ہیں۔ انہوں نے غالب، کبیر اور میر کے کلام کو اردو اور ہندی میں الگ الگ شائع کیا اور ان کے فن پر تفصیلی مقدمے بھی لکھے۔ میرانیس پر بھی سردار جعفری کا مضمون اہمیت رکھتا ہے۔

سردار جعفری ہندستان اور ایشیا میں ترقی پسند ادیبوں کے نمایندہ کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ان کی شخصیت ترقی پسندوں میں قابلِ احترام تھی۔ یکم اگست 2000 کو ان کا انتقال ہوا۔ انہیں پدم شری (1967)، بھارتیہ گیان پیٹھ (1997) اور اقبال سمان جیسے اہم ایوارڈ بھی ملے۔

یہ نظم گفتگو انسانی تعلقات، محبت اور ہم آہنگی کی ترجمانی کرتی ہے۔ شاعر چاہتا ہے کہ گفتگو کبھی ختم نہ ہو اور بات بات میں رشتہ مضبوط ہو۔ شب و روز کی ملاقاتوں، لمحوں اور اشاروں کے ذریعے محبت کا اظہار جاری رہے۔ نظم میں لفظوں کی طاقت، طنز اور جذبات کے تضاد کو دکھایا گیا ہے، مگر آخر کار محبت اور اتحاد غالب ہیں۔ شاعر کا خیال ہے کہ لفظوں کی ضرورت کم ہو جائے گی، کیونکہ آنکھوں، ابروؤں اور اشاروں میں ہی محبت کی بات ہو جائے گی۔ نفرت اور دشمنی کی راہیں محبت اور ہم آہنگی سے بدل جائیں گی، اور انسان ایک دوسرے کے قریب ہوں گے، ہاتھ میں ہاتھ لیے اور پیار کی سوغات لیے۔

اس نظم میں شاعر نے گفتگو اور محبت کی اہمیت کو بہت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ بات چیت کبھی رکے نہ، کہ ہر لمحہ ایک دوسرے کے احساسات اور جذبات کو سمجھنے کا ذریعہ بنے۔ شاعر نے دکھایا ہے کہ الفاظ میں طاقت ہے، لیکن بعض اوقات الفاظ زہر یا طنز بھی بکھیر سکتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ان کا استعمال محبت اور نرمی کے ساتھ ہو۔ نظم میں رات اور تاروں کا ذکر اس بات کی علامت ہے کہ محبت اور گفتگو رات بھر جاری رہیں، اور خاموشی میں بھی احساس اور پیار کا اظہار ممکن ہو۔ شاعر نے کہا ہے کہ ایک دن ایسا آئے گا جب لفظوں کی ضرورت کم ہو جائے گی، کیونکہ محبت صرف اشاروں، نظریں اور جذبات سے بھی بیان ہو سکے گی۔ نفرت، دشمنی اور فاصلے محبت کے ساتھ ختم ہو جائیں گے، اور انسان ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر امن، رفاقت اور پیار کی دنیا قائم کریں گے۔ آخر میں نظم یہ پیغام دیتی ہے کہ محبت، گفتگو اور ہم آہنگی انسان کی زندگی کو خوشیوں سے بھر سکتی ہے اور ہر رشتہ مضبوط کر سکتی ہے۔

الف) 1865
ب) 1867
ج) 1874
د) 1888

الف) 1865
ب) 1867
ج) 1874
د) 1913

الف) موضوعاتی اور بیانی امکانات
ب) غزل کے قافیہ
ج) نثر نظم کے اصول
د) شاعرانہ قاعدے

الف) لکھنو
ب) دہلی
ج) بلرام پور، اتر پردیش
د) علی گڑھ

الف) پرواز
ب) خون کی لکیر
ج) پتھر کی دیوار
د) ایک خواب اور

الف) 1938
ب) 1949
ج) 1953
د) 1965

الف) سیاست
ب) تعلیم اور شعر و ادب
ج) مذہب
د) سائنس

الف) 1938
ب) 1943
ج) 1949
د) 1951

الف) پابند نظم
ب) آزاد نظم
ج) غزل
د) نثر نظم

الف) بھارتیہ گیان پیٹھ
ب) پدم شری
ج) اقبال سمان
د) نوبل انعام

جواب ۔ گفتگو نظم شفیق فاطمہ شعریٰ کی لکھی ہوئی ہے۔

جواب۔ یہ نظم کسی خاص شخص کے نام نہیں بلکہ عمومی محبت اور بات چیت کے جذبات کو پیش کرتی ہے، شاعر نے اسے “گفتگو” کا عنوان دیا ہے۔

جواب۔ شام ملاقات صبح تک چلے گی، یعنی رات بھر جاری رہے گی۔

جواب۔ الفاظ کے ہاتھوں میں “سنگ دشنام” ہے، یعنی وہ بعض اوقات زہر یا تنقید کے جام بھی چھلکاتے ہیں۔

جواب۔ طنز زہر کے جام کی طرح چھلکتا ہے، یعنی سخت اور تلخ اثر رکھتا ہے۔

جواب۔ ترش ابروئے خم دار کی مراد سخت نظریں یا سنجیدہ، تھوڑا تلخ رویہ ہے جو جذبات اور احساسات کو ظاہر کرتا ہے۔

جواب۔ صرف غنچوں کے چنکنے کی صدا آتی ہے، جو نظم میں سکون اور فطرت کی آواز کو ظاہر کرتی ہے۔

جواب۔ ہاں، نظم میں ذکر ہے کہ “تحفۂ درد لیے پیار کی سوغات لیے” یعنی محبت اور احساسات کو ایک تحفے یا سوغات کی طرح پیش کیا گیا ہے۔

جواب۔ تاروں بھری رات ہنستی ہوئی اور بات چیت کے ساتھ چلتی ہے، یعنی خوش مزاج اور محبت بھری ماحول میں گزرتی ہے۔

صبح تک ڈھل کے کوئی حرف وفا آئے گا

عشق آئے گا بہ صد لغزش پا آئے گا

نظریں جھک جائیں گی ، دل دھڑ کیں گے ، لب کانپیں گے

خامشی بوسئہ لب بن کے مہک جائے گی

صرف غنچوں کے چٹکنے کی صدا آئے گی

حرفِ وفا کا مطلب ہے ایماندار یا سچا پیغام، یعنی محبت یا وفاداری کا اظہار کرنے والا لفظ۔ اقتباس کے مطابق یہ حرف صبح تک آئے گا، یعنی رات کے بعد، اور یہ وفاداری یا محبت کے جذبات کے ساتھ نرمی اور خلوص کے انداز میں پہنچے گا۔ یہ کسی تنقید یا طنز کے بغیر، مخلصانہ انداز میں آئے گا اور خاموشی میں محبت کی خوشبو پیدا کرے گا۔

عشق آئے گا “بصد لغزش پا” یعنی ہلکے قدموں یا نرم انداز میں آئے گا۔ لغزش پا کا مطلب ہے دھیرے اور محتاط قدموں سے آنا، جیسے بغیر شور کے محبت کی آمد۔ یہ بتاتا ہے کہ عشق آہستہ، نرمی سے اور حساس انداز میں دل میں داخل ہوگا، جس سے دل دھڑکیں گے، نظریں جھکیں گی اور لب کانپیں گے، یعنی محبت کے اثرات خاموش لیکن گہرے ہوں گے۔

نظم گفتگو محبت اور انسانی تعلقات کی گہرائی کو بیان کرتی ہے۔ شاعر نے خواہش ظاہر کی ہے کہ بات چیت کبھی ختم نہ ہو اور الفاظ اور جذبات کے ذریعے ایک دوسرے کی نفسیات اور احساسات کو سمجھا جائے۔ نظم میں خاموشی اور اشاروں کے ذریعے محبت کے اظہار کی بھی بات کی گئی ہے۔ شاعر اس بات پر زور دیتا ہے کہ محبت میں نفرت اور رنجش ختم ہو جائیں، اور انسان ایک دوسرے کے ساتھ مکمل ہم آہنگی اور الفت کے ساتھ زندگی گزاریں۔ شاعر رات کی خوبصورتی اور تیز روشنیوں کے ذریعے جذبات کی شدت کو نمایاں کرتا ہے اور محبت کے نازک، نرم اور پراثر پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔

تحفہ درد لیے پیار کی سوغات لیے

ریگ زاروں سے عداوت کے گزر جائیں گے

خوں کے دریاؤں سے ہم پار اتر جائیں گے

اقتباس کی تشریح
اس اقتباس میں شاعر محبت اور اتحاد کی علامت بیان کر رہا ہے۔ “ہاتھ میں ہاتھ لیے سارا جہاں ساتھ لیے” سے مراد ہے کہ محبت اور ہم آہنگی کے ذریعے انسانوں کے درمیان اتحاد قائم ہوگا۔ “تحفہ درد لیے پیار کی سوغات لیے” کا مطلب ہے کہ محبت میں ایک دوسرے کے دکھ اور درد کو سمجھنا اور اسے قبول کرنا، اور یہ قبولیت محبت کی خوبصورتی کو بڑھاتی ہے۔ “ریگزاروں سے عداوت کے گزر جائیں گے” اور “خوں کے دریاؤں سے ہم پار اتر جائیں گے” کا مطلب ہے کہ محبت اور انسانی ہم آہنگی اتنی طاقتور ہوگی کہ تمام دشواریوں، رنجشوں اور مشکلات کو عبور کر لیا جائے گا۔ اس میں انسانیت، صلح اور امن کے پیغام کو بہت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔

نظم گفتگو میں شاعر نے انسانی تعلقات، محبت اور جذبات کی گہرائی کو بیان کیا ہے۔ شاعر کا بنیادی خیال یہ ہے کہ گفتگو اور بات چیت کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہو بلکہ رات بھر جاری رہے تاکہ دل و دماغ کے پوشیدہ احساسات ایک دوسرے تک پہنچ سکیں۔ شاعر الفاظ، اشاروں، خاموشی اور ہلکے لمس کے ذریعے محبت کے اظہار کو اہمیت دیتا ہے۔ نظم میں دکھ اور رنجش کے خاتمے، محبت اور ہم آہنگی کے قیام، اور انسانوں کے درمیان اتحاد کے خیالات بھی موجود ہیں۔ شاعر یہ دکھاتا ہے کہ محبت کی طاقت اتنی ہے کہ وہ نفرت، دشمنی اور رنجش کو عبور کر کے دلوں کو قریب کر دیتی ہے، اور انسان ایک دوسرے کے درد اور خوشی میں شریک ہو سکتے ہیں۔ اس طرح نظم گفتگو محبت، تعلق اور انسانی ہم آہنگی کا گہرا فلسفہ پیش کرتی ہے۔

تصویری زبان: شاعر نے رات، تارے، چمکتے غنچے اور بوسے جیسے عناصر کے ذریعے محبت کے جذبات کو تصویری انداز میں پیش کیا ہے۔

رمزی اظہار: الفاظ اور اشاروں کے ذریعے جذبات کو بیان کرنا ایک خوبصورت رمز ہے۔ شاعر نے محبت اور ہم آہنگی کو واضح کرنے کے لیے علامتوں اور استعاروں کا بھرپور استعمال کیا ہے۔

رنگ و موسیقی: نظم میں تکرار اور قافیہ بندی کے ذریعے موسیقائی تاثر پیدا کیا گیا ہے، جیسے “گفتگو بند نہ ہو، بات سے بات چلے”۔

جذبات کی شدت: شاعر نے محبت کے تمام پہلو—عشق، انتظار، درد، سکون—کو بھرپور اور جامع انداز میں پیش کیا ہے۔

اخلاقی اور انسانی پیغام: محبت کی طاقت سے نفرت اور رنجش ختم کرنے کا تصور نظم کو اخلاقی اور فکری پہلو دیتا ہے۔

سردار علی سردار جعفری اردو کے ترقی پسند شعرا میں شامل ہیں اور ان کی شاعری میں انسانیت، محبت، سماجی انصاف اور آزادی کے موضوعات نمایاں ہیں۔ ان کی شاعری میں آزاد نظم کا سانچہ غالب ہے اور وہ پابند اور آزاد دونوں طرح کی نظمیں لکھتے رہے۔ ان کے شعری مجموعے جیسے پرواز، خون کی لکیر، پتھر کی دیوار، ایک خواب اور، پیراہن اور لہو پکارتا ہے ان کے تجرباتی ذہن اور معاشرتی فکر کی عکاسی کرتے ہیں۔ سردار جعفری نے طویل نظموں میں تجربات، سماجی و سیاسی حالات، اور انسانی جذبات کو گہرائی سے بیان کیا ہے۔ ان کی شاعری میں آزادی، مساوات اور انسانیت کے موضوعات کی جھلک واضح نظر آتی ہے، اور یہ ترقی پسند تحریک کے ادبی ماحول کی عکاس ہے۔ مجھے ان کی شاعری میں زندگی کی حقیقتوں، انسانی احساسات اور سماجی مسائل کے گہرے شعور سے روشناس ہونے کا موقع ملا ہے، جو انہیں اردو ادب کے ممتاز اور نمایاں شاعر بناتا ہے۔

This post examines the Bihar Board Class 12 Kahkashan Chapter 12, Guftagu, which explores the evolution of modern Urdu poetry, Ali Sardar Jafri’s life, his literary contributions, and the poem’s themes of love, dialogue, and human harmony.

Scroll to Top