Bihar Board Class 12 Kahkashan Chapter 9 Solutions Bhule Bisre Geet,بُھولے بسرے گیت

شفیع جاوید 4 جنوری 1935 کو مظفر پور میں پیدا ہوئے۔ ان کے گھر کا ماحول ادبی تھا۔ ان کا آبائی وطن گیا ہے۔ ان کا اصل نام سید محمد شفیع الدین ہے۔ انہوں نے پٹنہ یونی ورسٹی سے سماجیات میں ایم۔ اے۔ کیا۔ وہ محکمہ اطلاعات و نشریات، حکومت بہار کے ڈائرکٹر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ ملازمت کے دوران وہ گورنر بہار کے پریس سکریٹری، بیس نکاتی پروگرام کی عمل درآمد کمیٹی کے ڈائرکٹر اور انڈین ریڈ کراس سوسائٹی، بہار کے ایڈمنسٹریٹر جیسے کئی اہم عہدوں پر کام کرتے رہے۔ اس وقت وہ پٹنہ میں رہتے ہیں۔

شفیع جاوید کا پہلا افسانہ 1953ء میں دربھنگہ کے ماہنامہ افق میں، آرٹ اور تمبا شائع ہوا۔ دائرہ سے باہر 1979، کھلی جو آنکھ 1982، تعریف اس خدا کی 1984، وقت کے امیر ہندی، 1991 اور رات، شہر اور میں 2004 ان کے افسانوی مجموعے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے مختصر کہانیاں اور کچھ نظمیں بھی لکھی ہیں۔ گنگا ندی کی تہذیبی اور ثقافتی اہمیت کے ساتھ ساتھ اردو فکشن کے ذریعے آزاد ہندوستان کے سیاسی اور سماجی حالات پر بھی ان کی تحقیق شائع ہونے والی ہے۔ انہیں بہار اردو اکادمی اور آل انڈیا میرا اکیڈمی، لکھنو کی طرف سے انعامات بھی مل چکے ہیں۔

ماضی کی رومانوی یادیں شفیع جاوید کے افسانوں کا بنیادی موضوع ہیں۔ وہ ماضی کو حال سے ہلکے فکری انداز میں جوڑ کر اپنے افسانوں میں اس عام درد کو بیان کرتے ہیں جس سے پورا سماج دوچار ہے۔ ان کے افسانوں میں حال اور ماضی بار بار آتے اور جاتے نظر آتے ہیں۔ اس کے لیے وہ فلیش بیک یا کبھی شعور کی رو کی تکنیک استعمال کرتے ہیں۔ ان کی زبان موضوع کے مطابق بدلتی رہتی ہے، لیکن اس میں موجود خوبصورت نثری انداز ان کے خاص اسلوب کی پہچان ہے۔ ان کے افسانوں میں ایک شاعرانہ کیفیت پائی جاتی ہے جو رومانوی فضا کو مضبوط بناتی ہے۔ قرۃ العین حیدر کے بعد کی نسل میں اس انداز کے وہ غالباً واحد نمایاں نمائندہ ہیں۔

یہ افسانہ سید عزیز احمد کی ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی، سماجی بے قدری، شناخت کے زوال اور بڑھاپے کی تنہائی کا گہرا اور دردناک مطالعہ ہے۔ سید عزیز احمد ایک زمانے میں ڈائرکٹر جنرل جیسے اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ اس عہدے کی وجہ سے لوگ ان کا بے حد احترام کرتے تھے، ان کے قدم چھوتے، سلام کرتے اور ان سے قربت محسوس کرتے تھے۔ لیکن ریٹائرمنٹ کے تقریباً دس برس بعد حالات مکمل طور پر بدل چکے تھے۔

وقت کے ساتھ ساتھ لوگ انہیں بھولنے لگے۔ پہلے محلے کے لوگ، پھر جاننے والے اور آخرکار وہ لوگ بھی جو کبھی ان کے ماتحت رہ چکے تھے۔ جب ان کے پاس سرکاری گاڑی نہ رہی تو لوگوں سے رابطہ مزید کم ہو گیا۔ آہستہ آہستہ لوگ یہ بھی بھول گئے کہ وہ کبھی ڈائرکٹر جنرل تھے، پھر یہ کہ وہ سید زادے تھے، اور آخر میں ان کا نام اور پہچان بھی مٹ گئی۔ اب وہ صرف “چچا” یا “نانا جان” کہلا کر رہ گئے تھے۔ اس طرح سماج نے ایک باوقار شخصیت کو خاموشی سے نظر انداز کر دیا۔

عزیز احمد اکثر اکیلے رہتے تھے اور ماضی کی یادوں میں کھوئے رہتے تھے۔ وہ اپنے عہدے، رتبے، وجاہت اور شان و شوکت کو آنکھیں بند کر کے یاد کرتے تھے، جیسے کوئی پرانی فلم دیکھ رہے ہوں۔ حال کی زندگی انہیں بے رنگ، تنگ اور گھٹن بھری لگتی تھی۔ ایک دن ٹیلی ویژن دیکھتے ہوئے وہ اونگھ جاتے ہیں اور جاگنے پر تشدد اور آگ کے مناظر دیکھ کر گھبرا جاتے ہیں۔ نواسے کی خاموشی انہیں مزید تنہا ہونے کا احساس دلاتی ہے۔ وہ گھر سے باہر نکل کر کھلی ہوا میں سانس لیتے ہیں اور اپنے چھوٹے سے مکان کو دیکھ کر افسوس کرتے ہیں۔ کبھی وہ بڑے بنگلوں اور وسیع لانوں میں رہتے تھے، مگر اصول پسندی کی وجہ سے انہوں نے ناجائز کمائی نہیں کی، اس لیے ریٹائرمنٹ کے بعد بیماری اور علاج میں ساری جمع پونجی ختم ہو گئی۔ اب وہ معمولی پنشن پر زندگی گزار رہے تھے۔ افسانے میں عزیز احمد کے ذریعے زندگی اور موت پر گہرا فکری مکالمہ بھی سامنے آتا ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ زندگی محض سانسوں کا آنا جانا ہے اور وقت ایک بے رحم منصف ہے جو پل بھر میں سب کچھ چھین لیتا ہے۔ ایک شادی کی تقریب میں جب ایک جاننے والا ان سے پوچھتا ہے کہ ان دنوں کہاں ہیں؟ تو یہ سوال دراصل ان کے عہدے کے خاتمے کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ اس واقعے سے انہیں شدت سے احساس ہوتا ہے کہ دنیا عہدوں کی عزت کرتی ہے، انسان کی نہیں۔

گھر میں بھی ان کی سوچ اور گھر والوں کی سوچ میں فرق ہے۔ بیوی اور بیٹا چاہتے ہیں کہ وہ کوئی نہ کوئی کام کر لیں تاکہ آمدنی بڑھے، لیکن عزیز احمد کے لیے عزتِ نفس اور اصول سب سے اہم ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ عہدے کے بعد جو بھی کام ملے گا، وہ ان کے مقام سے کم تر ہوگا۔ اس اختلاف سے ان کی تنہائی اور بڑھ جاتی ہے۔ ان کی صحت دن بدن خراب ہوتی ہے۔ ڈاکٹر سگریٹ چھوڑنے کا حکم دیتا ہے، جس سے ان کی زندگی کا ایک اور سہارا چھن جاتا ہے۔ اب وہ خود کو مزید خالی محسوس کرنے لگتے ہیں۔ پھر انہیں اپنا پرانا ساتھی، ٹرانزسٹر یاد آتا ہے، جو ان کے لیے صرف ایک آلہ نہیں بلکہ دل کی آواز تھا۔ وہ رات کے وقت اسے تلاش کرتے ہوئے اسٹور روم میں داخل ہو جاتے ہیں، جہاں گندگی، اندھیرا اور بدبو ہے، مگر وہ سب کچھ نظر انداز کر کے ٹرانزسٹر کی تلاش میں لگے رہتے ہیں۔ آخرکار وہ ٹرانزسٹر ڈھونڈ لیتے ہیں، مگر اسی تلاش کے دوران ان کی موت ہو جاتی ہے۔ صبح گھر والے انہیں اسٹور روم میں مردہ پاتے ہیں۔ ان کے چہرے پر اطمینان اور کامیابی کی سی مسکراہٹ ہوتی ہے، جیسے انہیں زندگی کی سب سے قیمتی چیز مل گئی ہو۔

افسانے کے آخر میں “بھولے بسرے گیت” کے پروگرام کے ختم ہونے کا ذکر علامتی ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جیسے ریڈیو پر پرانے گیت ختم ہو جاتے ہیں، ویسے ہی معاشرہ بھی پرانے، اصول پسند اور باوقار انسانوں کو خاموشی سے بھلا دیتا ہے۔

الف) 4 جنوری 1930
ب) 4 جنوری 1935
ج) 5 فروری 1935
د) 10 جنوری 1940

الف) سید شفیع احمد
ب) محمد شفیع جاوید
ج) سید محمد شفیع الدین
د) شفیع الدین جاوید

الف) اردو
ب) تاریخ
ج) سیاسیات
د) سماجیات

الف) ماہنامہ ساقی
ب) ماہنامہ افق، دربھنگہ
ج) ماہنامہ نقوش
د) ماہنامہ فنون

الف) روی رنجن
ب) شفیع جاوید
ج) سید عزیز احمد
د) نواسہ

الف) سکریٹری
ب) ڈپٹی کمشنر
ج) وائس چانسلر
د) ڈائرکٹر جنرل

الف) ان کا نام
ب) ان کی ذات
ج) ان کا عہدہ
د) ان کا خاندان

الف) بیماری
ب) غربت
ج) دوستوں کی بے رخی
د) سگریٹ اور ٹرانزسٹر کا چھوٹ جانا

الف) منع نہیں کیا
ب) پیکٹ واپس کر دیا
ج) سگریٹ ضبط کر لیا
د) پورا پیکٹ کھڑکی سے باہر پھینک دیا

الف) کمرے میں
ب) ڈرائنگ روم میں
ج) اسٹور روم میں
د) اسپتال میں

جواب ۔ سید عزیز احمد ڈائرکٹر جنرل کے عہدے سے سبک دوش ہوئے۔

جواب ۔ ان کا نواسہ ٹیلی وژن پر انٹرنیٹ کے ذریعے تشدد اور آگ کے مناظر دیکھ رہا تھا۔

جواب ۔ روی رنجن سید عزیز احمد کے بہت پرانے جرنلسٹ دوست تھے۔

جواب ۔ جی ہاں، ڈاکٹر کی بات سن کر وہ سناٹے میں آگئے۔

جواب ۔ ان کا ایک اور پرانا ساتھی ان کا ٹرانزسٹر تھا۔

جواب ۔ جی ہاں، ٹرانزسٹر مل جانے کے بعد ان کے چہرے پر فاتحانہ چمک تھی۔

سید عزیز احمد ریٹائرمنٹ کے بعد آہستہ آہستہ لوگوں کے ذہنوں سے فراموش ہو گئے۔ جب تک ان کے پاس عہدہ، سرکاری گاڑی اور اختیار تھا، لوگ انہیں یاد رکھتے تھے، سلام کرتے تھے اور احترام دکھاتے تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد نہ گاڑی رہی، نہ عہدہ، تو لوگوں کا آنا جانا بھی کم ہو گیا۔ پھر انہوں نے خود بھی گوشہ نشینی اختیار کر لی اور اپنے گھر کے باہر نام کی تختی پر صرف “عزیز احمد” لکھوا دیا۔ اس طرح پہلے لوگوں نے ان کا عہدہ بھلایا، پھر ان کی شناخت، اور آخرکار وہ صرف “چچا” یا “نانا جان” بن کر رہ گئے۔ یوں سید عزیز احمد سماج کی یادداشت سے مٹتے چلے گئے۔

یہ بات بیوی نے اس لیے کہی کہ سید عزیز احمد ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اپنے پرانے عہدے اور وقار کو نہیں چھوڑ پا رہے تھے۔ بیوی چاہتی تھی کہ وہ کوئی نہ کوئی کام کر لیں تاکہ گھر کے حالات بہتر ہو جائیں اور ان کی طبیعت بھی سنبھل جائے۔ اس جملے کے ذریعے وہ یہ کہنا چاہ رہی تھی کہ ماضی کے عہدے سے چمٹے رہنے کے بجائے حال کی زندگی کو قبول کریں اور عملی طور پر کچھ کریں، کیونکہ گھر کے اخراجات، دوائیں اور علاج کے لیے پیسے کی ضرورت تھی۔

بیٹے نے یہ بات اس لیے کہی کیونکہ وہ عملی اور دنیاوی سوچ رکھتا تھا۔ اس کے نزدیک قابلیت اور دانشوری کی اصل قدر تب ہے جب اس سے مالی فائدہ حاصل ہو۔ وہ یہ سمجھتا تھا کہ والد نے اصولوں، ایمانداری اور علم کے باوجود کوئی دولت نہیں کمائی، اس لیے خاندان کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بیٹے کا یہ جملہ دراصل نئی نسل کی مادی سوچ اور پرانی نسل کی اخلاقی قدروں کے ٹکراؤ کو ظاہر کرتا ہے۔

سید عزیز احمد ٹرانزسٹر اس لیے ڈھونڈ رہے تھے کیونکہ وہ ان کا محض ایک آلہ نہیں بلکہ ان کا قریبی ساتھی تھا۔ بڑھاپے، تنہائی اور بیماری کے عالم میں سگریٹ چھوٹ جانے کے بعد ٹرانزسٹر ہی ان کے دل کا سہارا رہ گیا تھا۔ وہ اس کے ذریعے خبریں، پروگرام اور موسیقی سنتے تھے، جو ان کے لیے زندگی سے جڑے رہنے کا ذریعہ تھا۔ ٹرانزسٹر کے بغیر انہیں شدید خلا اور اکیلا پن محسوس ہونے لگا۔ اسی احساس کے تحت وہ رات کے اندھیرے میں اسٹور روم میں اسے تلاش کرنے نکل پڑے۔ ٹرانزسٹر مل جانا ان کے لیے آخری خوشی ثابت ہوا، اور اسی لمحے ان کی زندگی کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ ٹرانزسٹر ان کی تنہائی، یادوں اور زندگی کی آخری آواز کی علامت تھا۔

افسانہ “بھولے بسرے گیت” ایک ریٹائرڈ اعلیٰ سرکاری افسر سید عزیز احمد کی زندگی پر مبنی ہے، جو کبھی ڈائرکٹر جنرل کے عہدے پر فائز تھے۔ ریٹائرمنٹ کے تقریباً دس سال بعد ان کی زندگی مکمل طور پر بدل چکی ہے۔ پہلے لوگ ان کے عہدے اور اختیار کی وجہ سے احترام کرتے تھے، لیکن عہدہ ختم ہوتے ہی آہستہ آہستہ وہ لوگوں کی یادوں سے مٹنے لگے۔ پہلے ان کا عہدہ بھلایا گیا، پھر ان کی شناخت اور آخرکار وہ صرف ایک عام بوڑھے انسان بن کر رہ گئے۔

عزیز احمد زیادہ تر تنہائی میں ماضی کی یادوں میں کھوئے رہتے ہیں۔ انہیں اپنی وجاہت، شان و شوکت اور سماجی وقار یاد آتا ہے۔ حال کی زندگی انہیں تنگ، گھٹن بھری اور بے معنی لگتی ہے۔ گھر میں بھی انہیں مکمل ذہنی سکون نہیں ملتا، کیونکہ بیوی اور بیٹا عملی اور مادی سوچ رکھتے ہیں، جبکہ عزیز احمد اصولوں اور خودداری کو اہمیت دیتے ہیں۔ ان کی صحت خراب رہتی ہے۔ ڈاکٹر سگریٹ چھوڑنے کا حکم دیتا ہے، جس سے ان کی زندگی کا ایک اور سہارا چھن جاتا ہے۔ اب انہیں شدید تنہائی محسوس ہونے لگتی ہے۔ اس تنہائی میں انہیں اپنا پرانا ساتھی، ٹرانزسٹر یاد آتا ہے، جو ان کے لیے دل کی آواز تھا۔ وہ رات کے اندھیرے میں اسٹور روم میں ٹرانزسٹر تلاش کرنے نکل جاتے ہیں۔ آخرکار انہیں ٹرانزسٹر مل جاتا ہے، مگر اسی تلاش کے دوران ان کی موت ہو جاتی ہے۔

افسانے کے آخر میں صبح ساڑھے سات بجے “بھولے بسرے گیتوں” کے پروگرام کے ختم ہونے کا ذکر علامتی انداز میں کیا گیا ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جیسے پرانے گیت ختم ہو جاتے ہیں، ویسے ہی معاشرہ پرانے اور اصول پسند انسانوں کو بھی بھلا دیتا ہے۔

سید عزیز احمد ایک باوقار، اصول پسند، خوددار اور حساس انسان ہیں۔ وہ اپنے عہدے کے زمانے میں بھی ایمانداری اور اصولوں پر قائم رہے۔ انہوں نے ناجائز کمائی کو گناہ سمجھا، اسی لیے ریٹائرمنٹ کے بعد مالی مشکلات کا شکار ہو گئے۔ ان کی شخصیت میں وقار، سنجیدگی اور فکری گہرائی نمایاں ہے۔

وہ ماضی کی یادوں میں جینے والے انسان ہیں۔ عہدہ چھن جانے کے بعد انہیں اس بات کا شدید صدمہ ہے کہ لوگ انسان کو نہیں بلکہ اس کے عہدے کو یاد رکھتے ہیں۔ گھر میں بیوی اور بیٹے سے ان کا ذہنی تصادم ہے، کیونکہ وہ مادی فائدے کی بات کرتے ہیں، جبکہ عزیز احمد کے نزدیک عزتِ نفس اور اصول سب سے اہم ہیں۔ ان کی تنہائی، بیماری اور بڑھاپا انہیں اندر سے توڑ دیتا ہے۔ سگریٹ اور ٹرانزسٹر ان کے لیے محض عادت یا شوق نہیں بلکہ جذباتی سہارے ہیں۔ ٹرانزسٹر کی تلاش دراصل محبت، اپنائیت اور زندگی کے آخری سہارے کی تلاش ہے۔ آخر میں ان کی موت ایک خاموش احتجاج بن جاتی ہے اس سماج کے خلاف جو عہدہ ختم ہوتے ہی انسان کو بھلا دیتا ہے۔

اس طرح سید عزیز احمد کا کردار ایک ایسے انسان کی علامت ہے جو اصولوں پر جیتا ہے، مگر اسی اصول پسندی کی قیمت تنہائی اور بے قدری کی صورت میں ادا کرتا ہے۔

افسانہ “بھولے بسرے گیت” شفیع جاوید کی افسانہ نگاری کی نمایاں خصوصیات کو پوری طرح واضح کرتا ہے۔ شفیع جاوید کا شمار ان افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے جو انسانی زندگی کے باطنی مسائل، نفسیاتی کشمکش اور سماجی حقیقتوں کو نہایت سنجیدگی اور گہرائی سے پیش کرتے ہیں۔ اس افسانے میں انہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد انسان کی تنہائی، شناخت کے بحران، سماجی بے حسی اور وقت کی بے رحمی کو مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔ شفیع جاوید ماضی اور حال کو جوڑنے کے لیے فلیش بیک اور شعور کی رو کی تکنیک استعمال کرتے ہیں، جس سے افسانہ فکری گہرائی حاصل کر لیتا ہے۔ عزیز احمد کے ماضی کی یادیں اور حال کی تلخ حقیقتیں مسلسل ایک دوسرے میں گتھی ہوئی نظر آتی ہیں۔ شفیع جاوید کی زبان سادہ مگر اثر انگیز ہے۔ وہ علامتوں کا خوبصورت استعمال کرتے ہیں۔ ٹرانزسٹر، سگریٹ اور “بھولے بسرے گیت” محض اشیاء نہیں بلکہ انسانی تنہائی، یادوں اور وقت کے بہاؤ کی علامتیں ہیں۔ افسانے کا اختتام بھی علامتی ہے، جو قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

اس افسانے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ شفیع جاوید کی افسانہ نگاری محض کہانی بیان کرنے تک محدود نہیں، بلکہ وہ سماج کے تلخ سچ، انسان کی بے بسی اور وقت کی ستم ظریفی کو فکری اور فنّی سطح پر پیش کرتے ہیں۔ یہی خصوصیات انہیں اردو افسانے کا ایک اہم اور معتبر نام بناتی ہیں۔

This post provides a detailed summary and analysis of the story “Bhule Bisre Geet” by Shafi Javed from Bihar Board Class 12 Kahkashan Chapter 9. It explores the life of retired officer Syed Aziz Ahmed, highlighting themes of aging, social neglect, loneliness, and the contrast between past prestige and present obscurity. The post also discusses Shafi Javed’s writing style, use of flashbacks, and symbolic elements, such as the transistor and forgotten songs, which reflect human emotions, societal indifference, and the passage of time.

Scroll to Top