افسانہ
مختصر افسانے کو زندگی کا ایک چھوٹا سا حصہ کہا جاتا ہے۔ کہانی لکھنے کی وہ مختصر شکل جس میں زندگی کو کم لفظوں میں اور سادہ انداز میں پیش کیا جائے اسے مختصر افسانہ کہتے ہیں۔ مغرب میں مختصر افسانے کی ایک مشہور تعریف یہ ہے کہ وہ تحریری کہانی جسے ایک ہی نشست میں پڑھ لیا جائے مختصر افسانہ ہے۔ عام طور پر یہ مانا جاتا ہے کہ فکشن کی یہ سب سے چھوٹی قسم ہے جس میں کہانی، پلاٹ، کردار، نقطۂ عروج، وقت اور جگہ جیسے تمام ضروری اجزا موجود ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ایک بہت اہم چیز وحدتِ تاثر ہے یعنی افسانہ پڑھنے والے پر ایک ہی مجموعی اثر قائم رہے۔
اچھے افسانے میں واقعات اس طرح پیش کیے جاتے ہیں کہ سب ایک ہی مرکزی خیال کے گرد گھومتے ہوں۔ اگر یہ یکسانیت نہ ہو تو اچھا افسانہ نہیں لکھا جا سکتا۔ اسی لیے بعض نقادوں نے مختصر افسانے کو بہت مشکل فن کہا ہے کیونکہ کم لفظوں میں گہری بات کہنا آسان نہیں ہوتا۔
اردو میں سب سے پہلے مختصر افسانے کی بنیاد سجاد حیدر یلدرم نے رکھی۔ ان کا پہلا افسانہ نشے کی پہلی ترنگ 1900 میں شائع ہوا۔ 1904 میں علی محمود کا افسانہ چھانو شائع ہوا۔ لیکن 1907 کے بعد جب پریم چند کے افسانے سامنے آئے اور خاص طور پر جب ان کا پہلا افسانوی مجموعہ سوزِ وطن (1908) ضبط ہوا تو اردو افسانے نے تیزی سے ترقی کی۔ پریم چند نے خیالی کہانیوں کے ساتھ اپنے زمانے کی زندگی اور سماج کے اہم مسائل کو افسانے میں شامل کیا۔
اس کے برعکس سجاد حیدر یلدرم اور ان کے کچھ ساتھیوں نے رومانوی افسانے لکھے جن میں نیاز فتح پوری ل۔ احمد، مجنوں گورکھ پوری، مرزا ادیب، حجاب اسمعیل شامل ہیں۔
پریم چند کے اثر سے ترقی پسند افسانہ نگاروں کا ایک بڑا گروہ سامنے آیا۔ سجاد ظہیر، احمد علی، رشید جہاں اور محمود الظفر کے افسانے مجموعہ انگارے (1932) میں شائع ہوئے۔ کرشن چندر، بیدی، منٹو اور عصمت چغتائی نے آزادی سے پہلے ہی اردو افسانے میں اپنی مضبوط پہچان بنا لی۔ اسی دور میں احمد ندیم قاسمی، حیات اللہ انصاری، سید محمد حسن، اپندر ناتھ اشک، دیوند رستیارتھی اور غلام عباس نے بھی اہم مقام حاصل کیا۔
جدیدیت کے دور میں غیاث احمد گدی اور سریندر پرکاش نے علامتی انداز میں افسانے لکھے۔ 1970 کے بعد افسانوں میں علامتوں کا استعمال کم ہوا اور سادہ انداز میں کہانی سنانے کی طرف دوبارہ توجہ دی گئی۔ اس طرز کے افسانے سب سے پہلے سلام بن رزاق نے لکھے۔ 1970 کے بعد نمایاں ہونے والے افسانہ نگاروں میں طارق چھتاری، سید محمد اشرف، شوکت حیات، حسین الحق، عبدالصمد، شفق، انور خاں، ساجد رشید وغیرہ شامل ہیں۔ 1980 کے بعد خواتین افسانہ نگاروں میں غزال ضیغم اور ترنم ریاض نے اپنی الگ پہچان بنائی۔
اردو مختصر افسانے کی عمر تقریباً ایک سو سال ہے۔ ادب کی تاریخ میں یہ مدت کم سمجھی جاتی ہے لیکن اس دوران اس صنف نے بہت ترقی کی اور اردو ادب کو وسعت دی۔ وقت کے ساتھ افسانے کے انداز بدلتے رہے، مگر پریم چند کی سادہ زبان اور کہانی سنانے کا طریقہ آج بھی افسانہ نگاروں کے لیے سب سے زیادہ مؤثر اور پسندیدہ ہے۔
سعادت حسن منٹو
سعادت حسن منٹو 11 مئی 1912 کو موجودہ لدھیانہ (پنجاب) کے سمبرالہ گانو میں پیدا ہوئے۔ منٹو کے والد کا نام خواجہ غلام حسن تھا اور والدہ کا نام سردار بیگم تھا۔ انہوں نے امرت سر میں تعلیم حاصل کی لیکن انٹرنس کے بعد مزید تعلیم حاصل نہ کر سکے۔ کچھ عرصے کے لیے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں داخلہ ہوا لیکن بیماری کی وجہ سے انہیں علی گڑھ چھوڑنا پڑا۔ 1933ء میں ان کی ادبی زندگی کا آغاز ہوا۔ اس دوران وہ اخبارات میں کالم لکھنے اور ادارت کے کام کرنے لگے۔ ساتھ ہی انہوں نے مغربی ادب کے تراجم بھی شروع کیے۔ ان کا پہلا افسانہ تماشا امرت سر سے شائع ہونے والے رسالے خلق کے اگست 1934 کے شمارے میں شائع ہوا۔ شروع میں انہوں نے صحافت کو اپنی روزی کمانے کا ذریعہ بنایا۔ بعد میں علمی اور ادبی دنیا سے ان کا تعلق مضبوط ہوا اور انہوں نے کئی فلموں کی کہانیاں، مکالمے اور منظرنامے لکھے۔ اپنی نگر یا، چل چل رے نوجوان، بیگم، شکاری، پڑوسن، غالب، گھمنڈ اور آٹھ دن جیسی فلمیں منٹو کے قلم سے لکھی گئیں جو اپنے زمانے میں بہت مشہور ہوئیں۔
منٹو بنیادی طور پر افسانہ نگار تھے اور ان کی پہچان بھی اسی حیثیت سے بنی۔ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ آتش پارے 1936ء میں شائع ہوا۔ دھواں، چغد، خالی بوتلیں خالی ڈبے، نمرود کی خدائی، سڑک کے کنارے، اوپر نیچے اور درمیان، سرکنڈوں کے پیچھے وغیرہ ان کے معروف افسانوی مجموعے ہیں۔ انہوں نے بہت مختصر افسانوں کا ایک مجموعہ سیاہ حاشیے بھی شائع کیا جس میں تقسیمِ ملک کے دکھ اور سیاسی حالات پر تنقید کی گئی ہے۔
منٹو نے ایک ناول بھی لکھا جس کا نام بغیر عنوان کے ہے۔ انہوں نے خاکے اور ڈرامے بھی بڑی تعداد میں تحریر کیے۔ 1939 میں بیگم صفیہ سے ان کی شادی ہوئی۔ جنوری 1948 میں منٹو پاکستان آ گئے، جہاں 18 جنوری 1955 کو لاہور میں ان کا انتقال ہوا۔
مختصر زندگی کے باوجود منٹو نے بہت زیادہ ادب تخلیق کیا۔ ان کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی کتابوں کی ہر دور میں غیر قانونی نقلیں شائع ہوتی رہیں۔ انگریزوں کے دورِ حکومت میں ان کے بعض افسانوں پر مقدمات بھی قائم کیے گئے اور ان پر فحش نگاری کا الزام لگایا گیا۔ خاص طور پر ٹھنڈا گوشت، کالی شلوار، دھواں، کھول دو، ہو، اوپر نیچے اور درمیان جیسے افسانوں پر مقدمات چلے۔ منٹو ایک غیر روایتی سوچ رکھنے والے افسانہ نگار تھے۔ انہوں نے سیاست ہو یا گھریلو زندگی، ہر جگہ ایسے سچے اور کڑوے سوالات اٹھائے جو لوگوں کو بے چین کر دیتے تھے۔ ان کے افسانوں میں طنز کا انداز بھی پایا جاتا ہے جو ان کی بات کو زیادہ اثر انگیز بنا دیتا ہے۔ وہ چھوٹے، سادہ اور صاف جملوں میں اپنی بات مکمل کر لیتے تھے۔ بناوٹ اور دکھاوے سے انہوں نے اپنے افسانوں کو دور رکھا اور کہانی کے فطری انجام کو اہمیت دی۔
عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ منٹو کے افسانے مرد اور عورت کے رشتوں کے گرد گھومتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے افسانوں میں سیاسی مسائل کو بیان کرنے کی صلاحیت بھی بہت مضبوط ہے۔ نیا قانون سے لے کر ٹوبہ ٹیک سنگھ تک ان کے سیاسی افسانوں کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ پریم چند کے بعد منٹو، بیدی، کرشن چندر اور عصمت چغتائی نے مل کر اردو افسانے کو اس کی سب سے مضبوط نسل فراہم کی۔
افسانہ ٹوبہ ٹیک سنگھ خلاصہ
سعادت حسن منٹو کا افسانہ ٹوبہ ٹیک سنگھ برصغیر کی تقسیم کے بعد پیدا ہونے والے ذہنی، سماجی اور انسانی المیے کی ایک گہری اور دردناک تصویر پیش کرتا ہے۔ یہ افسانہ پاگل خانے کے ماحول کو بنیاد بنا کر یہ دکھاتا ہے کہ سیاسی فیصلوں نے عام انسانوں کی زندگیوں کو کس طرح الجھا دیا تھا۔
بٹوارے کے چند سال بعد حکومتِ پاکستان اور حکومتِ ہندستان یہ فیصلہ کرتی ہیں کہ جس طرح جیلوں میں قیدیوں کا تبادلہ ہوا تھا اسی طرح پاگل خانوں میں موجود پاگلوں کا بھی تبادلہ ہونا چاہیے۔ چنانچہ مسلمان پاگل ہندستان سے پاکستان اور ہندو سکھ پاگل پاکستان سے ہندستان بھیجے جانے لگتے ہیں۔ یہ فیصلہ بظاہر انتظامی ہے مگر اس کے پیچھے انسانی جذبات اور ذہنی کیفیت کو بالکل نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
لاہور کے پاگل خانے میں اس فیصلے کی خبر پھیلتے ہی عجیب و غریب کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ پاگل پاکستان اور ہندستان کے نام سنتے ہیں، لیکن انہیں یہ سمجھ نہیں آتی کہ یہ ملک کہاں ہیں کیوں بنے ہیں اور ان سے ان کی زندگی پر کیا اثر پڑے گا۔ کچھ پاگل نعرے لگانے لگتے ہیں کچھ بحث میں پڑ جاتے ہیں اور کچھ مزید ذہنی الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس ماحول میں منٹو طنز اور مزاح کے ذریعے ایک بہت سنجیدہ حقیقت کو سامنے لاتے ہیں۔
افسانے کا مرکزی کردار بشن سنگھ ہے جو ایک سکھ پاگل ہے اور پندرہ برس سے پاگل خانے میں قید ہے۔ وہ ہر وقت کھڑا رہتا ہے اور عجیب و غریب الفاظ بولتا رہتا ہے۔ سب لوگ اسے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام سے جانتے ہیں کیونکہ اس کا تعلق اسی جگہ سے تھا اور وہاں اس کی زمینیں تھیں۔ اس کے لیے ٹوبہ ٹیک سنگھ صرف ایک جگہ نہیں بلکہ اس کی شناخت، اس کی جڑیں اور اس کا ماضی ہے۔
جب پاگلوں کے تبادلے کی بات شروع ہوتی ہے تو بشن سنگھ مسلسل ایک ہی سوال دہراتا ہے ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے؟ پاکستان میں یا ہندستان میں؟ لیکن کوئی بھی اس سوال کا درست اور واضح جواب نہیں دے پاتا۔ یہی بے یقینی اور الجھن دراصل تقسیم کے بعد کے پورے سماج کی علامت بن جاتی ہے جہاں لوگ خود نہیں جانتے تھے کہ وہ کس ملک کے باشندے ہیں۔
تبادلے کے دن پاگلوں کو واہگہ بارڈر پر لایا جاتا ہے۔ شدید سردی، شور و غل اور افراتفری کا عالم ہوتا ہے۔ پاگلوں کو زبردستی ایک ملک سے دوسرے ملک بھیجا جا رہا ہوتا ہے۔ جب بشن سنگھ کی باری آتی ہے اور اسے بتایا جاتا ہے کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ پاکستان میں ہے تو وہ اس بات کو ماننے سے انکار کر دیتا ہے۔ وہ آگے بڑھنے کے بجائے سرحد کے بیچوں بیچ کھڑا ہو جاتا ہے ایک ایسی جگہ جہاں نہ پاکستان ہے اور نہ ہندستان۔
بشن سنگھ کا وہاں کھڑے رہ جانا دراصل اس بات کی علامت ہے کہ وہ اپنی شناخت کو کسی ایک سیاسی خانے میں بند کرنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ نہ پاکستان جانا چاہتا ہے اور نہ ہندستان بلکہ وہ صرف ٹوبہ ٹیک سنگھ میں رہنا چاہتا ہے۔ آخرکار وہ اسی بے نام زمین پر گر پڑتا ہے اور اس کی موت واقع ہو جاتی ہے۔
افسانے کے اختتام پر منٹو ایک نہایت گہرا اور اثر انگیز منظر پیش کرتے ہیں خاردار تاروں کے ایک طرف ہندستان ہے دوسری طرف پاکستان، اور ان دونوں کے درمیان بشن سنگھ کی لاش پڑی ہے۔ یہی درمیانی زمین ٹوبہ ٹیک سنگھ کہلاتی ہے۔ اس طرح منٹو یہ ثابت کرتے ہیں کہ تقسیم نے انسانوں کو جغرافیے میں نہیں بلکہ ذہنی اور جذباتی طور پر بے وطن کر دیا تھا۔
یہ افسانہ دراصل انسانیت، شناخت، وطن کی محبت اور سیاسی فیصلوں کی بے رحمی پر ایک طاقتور سوال ہے اور اردو ادب کے عظیم ترین افسانوں میں شمار ہوتا ہے۔
معروضی سوالات
سوال 1 ۔ مختصر افسانے کو کس چیز کی ایک قاش کہا گیا ہے؟
الف) تاریخ
ب) تہذیب
ج) زندگی
د) سماج
جواب ۔ ج) زندگی
سوال 2 ۔ مختصر افسانے کا سب سے اہم لازمی عنصر کون سا مانا جاتا ہے؟
الف) طوالت
ب) وحدتِ تاثر
ج) زبان کی سجاوٹ
د) کرداروں کی کثرت
جواب ۔ ب) وحدتِ تاثر
سوال 3 ۔ اردو میں سب سے پہلا مختصر افسانہ کس نے لکھا؟
الف) پریم چند
ب) سعادت حسن منٹو
ج) سجاد حیدر یلدرم
د) کرشن چندر
جواب ۔ ج) سجاد حیدر یلدرم
سوال 4 ۔ سجاد حیدر یلدرم کا پہلا افسانہ کون سا تھا؟
الف) سوز وطن
ب) نشے کی پہلی ترنگ
ج) تماشا
د) آتش پارے
جواب ۔ ب) نشے کی پہلی ترنگ
سوال 5 ۔ سعادت حسن منٹو کا پہلا افسانوی مجموعہ کون سا تھا؟
الف) سیاہ حاشیے
ب) نمرود کی خدائی
ج) آتش پارے
د) دھواں
جواب ۔ ج) آتش پارے
سوال 6 ۔ افسانہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کا مرکزی کردار کون ہے؟
الف) فضل دین
ب) محمد علی
ج) بشن سنگھ
د) ماسٹر تارا سنگھ
جواب ۔ ج) بشن سنگھ
سوال 7 ۔ بشن سنگھ کس جگہ کے بارے میں بار بار سوال کرتا ہے؟
الف) لاہور
ب) امرت سر
ج) واہگہ
د) ٹوبہ ٹیک سنگھ
جواب ۔ د) ٹوبہ ٹیک سنگھ
سوال 8 ۔ پاگلوں کا تبادلہ کہاں کیا گیا؟
الف) لاہور
ب) دہلی
ج) واہگہ بارڈر
د) امرت سر
جواب ۔ ج) واہگہ بارڈر
سوال 9 ۔ افسانے کے آخر میں بشن سنگھ کہاں گرتا ہے؟
الف) پاکستان میں
ب) ہندستان میں
ج) پاگل خانے میں
د) دونوں ملکوں کے درمیان
جواب ۔ د) دونوں ملکوں کے درمیان
سوال 10 ۔ افسانہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کا بنیادی موضوع کیا ہے؟
الف) پاگل پن
ب) محبت
ج) تقسیمِ ہند کا انسانی المیہ
د) سیاست دانوں کی زندگی
جواب ۔ ج) تقسیمِ ہند کا انسانی المیہ
مختصر گفتگو
سوال 1 ۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کس شے کا نام ہے؟
جواب ۔
ٹوبہ ٹیک سنگھ دراصل پنجاب کا ایک شہر ہے جو تقسیمِ ہند سے پہلے متحدہ ہندوستان میں واقع تھا۔ افسانے میں یہ نام صرف ایک شہر کا نہیں بلکہ انسان کی شناخت، وطن، جڑوں اور اپنے پن کی علامت بن جاتا ہے۔ بشن سنگھ کے لیے ٹوبہ ٹیک سنگھ اس کی زمین، اس کا ماضی اور اس کی پہچان ہے اسی لیے وہ بار بار یہی سوال کرتا ہے کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے۔
سوال 2 ۔ لاہور پاگل خانے کے ہندو اور سکھ پاگل کہاں بھیجے جا رہے تھے؟
جواب ۔
لاہور کے پاگل خانے میں موجود ہندو اور سکھ پاگلوں کو ہندستان بھیجا جا رہا تھا۔ تقسیم کے بعد حکومتِ پاکستان اور حکومتِ ہندستان نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ مذہب کی بنیاد پر پاگلوں کا بھی تبادلہ ہوگا اس لیے ہندو اور سکھ پاگلوں کو واہگہ بارڈر کے ذریعے ہندستان منتقل کیا جا رہا تھا۔
سوال 3 ۔ اس پاگل کا نام بتائیے جس نے اپنے متعلق محمد علی جناح ہونے کا اعلان کر دیا تھا؟
جواب ۔
اس پاگل کا نام محمد علی تھا۔ وہ چینوٹ کا رہنے والا ایک مسلمان پاگل تھا جو پہلے مسلم لیگ کا سرگرم رکن رہ چکا تھا۔ اس نے اچانک اعلان کر دیا کہ وہ قائدِ اعظم محمد علی جناح ہے۔ اس کے جواب میں ایک سکھ پاگل نے خود کو ماسٹر تارا سنگھ کہنا شروع کر دیا، جس سے فساد کا خطرہ پیدا ہو گیا۔
سوال 4 ۔ ٹوبہ سنگھ کا اصل نام کیا تھا؟
جواب ۔
ٹوبہ سنگھ کا اصل نام بشن سنگھ تھا۔ چونکہ وہ ہر وقت ٹوبہ ٹیک سنگھ کا ذکر کرتا رہتا تھا، اس لیے لوگ اسے ٹوبہ سنگھ کہنے لگے۔ وہ افسانے کا مرکزی کردار ہے اور تقسیم کے المیے کی سب سے مضبوط علامت بھی۔
سوال 5 ۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کی موت کس جگہ ہوئی؟
جواب ۔
ٹوبہ ٹیک سنگھ (بشن سنگھ) کی موت پاکستان اور ہندستان کی سرحد کے درمیان ایک بے نام زمین کے ٹکڑے پر ہوئی۔ وہ جگہ نہ پاکستان تھی نہ ہندستان۔ اس علامتی انجام کے ذریعے منٹو نے یہ دکھایا کہ تقسیم نے انسان کو اس کے وطن، شناخت اور سکون سے محروم کر دیا۔
مختصر گفتگو
سوال 1۔ پاگلوں کے باہمی تبادلے کے لیے کون سا فارمولا استعمال کیا گیا؟
جواب ۔
پاگلوں کے باہمی تبادلے کے لیے وہی فارمولا اختیار کیا گیا جو تقسیمِ ہند کے بعد عام قیدیوں اور شہریوں کے تبادلے کے لیے اپنایا گیا تھا یعنی مذہب کی بنیاد پر تقسیم۔ اس فیصلے کے مطابق ہندستان کے پاگل خانوں میں موجود مسلمان پاگلوں کو پاکستان منتقل کیا جانا تھا جبکہ پاکستان کے پاگل خانوں میں موجود ہندو اور سکھ پاگلوں کو ہندستان بھیجا جانا تھا۔ اس فیصلے میں پاگلوں کی ذہنی حالت، خواہش یا جذبات کو بالکل نظرانداز کر دیا گیا۔ منٹو نے اس فارمولا کے ذریعے یہ دکھایا ہے کہ سیاسی فیصلے کس طرح انسانیت سے خالی اور بے معنی ہو جاتے ہیں، خاص طور پر جب ان کا اطلاق ایسے لوگوں پر کیا جائے جو خود فیصلے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
سوال 2 ۔ پیڑ پر چڑھے پاگل نے کس مسئلے پر تقریر شروع کی؟
جواب ۔
پیڑ پر چڑھے پاگل نے ہندستان اور پاکستان کی تقسیم کے مسئلے پر ایک لمبی اور مسلسل تقریر شروع کی۔ وہ اس سیاسی اور جغرافیائی مسئلے سے اتنا الجھ گیا تھا کہ اس کے لیے یہ فیصلہ کرنا ناممکن ہو گیا کہ وہ کس ملک کا شہری ہے۔ اس کی تقریر دراصل اس ذہنی الجھن کی علامت تھی جو تقسیم کے بعد عام انسانوں کے ذہنوں میں پیدا ہو گئی تھی۔ آخرکار اس پاگل نے یہ اعلان کر دیا کہ وہ نہ ہندستان میں رہنا چاہتا ہے اور نہ پاکستان میں، بلکہ اسی درخت پر رہنا چاہتا ہے۔ یہ منظر منٹو کے طنزیہ انداز کو نمایاں کرتا ہے۔
سوال 3 ۔ اپنے آپ کو خدا کہنے والے پاگل سے ٹو بہ ٹیک سنگھ کیوں ناراض ہو گیا؟
جواب ۔
ٹو بہ ٹیک سنگھ اس پاگل سے اس لیے ناراض ہو گیا جو اپنے آپ کو خدا کہتا تھا کیونکہ وہ اس کے سب سے اہم سوال کا جواب نہیں دے رہا تھا۔ بشن سنگھ بار بار یہ پوچھ رہا تھا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ پاکستان میں ہے یا ہندستان میں لیکن وہ خدا بننے والا پاگل ہر بار یہ کہتا تھا کہ ابھی تک اس نے حکم نہیں دیا اس لیے ٹوبہ ٹیک سنگھ نہ پاکستان میں ہے نہ ہندستان میں۔ یہ جواب بشن سنگھ کی ذہنی اذیت میں مزید اضافہ کرتا تھا۔ آخرکار اس کی بے بسی غصے میں بدل گئی کیونکہ وہ اپنے وطن کی شناخت جاننا چاہتا تھا جو اس کے لیے زندگی اور موت کا سوال بن چکا تھا۔
سوال 4 ۔ پاگل خانے کے وہ لوگ جن کا ذہنی توازن بالکل درست تھا، کس پریشانی میں گرفتار تھے؟
جواب ۔
پاگل خانے میں موجود وہ افراد جن کا ذہنی توازن مکمل طور پر درست تھا اس شدید پریشانی میں گرفتار تھے کہ وہ خود کس ملک میں رہ رہے ہیں، یعنی پاکستان میں یا ہندستان میں۔ تقسیم کے بعد سرحدیں بدل چکی تھیں شہر ایک ملک سے دوسرے ملک میں چلے گئے تھے لیکن عام لوگوں کو ان تبدیلیوں کی صحیح معلومات نہیں مل رہی تھیں۔ اخبار، سپاہی اور سرکاری عملہ بھی واضح جواب دینے سے قاصر تھا۔ یہی غیر یقینی صورتِ حال ان ہوش مند لوگوں کے لیے ذہنی عذاب بن گئی تھی۔
سوال 5 ۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ اپنے ملاقاتیوں کے آنے سے قبل کس طرح تیار ہوتا تھا؟
جواب ۔
ٹوبہ ٹیک سنگھ اپنے ملاقاتیوں کے آنے سے قبل غیر معمولی طور پر خود کو تیار کرتا تھا۔ وہ اچھی طرح غسل کرتا، جسم پر صابن ملتا سر میں تیل لگا کر کنگھا کرتا اور صاف ستھرے کپڑے پہنتا تھا حالانکہ عام دنوں میں وہ ان چیزوں کا خیال نہیں رکھتا تھا۔ یہ تیاری اس بات کی علامت ہے کہ اگرچہ وہ پاگل خانے میں تھا لیکن اس کے اندر انسانی جذبات، محبت اور اپنائیت زندہ تھی۔ اس عمل سے منٹو یہ ثابت کرتے ہیں کہ بشن سنگھ کی دیوانگی کے باوجود اس کی انسانیت پوری طرح قائم تھی۔
تفصیلی گفتگو
سوال 1 ۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ افسانے کی روشنی میں لاہور پاگل خانے کی تفصیل قلم بند کیجیے۔
جواب ۔
افسانہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں لاہور کا پاگل خانہ محض ایک ذہنی مریضوں کا ادارہ نہیں بلکہ ایک علامتی کائنات ہے جو تقسیمِ ہند کے بعد کے معاشرتی و سیاسی حالات کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ پاگل خانہ ایک چھوٹے شہر کی طرح ہے جہاں مسلمان، ہندو، سکھ اور دیگر مذہبی پس منظر کے لوگ رہتے ہیں۔ ہر شخص اپنی مرضی کے مطابق نہیں بلکہ سرکاری قوانین اور افسران کے فیصلوں کے مطابق زندہ ہے۔
پہرہ دار اور انتظامیہ بھی الجھن کا شکار ہیں کیونکہ تقسیم کے بعد سرحدیں اور ملک کے حصے بدل گئے ہیں لیکن پاگل خانے کے قیدی یہ نہیں سمجھ پا رہے کہ وہ کس ملک میں ہیں۔ ان کی گفتگو، عمل اور ردِعمل غیرمعمولی مگر معنی خیز ہیں۔ یہاں ہر فرد کی اپنی دنیا ہے اور وہ اپنے حقیقی یا فرضی کردار میں اتنا مگن ہوتا ہے کہ اس کے لیے باہر کی حقیقت غیر محسوس ہو جاتی ہے۔
منٹو نے پاگل خانے کو انسانی معاشرت کی آئینہ داری کے طور پر پیش کیا ہے جہاں باہر کے سیاسی اور سماجی فیصلے سب سے پہلے نظر آتے ہیں۔ شور و فریاد، عجیب و غریب حرکات، نعرے اور پاگلوں کی بے ساختہ گفتگو اس بات کی علامت ہے کہ تقسیمِ ملک نے انسانوں کے ذہنوں کو بھی متاثر کیا اور ہر شخص اپنی حقیقت کے ساتھ الجھا ہوا ہے۔ لاہور پاگل خانہ اسی الجھن، بے یقینی اور انتشار کا ایک چھوٹا مگر مکمل ماڈل پیش کرتا ہے۔
سوال 2 ۔ پاگلوں کے سیاسی شعور کو احاطۂ تحریر میں لایئے۔
جواب ۔
افسانہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں پاگلوں کے سیاسی شعور کو ایک منفرد زاویے سے دکھایا گیا ہے۔ اگرچہ یہ لوگ ذہنی طور پر بیمار ہیں مگر تقسیمِ ملک اور نئے سیاسی حالات پر ان کا ردعمل اکثر سادہ مگر حقیقت پسندانہ ہوتا ہے۔ مثلاً ایک پاگل پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتا ہے دوسرا پاکستان مردہ باد اور کوئی دونوں ممالک کے درمیان الجھن میں گرفتار رہتا ہے۔
بعض پاگل خود کو قائداعظم یا کسی اور سیاسی شخصیت سمجھ لیتے ہیں اور وہ اپنی فرضی شناخت کے ذریعے نظام اور سیاست پر طنز کرتے ہیں۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ حقیقت میں پاگل اور عقلمند کے درمیان فرق محض رسمی نہیں بلکہ دنیا کی الجھنوں کو سمجھنے میں بھی مضمر ہے۔ پاگلوں کے سیاسی شعور کا یہ پہلو منٹو کے ادبی ہنر کی کامیابی ہے کیونکہ انہوں نے انسانی فطرت اور سیاست کے درمیان تعلق کو سادہ اور طنزیہ انداز میں پیش کیا۔
یہ سیاسی شعور دراصل ایک علامت ہے ۔ تقسیم کی وجہ سے پیدا ہونے والی الجھنیں ہر سطح پر نظر آتی ہیں چاہے وہ پاگل خانہ ہو یا عوام کی زندگی۔ پاگل اپنی سادگی اور ایمانداری میں اکثر حقیقی انسانی جذبات اور خوف کو ظاہر کر دیتے ہیں، جو باقاعدہ سیاستدانوں کی مصلحتوں میں چھپ جاتا ہے۔
سوال 3 ۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے کرب کو اپنے الفاظ میں بیان کیجیے۔
جواب ۔
ٹوبہ ٹیک سنگھ جس کا اصل نام بشن سنگھ ہے افسانے کا سب سے دلخراش کردار ہے۔ اس کا سب سے بڑا کرب یہ ہے کہ وہ یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس کا گاؤں ٹوبہ ٹیک سنگھ کس ملک میں واقع ہے ۔ پاکستان یا ہندستان؟ یہ سوال اس کے لیے صرف جغرافیہ نہیں بلکہ وجود، شناخت اور وطن کے مسئلے کا مرکز ہے۔
وہ پاگل خانہ میں پندرہ برس تک دن رات کھڑا رہا، نہ سوتا، نہ لیٹتا اور نہ آرام کرتا۔ اس کی یہ بے چینی اور کرب تقسیم کی انسانی قیمت کی علامت ہے۔ جب اسے بتایا جاتا ہے کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ پاکستان میں ہے اور اسے زبردستی ہندستان بھیجا جائے گا تو وہ سرحد کے بیچ اپنی جگہ پر کھڑا ہو جاتا ہے اور وہاں سے ہلنے سے انکار کر دیتا ہے۔
یہ حرکت نہ صرف بشن سنگھ کا کرب بلکہ پورے برصغیر کی تقسیم کے انسانی اور جذباتی المیے کی علامت ہے۔ منٹو نے اس کے ذریعے دکھایا کہ کس طرح سیاست کے فیصلے ایک عام انسان کو مکمل الجھن اور کرب میں مبتلا کر دیتے ہیں، اور کس طرح انسان اپنی شناخت اور وطن کے لیے بے بس رہ جاتا ہے۔
سوال 4 ۔ تقسیمِ ملک سے کون کون سی الجھنیں پیدا ہوئیں؟ ٹوبہ ٹیک سنگھ افسانے کی روشنی میں بیان کیجیے۔
جواب ۔
افسانہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں تقسیمِ ملک کے نتیجے میں پیدا ہونے والی الجھنیں کئی سطحوں پر دکھائی گئی ہیں ۔
شناخت کی الجھن ۔ لوگ یہ نہیں جانتے کہ وہ کس ملک کے شہری ہیں پاکستان میں یا ہندستان میں۔ شہر، گاؤں اور زمینیں ایک رات میں دوسرے ملک میں آ جاتی ہیں مگر انسان اپنے اصل مقام سے جڑا رہتا ہے۔
مذہبی تقسیم ۔ مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں کو مذہبی بنیاد پر الگ کیا گیا۔ اس سے انسانی تعلقات، دوستیاں اور رشتے متاثر ہوئے اور کئی لوگ اپنے گھر، زمین اور عزیزوں سے بچھڑ گئے۔
جغرافیائی الجھن ۔ سرحدیں مقرر کی گئیں مگر ان کی حقیقت اور نفاذ لوگوں کے ذہن میں واضح نہیں تھا۔ بشن سنگھ مسلسل یہ سوال کرتا رہا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ پاکستان میں ہے یا ہندستان میں۔
جذباتی المیہ ۔ تقسیم نے انسانی جذبات کو بھی متاثر کیا ہر شخص اپنے وطن سے الگ ہو گیا چاہے وہ پاگل ہو یا نہیں۔
ادارتی الجھنیں ۔ پاگل خانہ کے افسران اور سپاہی بھی تقسیم کے بعد کے نئے قوانین کے بارے میں الجھے ہوئے تھے جو قیدیوں کی زندگی کو مزید مشکل بنا رہا تھا۔
ان سب الجھنوں کا مجموعی اثر یہ ہوا کہ پاگل خانے کے قیدی ایک ایسے بیچ میں کھڑے ہو گئے جو نہ پاکستان کا تھا نہ ہندستان کا اور بشن سنگھ کا گرنا سرحد کے بیچ میں ایک علامت بن گیا کہ تقسیم نے انسان کو بے وطن اور بے شناخت کر دیا۔