اکبر الہ آبادی
اکبر، جن کا پورا نام اکبر حسین تھا، اکتوبر 1845 میں بارہ ضلع الہ آباد میں پیدا ہوئے۔ کچھ لوگوں نے ان کی پیدائش 1846 لکھی ہے، جو صحیح نہیں۔ ان کے دادا کا نام سید فضل محمد اور والد کا نام تفضل حسین تھا۔ اکبر کے خاندان والے دنیاوی شان و شوکت والے تھے، لیکن ان کو تعلیم کا بھی شوق تھا۔ گھر کا ماحول مذہبی تھا، مگر انگریزی تعلیم یا انگریزوں سے زیادہ تعصب نہیں تھا۔
اکبر کا بچپن داؤ دیگر اور سورام میں گزرا۔ 1856 میں، جب ان کی عمر گیارہ سال تھی، ان کے والدین الہ آباد میں آباد ہو گئے۔ یہاں اکبر کا داخلہ ایک مشن اسکول میں ہوا۔ اس سے پہلے وہ گھر پر اردو، فارسی، انگریزی، عربی اور ریاضی کی ابتدائی کتابیں پڑھ چکے تھے۔ اسکول میں داخلے کے ایک سال بعد ہی غدر شروع ہو گیا۔ غدر کے بعد اکبر کے خاندان کی مالی حالت ٹھیک نہیں رہی، اس لیے اکبر اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ سکے اور کام کرنے لگے۔ اکبر نے شروع میں کئی چھوٹی ملازمتیں کیں، جیسے درخواستیں لکھنا، سر رشتہ داری، نائب تحصیل داری، عسل خوانی وغیرہ۔ بعد میں انہوں نے وکالت کا امتحان پاس کیا اور وکیل بن گئے۔ وہ منصف بھی تھے اور حج بھی گئے۔ الہ آباد میں عدالت میں کام کرتے ہوئے دسمبر 1903 میں ریٹائر ہوئے۔ ان کی عدالتی خدمات کے بدلے 1898 میں انہیں خان بہادر کا خطاب ملا۔
ریٹائرمنٹ کے بعد اکبر کی زندگی مشکلات میں گزری۔ وہ کئی بیماریاں بھی لے بیٹھے۔ اکتوبر 1910 میں ان کی بیوی کا انتقال ہو گیا۔ 1913 میں ان کا بیٹا ہاشم، جسے وہ بہت چاہتے تھے، تیرہ سال کی عمر میں فوت ہو گیا۔ ان صدموں سے اکبر بہت اداس ہو گئے۔ ان کی زندگی میں جینے کی خوشی باقی نہیں رہی۔ 9 ستمبر 1921 کو ان کا انتقال ہوا۔ اکبر اودھ بیچ کے نورتنوں میں تھے۔ انہوں نے شاعری کے ساتھ ساتھ ہنسی مذاق والے مضامین بھی لکھے۔ اردو ادب میں وہ اپنی ظریفانہ شاعری کی وجہ سے مشہور ہوئے۔ ان کا ایک بڑا کلیات موجود ہے، جس میں ان کے چار دواوین شامل ہیں۔
برق کلیسا نظم کا خلاصہ
اکبر الہ آبادی کی نظم “برق کلیسا” حسن، کشش اور انسانی ضعف و معاشرتی خامیوں کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔ اس نظم میں شاعر نے جمالیاتی حسن کے مختلف پہلوؤں کو نہایت باریک بینی سے بیان کیا ہے۔ زلفوں کی پیچیدگی، آنکھوں کی فتنہ انگیزی، گالوں کی درخشانی، آواز کی دلکشی اور چال و اطوار سب انسانی دل و دماغ پر اثر ڈالنے کی قوت رکھتے ہیں۔ شاعر کے نزدیک حسن محض ظاہری جمال نہیں بلکہ یہ انسانی جذبات، شوق اور نفسیاتی ردعمل پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔
نظم میں دلکشی اور جمال کی طاقت کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ یہ انسانی ضبط، عزم اور حتیٰ کہ طاقتور و عقل مند افراد پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔ شاعر نے دکھایا ہے کہ حسن اور کشش انسان کو جھکا سکتی ہیں، اور کبھی کبھار انسانی ارادوں کو کمزور بھی کر سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ نظم میں معاشرتی اور اخلاقی نقائص پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ شاعر نے مسلمانوں میں ظاہری عبادت، اصولوں اور جہاد کے نام پر ہونے والے اعمال پر تنقیدی نظر ڈالی ہے۔ وہ دکھاتے ہیں کہ اکثر لوگ صرف شکل و صورت سے نیک دکھائی دیتے ہیں، لیکن حقیقت میں ان کی رگوں میں برائی اور غیر اخلاقی رویے موجود ہوتے ہیں۔ اسی طرح ظالم اور طاقتور لوگ اکثر نیک اور سچے افراد پر حاوی ہو جاتے ہیں، جبکہ اہل اور نیک لوگ نقصان اٹھاتے ہیں۔
اکبر الہ آبادی نے نظم میں حسن و جمال کے اثرات کو معاشرتی اور انسانی حقیقتوں سے جوڑا ہے۔ انہوں نے ظریفانہ انداز، سنجیدگی اور مزاح کا خوبصورت امتزاج استعمال کیا ہے۔ شاعر کے نزدیک جمالیاتی کشش نہ صرف دل کو لبھاتی ہے بلکہ انسانی رویوں اور اخلاقی اصولوں پر بھی اثر ڈالتی ہے۔
آخر میں نظم کا پیغام واضح ہے کہ حسن و کشش انسان پر طاقتور اثر ڈال سکتی ہے، لیکن دنیا میں اخلاقی اور معاشرتی خامیاں موجود ہیں۔ “برق کلیسا” ایک ایسی نظم ہے جو جمالیاتی حسن کے ذریعے انسانی ضعف اور سماجی برائیوں کی نشاندہی کرتی ہے اور قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔
معروضی سوالات
سوال 1۔ اکبر الہ آبادی کا پورا نام کیا تھا؟
الف) اکبر حسین
ب) اکبر احمد
ج) اکبر خان
د) اکبر علی
جواب ۔ الف) اکبر حسین
سوال 2۔ اکبر الہ آبادی کہاں پیدا ہوئے؟
الف) لکھنؤ
ب) بارہ ضلع الہ آباد
ج) مرادآباد
د) اودھ
جواب ۔ ب) بارہ ضلع الہ آباد
سوال 3۔ اکبر الہ آبادی نے کس پیشے میں کام کیا؟
الف) استاد
ب) وکیل اور منصف
ج) فوجی
د) تاجر
جواب ۔ ب) وکیل اور منصف
سوال 4۔ اکبر الہ آبادی نے اپنی عدالتی خدمات کے بدلے کون سا خطاب حاصل کیا؟
الف) شہزادہ
ب) خان بہادر
ج) نصیرالدین
د) امرالدین
جواب ۔ ب) خان بہادر
سوال 5۔ نظم “برق کلیسا” میں شاعر نے کس چیز کی تعریف کی ہے؟
الف) دولت اور طاقت
ب) حسن، شوخی اور دلکشی
ج) مذہبی عبادات
د) علم اور کتابیں
جواب ۔ ب) حسن، شوخی اور دلکشی
سوال 6۔ نظم “برق کلیسا” میں شاعر نے مسلمانوں کی کس عادت پر تنقید کی ہے؟
الف) علم حاصل کرنے کی عادت
ب) ظاہری عبادت اور جہاد کے اعمال
ج) تجارت کرنے کی عادت
د) شاعری لکھنے کی عادت
جواب ۔ ب) ظاہری عبادت اور جہاد کے اعمال
سوال 7۔ نظم “برق کلیسا” میں کس کا ذکر جمالیاتی اثرات کے لیے آیا ہے؟
الف) طاقتور حکمران
ب) کسی خاتون یا حسن
ج) قدرتی مناظر
د) شاعر خود
جواب ۔ ب) کسی خاتون یا حسن
سوال 8۔ اکبر الہ آبادی کی وفات کب ہوئی؟
الف) 9 ستمبر 1921
ب) اکتوبر 1910
ج) 1913
د) دسمبر 1903
جواب ۔ الف) 9 ستمبر 1921
سوال 9۔ اکبر الہ آبادی نے اپنی شاعری کے ساتھ ساتھ اور کیا لکھا؟
الف) تاریخی کتابیں
ب) ظریفانہ مضامین
ج) دینی رسائل
د) سفرنامے
جواب ۔ ب) ظریفانہ مضامین
سوال 10۔ نظم “برق کلیسا” میں شاعر کے مطابق حسن اور کشش کس پر اثر ڈال سکتی ہیں؟
الف) صرف جسم پر
ب) دل، دماغ اور انسانی رویوں پر
ج) صرف سماجی رتبے پر
د) صرف سیاست پر
جواب ۔ ب) دل، دماغ اور انسانی رویوں پر
آپ بتائیے
سوال 1۔ اکبر الہ آبادی کسی طرح کے شاعر تھے؟
جواب ۔ اکبر الہ آبادی ایک ظریفانہ شاعر تھے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں حسن، شوخی، ناز و نخرے اور معاشرتی حقیقتوں کو بڑے خوبصورت انداز میں بیان کیا۔ ان کی شاعری میں مزاح اور سنجیدگی کا امتزاج ہوتا تھا۔
سوال 2۔ اکبر کسی پرچے کے نورتنوں میں شمار ہوتے تھے؟
جواب ۔ اکبر الہ آبادی اودھ بیچ کے نورتنوں میں شمار ہوتے تھے۔ یہ لقب ان کی علمی، ادبی اور فنکارانہ خدمات کے اعزاز میں دیا گیا۔
سوال 3۔ نظم “برق کلیسا” کے خالق کا نام بتائیں۔
جواب ۔ نظم “برق کلیسا” کے خالق اکبر الہ آبادی ہیں۔ یہ نظم ان کی ظریفانہ شاعری اور جمالیاتی حسن کی تصویر کشی کے لیے مشہور ہے۔
سوال 4۔ شاعر کو مس کہاں ملی؟
جواب ۔ شاعر کو مس کلیسا میں ملی۔ نظم کے ابتدائی مصرعوں میں شاعر نے رات کے وقت کلیسا میں ہونے والے مناظر اور حسن و شوخی کے اثرات کا ذکر کیا ہے۔
سوال 5۔ شاعر نے اس نظم میں “گلشن فطرت کی بہار” کے کہا ہے؟
جواب ۔ شاعر نے “گلشن فطرت کی بہار” کے الفاظ اس لیے کہے تاکہ دولت، عزت اور ایمان کو اس قدرتی حسن کے ساتھ مربوط کر کے اپنے جذبات اور عقیدت کا اظہار کریں۔
سوال 6۔ دولت و عزت و ایمان کس کے قدموں پہ شاعر نثار کرنا چاہتا ہے؟
جواب ۔ شاعر دولت، عزت اور ایمان کو گلشن فطرت کے قدموں پر نثار کرنا چاہتا ہے، یعنی وہ اپنی زندگی کی خوشیاں اور عقیدت قدرت اور فطرت کی خوبصورتی کے ساتھ وابستہ کرنا چاہتے ہیں۔
سوال 7۔ جملے “سرحد پہ کیا کرتے ہیں غازی بن کر” یہ بات شاعر نے کس کے بارے میں کہی ہے؟
جواب ۔ شاعر نے یہ مصرعہ بعض مسلمانوں کے بارے میں کہا ہے جو ظاہری طور پر دینی جذبے یا جہاد کے نام پر کام کرتے ہیں، مگر حقیقت میں وہ ظلم و فساد یا ناپائیدار اعمال کرتے ہیں۔
مختصر گفتگو
سوال 1۔ “اب زمانے پر نہیں ہے اثر آدم و نوح”۔ یہ بات اس نظم میں کس نے کس سے کہی ہے؟
جواب ۔
یہ مصرع شاعر کی طرف سے مس (کلیسا میں موجود عورت یا حسن کی تمثیل) کی زبان میں کہا گیا ہے۔ مس شاعر سے کہتی ہے کہ زمانہ اب اتنا بدل گیا ہے کہ آدم اور نوح جیسے نیک اور صالح لوگوں کے اعمال اور اثرات پر آج کے انسانوں میں کوئی اثر نہیں رہ گیا، یعنی لوگوں کی اخلاقی اور دینی حالت بدل چکی ہے۔
سوال 2۔ اکبر الہ آبادی نے اپنی نظم کا عنوان “برق کلیسا” کیوں رکھا؟
جواب ۔
نظم کا عنوان “برق کلیسا” اس لیے رکھا گیا کہ شاعر نے کلیسا کے مناظر اور وہاں ہونے والے جمالیاتی حسن، شوخی اور کشش کو برق کی مانند تیز اور اثر انگیز قرار دیا ہے۔ برق کی طرح یہ حسن فوری اور دلکش اثر ڈالتا ہے، اور عنوان سے ہی نظم کی طاقت اور اثر کی وضاحت ہو جاتی ہے۔
سوال 3۔ میں نے مسلمانوں کے بارے میں اس نظم میں کن خیالات کا اظہار کیا ہے؟
جواب ۔
شاعر نے مسلمانوں کے بارے میں تنقیدی خیالات کا اظہار کیا ہے۔ وہ دکھاتے ہیں کہ بعض لوگ ظاہری طور پر عبادت اور جہاد کے نام پر کام کرتے ہیں، مگر حقیقت میں اخلاقی اور روحانی طور پر کمزور ہیں۔ بعض مسلمان طاقت یا تشدد کے ذریعے کام کرتے ہیں، جبکہ نیک اور سچے لوگ نقصان اٹھاتے ہیں۔
سوال 4۔ اس نظم میں شاعر نے مس کے روبہ رو مسلمانوں کے بارے میں کیا کہا ہے؟
جواب ۔
شاعر نے بتایا ہے کہ مس کے روبہ رو مسلمان ظاہری دینی جذبے کے ساتھ سرگرم ہیں، مگر حقیقت میں وہ اخلاقی اور روحانی معیار سے خالی ہیں۔ شاعر نے دکھایا کہ وہ لوگ جو ظاہری طور پر نیک اور غازی بن کر دکھائی دیتے ہیں، اکثر ظلم و فساد یا ناپائیدار اعمال کرتے ہیں۔
سوال 5۔ شاعر کی کسی بات پر مس ہنس کر نہیں بولتی۔ اس موقعے پر وہ شاعر سے کیا کہتی ہے؟
جواب ۔
شاعر جب مسلمانوں اور زمانے کی اخلاقی کمی پر بات کرتا ہے تو مس ہنس کر نہیں بولتی بلکہ سنجیدگی کے ساتھ اسے سمجھانے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ شاعر سے کہتی ہے کہ زمانہ اب اتنا بدل چکا ہے کہ آدم اور نوح جیسے نیک لوگوں کے اثرات آج کے انسانوں پر نہیں رہ گئے۔
سوال 6۔ نظم “برق کلیسا” کے ذریعہ شاعر ہمیں کیا بتانا چاہتا ہے؟
جواب ۔
نظم “برق کلیسا” کے ذریعہ شاعر ہمیں یہ بتانا چاہتا ہے کہ حسن اور جمالیاتی کشش انسان کے دل و دماغ پر گہرا اثر ڈال سکتی ہے، مگر دنیا میں اخلاقی اور معاشرتی خامیاں موجود ہیں۔ انسان کے جذبات، خواہشات اور رویے جمالیاتی حسن اور کشش کے زیر اثر آ سکتے ہیں، لیکن نیک اور سچے لوگوں کی اہمیت اور اثر آج کے زمانے میں کم ہو چکا ہے۔ نظم کے ذریعہ شاعر انسانی ضعف، معاشرتی برائی اور اخلاقی تضادات کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
تفصیلی گفتگو
سوال 1۔ نظم برق کلیسا کا خلاصہ تحریر کیجیے۔
جواب ۔
نظم “برق کلیسا” اکبر الہ آبادی کی ظریفانہ شاعری کا ایک بہترین نمونہ ہے۔ اس نظم میں شاعر نے جمالیاتی حسن، شوخی، دلکشی اور ناز و نخرے کے اثرات کو نہایت خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔ شاعر دکھاتے ہیں کہ زلفیں، آنکھیں، گال، آواز اور چال و اطوار انسان کے دل اور دماغ پر گہرے اثر ڈال سکتی ہیں۔ نظم میں حسن صرف جمالیاتی کشش نہیں بلکہ انسانی جذبات، شوق اور نفسیاتی ردعمل پر بھی اثر ڈالتی ہے۔
نظم کے دوسرے حصے میں شاعر نے معاشرتی اور اخلاقی مسائل کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔ وہ مسلمانوں میں ظاہری عبادت اور جہاد کے نام پر کیے جانے والے اعمال پر تنقید کرتے ہیں اور دکھاتے ہیں کہ بعض لوگ ظاہری طور پر نیک دکھائی دیتے ہیں لیکن حقیقت میں اخلاق اور ایمان سے خالی ہوتے ہیں۔ اسی طرح، ظالم اور طاقتور لوگ اکثر نیک اور سچے افراد پر غالب آ جاتے ہیں، جبکہ اہل اور نیک لوگ نقصان اٹھاتے ہیں۔
آخر میں شاعر جمالیاتی حسن کے ذریعے انسانی ضعف اور معاشرتی برائیوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور قاری کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ حسن اور دلکشی کے اثرات صرف جسمانی نہیں بلکہ انسانی اخلاق، رویوں اور جذبات پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔
سوال 2۔ اکبر الہ آبادی کی شاعری کے متعلق آپ کیا جانتے ہیں؟ بتائیے۔
جواب ۔
اکبر الہ آبادی ایک ظریفانہ شاعر تھے۔ ان کی شاعری میں طنز، مزاح اور سنجیدگی کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ وہ سماجی برائیوں، انسانی ضعف اور معاشرتی خامیوں کو نہایت باریک بینی سے بیان کرتے تھے۔ اکبر الہ آبادی نے اپنی شاعری کے ساتھ ساتھ ظریفانہ مضامین بھی لکھے، جن میں روزمرہ زندگی، اخلاق اور معاشرتی رویوں کا عکاس ہوتا ہے۔
اکبر الہ آبادی نے اپنے عہد کے معاشرتی حالات، مذہبی رویے اور انسانی جذبات کو شعری قالب میں ڈھال کر ایک منفرد انداز پیدا کیا۔ ان کا کلام نہ صرف تفریحی اور دلکش ہوتا ہے بلکہ معاشرتی شعور اور فکر کو بھی ابھارتا ہے۔ اردو ادب میں ان کا مقام اس کے ظریفانہ انداز اور شعری مہارت کی وجہ سے بہت بلند ہے۔
سوال 3۔ نظم برق کلیسا کی شاعرانہ خوبیاں واضح کیجیے۔
جواب ۔
نظم “برق کلیسا” کی شاعرانہ خوبیاں درج ذیل ہیں ۔
ظریفانہ انداز ۔
شاعر نے حسن اور دلکشی کے اثرات کو مزاح اور سنجیدگی کے حسین امتزاج کے ساتھ پیش کیا ہے۔ نظم میں ظرافت کے ذریعے انسانی ضعف اور معاشرتی خامیوں کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔
دلکشی اور جمالیات ۔
زلفیں، آنکھیں، چال، آواز اور شوخی و ناز کے مختلف پہلوؤں کو نہایت خوبصورت اور جاندار انداز میں بیان کیا گیا ہے، جس سے قاری کے دل و دماغ پر گہرا اثر پڑتا ہے۔
سماجی اور اخلاقی تنقید ۔
شاعر نے مسلمانوں میں ظاہری عبادت اور جہاد کے نام پر کیے جانے والے اعمال پر تنقیدی نظر ڈالی ہے۔ نظم میں دکھایا گیا ہے کہ ظالم اور طاقتور لوگ اکثر نیک لوگوں پر غالب آ جاتے ہیں، اور معاشرتی برائیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
جمالیاتی اور فکری امتزاج ۔
نظم میں حسن و جمال کی تعریف کے ساتھ انسانی اخلاق، رویوں اور سماجی حقیقتوں کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ اس امتزاج نے نظم کو مزید معنی خیز اور دلچسپ بنایا ہے۔
زبان اور اسلوب ۔
شاعر کی زبان اور اسلوب نہایت روان، دلکش اور پر اثر ہے۔ الفاظ اور ترکیبوں کا انتخاب قاری کی دلچسپی برقرار رکھتا ہے اور نظم کے موضوعات کو واضح انداز میں پیش کرتا ہے۔
پیغام اور اثر ۔
نظم کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ حسن اور کشش انسانی دل و دماغ پر اثر ڈال سکتی ہیں، لیکن دنیا میں اخلاقی اور معاشرتی خامیاں موجود ہیں۔ نظم قاری کو انسانی ضعف، معاشرتی تضادات اور جمالیاتی کشش کے اثرات پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔
مصرعوں کو درست کیجیے
رات اس میں سے گرجا میں ہوا میں دو چار
تو اگر عہد وفا کھول کے میری ہو جائے ر
حملے سرحد پہ کیا کرتے ہیں حاجی بن کر
سب کے سب آپ ہی پر پڑھتے ہیں الحمد اللہ
میرے اسلام کو ایک قصہ مستقبل سمجھو
جواب ۔
غلط ۔ رات اس میں سے گرجا میں ہوا میں دو چار
درست ۔ رات اس مس سے کلیسا میں ہوا میں دو چار
غلط ۔ تو اگر عہد وفا کھول کے میری ہو جائے ر
درست ۔ تو اگر عہد وفا باندھ کے میری ہو جائے
غلط ۔ حملے سرحد پہ کیا کرتے ہیں حاجی بن کر
درست ۔ حملے سرحد پہ کیا کرتے ہیں غازی بن کر
غلط ۔ سب کے سب آپ ہی پر پڑھتے ہیں الحمد اللہ
درست ۔ سب کے سب آپ ہی پڑھتے رہیں سبحان اللہ
غلط ۔ میرے اسلام کو ایک قصہ مستقبل سمجھو
درست ۔ میرے اسلام کو اک قصۂ ماضی سمجھو
سوال 4۔ اس نظم سے کم از کم پانچ تراکیب چن کر لکھیے۔
جواب ۔
نظم “برق کلیسا” میں اکبر الہ آبادی نے مختلف ادبی تراکیب استعمال کی ہیں، جو نظم کو دلکش اور معنی خیز بناتی ہیں۔ پانچ اہم تراکیب درج ذیل ہیں ۔
تشبیہ ۔ شاعر نے حسن و شوخی کو برق اور آگ کی طرح تیز اور اثر انگیز قرار دیا ہے۔
استعارہ ۔ شاعر نے جمال اور حسن کو آتش، بجلی اور موج کے ذریعے انسانی جذبات پر اثر ڈالنے کے لیے استعارہ کے طور پر پیش کیا ہے۔
مبالغہ ۔ شاعر نے حسن کے اثرات کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے کہ ستارے رک جائیں اور حکمران جھک جائیں۔
طنز ۔ مسلمانوں کی ظاہری عبادت اور جہاد کے اعمال پر لطیف اور سنجیدہ طنز کیا گیا ہے۔
انسانی عواطف کا اظہار ۔ شاعر نے اپنے جذبات، شوق اور حیرت کو انداز و تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے، جیسے دلکش آواز سن کر بلبل جھپک اٹھتی ہے۔
سوال 5۔ اس نظم سے پانچ مشدد والفاظ تلاش کر کے لکھیے۔
جواب ۔
نظم میں پانچ مشدد والفاظ درج ذیل ہیں ۔
برق، آتش، شعلہ، غازی، موج کوثر
سوال 6۔ نیچے دیے گئے الفاظ کو جملوں میں اس طرح استعمال کیجیے کہ ان کی جنسیت ظاہر ہو جائے ۔
جواب ۔
زلف ۔ اُس کی زلفیں رات کی تاریکی میں بھی چمک رہی تھیں۔
تقریر ۔ مس کی تقریر نے تمام حاضرین کے دل کو موہ لیا۔
بلبل ۔ باغ میں بلبل اپنی میٹھی آواز میں گانا گا رہی تھی۔
شجر ۔ اُس شجر کے نیچے بیٹھ کر وہ کتاب پڑھ رہی تھی۔
قصہ ۔ اُس نے مجھے اپنی بچپن کی یادوں کا قصہ سنایا۔
گیسو ۔ گیسو اُس کی خوبصورتی کا سب سے دلکش حصہ تھے۔
جوہر ۔ اُس کے جوہر کی مہارت نے سب کو حیران کر دیا۔
عزت ۔ اُس عورت کی عزت سب کے لیے مثال تھی۔
سرحد ۔ فوجی نے سرحد کی حفاظت میں اپنی جان کی قربانی دی۔
نزاکت ۔ اُس کی نزاکت نے سب کے دل جیت لیے۔
انس ۔ بچے کو ماں کی حضوری میں انس محسوس ہو رہا تھا۔
This post provides a comprehensive guide to Bihar Board Class 12 Kahkashan Chapter 15, “Barq-e-Klisa” by Akbar Allahabadi. It includes the poet’s biography, a detailed summary of the poem, analysis of themes such as beauty, charm, human weaknesses, and social critique, along with literary devices, poetic qualities, corrected verses, and both objective and subjective questions with answers. The post serves as a complete study resource for students.