Bihar Board Class 12 Kahkashan Chapter 29 Solutions Ghazal Wali Dakni, غزل ولی دکنی

اس شعر میں شاعر محبوب کے حسن اور اس کے اثر کو بیان کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر محبوب اپنے گھر سے صرف ایک قدم باہر رکھ دے تو اس کے حسن کو دیکھنے کے لیے ہر طرف ہلچل مچ جائے۔ محبوب کے دیدار سے لوگوں کے دلوں میں چھپا ہوا غم باہر نکل آتا ہے، یعنی دلوں کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے۔ اس شعر میں محبوب کو غموں کا مداوا قرار دیا گیا ہے۔ یہ تصور ولی دکنی کی رومانوی شاعری کی نمایاں مثال ہے۔

اس شعر میں شاعر محبوب کے چہرے کو گلستان سے تشبیہ دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر محبوب کے چہرے کی خوبصورتی کی شہرت جنت کی حوروں تک پہنچ جائے تو وہ سب جنت کے گلزار چھوڑ کر محبوب کے حسن کو دیکھنے نکل آئیں۔ اس سے محبوب کے حسن کی غیر معمولی برتری ظاہر ہوتی ہے۔ شاعر محبوب کو جنت کی نعمتوں سے بھی بڑھ کر قرار دیتا ہے۔

یہاں شاعر محبوب کو چین جیسے حسین ملک پر بھی فوقیت دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر محبوب چین کی سیر کو جائے تو وہاں کے مندر اور بت بھی اس کے استقبال کے لیے باہر نکل آئیں گے۔ اس شعر میں محبوب کو بت سے تشبیہ دے کر اس کی پوجا اور عقیدت کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ یہ دکنی غزل کی مخصوص رومانوی اور استعاراتی فضا کی عکاسی کرتا ہے۔

اس شعر میں شاعر محبوب کے نکلنے کو سورج کے طلوع ہونے سے تشبیہ دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر محبوب صبح کے وقت گلی یا بازار کی طرف نکلے تو لوگوں کے دلوں سے گرمی اور جوش اس طرح ابھرے جیسے سورج کی کرنوں سے حرارت پیدا ہوتی ہے۔ محبوب کی آمد زندگی، حرارت اور تازگی کی علامت بن جاتی ہے۔ اس شعر میں حسن کے زندگی بخش اثرات کو بیان کیا گیا ہے۔

مقطع میں شاعر اپنا تخلص “ولی” استعمال کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر میں اپنے عشق میں مبتلا دل کی پوری کیفیت لکھ سکوں تو لوگ مجھے دیوانہ سمجھیں گے۔ اس کے دل کا حال اتنا شدید اور غیر معمولی ہے کہ وہ عام فہم نہیں۔ اس شعر میں شاعر نے اپنی عاشقانہ دیوانگی، سچائی اور اخلاص کو بیان کیا ہے۔ یہ شعر ولی دکنی کی سادہ مگر پُراثر شاعری کی بہترین مثال ہے۔

اس غزل میں ولی دکنی نے محبوب کے حسن و جمال اور اس کے دل پر پڑنے والے اثرات کو نہایت دلکش انداز میں بیان کیا ہے۔ شاعر کے نزدیک محبوب کا ایک قدم باہر آنا بھی لوگوں کے دلوں سے غم دور کر دیتا ہے۔ محبوب کا چہرہ اتنا حسین ہے کہ اگر اس کی شہرت جنت کی حوروں تک پہنچ جائے تو وہ بھی جنت چھوڑ کر اسے دیکھنے آ جائیں۔ شاعر محبوب کو دنیا کے حسین ترین ملکوں اور بتوں سے بھی بڑھ کر قرار دیتا ہے۔ صبح کے وقت محبوب کی آمد سورج کی مانند زندگی، حرارت اور تازگی پیدا کرتی ہے۔ آخر میں شاعر اپنے دل کی کیفیت بیان کرتے ہوئے اعتراف کرتا ہے کہ اس کا عشق اسے دیوانگی کی حد تک لے گیا ہے۔ مجموعی طور پر یہ غزل عشق، حسنِ محبوب اور عاشق کی وارفتگی کی پُراثر تصویر پیش کرتی ہے۔

اس شعر میں شاعر محبوب کی گلی کو ہندوؤں کے مقدس شہر کاشی (بنارس) سے تشبیہ دیتا ہے۔ کاسی کو روحانی پاکیزگی اور ترکِ دنیا کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ عاشق کا دل ایک جوگی بن چکا ہے اور ہمیشہ محبوب کی گلی میں رہتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عشق نے دل کو دنیاوی خواہشات سے بے نیاز کر دیا ہے۔ محبوب کی گلی عاشق کے لیے عبادت گاہ بن گئی ہے۔

یہاں شاعر اپنے مستقل غم اور اداسی کا ذکر کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ گویا اس نے جدائی کا زہر پی لیا ہے، اسی لیے اس کے دل پر ہمیشہ اداسی چھائی رہتی ہے۔ عشق میں خوشی کے بجائے غم کا غلبہ ہے۔ یہ اداسی عاشق کی وفاداری اور سچی محبت کی علامت ہے۔ شاعر نے عشق کے دکھ کو فخر کے ساتھ قبول کیا ہے۔

اس شعر میں شاعر محبوب کے چہرے کے تل (خال) کو ہردوار کے رہنے والے ہندو سے تشبیہ دیتا ہے۔ ہردوار ہندوؤں کا مقدس مقام ہے۔ شاعر کے نزدیک محبوب کا خال بھی اسی طرح مقدس اور محترم ہے۔ اس تشبیہ سے محبوب کے حسن کو مذہبی تقدس عطا کیا گیا ہے۔ یہ ولی دکنی کے ہاں ہندو مسلم تہذیبی ہم آہنگی کی خوبصورت مثال ہے۔

یہاں شاعر محبوب کی زلفوں کو دریائے جمنا کی موجوں سے تشبیہ دیتا ہے۔ زلفوں کا لہرانا موجوں کی طرح دلکش اور پراثر ہے۔ محبوب کا تل ان زلفوں کے قریب ایسے ہے جیسے کوئی سنیاسی دریا کے کنارے بیٹھا ہو۔ اس شعر میں حسنِ محبوب کی منظر کشی نہایت تصویری انداز میں کی گئی ہے۔ فطرت اور حسن کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔

اس شعر میں محبوب کی سیاہ زلف کو پیاسی ناگن سے تشبیہ دی گئی ہے۔ زنخداں (ٹھوڑی) کنویں کے مانند ہے اور زلف اس کے گرد لپٹی ہوئی ہے۔ اس تشبیہ سے حسن میں ایک دلکش خوف اور کشش پیدا ہو گئی ہے۔ شاعر محبوب کے حسن کو خطرناک مگر پرکشش قرار دیتا ہے۔ یہ مبالغہ عشق کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔

اس شعر میں شاعر خوش کلامی کی اہمیت بیان کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جس کی باتوں میں لطف اور تاثیر نہ ہو، اس کا کلام باسی کھانے کی طرح ہوتا ہے۔ یعنی وہ دل پر اثر نہیں کرتا۔ شاعر کے نزدیک اچھی گفتگو بھی ایک نعمت ہے۔ یہ شعر ولی دکنی کے فکری اور اخلاقی شعور کی عکاسی کرتا ہے۔

مقطع میں شاعر خود سے خطاب کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جو لباس وہ پہنے ہوئے ہے، وہ عاشقوں کے نزدیک بھی ایک خاص شناخت رکھتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ عاشق کا ظاہر بھی اس کے عشق کی علامت بن جاتا ہے۔ عشق انسان کی پوری شخصیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ شاعر اپنے عاشق ہونے پر فخر محسوس کرتا ہے۔

ولی دکنی کی اس غزل میں عشقِ حقیقی کی کیفیت، محبوب کے حسن اور عاشق کی وارفتگی کو نہایت پُراثر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ شاعر محبوب کی گلی کو مقدس مقام قرار دیتا ہے اور اپنے دل کو وہاں کا جوگی بتاتا ہے، جس سے عشق کی روحانی نوعیت ظاہر ہوتی ہے۔ شاعر کے دل پر جدائی اور محبت کی ایسی اداسی چھائی ہوئی ہے جو کبھی کم نہیں ہوتی۔

غزل میں محبوب کے چہرے، تل اور زلفوں کی دلکش تشبیہیں دی گئی ہیں اور انہیں ہندو مذہبی مقامات اور قدرتی مناظر سے جوڑ کر حسن کو تقدس عطا کیا گیا ہے۔ محبوب کی گفتگو، اس کے انداز اور اس کے حسن کی تاثیر کو نمایاں کیا گیا ہے۔ آخر میں شاعر یہ واضح کرتا ہے کہ عشق انسان کی پوری شخصیت کو بدل دیتا ہے اور عاشق کا ظاہر و باطن دونوں اس کی محبت کی گواہی دینے لگتے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ غزل ولی دکنی کی رومانوی، صوفیانہ اور تہذیبی ہم آہنگی سے بھرپور شاعری کی نمائندہ ہے۔

جواب ۔  پہلے شعر میں مومن سے مراد وہ شخص ہے جو عشق میں سچا، وفادار اور دل سے وابستہ ہو۔ شاعر کے نزدیک مومن کا دل محبوب کی گلی کو ہی اپنا مستقل ٹھکانہ سمجھتا ہے۔

جواب ۔  حیدر آبادی علما کے مطابق ولی کا پورا نام سید ولی محمد تھا اور ان کی جائے پیدائش اورنگ آباد تھی۔

جواب ۔  تاریخِ ادب میں ولی دکنی کو دکنی اردو اور شمالی ہندوستان کی اردو شاعری کے درمیان ایک پل کی حیثیت حاصل ہے۔

جواب ۔  دوسری غزل کے پہلے شعر کے مطابق شاعر کا جوگی دل کوچۂ یار کا باسی ہے۔

جواب ۔  گجراتی محققین کے نزدیک ولی کا پورا نام شاہ ولی اللہ تھا اور ان کی جائے پیدائش احمد آباد تھی۔

جواب ۔  پی کے بیراگ کے معنی ہیں عشق میں ڈوب کر دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنا، یعنی محبت کے سبب دائمی اداسی اور ترکِ دنیا۔

جواب ۔  حوروں میں محبوب کے مکھ یعنی چہرے کی شہرت ہے۔

جواب ۔  کوچۂ یار، زلف، مکھ، تل، صنم، بیراگ۔

جواب ۔  ولی نے شمالی ہندوستان کے شعرا کو اردو (ریختہ) میں شاعری کرنے کی طرف راغب کیا۔

جواب ۔  رشکِ چیں سے مراد ایسا حسن ہے کہ چین جیسے حسین ملک کے حسن پر بھی رشک آئے۔

جواب ۔  ولی کے شاگرد ثناء اللہ نے 1725ء میں دیوانِ ولی کا مخطوطہ لکھا۔

ولی دکنی نے دکنی اردو کو ایسی سادگی، روانی اور شیرینی کے ساتھ برتا کہ وہ صرف دکن تک محدود نہ رہی بلکہ شمالی ہندوستان میں بھی مقبول ہو گئی۔ اس سے پہلے شمالی ہند میں فارسی کو ادبی زبان کی حیثیت حاصل تھی، مگر ولی کی شاعری نے یہ ثابت کر دیا کہ اردو میں بھی اعلیٰ درجے کی شاعری ممکن ہے۔ جب ولی کا دیوان دہلی پہنچا تو وہاں کے شعرا اس قدر متاثر ہوئے کہ اردو کو باقاعدہ شعری زبان کے طور پر اختیار کر لیا۔ اس طرح ولی کی زبان پورے ملک میں قابلِ قبول بن گئی۔

ولی کی شاعری کی پہلی بڑی خوبی سادگی اور سلاست ہے۔ ان کی زبان مشکل اور ثقیل نہیں بلکہ عام فہم اور دل میں اتر جانے والی ہے۔ دوسری اہم خوبی تشبیہات اور استعارات کا خوبصورت استعمال ہے۔ ولی محبوب کے حسن، عشق کی کیفیت اور جذبات کو قدرتی مناظر اور مذہبی علامتوں سے جوڑ کر نہایت مؤثر انداز میں پیش کرتے ہیں، جس سے ان کی شاعری میں دلکشی پیدا ہو جاتی ہے۔

دوسری غزل کے پہلے شعر میں ولی کہتے ہیں کہ کوچۂ یار عین کاشی (بنارس) کی طرح مقدس ہے۔ وہ اپنے دل کو جوگی قرار دیتے ہیں جو اسی گلی کا باسی ہے۔ اس سے شاعر یہ ظاہر کرتا ہے کہ محبوب کی گلی اس کے لیے عبادت گاہ کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کا دل دنیا سے کٹ کر وہیں کا ہو کر رہ گیا ہے۔ یہ شعر عشق کے روحانی اور صوفیانہ پہلو کو نمایاں کرتا ہے۔

ولی کی غزلوں میں مثالوں اور تشبیہوں کا استعمال نہایت فطری اور دلکش ہے۔ وہ محبوب کے حسن کو قدرتی مناظر، چاند، دریا، پھول، مذہبی مقامات کاشی، ہردوار اور روزمرہ زندگی کی چیزوں سے تشبیہ دے کر بیان کرتے ہیں۔ ان مثالوں میں تصنع نہیں بلکہ سادگی اور تہذیبی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی مثالیں قاری کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑتی ہیں۔

ولی دکنی اردو کے اولین بڑے شعرا میں شمار ہوتے ہیں، لیکن ان کے حالاتِ زندگی کے بارے میں تحقیق میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ محققین کے مطابق ان کا اصل نام ولی محمد تھا، جب کہ بعض گجراتی محققین انہیں شاہ ولی اللہ بھی کہتے ہیں۔ ان کی پیدائش کے بارے میں بھی اختلاف ہے، تاہم زیادہ قرینِ قیاس رائے یہ ہے کہ وہ اورنگ آباد میں پیدا ہوئے۔ ولی نے مدرسہ ہدایت بخش میں تعلیم حاصل کی اور شیخ نورالدین سے فیض پایا۔

ولی سیاح مزاج شاعر تھے۔ انہوں نے دہلی کا سفر کیا جہاں ان کے دیوان نے شمالی ہندوستان کے شعرا پر گہرا اثر ڈالا۔ اسی وجہ سے اردو شاعری کو نئی سمت ملی۔ ولی نے حج بیت اللہ بھی کیا اور مدینہ منورہ کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ ان کی وفات کے بارے میں پہلے 1707ء مانا جاتا تھا، لیکن جدید تحقیق کے مطابق وہ 1720ء کے بعد تک زندہ رہے۔ ان کے شاگرد ثناء اللہ نے 1725ء میں دیوانِ ولی کا مخطوطہ تحریر کیا، جس سے ان کی وفات کا زمانہ 1720ء اور 1725ء کے درمیان ثابت ہوتا ہے۔

ولی کی شاعری کی سب سے نمایاں خوبی سادگی اور شیرینیِ زبان ہے۔ انہوں نے دکنی اردو کو اس انداز میں استعمال کیا کہ وہ عام فہم بھی رہی اور ادبی وقار بھی قائم رہا۔ مثال کے طور پر وہ محبوب کی گلی کو کاشی جیسے مقدس مقام سے تشبیہ دیتے ہیں، جو عشق کے روحانی پہلو کو ظاہر کرتی ہے۔

دوسری اہم خوبی تشبیہات و استعارات کا خوبصورت استعمال ہے۔ ولی محبوب کے حسن کو چاند، زلف کو دریا اور تل کو سناسی سے تشبیہ دے کر بات کو دل نشیں بنا دیتے ہیں۔ ان کی شاعری میں رومان اور تصوف کا حسین امتزاج ملتا ہے، جو ان کے کلام کو اثر انگیز بناتا ہے۔ یہی خصوصیات انہیں اردو کے اولین بڑے غزل گو شعرا میں ممتاز مقام عطا کرتی ہیں۔

ولی کی شاملِ نصاب غزلوں میں عشقِ مجازی اور عشقِ حقیقی دونوں کی جھلک ملتی ہے۔ محبوب کے حسن، کوچۂ یار کی تقدیس، دل کی وارفتگی اور عاشق کی بے قراری ان غزلوں کے مرکزی موضوعات ہیں۔ ان غزلوں میں دکنی زبان کی مٹھاس، سادگی اور روانی نمایاں ہے، جس سے مفہوم آسانی سے سمجھ میں آ جاتا ہے۔

ان غزلوں کی ایک اہم خصوصیت تشبیہوں اور مثالوں کی کثرت ہے، جو مقامی تہذیب اور مذہبی علامات سے لی گئی ہیں، جیسے کاشی، ہردوار، جمنا وغیرہ۔ اس کے علاوہ ولی کی غزلوں میں تصوف، رومان اور انسانی جذبات کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے، جو انہیں نصابی سطح پر نہایت اہم اور مؤثر بناتا ہے۔

قدم (مذکر) ۔ اس نے آگے ایک مضبوط قدم بڑھایا اور ڈر کو پیچھے چھوڑ دیا۔

تماشا (مذکر) ۔ لوگ سڑک پر کھڑے ہو کر اس عجیب تماشا دیکھ رہے تھے۔

حقیقت (مؤنث) ۔ یہ حقیقت ہے کہ محنت کے بغیر کامیابی نہیں ملتی۔

استقبال (مذکر) ۔ مہمانوں کا شاندار استقبال کیا گیا۔

فجر (مؤنث)۔ فجر کی اذان نے شہر کو بیدار کر دیا۔

دل (مذکر) ۔ میرا دل آج بہت بے چین ہے۔

اداسی (مؤنث) ۔ اس کی آنکھوں میں گہری اداسی جھلک رہی تھی۔

زلف (مؤنث) ۔ ہوا میں اس کی کالی زلف لہرا رہی تھی۔

گفتار (مؤنث) ۔ اس کی شیریں گفتار سب کو متاثر کر گئی۔

سخن (مذکر) ۔ اس کا سخن دل پر گہرا اثر چھوڑ گیا۔

Scroll to Top