Bihar Board Class 12 Kahkashan Chapter 2 Solutions, Mazmoon, مضمون

کسی خاص موضوع پر لکھی جانے والی تحریر کو ادبی اصطلاح میں مضمون کہا جاتا ہے۔ انگریزی میں اسے اَیسَّےہیں۔ اردو ہو یا انگریزی اس ایک لفظ میں وہ سب تحریریں شامل ہیں جو کبھی عام بات پر لکھی جاتی ہیں اور کبھی کسی بڑے علمی موضوع پر۔

یہ صنف غیر افسانوی ادب سے تعلق رکھتی ہے اور اپنی اہمیت کی وجہ سے ہمیشہ نمایاں رہی ہے۔ عام طور پر مضمون نگار سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے موضوع کو غیر جانبداری اور سنجیدگی سے بیان کرے۔ مضمون میں باتوں کو ترتیب سے پیش کرنا اور موضوع کے ہر پہلو پر نظر رکھنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔

مضمون کی کئی قسمیں ہیں۔ اگر کسی تحریر میں شاعری یا ادب کو سمجھانے اور اس کی وضاحت کرنے کی کوشش کی جائے تو اسے تنقیدی مضمون کہا جاتا ہے۔ اگر انداز علمی اور سنجیدہ ہو تو وہ علمی مضمون کہلاتا ہے۔ اگر تحریر میں ہلکا پھلکا اور مزاحیہ انداز ہو تو اسے ظریفانہ مضمون کہتے ہیں۔ اور اگر انداز ذاتی اور شگفتہ ہو تو اسے انشائیہ کہا جاتا ہے۔

غیر افسانوی نثر میں مضمون نگاری کی اہمیت اس وجہ سے بھی بڑھی کہ اس کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ سرسید تحریک کے زمانے میں اس صنف کو خاص ترقی ملی اور سرسید کے مضامین اُس وقت نمونہ سمجھے جاتے تھے۔ اس کے بعد حالی، شبلی اور مہدی افادی نے بھی شاندار مضامین لکھے۔ مزاح نگاروں نے ظریفانہ مضامین کو ایک مستقل سلسلہ بنا دیا۔ صحافت اور دوسری عملی ضرورتوں نے بھی اس صنف کو مضبوط کیا۔ وقت اور حالات کے مطابق مضمون نگاری کی نئی صورتیں بنتی رہیں اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔

خواجہ حسن نظامی حضرت سید بدرالدین اسحاق کی اولاد میں سے تھے۔ حضرت اسحاق، حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر کے خاص خلیفہ، داماد اور خدمت گزار تھے اور حضرت نظام الدین اولیا کی تربیت میں ان کا بڑا کردار تھا۔

خواجہ حسن نظامی کی پیدائش دسمبر 1878 میں اندرون کوٹ بستی حضرت نظام الدین اولیا دہلی میں ہوئی جو ان کا آبائی گھر تھا۔ پیدائش کے وقت ان کا نام قاسم علی رکھا گیا لیکن ان کے ماموں انھیں علی حسن کہا کرتے تھے۔ بعد میں علامہ اقبال نے انھیں خواجہ حسن نظامی لکھنا شروع کیا اور وہ اسی نام سے مشہور ہوئے۔ خواجہ صاحب کے والد کا نام سید عاشق علی نظامی اور والدہ کا نام سیدہ چہیتی بیگم تھا۔ وہ ابھی کم عمر ہی تھے کہ والدین کا انتقال ہوگیا۔ ان کی پرورش بڑے بھائی سید حسن علی شاہ نے کی۔

تعلیم کے لحاظ سے خواجہ حسن نظامی نے مختلف اساتذہ سے قرآن اور حدیث کی تعلیم حاصل کی۔ اٹھارہ برس کی عمر میں اپنے چچا کی بیٹی سیدہ حبیب بانو سے نکاح کیا۔ پہلی بیوی کے انتقال کے بعد ان کی شادی سیدہ محمودہ خواجہ بانو سے ہوئی۔ ان کی ابتدائی زندگی بڑی مشکلوں اور پریشانیوں میں گزری۔ بعد میں انہوں نے حلقہ نظام المشائخ اور رسالہ نظام المشائخ کی بنیاد رکھی اور اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر درگاہوں اور خانقاہوں کی اصلاح کا کام شروع کیا۔ اس راستے میں انہیں مخالفت اور تکلیفیں بھی برداشت کرنی پڑیں۔ خواجہ صاحب نے ہندو تیرتھ استھانوں کا بھی دورہ کیا اور ہندو سادھوؤں سے فلسفہ ویدانت سیکھا۔

خواجہ حسن نظامی نے دو سو سے زیادہ کتابیں لکھیں اور ہر جگہ نہایت سادہ زبان استعمال کی۔ صحافت کے میدان میں بھی ان کا نام بڑا روشن ہے۔ روزنامچے اور قلمی چہرے ان کی اختراع شمار ہوتے ہیں۔ 1857 کی جنگِ آزادی پر ان کی لکھی کتابیں پڑھنے سے دل پسیج جاتا ہے۔ انہوں نے شری کرشن پر بھی ایک بڑی کتاب لکھی۔ حضرت نظام الدین اولیا کی سوانح انہوں نے نظامی بنسری کے نام سے لکھی جبکہ سی پارہ دل ان کی انشا پردازی کی بہترین مثال ہے۔

خواجہ حسن نظامی کا انتقال 31 جولائی 1955 کو ہوا۔ وہ اپنی قبر بستی حضرت نظام الدین اولیا میں پچاس برس پہلے ہی تیار کر چکے تھے اور وفات کے بعد وہیں دفن ہوئے۔

خاکسارانِ جہان رابہ حقارت منگر

تو چہ دانی کہ دریں گردسواری باشد

دنیا میں اللہ نے کوئی چیز بھی فضول یا حقیر نہیں بنائی۔ بظاہر مٹی سب سے کمزور دکھائی دیتی ہے کیونکہ یہ ہر جگہ روندی جاتی ہے پانی سے بہہ جاتی ہے ہوا سے اُڑ جاتی ہے اور آگ سے جل جاتی ہے۔ لیکن حقیقت میں مٹی کے اندر بے شمار خزانے چھپے ہوئے ہیں جو انسان کی زندگی میں بہت بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ انسان کی پیدائش بھی اسی سے ہوتی ہے اور اسی میں فنا بھی ہو جانا ہے۔ یہی مٹی ہے جو خاموشی سے سب کا بوجھ اٹھاتی ہے اور پھر بھی کبھی شکوہ نہیں کرتی۔

اس مٹی کے اندر کئی قیمتی چیزیں دفن ہیں جن میں سے ایک “مٹی کا تیل” ہے۔ یہ تیل بظاہر بدبودار اور معمولی لگتا ہے۔ خوشبودار تیل مثلاً چنبیلی یا موتیا کے مقابلے میں لوگ اسے کمتر سمجھتے ہیں لیکن ضرورت کے وقت یہی مٹی کا تیل سب سے زیادہ کام آتا ہے۔ دنیا کے لاکھوں گھروں کی روشنی اسی کے دم سے قائم ہے۔ بچے اسی کی روشنی میں پڑھتے ہیں جوان اسی میں اپنے خواب سجاتے ہیں اور بوڑھے اسی روشنی میں اپنے قدم بچاتے ہیں۔ عبادت گاہوں میں نماز اور پوجا بھی اسی کی روشنی میں ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ چور بھی اسی کے سہارے چوری کرتا ہے اور پولیس اسی کی روشنی میں چور کو پکڑتی ہے۔

غم کی راتوں میں جب کوئی ساتھی نہیں ہوتا یہی مٹی کا تیل جل جل کر اپنا وجود ختم کر دیتا ہے اور انسان کے دکھ میں شریک بن جاتا ہے۔ دنیا کے بڑے کاروبار بھی اس کے سہارے کھڑے ہوئے۔ امریکہ کے مشہور امیر راک فیلر نے اسی تیل سے بے شمار دولت کمائی۔ یہی تیل ہندوستان کی دولت کو بھی دوسرے ملکوں تک پہنچاتا رہا۔ آج کی موٹر گاڑیاں بھی اسی سے چلتی ہیں یعنی ترقی کی رفتار اسی کے دم سے جاری ہے۔

مصنف آخر میں مٹی کے تیل سے سوال کرتا ہے کہ تم ہر جگہ روشنی دیتے ہو چاہے نیکی ہو یا بدی۔ تم لوگوں کو گناہوں سے کیوں نہیں روکتے؟ پھر خود ہی جواب دیتا ہے کہ مٹی کے تیل میں تو وہی طاقت ہے جو خدا نے اس کو دی مگر وہ طاقت صرف بھلائی کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ انسان ہی ہے جو اپنی صلاحیتوں کو غلط راستے میں استعمال کرتا ہے۔ اگر انسان بھی مٹی کے تیل کی طرح سب کے لیے یکساں روشنی بانٹے اور دوسروں کو نقصان نہ پہنچائے تو دنیا میں حقیقی امن قائم ہو سکتا ہے۔

آخر کار یہ مضمون ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ کوئی چیز حقیر نہیں سب کچھ خدا کی حکمت سے بنا ہے۔ اصل فرق اس بات میں ہے کہ ہم اپنی صلاحیتوں کو کس طرح استعمال کرتے ہیں بھلائی کے لیے یا برائی کے لیے۔

الف) Article
ب) Essay
ج) Story
د) Report

الف) جذباتی انداز
ب) شاعرانہ زبان
ج) معروضی رویہ
د) غیر سنجیدہ لہجہ

الف) ہلکے پھلکے انداز والی تحریر
ب) ذاتی خیالات پر مبنی تحریر
ج) شعروادب کی تشریح کرنے والی تحریر
د) سفرنامہ

الف) اجمیر
ب) دہلی
ج) اندرون کوٹ بستی حضرت نظام الدین اولیا
د) لاہور

الف) خواجہ علی حسن
ب) قاسم علی نظامی
ج) خواجہ حسن نظامی
د) سید عاشق علی

الف) یوگ
ب) ویدانت
ج) سانکھیا
د) بدھ دھرم

الف) ناریل کا تیل
ب) سرسوں کا تیل
ج) چنبیلی اور موتیا کے تیل
د) زیتون کا تیل

الف) نماز
ب) پوجا
ج) چوری
د) زراعت

الف) فورد
ب) ایڈیسن
ج) راک فیلر
د) بل گیٹس

الف) خوف اور طاقت
ب) جنگ اور تباہی
ج) روشنی اور سب کے لیے فائدہ
د) غرور اور خود پسندی

چار عناصر میں خاک کو سب سے کم تر سمجھا جاتا ہے کیونکہ لوگ اسے پاؤں تلے روندتے ہیں پانی اسے بہا لے جاتا ہے، ہوا اسے اڑا دیتی ہے اور آگ اسے جلا دیتی ہے۔ ظاہری طور پر خاک کمزور اور بے حقیقت دکھائی دیتی ہے لیکن حقیقت میں اسی کی تہہ میں بیش قیمت خزانے چھپے ہوتے ہیں اور انسان بھی اسی سے پیدا ہو کر اسی میں فنا ہوتا ہے۔ اس لیے باوجود حقیر سمجھے جانے کے خاک کی اصل اہمیت بہت زیادہ ہے۔

دنیا مٹّی کو نہایت حقیر سمجھتی ہے۔ لوگ اسے روزانہ اپنے پاؤں تلے روندتے ہیں، بارش اور دریا کا پانی اسے بہا کر لے جاتا ہے ہوا کا جھونکا اسے اڑا دیتا ہے اور آگ اسے جلا دیتی ہے۔ یہ تمام سلوک مٹّی کی بظاہر بےقدری کو ظاہر کرتے ہیں مگر اسی مٹّی کی تہہ میں قدرت نے انمول خزانے چھپائے ہیں جن سے انسان دنیا کے بڑے کام انجام دیتا ہے۔

چنبیلی اور موتیا جیسے خوشبودار تیل ظاہری طور پر پسندیدہ ہیں لیکن مٹّی کا تیل اپنی افادیت کے لحاظ سے ان سب سے بڑھ کر ہے۔ لاکھوں گھروں میں چراغ اسی کے ذریعے جلتے ہیں بچے اسی روشنی میں پڑھتے ہیں عبادتیں اسی میں ہوتی ہیں اور ضرورت مند لوگ اسی سے اپنا ماحول روشن رکھتے ہیں۔ عملی زندگی کی روشنی اور سہولتیں خوشبو والے تیل نہیں بلکہ مٹّی کا تیل فراہم کرتا ہے۔

لوگ مٹّی کے تیل کی بدبو کی وجہ سے ناک بھوں چڑھاتے ہیں۔ یہ تیل خوشبو سے خالی اور بو دار ہوتا ہے اس لیے ظاہری طور پر لوگ اسے ناپسند کرتے ہیں چاہے حقیقت میں اس کی اہمیت ان خوشبودار تیلوں سے کہیں زیادہ ہو۔

مٹّی کا تیل اس لیے سب سے بڑھ کر ہے کہ عام لوگوں کی زندگی کی بنیادی ضرورتیں اسی تیل سے پوری ہوتی ہیں۔ روشنی، عبادت، پڑھائی، سفر اور حفاظت سب اسی کے چراغ سے جڑے ہیں۔ غریب اور متوسط طبقہ اسی تیل پر انحصار کرتا ہے۔ یہ انسان کے دکھ سکھ کا ساتھی بھی بنتا ہے اس لیے اس کی افادیت باقی تیلوں سے زیادہ ہے۔

مٹّی کا تیل بے غرض اور بے تعلق ہے کیونکہ وہ بغیر کسی امتیاز کے سب کو روشنی دیتا ہے۔ نہ وہ اچھے برے میں فرق کرتا ہے، نہ عبادت اور گناہ میں وہ ہر جگہ یکساں کام کرتا ہے۔ اس کا مقصد صرف روشنی پہنچانا ہے چاہے کوئی اچھے کام میں اسے استعمال کرے یا برے میں۔ یہی بے غرضی اسے ایک بلند اخلاقی مثال بناتی ہے۔

مٹّی کی بے چارگی اس لیے محسوس ہوتی ہے کہ دنیا کی ہر طاقت اس پر اثر انداز ہوتی نظر آتی ہے۔ لوگ اس پر قدم رکھتے ہوئے اسے کچل دیتے ہیں بارش کا پانی اسے بہا لے جاتا ہے ہوا اسے اٹھا کر جگہ جگہ اڑا دیتی ہے اور آگ اسے جلا کر راکھ بنا دیتی ہے۔ بظاہر یوں لگتا ہے جیسے مٹّی کے پاس اپنا کوئی اختیار نہیں نہ مزاحمت ہے نہ کوئی شان و شوکت۔ اس ظاہری کمزوری کی وجہ سے اس پر ترس آتا ہے۔
لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ یہی مٹّی وہ عظیم چیز ہے جس سے پوری دنیا کی زندگی وابستہ ہے۔ خدا نے تمام مخلوقات کا خمیر اسی سے بنایا۔ انسان جو اشرف المخلوقات ہے اسی مٹّی سے پیدا ہوتا ہے اور مرنے کے بعد اسی میں دفن ہوتا ہے۔ پودے، کھیت، پھول، پھل سب اسی مٹّی سے جنم لیتے ہیں۔ یوں بظاہر کمزور نظر آنے والی مٹّی اصل میں زندگی کی بنیاد ہے۔ اس کی ظاہری ذلت اور حقیقی عظمت کے اس فرق کو دیکھ کر انسان کو اس کی بے چارگی پر ترس آتا ہے۔

مٹّی کے اندر ایسی بے شمار نعمتیں چھپی ہوئی ہیں جن کے بغیر انسانی زندگی کا تصور مکمل نہیں ہوتا۔ ان خزائن میں سب سے اہم وہ معدنی وسائل ہیں جنہوں نے انسان کو ترقی کے راستے فراہم کیے۔ مٹّی کے نیچے لوہا، سونا، چاندی، تانبہ، کوئلہ، نمک اور پتھروں کی مختلف اقسام موجود ہیں جو عمارتوں، مشینوں، زیورات اور ہزاروں طرح کے آلات کی تیاری میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔
انہی خزانوں میں ایک اور حیرت انگیز چیز مٹّی کا تیل بھی ہے۔ بظاہر تو یہ بدبودار اور گندہ سمجھا جاتا ہے لیکن حقیقت میں یہی دنیا کی روشنی کا ذریعہ بنا۔ اسی تیل نے گھروں میں چراغ روشن کیے تعلیم کو جاری رکھا دور دراز کے علاقوں کو روشنی دی اور صنعتوں کی بنیاد بنائی۔ بعد میں اسی تیل سے پٹرول، ڈیزل اور مختلف مصنوعات وجود میں آئیں جنہوں نے دنیا کی تہذیب بدل دی۔
یوں کہنا درست ہے کہ مٹّی کے اندر چھپے خزانے انسان کو حیوانی زندگی سے نکال کر مہذب اور ترقی یافتہ بنا دیتے ہیں۔

مٹّی کا تیل انسان کا شریکِ غم اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ مشکل اور تنہائی کے وقت میں انسان کا ساتھ نہیں چھوڑتا۔ جب رات سیاہ ہو، جب دل بوجھل ہو اور جب کوئی ساتھی یا ہم درد ساتھ نہ ہو تب ایک چھوٹا سا چراغ جل کر انسان کی اداسی دور کرتا ہے۔ یہ چراغ مٹّی کے تیل سے جلتا ہے جو اپنا وجود جلا کر انسان کے لیے روشنی پیدا کرتا ہے۔
دکھ، جدائی، غم اور بے بسی کے ان لمحوں میں یہی چراغ انسان کے لیے تسلی کا ذریعہ بنتا ہے۔ یہ چراغ صرف روشنی ہی نہیں دیتا بلکہ دل کو یہ احساس بھی دلاتا ہے کہ اندھیری زندگی میں ابھی امید باقی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مصنف نے مٹّی کے تیل کو انسان کا شریکِ غم  کہا کیونکہ یہ اپنی قربانی سے انسان کو سہارا دیتا ہے جیسے کوئی سچا دوست مشکل وقت میں اس کا ساتھ نبھاتا ہے۔

راک فیلر امریکہ کا ایک انتہائی مشہور اور دنیا کے امیر ترین لوگوں میں سے ایک تھا۔ اس کی دولت کا اصل ذریعہ پٹرولیم اور مٹّی کے تیل کا کاروبار تھا۔ اس نے اس دور میں تیل کے اہم ذخائر تلاش کیے جب دنیا میں روشنی کا سب سے بڑا سہارا یہی مٹّی کا تیل تھا۔
راک فیلر نے نہ صرف تیل نکالا بلکہ اس کی صفائی فروخت اور تقسیم کے لیے ایک بہت بڑا تجارتی نظام قائم کیا۔ اسی بنیاد پر اس نے اسٹینڈرڈ آئل نامی کمپنی قائم کی جو تھوڑے ہی عرصے میں دنیا کی سب سے طاقتور اور امیر ترین آئل کمپنی بن گئی۔
اس تیل نے اسے اتنی بے پناہ دولت دی کہ اس کا شمار دنیا کے سب سے دولت مند انسانوں میں ہونے لگا۔ یوں ایک ایسی چیزجسے لوگ بدبو کی وجہ سے معمولی سمجھتے تھے نے راک فیلر کو بے شمار دولت، شہرت اور طاقت دی۔

مٹّی کے تیل میں اللہ تعالیٰ نے کئی نہایت اہم اور حیرت انگیز خوبیاں رکھی ہیں۔ سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ہر وقت روشنی فراہم کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ یہ روشنی نہ صرف فزیکی ضرورت ہے بلکہ انسان کے ذہنی اور روحانی سکون کے لیے بھی ضروری ہے۔ مصنف مضمون میں اس بات پر زور دیتا ہے کہ مٹّی کا تیل ہر کسی کے لیے یکساں کام کرتا ہے خواہ کوئی نیک ہو یا بد مذہبی ہو یا دنیاوی یہ بغیر کسی امتیاز کے روشنی دیتا ہے۔ یہ تیل متوسط اور غریب طبقے کی زندگی کا سہارا ہے کیونکہ ان کے گھروں میں بجلی کی سہولت نہیں ہوتی اور یہی روشنی ان کی تعلیم عبادت اور روزمرہ کے کاموں کو ممکن بناتی ہے۔ مزید یہ کہ مٹّی کے تیل کی روشنی انسان کے دکھ اور غم کے لمحات میں بھی تسلی دیتی ہے۔ رات کے اندھیروں میں جب کوئی ہم درد یا دوست پاس نہ ہو یہ چراغ انسان کے لیے امید کا سرچشمہ بن جاتا ہے۔ اللہ کی قدرت نے اسے اس طرح بنایا ہے کہ یہ اپنی بے غرضی اور طاقت کے ذریعے زندگی کے ہر شعبے میں کام آتا ہے چاہے حالات کیسے بھی ہوں۔

اگرچہ آج بجلی اور گیس کی روشنی نے مٹّی کے تیل کے استعمال کو کم ضرور کر دیا ہے لیکن اس کی اہمیت اب بھی ختم نہیں ہوئی۔ مضمون میں بتایا گیا ہے کہ متوسط اور ادنا درجے کے لوگ جو دنیا میں زیادہ تعداد میں ہیں اب بھی مٹّی کے تیل پر انحصار کرتے ہیں۔ دیہی علاقوں، قصبوں اور غریب طبقے کے گھروں میں یہ چراغ اب بھی روشنی کے لیے لازمی ہے۔ تعلیم حاصل کرنے والے بچے اسی روشنی میں کتابیں پڑھتے ہیں جوان اپنی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں عبادت گزار اپنے مذہبی فرائض اسی روشنی میں ادا کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ مٹّی کا تیل انسان کے غم، تنہائی اور دکھ کے وقت کا ساتھی بھی ہے۔ اس کی روشنی انسان کے دل و دماغ کو سکون دیتی ہے امید پیدا کرتی ہے اور مشکل حالات میں تسلی کا ذریعہ بنتی ہے۔ یوں بجلی کے آنے کے باوجود مٹّی کے تیل کی افادیت بنیادی ضرورتوں اور انسانی سکون کی وجہ سے باقی رہتی ہے۔

دنیا کے چار عناصر آگ، ہوا، پانی اور خاک میں خاک بظاہر سب سے کم تر اور بے حقیقت دکھائی دیتی ہے۔ لوگ اسے حقیر سمجھتے ہیں اس پر قدم رکھتے ہیں پانی اسے بہا دیتا ہے ہوا اسے اڑا دیتی ہے اور آگ اسے جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ لیکن حقیقت میں خاک کی اہمیت نہایت زیادہ اور بلند ہے۔ خاک ہی وہ بنیاد ہے جس سے انسان پیدا ہوتا ہے اور اسی میں فنا ہو جاتا ہے۔ اسی خاک میں قدرت نے زندگی کے لیے ضروری اجزاء اور معدنیات چھپائے ہیں جو انسان کی ترقی اور سہولتوں کے لیے ضروری ہیں۔ مٹّی کے تیل، کوئلہ، لوہا، سونا اور دیگر معدنیات کی شکل میں بھی اسی خاک کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔ اس کی مدد سے صنعتیں قائم ہوتی ہیں گھروں میں روشنی ہوتی ہے گاڑیاں چلتی ہیں اور دنیا کی ترقی ممکن ہوتی ہے۔ بظاہر کم تر دکھائی دینے کے باوجود اس کی افادیت اور انسانی زندگی میں کردار اسے چار عناصر میں بلند مرتبہ عطا کرتا ہے۔

مٹّی کے تیل کی روشنی ہر طبقے کے لوگوں کے لیے مختلف کام انجام دینے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ نوجوان اور بچے اس روشنی میں تعلیم حاصل کرتے ہیں سبق یاد کرتے ہیں اور علمی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔ جوان لوگ اس روشنی میں حسن و جمال کے منظر دیکھتے ہیں اور روزمرہ کی سرگرمیاں کرتے ہیں۔ پیر اور پارسا عبادت روحانی محافل اور درس و تدریس میں مشغول رہتے ہیں نمازی اپنی نماز اسی روشنی میں ادا کرتے ہیں اور پجاری اپنے مذہبی فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ بدعنوان لوگ بھی اسی روشنی کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور چوری یا دیگر غیر قانونی کام کرتے ہیں۔ اس طرح مٹّی کا تیل ہر طبقے کے لیے ایک عملی وسیلہ بن جاتا ہے چاہے لوگ اسے نیک مقصد کے لیے استعمال کریں یا برے مقصد کے لیے۔ یہ تیل سب کے لیے یکساں خدمات انجام دیتا ہے اور سب کی زندگی میں کردار ادا کرتا ہے۔

Scroll to Top