ذیل میں سبق گیت اور ساحر لدھیانوی کا جامع خلاصہ پیش کیا جا رہا ہے ۔
گیت ہندوی ادب کی ایک قدیم اور اہم صنف ہے جس کا بنیادی تعلق گانے سے ہے۔ اگرچہ شاعری میں عروض اور آہنگ پائے جاتے ہیں، مگر گیت میں گانے کا عنصر بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ سنسکرت، ہندی اور اردو میں گیت کے لیے کسی مخصوص ہیئت، بحر یا چھند کی پابندی نہیں۔ قدیم گیتوں میں زیادہ تر شدتِ جذبات، عشق، عورت کے محبوبانہ احساسات، جدائی اور ملن کی تڑپ کی عکاسی ملتی ہے، خاص طور پر عہدِ وسطیٰ کے گیت اس حوالے سے نہایت اہم ہیں۔
اردو ادب میں ابتدا میں گیت کو زیادہ توجہ نہیں ملی، تاہم عظمت اللہ خاں، میرا جی اور جمیل الدین عالی نے باضابطہ گیت لکھے۔ بعد میں فلمی دنیا اور مشاعروں کے ذریعے گیت کو مقبولیت ملی۔ اجمل سلطان پوری، بیکل اتساہی، وسیم بریلوی، ساغر اعظمی اور زبیر رضوی نے مشاعروں میں گیت پیش کیے، جبکہ ساحر لدھیانوی، شکیل بدایونی، کیفی اعظمی، مجروح سلطان پوری، ندا فاضلی اور دیگر شعرا نے فلمی گیتوں کو وقار بخشا۔ آج گیت کے موضوعات لا محدود ہیں اور عصر حاضر کے مسائل، شہری و دیہی تضادات اور سماجی حقائق بھی اس میں شامل ہو چکے ہیں، اگرچہ اب بھی اسے اردو کی بڑی صنفوں جیسی مقبولیت حاصل نہیں۔
ساحر لدھیانوی اردو کے ایک ممتاز شاعر اور نغمہ نگار تھے۔ ان کا اصل نام عبدالحئی تھا اور وہ 8 مارچ 1912 کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے۔ والدین کی علیحدگی کے بعد وہ اپنی والدہ کے ساتھ رہے اور ماموں کی سرپرستی میں تعلیم حاصل کی۔ ساحر نے اردو و فارسی کی تعلیم حاصل کی اور نوجوانی میں ترقی پسند تحریک اور انقلابی نظریات سے وابستہ ہو گئے۔ ان سیاسی خیالات کے باعث انہیں تعلیمی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور وہ لاہور و دہلی منتقل ہوتے رہے۔
ساحر جاگیردارانہ نظام اور برطانوی سامراج کے سخت ناقد تھے۔ انہوں نے ادبی رسائل کی ادارت کی اور 1949 میں بمبئی آ کر فلمی دنیا سے وابستہ ہو گئے، جہاں انہیں بطور نغمہ نگار بے پناہ شہرت ملی۔ 1971 میں انہیں پدم شری سے نوازا گیا۔ ان کے شعری مجموعات میں آؤ کہ کوئی خواب بنیں، پرچھائیاں، تلخیاں، گاتا جائے بنجارہ اور آخری نذرانے شامل ہیں۔ ساحر زندگی بھر غیر شادی شدہ رہے۔ والدہ کی وفات کے بعد وہ شدید رنجیدہ ہو گئے اور 25 اکتوبر 1980 کو بمبئی میں انتقال کر گئے۔
پہلے گیت کا خلاصہ
یہ گیت اجتماعی جدوجہد، اتحاد اور محنت کی قوت کو مؤثر اور ولولہ انگیز انداز میں پیش کرتا ہے۔ شاعر کا مرکزی خیال یہ ہے کہ اکیلا انسان تھک جاتا ہے، مگر جب سب مل کر بوجھ اٹھاتے ہیں تو مشکل سے مشکل کام آسان ہو جاتا ہے۔ اسی لیے ہر بند میں “ساتھی ہاتھ بڑھانا” کی تکرار کے ذریعے باہمی تعاون اور یکجہتی پر زور دیا گیا ہے۔
گیت میں محنت کش طبقے کی طاقت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب محنت کرنے والے مل کر قدم بڑھاتے ہیں تو سمندر راستہ چھوڑ دیتا ہے اور پہاڑ سر جھکا دیتے ہیں۔ ان کے سینے اور بازو فولاد کی مانند مضبوط ہیں اور وہ چاہیں تو چٹانوں میں بھی راستے بنا سکتے ہیں۔ محنت کو قسمت کی لکیر قرار دے کر خوف کے بجائے حوصلے اور یقین کی تلقین کی گئی ہے۔
آگے چل کر شاعر ذاتی اور اجتماعی دکھ سکھ کی یکسانیت پر زور دیتا ہے۔ سب کی منزل ایک ہے، سچ کی منزل، اور راستہ نیکی کا راستہ ہے۔ اتحاد کی قوت کو مثالوں کے ذریعے واضح کیا گیا ہے کہ قطرہ قطرہ مل کر دریا بنتا ہے، ذرہ ذرہ مل کر صحرا اور رائی مل کر پہاڑ جیسی طاقت اختیار کر لیتی ہے۔
گیت کے آخری حصے میں محنت کی عظمت بیان کی گئی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ مٹی سے لعل اور پانی سے موتی محنت کے بل پر ہی نکلتے ہیں اور دنیا کی ہر تعمیر محنت کشوں کے دم سے ممکن ہوئی ہے۔ وہ سوال اٹھاتا ہے کہ کب تک دولت کی زنجیریں محنت کشوں کے پیروں میں پڑی رہیں گی، اور انہیں دعوت دیتا ہے کہ متحد ہو کر اپنے خوابوں کی تعبیر خود حاصل کریں۔
مجموعی طور پر یہ گیت اتحاد، اجتماعی شعور، محنت کی عظمت اور استحصال کے خلاف جدوجہد کا پیغام دیتا ہے اور محنت کشوں کو بیداری، یکجہتی اور عمل کی تلقین کرتا ہے۔
دوسرے گیت کا خلاصہ
یہ گیت انسانیت، بھائی چارے اور مذہبی ہم آہنگی کا پرزور پیغام دیتا ہے۔ شاعر کا بنیادی خیال یہ ہے کہ انسان کی اصل پہچان اس کا انسان ہونا ہے، نہ کہ اس کا ہندو یا مسلمان ہونا۔ اسی لیے وہ مخاطَب کو یقین دلاتا ہے کہ وہ کسی مذہبی یا فرقہ وارانہ شناخت میں محدود نہیں رہے گا بلکہ ایک مکمل انسان بنے گا۔
گیت میں اس بات پر افسوس ظاہر کیا گیا ہے کہ انسانوں کو بانٹنے والا علم اور نظریات انسانیت کو کمزور کرتے ہیں، حالانکہ اس تقسیم میں فرد کا کوئی قصور نہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ خدا نے ہر انسان کو یکساں طور پر انسان بنایا تھا، مگر انسانوں نے خود مذہب اور قومیت کے نام پر ہندو، مسلمان، بھارت اور ایران جیسی تقسیمیں کھڑی کر لیں۔
شاعر نفرت، ظلم اور تعصب کو کسی بھی مذہب کا حصہ ماننے سے انکار کرتا ہے۔ وہ واضح کرتا ہے کہ جو مذہب نفرت سکھائے یا انسان کو روند ڈالے، وہ سچا مذہب نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح وہ قرآن اور گیتا کو مشترکہ انسانی اقدار کی علامت قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ جہاں انسانیت نہ ہو، وہ مندر ہو یا حرم، حقیقی معنوں میں مقدس نہیں۔
گیت کے آخری حصے میں شاعر دین اور وطن کے نام پر تجارت کرنے والوں پر شدید تنقید کرتا ہے۔ وہ ان لوگوں کو قاتل اور لٹیرے قرار دیتا ہے جو محلوں میں بیٹھ کر معصوم انسانوں کی لاشوں اور ان کے کفن بیچتے ہیں۔ شاعر امید ظاہر کرتا ہے کہ نیا انسان ان ظالم قوتوں کے خلاف کھڑا ہوگا اور ان کے لیے موت کا اعلان بنے گا۔
مجموعی طور پر یہ گیت فرقہ واریت کے خلاف احتجاج، انسانیت کے احترام، امن و صلح کے فروغ اور ظلم و استحصال کے خاتمے کی بھرپور آواز ہے اور انسان کو اس کی اصل پہچان، یعنی انسان ہونے کا شعور دلاتا ہے۔
آپ بتائیے
سوال 1 ۔ شاعر نے اس گیت کو کس فلم کے لیے لکھا ہے؟
جواب ۔ یہ گیت ساحر لدھیانوی نے فلم „نیا دور“ (1957) کے لیے لکھا تھا۔
سوال 2 ۔ اس گیت کا کیا موضوع ہونا چاہیے؟
جواب ۔ اس گیت کا بنیادی موضوع محنت، اتحاد، باہمی تعاون اور اجتماعی طاقت ہے۔
سوال 3 ۔ بنیادی طور پر یہ گیت سماج کے کسی طبقے کے لیے لکھا گیا ہے؟
جواب ۔ یہ گیت بنیادی طور پر محنت کش طبقے، مزدوروں اور عام عوام کے لیے لکھا گیا ہے۔
سوال 4 ۔ قطرہ قطرہ مل کر کیا بنتا ہے؟
جواب ۔ قطرہ قطرہ مل کر دریا بن جاتا ہے۔
سوال 5 ۔ موتی کہاں سے نکلتا ہے؟
جواب ۔ موتی جل (سمندر/پانی) سے نکلتا ہے۔
سوال 6 ۔ ساتھی ہاتھ بڑھانا اس گیت میں کتنی بار آیا ہے؟
جواب ۔ اس گیت میں „ساتھی ہاتھ بڑھانا“ چار مرتبہ آیا ہے۔
سوال 7 ۔ اس گیت کے شاعر کا نام بتائیے۔
جواب ۔ اس گیت کے شاعر کا نام ساحر لدھیانوی ہے۔
مختصر گفتگو
سوال 1 ۔ محنت والے جب قدم بڑھاتے ہیں تو کیا ممکن ہو پاتا ہے؟
جواب ۔
جب محنت کرنے والے لوگ مل کر قدم بڑھاتے ہیں تو ناممکن کام بھی ممکن ہو جاتے ہیں۔ بڑی سے بڑی رکاوٹیں راستہ چھوڑ دیتی ہیں، سمندر جیسے مسائل راستہ دے دیتے ہیں اور پہاڑ جیسی سخت مشکلات بھی جھکنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ اتحاد اور محنت کی طاقت سے ہر مشکل کو شکست دی جا سکتی ہے۔
سوال 2 ۔ „فولادی ہیں سینے اپنے“ اور „فولادی ہیں بانہیں“ سے کیا مراد ہے؟
جواب ۔
ان مصرعوں میں „فولاد“ قوت، ہمت اور مضبوط ارادے کی علامت ہے۔ شاعر کا مطلب یہ ہے کہ محنت کشوں کے دل مضبوط، حوصلے بلند اور بازو طاقت ور ہیں۔ وہ جسمانی اور ذہنی طور پر اتنے مضبوط ہیں کہ کسی مشکل سے گھبراتے نہیں اور ہر چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں۔
سوال 3 ۔ کس کے چاہنے سے چٹانوں میں راہیں پیدا ہو سکتی ہیں؟
جواب ۔
محنت کشوں کے چاہنے، یعنی ان کے پختہ ارادے، اتحاد اور مسلسل محنت سے چٹانوں میں بھی راستے پیدا ہو سکتے ہیں۔ اگر انسان مضبوط نیت کے ساتھ کوشش کرے تو قدرت کی سخت سے سخت رکاوٹ بھی راستہ بن جاتی ہے۔
سوال 4 ۔ اس اقتباس کی تشریح کریں اور اس کے مرکزی خیال کو واضح کریں۔
جواب ۔
اس اقتباس میں شاعر نے محنت، اتحاد اور اجتماعی طاقت کی اہمیت کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب محنت کرنے والے لوگ اکیلے نہیں بلکہ مل کر آگے بڑھتے ہیں تو قدرت کی بڑی قوتیں بھی ان کے سامنے بے بس ہو جاتی ہیں۔ سمندر کا راستہ چھوڑ دینا اور پہاڑ کا سر جھکا دینا دراصل علامتی انداز ہے، جس سے یہ بتایا گیا ہے کہ مضبوط اتحاد کے سامنے کوئی رکاوٹ قائم نہیں رہ سکتی۔
„فولادی سینے“ اور „فولادی بانہیں“ محنت کشوں کی ہمت، حوصلے اور قوتِ عمل کی علامت ہیں۔ شاعر یہ پیغام دیتا ہے کہ اگر انسان اپنی طاقت پہچان لے اور محنت کو اپنا شعار بنا لے تو وہ ناممکن کو ممکن بنا سکتا ہے۔
اس اقتباس کا مرکزی خیال یہ ہے کہ اجتماعی محنت، اتحاد اور مضبوط ارادے سے انسان ہر مشکل کو شکست دے سکتا ہے اور ترقی کی نئی راہیں ہموار کر سکتا ہے۔
تفصیلی گفتگو
سوال 1۔ لعل کہاں سے نکالنے کی بات ہو رہی ہے؟ زمین سے نکلنے والی چیزوں کو کیا کہتے ہیں؟
جواب ۔
اس شعر میں شاعر نے کہا ہے کہ ہم زمین یعنی مٹی سے قیمتی چیزیں نکال سکتے ہیں، جیسے لعل اور موتی۔ یہاں لعل کی مثال یہ دکھانے کے لیے دی گئی ہے کہ محنت سے انسان وہ چیزیں بھی حاصل کر سکتا ہے جو بظاہر ممکن نہیں لگتیں۔ زمین سے نکلنے والی ایسی قیمتی چیزوں کو معدنیات کہا جاتا ہے، جن میں سونا، چاندی، ہیرے، جواہرات اور لعل شامل ہیں۔ شاعر اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ قدرت نے زمین میں یہ قیمتی ذخائر رکھی ہیں، لیکن انہیں حاصل کرنے کے لیے محنت اور جدوجہد کی ضرورت ہے۔
سوال 2۔ دنیا میں سب کسی کے بل سے ہے؟ “جو کچھ” سے مراد کیا ہے؟
جواب ۔
شاعر کے مطابق دنیا کی ہر چیز انسان کی محنت کا نتیجہ ہے۔ “جو کچھ” سے مراد وہ سب کچھ ہے جو انسان نے محنت، جدوجہد، علم اور ہنر کے ذریعے پیدا کیا ہے، چاہے وہ کھیت ہوں، مکان، سڑکیں، صنعت، یا معاشرتی ترقی کے دیگر مظاہر۔ شاعر یہاں یہ واضح کر رہا ہے کہ دنیا کی ترقی محض قسمت یا قدرت کی دی ہوئی چیزوں کا نتیجہ نہیں بلکہ انسان کی لگن، کوشش اور محنت کے بل پر ہے۔
سوال 3۔ “محنت کے پیروں میں دولت کی زنجیریں” سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
جواب ۔
اس شعر میں شاعر محنت کشوں کی حالت بیان کر رہا ہے۔ “دولت کی زنجیریں” استعارہ ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ محنت کرنے والے لوگ سرمایہ داروں یا طاقتور طبقے کے کنٹرول میں ہیں۔ یہ زنجیریں ان کی آزادی اور خودمختاری کو محدود کر دیتی ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ محنت کش طبقے کو اپنی محنت کے پورے صلے کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے اور اپنے حق کے لیے ہاتھ بڑھانا چاہیے تاکہ ان زنجیروں کو توڑا جا سکے۔
سوال 4۔ دوسرے شعر کی تشریح کریں اور اس کا مرکزی خیال واضح کریں۔
جواب ۔
جو کچھ اس دنیا میں بنا ہے بنا ہمارے بل سے
اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جو بھی تعمیر اور ترقی ہوئی، وہ محنت کشوں اور عام انسانوں کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ اس میں وہ سب شامل ہیں جو زمین پر محنت کرتے ہیں، علم اور ہنر پیدا کرتے ہیں، اور معاشرے کو آگے بڑھاتے ہیں۔ مرکزی خیال یہ ہے کہ محنت کش انسان ہی دنیا کے اصلی مالک ہیں اور وہ سب کچھ بنا سکتے ہیں، چاہے وہ مشکلات اور رکاوٹیں کتنی بھی بڑی ہوں۔ یہ شعر محنت کی عظمت اور انسان کی طاقت کو اجاگر کرتا ہے۔
سوال 5۔ گیت کے حوالے سے بتائیے کہ خوابوں کی تعبیر کیسے مل سکتی ہے؟
جواب ۔
شاعر کے مطابق خوابوں کی تعبیر صرف محنت، ہمت اور جدوجہد کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔ خواب دیکھنا کافی نہیں، بلکہ انہیں حقیقت میں بدلنے کے لیے فعال کوشش، صبر اور تعاون کی ضرورت ہے۔ شاعر محنت کشوں کو کہتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کا ساتھ دیں، متحد ہوں اور ہار نہ مانیں۔ ہاتھ بڑھا کر اپنے خوابوں کو حقیقت بنانے کی تلقین یہاں بنیادی پیغام ہے۔
سوال 6۔ دوسرے گیت کا خلاصہ لکھیے۔
جواب ۔
یہ گیت محنت کش طبقے، ان کی طاقت اور ان کے حقوق کے بارے میں ہے۔ شاعر بتاتا ہے کہ دنیا کی ترقی، عمارتیں، سڑکیں، صنعتیں اور سماجی خوشحالی سب محنت کشوں کی محنت کے بل پر قائم ہیں۔ لیکن طاقتور طبقہ محنت کشوں کو استحصال کا شکار کرتا ہے، انہیں ان کے حق سے محروم رکھتا ہے اور ان کی محنت پر قابض رہتا ہے۔ شاعر محنت کشوں کو متحد ہونے، ایک دوسرے کا ہاتھ بڑھانے اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی ترغیب دیتا ہے۔ گیت یہ بھی واضح کرتا ہے کہ اگر ہم سب مل کر کوشش کریں تو ناممکن بھی ممکن بن سکتا ہے ۔ ماٹی سے لعل نکل سکتا ہے، محنت کے زور سے راستے کھل سکتے ہیں، اور ہر مشکل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ مرکزی خیال یہ ہے کہ محنت، اتحاد اور جدوجہد کے ذریعے انسان اپنی تقدیر بدل سکتا ہے۔