Bihar Board Class 12 Kahkashan Chapter 26 Solutions Khutba Kamil Inqalab, خطبہ کامل انقلاب

جے پرکاش ناراین کے نزدیک  کامل انقلاب ایک ایسا ہمہ گیر نظریہ ہے جو صرف اقتدار کی تبدیلی تک محدود نہیں بلکہ انسان کی سوچ، کردار اور طرزِ زندگی میں بنیادی تبدیلی کا مطالبہ کرتا ہے۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ اگر صرف حکومت بدل دی جائے لیکن سماج وہی کا وہی رہے، تو ایسے انقلاب کی کوئی معنویت نہیں رہتی۔ اس لیے وہ سیاسی انقلاب کے ساتھ ساتھ سماجی اور اخلاقی انقلاب کو بھی ناگزیر سمجھتے ہیں۔

ان کے مطابق ہندوستان کا سب سے بڑا مسئلہ سماجی ناہمواری اور معاشی استحصال ہے۔ امیر دن بہ دن امیر تر اور غریب مزید غریب ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایک ایسے معاشی ڈھانچے کی وکالت کرتے ہیں جس میں کمزور طبقات کو اولین ترجیح حاصل ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک ہریجن، آدی باسی، مسلمان، کسان اور مزدور کو عزت اور مساوی مواقع نہیں ملیں گے، اس وقت تک حقیقی آزادی ممکن نہیں ہو سکتی۔

جے پرکاش ناراین سماجی برائیوں کو قومی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ وہ ذات پات، چھوا چھوت اور فرقہ واریت کو انسانیت کے خلاف جرائم قرار دیتے ہیں۔ خاص طور پر جہیز اور تلک کے رواج پر ان کی تنقید نہایت سخت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ لڑکی کوئی سودا نہیں جس کے بدلے گاڑی یا دولت طلب کی جائے۔ اس تناظر میں وہ نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر نوجوان خود جہیز لینے سے انکار کر دیں تو یہ لعنت خود بخود ختم ہو سکتی ہے۔

خطبے کا ایک نہایت اہم پہلو عدم تشدد کا تصور ہے۔ جے پرکاش ناراین پوری شدت سے اس بات کی نفی کرتے ہیں کہ تشدد کے ذریعے کوئی صالح جمہوریت قائم کی جا سکتی ہے۔ ان کے نزدیک تشدد دراصل عوام پر عدم اعتماد کی علامت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جو لوگ عوام کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں، وہ تشدد کا سہارا نہیں لیتے۔ ان کے مطابق امن کے بغیر جمہوریت نہ تو قائم رہ سکتی ہے اور نہ ہی مضبوط ہو سکتی ہے۔

وہ تاریخی مثالوں سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ پُرتشدد انقلابات میں تبدیلی کی رفتار سست ہوتی ہے اور معاشرہ طویل عرصے تک عدم استحکام کا شکار رہتا ہے، جب کہ پُرامن انقلاب میں تبدیلی کا عمل زیادہ مؤثر اور پائیدار ہوتا ہے۔ اسی لیے وہ گاندھی کے عدم تشدد کے فلسفے کو وقت کی سب سے بڑی ضرورت قرار دیتے ہیں۔

جے پرکاش ناراین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ انقلاب کسی ایک رہنما کا کارنامہ نہیں ہوتا بلکہ یہ سماجی حالات اور عوامی شعور کے بطن سے جنم لیتا ہے۔ رہنما کا کام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ وقت کے تقاضوں کو پہچان لے اور عوام کی درست رہنمائی کرے۔

خطبے کے آخری حصے میں وہ نوجوانوں کے کردار کو فیصلہ کن قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک تاریخ کے تمام عظیم انقلابات نوجوانوں کے جوش، قربانی اور روحانی طاقت کے مرہونِ منت رہے ہیں۔ وہ نوجوانوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنی ذات سے بلند ہو کر سماج اور ملک کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں۔

آخرکار جے پرکاش ناراین یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ کامل انقلاب دراصل ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے، جو مرحلہ وار آگے بڑھتی ہے۔ یہ انقلاب صرف نظام نہیں بدلتا بلکہ انسان کو بہتر انسان بناتا ہے، اور اسی تبدیلی سے ایک منصف، پُرامن اور صالح ہندوستان وجود میں آتا ہے۔

الف) 2 اکتوبر 1900
ب) 11 اکتوبر 1902
ج) 15 اگست 1905
د) 8 اکتوبر 1901

الف) پٹنہ
ب) بنارس
ج) کتاب دیا را گانو
د) الہ آباد

الف) انگلینڈ
ب) روس
ج) جرمنی
د) امریکہ

الف) تاریخ
ب) سیاسیات
ج) سماجیات
د) فلسفہ

الف) 1929
ب) 1930
ج) 1935
د) 1942

الف) ناسک جیل
ب) لاہور قلعہ
ج) آگرہ جیل
د) ہزاری باغ جیل

الف) صرف حکومت کی تبدیلی
ب) صرف معاشی اصلاح
ج) سیاسی، سماجی اور اخلاقی تبدیلی
د) صرف تعلیمی اصلاح

الف) تشدد
ب) طاقت
ج) دولت
د) امن

الف) اس کی حمایت کی
ب) اسے سماجی ضرورت بتایا
ج) اسے شرمناک رسم کہا
د) اسے نظر انداز کیا

الف) سیاسی اقتدار
ب) روحانی اور سماجی انقلاب
ج) کاروباری ترقی
د) عسکری طاقت

جواب ۔ کامل انقلاب کا تصور جے پرکاش ناراین نے پیش کیا۔

جواب ۔ جے۔ پی۔ مہاتما گاندھی کے عدم تشدد اور امن کے راستے پر چلنے کی تلقین کرتے ہیں۔

جواب ۔ جمہوریت میں یقین ہونے کی وجہ سے جے۔ پی۔ کا تشدد میں یقین نہیں ہے۔

جواب ۔ پرتشدد انقلاب میں تبدیلی کی رفتار بڑی دھیمی رہی ہے۔

جواب ۔ یہ قول کارل مارکس کا ہے۔

جواب ۔ سوامی وویکانند نے ویدانت کا فلسفہ امریکہ کے شہر شکاگو میں پیش کیا۔

جے پرکاش ناراین کے نزدیک کامل انقلاب محض سیاسی تبدیلی کا نام نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں بنیادی اور ہمہ گیر تبدیلی کا تصور ہے۔ اس انقلاب کے بعد سیاسی، معاشرتی، تعلیمی، اخلاقی اور معاشی سطح پر نمایاں تبدیلیاں واقع ہوں گی۔ سماج کا موجودہ ڈھانچہ، جس میں ناانصافی، استحصال اور عدم مساوات پائی جاتی ہے، ختم ہو جائے گا اور اس کی جگہ ایک ایسا نیا سماجی نظام وجود میں آئے گا جس میں انسان عزت، امن اور انصاف کے ساتھ زندگی گزار سکے گا۔ امیر اور غریب کے درمیان جو خلیج موجود ہے وہ کم ہو جائے گی اور استحصال یا تو بالکل ختم ہو جائے گا یا اس کی گنجائش نہ ہونے کے برابر رہ جائے گی۔ سماجی برائیاں جیسے چھوا چھوت، ذات پات اور فرقہ واریت ختم ہوں گی اور انسان کو صرف انسان کی حیثیت سے دیکھا جائے گا۔ معاشی سطح پر غریبوں، کمزوروں، کسانوں، مزدوروں، آدی باسیوں اور اقلیتوں کی فلاح کو اولین ترجیح دی جائے گی۔ اس طرح کامل انقلاب ایک ایسے صالح، منصفانہ اور انسانی سماج کی بنیاد رکھے گا جہاں اخلاقی قدریں مضبوط ہوں گی اور انسانیت کو مرکزیت حاصل ہوگی۔

جے پرکاش ناراین جہیز کو ایک نہایت شرمناک اور انسانیت سوز سماجی برائی قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک جہیز دراصل اولاد کو ایک جنس یا سودا بنا دینے کے مترادف ہے، جو انسانی وقار کے سراسر خلاف ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ لڑکیاں جانور یا سامان نہیں کہ ان کی قیمت لگائی جائے۔ جے پی اس دلیل کو بھی رد کرتے ہیں کہ جب تک لڑکوں کے والدین جہیز نہیں لیں گے، وہ اپنی بیٹیوں کی شادی کے وقت جہیز کیسے دیں گے۔ ان کے مطابق یہ سوچ ہی اس لعنت کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ وہ نوجوانوں سے خاص طور پر مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ انہیں اتنی اخلاقی جرأت پیدا کرنی چاہیے کہ وہ صاف طور پر جہیز لینے سے انکار کریں۔ جے پرکاش ناراین قدیم ہندوستانی سماج کی مثال دے کر یہ واضح کرتے ہیں کہ پہلے سوئمبر کی روایت تھی جہاں لڑکیاں خود اپنا شریکِ حیات منتخب کرتی تھیں، اس لیے جہیز جیسی لعنت کا کوئی وجود نہیں تھا۔ ان کے نزدیک جہیز کا خاتمہ سماجی اصلاح اور کامل انقلاب کی شرطِ اول ہے۔

جے پرکاش ناراین اس نتیجے تک اس دلیل کے ذریعے پہنچتے ہیں کہ جمہوریت کی اصل بنیاد عوام کی مرضی، اعتماد اور شرکت پر قائم ہوتی ہے، اور یہ سب کچھ صرف امن کے ماحول میں ہی ممکن ہے۔ اگر جمہوریت تشدد، خوف اور طاقت کے زور پر قائم کی جائے تو وہ صالح اور پائیدار نہیں ہو سکتی۔ جے پی سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر لاٹھیوں اور بندوقوں کے زور پر انتخابات ہوں تو اس سے وجود میں آنے والی حکومت کس طرح عوامی اور جمہوری کہلا سکتی ہے۔ ان کے نزدیک تشدد جمہوریت کو کمزور کرتا ہے کیونکہ تشدد عوام کے اعتماد کو ختم کر دیتا ہے۔ اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ بغیر امن کے جمہوریت کا وجود ممکن نہیں اور بغیر جمہوریت کے امن قائم نہیں رہ سکتا۔ اس طرح امن اور جمہوریت ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں اور ایک سکے کے دو پہلو کی حیثیت رکھتے ہیں۔

جے پرکاش ناراین پرتشدد انقلاب کے مقابلے میں پرامن انقلاب کو اس لیے ترجیح دیتے ہیں کہ تاریخ کے تجربات سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ پرتشدد انقلابات میں تبدیلی کی رفتار نہایت سست ہوتی ہے اور ان کے نتیجے میں معاشرے میں مزید خونریزی، انتشار اور آمریت جنم لیتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پرتشدد انقلاب میں پہلے ڈھانچہ توڑ دیا جاتا ہے اور نئے نظام کی تعمیر میں طویل وقت لگتا ہے، جب کہ پرامن انقلاب میں ڈھانچے کی تبدیلی اور نئے طرزِ عمل کا نفاذ ساتھ ساتھ ہوتا ہے۔ جے پی کا یہ بھی ماننا ہے کہ تشدد عوام کی صلاحیت پر عدم اعتماد کی علامت ہے، جب کہ پرامن انقلاب عوامی شعور، بیداری اور اخلاقی طاقت پر یقین کا اظہار ہے۔ ان کے نزدیک ہندوستان جیسے ملک میں پرامن انقلاب ہی فوری، مؤثر اور دیرپا تبدیلی لا سکتا ہے، اس لیے وہ عدم تشدد کو نہ صرف اخلاقی بلکہ عملی طور پر بھی زیادہ مفید سمجھتے ہیں۔

انقلابی رہنما عام سیاسی لیڈروں سے اس اعتبار سے مختلف ہوتے ہیں کہ ان کا مقصد محض اقتدار کا حصول نہیں بلکہ سماج کی ہمہ گیر اصلاح اور انسان کی باطنی و ظاہری زندگی میں تبدیلی لانا ہوتا ہے۔ ایسے رہنما وسیع النظر، بلند حوصلہ اور گہری سماجی بصیرت کے حامل ہوتے ہیں۔ وہ حالات کی جڑ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور وقتی فائدے کے بجائے دیرپا تبدیلی کو ترجیح دیتے ہیں۔ انقلابی رہنما عوام پر زبردستی اپنی بات مسلط نہیں کرتے بلکہ انہیں شعور، اخلاقی قوت اور دلیل کے ذریعے قائل کرتے ہیں۔ وہ خود قربانی، ایثار اور سادہ زندگی کی مثال پیش کرتے ہیں تاکہ عوام ان پر اعتماد کریں۔ جے پرکاش ناراین کے نزدیک حقیقی انقلابی رہنما وہ ہے جو عوام میں خود اعتمادی پیدا کرے، انہیں خوف سے نجات دلائے اور سماجی برائیوں کے خلاف منظم جدوجہد کا حوصلہ دے۔

سبق کے مطابق تشدد کی راہ عموماً وہ لوگ اپناتے ہیں جو عوام کی طاقت، شعور اور اخلاقی قوت پر یقین نہیں رکھتے۔ ایسے افراد یا گروہ یہ سمجھتے ہیں کہ تبدیلی صرف طاقت، جبر اور خوف کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ جے پرکاش ناراین کے نزدیک تشدد دراصل مایوسی، عجلت پسندی اور بے صبری کی علامت ہے۔ جب لوگ دلیل اور مکالمے کے ذریعے اپنی بات منوانے میں ناکام ہو جاتے ہیں تو وہ تشدد کا سہارا لیتے ہیں۔ تشدد اختیار کرنے والے افراد اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ طاقت سے حاصل کی گئی کامیابی عارضی ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں ایک ظلم ختم ہو کر دوسرا ظلم جنم لیتا ہے۔ اسی لیے جے پی تشدد کو سماجی ترقی کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہیں۔

انقلاب کی سائنس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مقدار ایک خاص حد تک پہنچ کر کیفیت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں جب مسلسل اور منظم انداز میں ہوتی رہتی ہیں تو ایک مرحلے پر پہنچ کر بڑی اور بنیادی تبدیلی کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ جے پرکاش ناراین اس اصول کو سماجی تحریکوں پر منطبق کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سماج میں اچانک انقلاب نہیں آتا بلکہ شعور، اخلاقی تربیت اور اجتماعی جدوجہد کے ذریعے آہستہ آہستہ تبدیلی جنم لیتی ہے۔ جب عوام کی تعداد ایک خاص سطح تک بیدار ہو جاتی ہے تو وہ سماج کے ڈھانچے کو بدلنے کی طاقت حاصل کر لیتی ہے۔ یہی انقلاب کی سائنسی بنیاد ہے۔

جے پرکاش ناراین کے مطابق اگر انقلابی تحریک کامیاب ہو جائے تو سماج سے کئی گہری اور پرانی برائیاں ختم ہو سکتی ہیں۔ سب سے پہلے ناانصافی، استحصال اور طبقاتی تفاوت کا خاتمہ ہوگا۔ ذات پات، چھوا چھوت، فرقہ واریت اور امتیازی رویے کمزور پڑ جائیں گے۔ جہیز جیسی لعنت، عورتوں پر ظلم اور کمزور طبقوں کے ساتھ ناانصافی کا راستہ بند ہو جائے گا۔ بدعنوانی، خود غرضی اور اقتدار کی ہوس کی جگہ خدمت، دیانت اور اجتماعی مفاد کو اہمیت دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام میں اخلاقی بیداری پیدا ہوگی اور سماج ایک منصفانہ، پرامن اور انسانی اقدار پر مبنی نظام کی طرف گامزن ہو جائے گا۔ اس طرح تحریک کی کامیابی سماج کو اخلاقی اور انسانی اعتبار سے ایک نئی سمت عطا کرے گی۔

Scroll to Top