Bihar Board Class 12 Kahkashan Chapter 25 Solutions Afsana Quarantine, افسانہ کوارنٹین

راجندر سنگھ بیدی کا افسانہ „کوارنٹین“ ایک ہولناک وبا، انسانی خوف، قربانی اور اخلاقی تضاد کی نہایت مؤثر تصویر پیش کرتا ہے۔ افسانے کا پس منظر پلیگ کی وبا ہے جس نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ پلیگ سے زیادہ خوفناک چیز کوارنٹین ہے، جہاں مریضوں کو قانوناً علیحدہ کر کے رکھا جاتا ہے۔ وہاں بدانتظامی، مریضوں کی کثرت، تیمارداری کی کمی اور انسانی رشتوں سے محرومی کے باعث لوگ پلیگ سے کم اور کوارنٹین سے زیادہ مرتے ہیں۔ لاشوں کو بے دردی سے جمع کر کے جلایا جاتا ہے اور مذہبی رسوم کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا، جس سے اس جگہ کو ایک زندہ دوزخ بنا دیا گیا ہے۔

افسانے کا راوی خود ایک ڈاکٹر ہے جو کوارنٹین میں کام کرتا ہے، مگر اندر سے شدید خوف میں مبتلا ہے۔ وہ پلیگ اور کوارنٹین دونوں سے ڈرتا ہے۔ جراثیم کے خوف سے حد سے زیادہ احتیاط کرتا ہے، گرم کافی اور برانڈی پیتا ہے، دوائیں لیتا ہے اور ذرا سی تکلیف کو بھی پلیگ کی علامت سمجھ لیتا ہے۔ اس کے برعکس ایک خاکروب بھا گو ہے، جو نہایت سادہ، کم علم مگر بے پناہ انسان دوست اور نڈر انسان ہے۔ وہ وبا کے دنوں میں بھی بلا خوف لوگوں کی خدمت کرتا ہے، لاشیں اٹھاتا ہے، صفائی کرتا ہے، مریضوں کی دل جوئی کرتا ہے اور اپنی جان کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ اس کا ایمان ہے کہ موت جہاں آنی ہو، آ کر رہے گی۔

ڈاکٹر بھا گو کی ہمت، خلوص اور قربانی سے متاثر تو ہوتا ہے مگر اس جیسا بننے کی ہمت نہیں کر پاتا۔ کوارنٹین میں زیادہ تر خطرناک کام بھا گو سے کراتا ہے اور خود مریضوں سے فاصلے پر رہتا ہے۔ بھا گو کی مدد سے ڈاکٹر کے زیرِ علاج مریضوں کی شرحِ صحت بہتر ہو جاتی ہے اور بالا افسران کی نظروں میں ڈاکٹر کی شہرت بڑھنے لگتی ہے۔ اس دوران بھا گو ایک مریض کو جلتی لاشوں کے ڈھیر سے بچاتے ہوئے خود شدید طور پر جھلس جاتا ہے، مگر پھر بھی خدمت سے پیچھے نہیں ہٹتا۔

افسانے کا سب سے دل خراش موڑ اس وقت آتا ہے جب بھا گو کی بیوی پلیگ کا شکار ہو جاتی ہے۔ بھا گو مدد کے لیے ڈاکٹر کے پاس آتا ہے، مگر ڈاکٹر خوف اور غصے میں اسے جھڑک دیتا ہے اور علاج سے انکار کر دیتا ہے۔ بعد میں ڈاکٹر کو اپنی سنگ دلی کا احساس ہوتا ہے اور وہ علاج کے لیے پہنچتا ہے، مگر تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ بھا گو کی بیوی مر جاتی ہے اور اس کا دودھ پیتا بچہ ماں سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو جاتا ہے۔ یہ منظر ڈاکٹر کے ضمیر پر گہرا زخم چھوڑ جاتا ہے۔

وبا کے خاتمے کے بعد شہر میں حالات معمول پر آ جاتے ہیں۔ ڈاکٹر کی خدمات کو سراہا جاتا ہے، اسے اعزازات، رقم اور فوجی عہدہ دیا جاتا ہے۔ جلسوں میں اس کی تعریف کے پل باندھے جاتے ہیں اور وہ وقتی طور پر غرور میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ لیکن اسی موقع پر بھا گو دوبارہ اس کے سامنے آتا ہے، وہی سادہ لباس، وہی عاجزی، وہی خاموش عظمت۔ اس لمحے ڈاکٹر کو اپنی تمام کامیابیاں، اعزازات اور تعریفیں کھوکھلی محسوس ہونے لگتی ہیں۔ اسے احساس ہوتا ہے کہ اصل قربانی، اصل انسانیت اور اصل عظمت بھا گو جیسے گمنام لوگوں کی ہے، جنہیں دنیا نہیں جانتی مگر انسانیت اور خدا جانتے ہیں۔

یوں کوارنٹین انسان کے خوف، خود غرضی، ضمیر کی کمزوری اور اس کے مقابلے میں بے لوث خدمت، قربانی اور انسان دوستی کا نہایت گہرا اور اثر انگیز افسانہ ہے، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ حقیقی ہیرو وہ نہیں جو انعام پائے، بلکہ وہ ہے جو خاموشی سے دوسروں کے لیے جل جائے۔

جواب ۔  ہاں، افسانے میں پلیگکا ذکر ہے، جو شہر میں خوف اور موت کی صورت میں پھیل رہی ہے۔

جواب ۔  اشتہار میں حکومتی طور پر صرف چوہانہ پلیگ کا ذکر تھا، لیکن لوگوں نے اس میں کوارنٹین کا لفظ شامل کر دیا، جس سے عوام میں خوف اور تشویش میں اضافہ ہوا۔

جواب ۔  افسانے میں ڈاکٹر کا اصل نام واضح نہیں دیا گیا، اسے صرف ڈاکٹر یا راوی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

جواب ۔  افسانے میں ان کا نام ولیم بھا گو خاکروب بتایا گیا ہے۔

جواب ۔  بھا گو کی بیوی اور چھوٹا بچہ بیماری کے سبب شدید خطرے میں آ گئے تھے، بیوی مرنے کے قریب ہوئی لیکن ڈاکٹر کی مدد سے بچ گئی۔ افسانے میں بعض دیگر افراد بھی کوارنٹین کی سختیوں کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔

جواب ۔  افسانے میں ڈاکٹر نے خود کوارنٹین کو دوزخ کہا کیونکہ وہاں مریضوں کی کثرت، موت اور تنہائی کی شدت بہت زیادہ تھی۔

جواب ۔  وبا پر قابو پانے کے بعد ڈاکٹر کو لفٹیننٹکرنل کا عہدہ دیا گیا۔

جواب ۔  بیدی کے پہلے افسانوی مجموعے کا نام دانہودامہے۔

جواب ۔  افسانے کا مرکزی کردار ڈاکٹر ہے، جو کوارنٹین میں مریضوں کی خدمت کرتا ہے اور بھا گو کی قربانی اور ہمت کو دیکھ کر متاثر ہوتا ہے۔

جواب ۔  کوارنٹین وہ مخصوص جگہ یا نظام ہے جہاں متعدی بیماری میں مبتلا مریضوں کو دوسروں سے الگ کر کے رکھا جاتا ہے تاکہ بیماری مزید نہ پھیلے۔ یہ خود کوئی بیماری نہیں ہے۔

جواب ۔  کیونکہ مریض اپنے خویش و اقارب سے دور رہتے تھے، فرداً فرداً توجہ نہ ملتی تھی، مریض خوف اور تنہائی کے سبب مایوس ہو کر پہلے ہی مر جاتے تھے، اور بعض معمولی بیمار بھی وہاں موجود جراثیم سے ہلاک ہو جاتے تھے۔

جواب ۔  ڈاکٹر گھر آ کر کار بالک صابن سے ہاتھ دھوتا، جراثیم کش مرکب سے غرارے کرتا، پیٹ صاف کرنے کی دوائیں لیتا، اور گرم کافی یا برانڈی پیتا تاکہ جسمانی صفائی اور حفاظتی احساس قائم رہے۔

جواب ۔  وہ کہتے ہیں کہ خداوند یسوع میں یہیں سکھاتا ہے کہ بیمار کی مدد میں اپنی جان تک لڑا دو۔ یعنی مریضوں کی خدمت میں اپنی جان بھی خطرے میں ڈالنے کا درس دیتے ہیں۔

جواب ۔  کیونکہ نقشے میں ان کے زیر نگرانی مریضوں کی اوسط صحت کی لکیر سب سے اوپر دکھائی دیتی تھی، یعنی ان کی محنت سے بہت سے مریض صحتیاب ہو گئے تھے۔ یہ ڈاکٹر کی کامیابی اور حوصلہ افزائی کا باعث تھا۔

جواب ۔  اس سے ڈاکٹر کی دل کی دھڑکن تیز ہو گئی، نبض گھوڑے کی طرح دوڑنے لگی، اور وہ حواس باختہ ہو گیا۔ اسے لگا کہ شاید وہ بھی بیماری کا شکار ہو جائے گا۔

جواب ۔  کیونکہ ڈاکٹر نے ایک مریض کو بچاتے ہوئے جو مردہ سمجھا گیا تھا، اسے آگ سے محفوظ کرنے کی کوشش کی، جس میں بھا گو کا بازو جل گیا۔

جواب ۔  بھا گو کہتا ہے کہ اگر موت آئے تو خواہ جہاں بھی آئے، اسے نہیں روکا جا سکتا، اس لیے وہ بیماری اور موت سے نہیں ڈرتا اور بے خوف مریضوں کی مدد کرتا ہے۔

راجندر سنگھ بیدی کا افسانہ “کوارنٹین” ایک خوفناک وبا کے زمانے کا منظر پیش کرتا ہے، جب شہر میں پلیگ پھیل گئی اور حکومت نے مریضوں کو الگ کرنے کے لیے کوارنٹین نافذ کیا۔ افسانے میں بتایا گیا ہے کہ کوارنٹین نہ صرف بیماری کو پھیلنے سے روکتا ہے بلکہ اس میں رہنے والے مریضوں کے لیے ایک اذیت ناک اور خوفناک ماحول بھی بن جاتا ہے۔
افسانے کا مرکزی کردار ایک ڈاکٹر ہے، جسے مریضوں کے علاج اور نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ شہر کے لوگ وبا اور کوارنٹین دونوں سے خوفزدہ ہیں، اور بیماری کے آثار چھپاتے ہیں، جس کی وجہ سے علاج میں تاخیر ہوتی ہے اور بعض مریض اپنی موت خود اپنے گھر میں پا لیتے ہیں۔
ڈاکٹر کی مدد کو بھا گو نامی ایک صفائی کرنے والا کرتا ہے، جو اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر مریضوں کی خدمت کرتا ہے، لاشیں اٹھاتا ہے اور صفائی کا کام کرتا ہے۔ بھا گو کی بے خوف اور انسانیت سے بھرپور مثال دیکھ کر ڈاکٹر بھی مریضوں کے قریب جا کر علاج کرتا ہے۔ اس کی انتھک محنت اور بھا گو کی مدد سے بہت سے مریض صحتیاب ہو جاتے ہیں۔ آخر میں شہر میں وبا پر قابو پایا جاتا ہے اور ڈاکٹر کو اس کی خدمات کے صلے میں لیفٹیننٹ کرنل کا عہدہ دیا جاتا ہے۔ افسانہ انسانی قربانی، خدمت اور جذبۂ انسانیت کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔

ڈاکٹر کو اپنے فرض کی جانب راغب کرنے والے اسباب میں سب سے اہم وجہ انسانیت کا جذبہ تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ مریضوں کی زندگی بچائی جائے اور کسی کو موت کی آغوش میں جانے نہ دیا جائے۔ اس کے علاوہ بھا گو کی بے خوف اور جذبۂ قربانی بھی ڈاکٹر کے لیے مثال بنی۔ بھا گو مریضوں کے قریب بغیر خوف کے جاتا، لاشیں اٹھاتا اور صفائی کرتا۔
ڈاکٹر ابتدائی طور پر موت اور وبا کے خوف سے ہچکچاتا ہے، مگر بھا گو کی خدمت کو دیکھ کر وہ اپنی ہچکچاہٹ پر قابو پاتا ہے۔ مزید برآں، ڈاکٹر کی پیشہ ورانہ ذمہ داری اور شہر کے لوگوں کی حالت بھی اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ ڈاکٹر کو احساس ہوتا ہے کہ اس کی محنت سے بہت سے لوگ زندہ رہ سکتے ہیں، اور یہی اسے اپنے فرض کی جانب راغب کرتا ہے۔

افسانے میں کوارنٹین ایک مرگزار اور خوفناک جگہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یہ ایک وسیع رقبہ ہے جہاں مریضوں کو الگ کر کے رکھا جاتا ہے تاکہ بیماری نہ پھیلے۔ مریض اپنے اہل خانہ اور دوستوں سے دور رہتے ہیں، جس سے وہ تنہائی، خوف اور مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
کوارنٹین میں مریضوں کی کثرت اور محدود وسائل کی وجہ سے ڈاکٹروں کی فرداً فرداً توجہ ممکن نہیں ہوتی۔ مرنے والوں کی لاشیں بے رحمی سے جمع کر کے آگ لگا دی جاتی ہیں، مذہبی رسومات کی پرواہ کیے بغیر۔ افسانے میں کوارنٹین ایک دوزخ نما منظر کے طور پر دکھائی گئی ہے، جہاں زندہ اور مردہ مریض ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں اور آگ کے شعلے ہر طرف پھیلے ہوتے ہیں۔ اس شبیہ کے ذریعے قاری کو کوارنٹین کی انسانی اور نفسیاتی ہولناکی کا اندازہ ہوتا ہے۔

ڈاکٹر اور بھا گو دونوں ہی مریضوں کی خدمت کرتے ہیں، مگر انسانی دردمندی کی زیادہ عملی اور جاندار مثال بھا گو کی کوششوں میں نظر آتی ہے۔
ڈاکٹر ابتدائی طور پر خوف اور موت کی ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔ وہ صرف بھا گو کی رہنمائی اور قربانی کے بعد مریضوں کے قریب جا کر علاج کرتا ہے۔ ڈاکٹر کی دردمندی زیادہ نظریاتی اور ذمہ داری کے تحت ہوتی ہے، لیکن بھا گو اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر مریضوں کی خدمت کرتا ہے۔ وہ لاشیں اٹھاتا، صفائی کرتا اور بیماری کے ماحول میں بھی ثابت قدم رہتا ہے۔ اس کی خدمت عملی، بلا خوف اور انسانیت سے بھرپور ہے، اس لیے افسانے میں انسانی دردمندی کی بہترین مثال بھا گو ہے۔

گردن، میدان، صحت، شهر، موت، انتظام ، صورت، شام، طبیعت، عرصہ، شراب ، صفائی

گردن ۔ مذکر ۔ اس کے زخمی گردن پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔

میدان ۔ مذکر ۔ کھلا میدان طلباء کے کھیل کے لیے بہترین تھا۔

صحت ۔ مؤنث ۔ باقاعدگی سے ورزش کرنے سے صحت بہتر رہتی ہے۔

شہر ۔ مذکر۔ میرے والدین نے پورے شہر میں رہائش کی تلاش کی۔

موت ۔ مؤنث ۔ قدرتی آفات کے سبب کئی لوگوں کی موت واقع ہوئی۔

انتظام ۔ مذکر۔ اس تقریب کا انتظام بہت منظم طریقے سے کیا گیا۔

صورت ۔ مؤنث ۔ اس نے اپنے غصے کی صورت چھپانے کی کوشش کی۔

شام  ۔ مؤنث ۔ پہاڑوں کی جانب غروب ہوتی ہوئی شام بہت حسین لگ رہی تھی۔

طبیعت ۔ مؤنث ۔ برسوں کی محنت کے بعد اس کی طبیعت خوش رہی۔

عرصہ ۔ مذکر ۔ میں نے کئی عرصہ سے اسے نہیں دیکھا۔

شراب ۔ مؤنث ۔ مہمانوں کے لیے میز پر مہندی کی خوشبو والی شراب رکھی گئی۔

صفائی ۔ مؤنث ۔ اس نے اپنے کمرے کی مکمل صفائی کر دی۔

زیادہ، بیمار، قریب ، خوب صورت ، شام، خوش قسمتی ، حیات، دوزخ ، نیکی

زیادہ ۔ کم

بیمار ۔ صحت مند / تندرست

قریب ۔ دور

خوب صورت ۔ بدصورت

شام ۔ صبح

خوش قسمتی ۔ بدقسمتی

حیات ۔ موت

دوزخ  ۔ جنت

نیکی  ۔ بدی / برائی

وقت، رسم ، مشوت ، مرض ، ترکیب ، جذ بہ، احساس ، تصویر، قدر، تقریر، طبقہ، کلمہ، شخص، خیال، حد

وقت →  اوقات

رسم →  رسوم

مشوت →  مشوتیں

مرض →  امراض

ترکیب →  ترکیبات

جذبہ →  جذبات

احساس →  احساسات

تصویر →  تصاویر

قدر →  قدریں

تقریر →  تقاریر

طبقہ →  طبقے

کلمہ →  کلمات

شخص →  اشخاص

خیال →  خیالات

حد →  حدود

This post presents complete Bihar Board Class 12 Kahkashan Chapter 25 solutions on Afsana: Quarantine by Rajinder Singh Bedi. It includes a detailed summary of the story, an explanation of themes like fear, humanity, sacrifice, and moral conflict during an epidemic, along with the author’s background. The post also covers objective questions, short and long Q&A, character analysis of the doctor and Bhago, grammar exercises, antonyms, gender usage, and singular–plural forms, making it a comprehensive resource for students’ exam preparation.

Scroll to Top