Bihar Board Class 12 Kahkashan Chapter 24 Solutions Dastan Fasana-e-Ajaib, داستان فسانۂ عجائب

مرزا رجب علی بیگ سرور کا تعلق لکھنو سے تھا اور ان کی پیدائش تقریباً 1785 کے قریب ہوئی۔ ان کے والد کا نام مرزا اصر علی یک تھا۔ سرور نے اپنی ابتدائی تعلیم اور تربیت لکھنو میں حاصل کی اور وہ اردو و فارسی کے ماہر تھے جبکہ عربی میں بھی کچھ حد تک مہارت رکھتے تھے۔ وہ فنونِ سپہ گری، خطاطی اور موسیقی میں دلچسپی رکھتے تھے اور جوانی میں شاعری کا آغاز کیا۔ سرور نے میر سوز کے شاگرد آغا نوازش سے رہنمائی حاصل کی، لیکن شاعری میں انہیں خاص شہرت حاصل نہ ہو سکی۔ زندگی بھر سرور مالی مشکلات میں رہے اور کئی مرتبہ مختلف حکمرانوں کے دربار میں ملازمتیں حاصل کیں۔ محمد علی شاہ کے دور حکومت میں انہیں نوکری ملی، لیکن بعد میں ان کی ملازمت برقرار نہ رہ سکی۔ عبد واجد علی شاہ کے زمانے میں انہیں پچاس روپے ماہانہ کی تنخواہ پر مقرر کیا گیا۔ اس دوران ان کی دوسری اہلیہ کا انتقال ہو گیا اور پہلی بیوی بھی سخت بیمار ہو گئی۔ 1857 کی بغاوت کے بعد مہاراجہ بنارس نے انہیں ملازم رکھا، اور وہ جولائی 1859 میں بنارس پہنچے۔ چند دنوں بعد وہ رام نگر چلے گئے، جہاں انہوں نے دس سال تک قیام کیا اور 1869 میں انتقال کر گئے۔ ان کی قبر پیچ پٹی کے مقام پر واقع قبرستان میں ہے۔

سرور کی ادبی خدمات میں سب سے زیادہ اہمیت ان کی تصنیف “فسانۂ عجائب” کو حاصل ہے، جو 1825 میں کانپور میں لکھی گئی۔ اس کے علاوہ انہوں نے دیگر کئی کتابیں تصنیف کیں جن میں سرور سلطانی، شگوفہ محبت، شبستان سرور، گلزار سرور، فسانۂ عبرت، شرار عشق اور انشائے سروران شامل ہیں۔

فسانۂ عجائب کی کہانی یمن کے ایک بادشاہ کے گرد گھومتی ہے۔ بادشاہ نہایت دولت مند، نیک سیرت اور خوش قسمت تھا اور اس کی سخاوت اور عدل کی شہرت پورے علاقے میں تھی۔ ایک دن ایک سائل بادشاہ کے پاس آیا اور تین دن کے لیے سلطنت طلب کی تاکہ سلطنت کے تجربے سے سبق حاصل کر سکے۔ بادشاہ نے اسے آزمایا اور اس کی نافرمانی نہ ہونے کی شرط پر سلطنت سونپ دی۔ سائل نے سلطنت کے دوران فقیرانہ زندگی اور مشکلات کا تجربہ حاصل کیا۔ اسے قافلے کے ساتھ طویل اور دشوار گزار سفر کرنا پڑا، بھوک، تھکن اور خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس نے اپنے بچوں کے ساتھ کئی خطرناک حالات جھیلے، جیسے دریاؤں اور مشکل راستوں سے گزرنا۔

سائل نے اس تجربے سے یہ سیکھا کہ دولت و تخت عارضی ہیں اور حقیقی زندگی میں صبر، استقامت اور ہمدردی ضروری ہیں۔ وہ سمجھ گیا کہ دنیاوی لذتیں وقتی ہیں اور انسان کو مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ بادشاہت کے یہ تجربات اسے زندگی کے اہم سبق دیتے ہیں کہ مشکلات کا سامنا کرنا، صبر اور دانش مندی کے ساتھ فیصلے کرنا لازمی ہے، اور دولت و شہرت کا تجربہ صرف وقتی لطف دیتا ہے، مستقل نہیں رہتا۔

الف) کانپور
ب) رام نگر
ج) لکھنو
د) یمن

الف) میر تقی میر
ب) میر سوز
ج) آغا نوازش
د) غالب

الف) شبستان سرور
ب) فسانہ عجائب
ج) گلزار سرور
د) سرور سلطانی

الف) محمد علی شاہ
ب) عبد واجد علی شاہ
ج) مہاراجہ بنارس
د) غازی الدین حیدر

الف) ایک دن
ب) تین دن
ج) پانچ دن
د) سات دن

الف) 1859
ب) 1865
ج) 1869
د) 1875

الف) دولت اور تخت مستقل ہیں
ب) مشکلات اور صبر اہم ہیں
ج) سلطنت کا مزہ ہمیشہ خوشگوار ہوتا ہے
د) قافلے کے بغیر سفر آسان ہے

الف) ترکی
ب) فارسی
ج) سنسکرت
د) پنجابی

الف) پانچ سال
ب) دس سال
ج) پندرہ سال
د) بیس سال

الف) محمد علی شاہ کے دور حکومت میں
ب) عبد واجد علی شاہ کے دور حکومت میں
ج) 1857 کی بغاوت کے بعد
د) کانپور سے لکھنو واپسی کے بعد

جواب ۔  فرخندہ بخت بادشاہ کو کہا گیا ہے کیونکہ وہ نیک سیرت، خوش قسمت اور دولت مند تھا۔

جواب ۔  سائل کو تین دن کے لیے سلطنت دی گئی تاکہ وہ بادشاہت کا تجربہ حاصل کر سکے۔

جواب ۔  بادشاہ نے سلطنت چھوڑ کر اپنے معمول کے مطابق اپنے خاندان کے ساتھ واپس چلا گیا، اور سائل کو مکمل آزادی دی کہ وہ سلطنت سنبھالے۔

جواب ۔  سوداگر نے بادشاہ کے سامنے اپنی عاجزی ظاہر کی اور اپنی بیوی اور قافلے کے سلسلے میں مدد طلب کی، لیکن بادشاہ یا سائل کو نقصان نہیں پہنچایا۔

جواب ۔  بادشاہ کی بیگم سوداگر کے ساتھ روانہ ہوئی تاکہ قافلے کے ساتھ شامل ہو کر مشکلات سے نجات حاصل کرے۔

جواب ۔  بادشاہ خوش مزاج، نیک سیرت، سخاوت کرنے والا اور عدل و انصاف کا پابند تھا۔

جواب ۔  سوداگر نے بادشاہ سے کہا کہ وہ تاجر ہے، قافلہ باہر ہے، اور اس کی بیوی دروزہ ہو رہی ہے، لہٰذا بادشاہ یا نیک بخت (سائل) اس کی مدد کرے تاکہ وہ رنج و نقصان سے بچ جائے۔

جواب ۔  بادشاہ کی پریشانی اس وقت بڑھ گئی جب قافلے کا کوئی سراغ نہ ملا، بیوی اور بچوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اور خود بھی راستہ اور حالات سے پریشان ہوگیا۔

جواب ۔  بادشاہ کے بچے سائل کے ساتھ سفر میں چلے اور دریاؤں اور دشوار راستوں میں والد کی نگرانی میں مشکلات جھیلتے ہوئے آگے بڑھے۔

بادشاہ اور سائل کے کردار میں واضح فرق ہے۔ بادشاہ دولت مند، خوش قسمت، نیک سیرت اور عدل و انصاف کا پابند تھا۔ اس کے پاس تاج و تخت، دولت، عیش و عشرت اور رعایا کی خوشحالی کا اختیار تھا۔ بادشاہ اپنی زندگی میں سب کچھ حاصل کر چکا تھا اور اسے مشکلات کا تجربہ نہیں تھا، اس لیے وہ اپنی زندگی میں محفوظ اور آسان ماحول میں رہتا تھا۔ اس کے برعکس، سائل ایک عام انسان تھا جو دولت و طاقت سے محروم تھا اور مشکلات و فقیرانہ حالات کا تجربہ رکھتا تھا۔ جب اسے چند دن کے لیے سلطنت سونپی گئی، تو اس نے اس کا مزہ لینے کے بجائے زندگی کے اصل سبق حاصل کیے۔ سائل نے اپنی اولاد کے ساتھ طویل سفر، بھوک، تھکن، دریاؤں اور دشوار گزار راستوں میں مشکلات جھیلیں، جس سے اس کی صبر و استقامت اور عقل و حکمت کی پرکھ ہوئی۔ یوں بادشاہ اور سائل کے کردار میں فرق یہ ہے کہ بادشاہ کے پاس سب کچھ تھا مگر تجربہ کم تھا، جبکہ سائل کے پاس وسائل کم تھے مگر تجربہ، صبر اور مشکلات جھیلنے کی صلاحیت زیادہ تھی۔

اصل میں سوداگر نے برا دھوکا نہیں دیا، لیکن فسانہ کے مطابق وہ اپنی عاجزی اور ضرورت ظاہر کرنے کے لیے سائل (جو بادشاہت کے تجربے میں تھا) اور بادشاہ کے سامنے حقیقت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔ وہ یہ کہتا ہے کہ اس کی عورت دروزہ ہو رہی ہے اور اسے قافلے تک پہنچنا مشکل ہو رہا ہے، تاکہ سائل اور بادشاہ اس کی مدد کریں اور وہ رنج و نقصان سے محفوظ رہ سکے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انسان بعض اوقات حالات کو اپنی ضروریات کے لیے نمایاں کرتا ہے، لیکن اس کے اقدامات سے کسی کو برا نہیں پہنچتا۔ یوں سوداگر نے سائل کے علم میں لا کر اپنی مشکلات کا حل نکلوایا۔

جب بادشاہ نے دیکھا کہ بیگم اور بچے سفر میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، تو اس نے ان کی تلاش کے لیے خود نکلنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے بچوں کا ہاتھ پکڑا اور ان کے ساتھ راستہ طے کرنا شروع کیا۔ راستے میں اسے قافلے کا سراغ نہیں ملا، نہ ہی صحیح راستہ معلوم تھا۔ ایک ندی کا سامنا ہوا، مگر کشتی یا ڈونگی نہ تھی، اور کنارے پر پانی کا طوفان سا تھا۔ بادشاہ نے اپنے بچوں اور بیوی کے لیے مدد کی کوشش کی، بعض اوقات بچوں کو کندھے پر اٹھا کر دریا پار کیا، خود بھی پانی میں غوطے لگائے، مگر زندگی باقی رہی۔ ہر قدم پر مشکلات، اضطراب اور بے یاری کا سامنا کرنا پڑا۔ یوں بادشاہ نے اپنی بیوی اور بچوں کی حفاظت کے لیے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ہر خطرے سے نبرد آزما ہوا۔

 بادشاہ کی بد قسمتی اس میں ظاہر ہوئی کہ اسے دولت اور تخت کی فراوانی کے باوجود اپنے خاندان کی حفاظت اور معمولی انسانی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سلطنت کے تجربے کے دوران وہ دیکھتا ہے کہ دولت و تخت انسان کو تمام مشکلات سے محفوظ نہیں رکھتے۔ قافلے کے راستے میں نہ صرف اس کے بچے اور بیوی مشکلات میں مبتلا ہوئے بلکہ خود بادشاہ بھی پانی، دشوار گزار راستوں اور خطرناک حالات سے گزرا۔ اس نے یہ سیکھا کہ دولت اور عہد و اختیار ہمیشہ انسان کو محفوظ نہیں رکھ سکتے اور حقیقی زندگی میں صبر، استقامت اور فہم و فراست کی ضرورت ہوتی ہے۔

بادشاہ کے اہل خانہ کے ساتھ کئی حادثات پیش آئے۔ بچوں میں سے بڑے بیٹے کو بھیڑیا لے گیا، چھوٹے بیٹے کو دریا میں گر کر خطرہ لاحق ہوا، اور بیوی بھی مشکلات میں مبتلا رہی۔ قافلے کے راستے میں راستہ بھولنے، دریاؤں اور ندیوں میں پھنسنے، اور خطرناک حالات سے گزرتے ہوئے ان سب کو شدید مشکلات اور عذاب کا سامنا کرنا پڑا۔ ہر قدم پر بادشاہ نے اپنی طاقت اور دانش کا استعمال کرتے ہوئے انہیں بچانے کی کوشش کی، مگر تمام حالات اسے دکھ اور پریشانی میں مبتلا کرتے رہے۔ یوں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دولت و تخت کے باوجود انسان اپنے اہل خانہ کے تحفظ اور مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔

This post provides comprehensive Bihar Board Class 12 Kahkashan Chapter 24 solutions for Dastan: Fasana-e-Ajaib by Rajab Ali Beg Sarur. It includes a detailed summary of the lesson, the author’s biography, an explanation of the story’s moral and themes, and a full set of objective questions, short answers, and long descriptive questions and answers. The post helps students understand the narrative style of dastan, character analysis of the king and the beggar, and the lesson’s message about patience, hardship, and the temporary nature of power and wealth, making it useful for exam preparation.

Scroll to Top