داستان فسانہ عجائب کا خلاصہ
فیروز بخت سرزمین ختن کے شہر فسحت آباد کا بادشاہ تھا ، جس کے تخت و تاج کا کوئی وارث نہ تھا۔ خوش قسمتی سے ساٹھ برس کے سن میں ایک اولاد پیدا ہوئی جس کا نام جان عالم رکھا گیا۔ جان عالم حسن و جمال کا جسمانی نمونہ تھا۔ اس کی شادی ماہ طلعت سے ہوئی ۔ جان عالم ، طوطے کی زبانی ملک زر نگار کی شہزادی انجمن آرا کے حسن کی تعریف سن کر نادیدہ عاشق ہو گیا اور اسے حاصل کرنے کے لیے اپنے دوست وزیر زادہ اور طوطے کے ہمراہ سفر پر روانہ ہوا۔ شہپال جادوگر کی بیٹی ساحرہ پہلے سے ہی جان عالم کی عاشق تھی ، اسے اپنی قید میں کر لیتی ہے۔ جان عالم جادوگرنی کی قید میں دو مہینے رہا۔ جان عالم کو نقش سلیمانی کی مدد سے ساحرہ سے آزادی ملی۔ جان عالم کی ملاقات ملکہ مہر نگار سے ہوئی جس کا باپ ایک عامل درویش تھا جو بادشاہت چھوڑ کر جنگل میں عبادت میں اپنی زندگی گزار رہا تھا۔ ملکہ، جان عالم کے حسن کو دیکھ کر اس سے عشق کر بیٹھی۔ شہزادہ بھی اسے پسند کرنے لگتا ہے۔ جان عالم ، ملکہ سے اپنے سفر کا مقصد بتاتا ہے اور اس وعدے پر اس سے رخصت ہوتا ہے کہ واپسی میں اس سے ضرور ملے گا ۔ ملکہ کا درویش باپ، جان عالم کو لوح طلسم دیتا ہے۔ جب جان عالم ملک زرنگار پہنچا تو اسے معلوم ہوا کہ انجمن آرا کو کسی جادوگر نے اپنے جادوئی قلعے میں قید کر رکھا ہے۔ جان عالم نقش سلیمانی اور لوح طلسم کی مدد سے دیو پر فتح پاتا ہے اور انجمن آرا کو صحیح سلامت اس کے محل واپس لاتا ہے۔ انجمن آرا کے والدین کو جب یہ معلوم ہوا کہ شہزادہ، انجمن آرا کے عشق میں گرفتار ہے تو وہ دونوں کی شادی کے لیے راضی ہو جاتے ہیں۔ انجمن آرا شادی کے لیے فوراً تیار نہ ہوئی لیکن ماں باپ کے سمجھانے پر راضی ہوگئی۔ دونوں کی شادی دھوم دھام سے ہو جاتی ہے۔ شہزادہ واپسی میں ملکہ مہر نگار سے بھی شادی کر لیتا ہے۔ انجمن آرا، مہر نگار سے بڑی شفقت سے پیش آئی۔ تینوں ہنسی خوشی ساتھ رہنے لگے ۔
مہر نگار کے درویش باپ نے جان عالم کو تنہائی میں چند باتیں بتائیں یعنی تبدیلی قالب کا راز بتایا اور تاکید کی کہ اسے کبھی بھی کسی پر ظاہر نہ کرے، ورنہ وہ پریشانیوں میں مبتلا ہوگا۔ اس دوران بچھڑا ہوا وزیر زادہ بھی کہیں سے بھٹکتا ہوا قافلے سے ملا۔ وزیر زادے نے جب انجمن آرا کے حسن و جمال کو دیکھا تو اس کی نیت خراب ہو گئی۔ وہ دھوکے سے تبدیلی قالب کا راز جان عالم سے حاصل کر لیتا ہے۔ وہ جب سب کچھ سیکھ چکا تو کہا کہ یقین کے لیے آزمائش ضروری ہے۔ آزمائش کے لیے دونوں جنگل کی جانب چل نکلے۔ راستے میں ایک مرا ہوا بندر ملا۔ شہزادے نے اس میں اپنی روح ڈال دی، بندر زندہ ہو گیا، دوسری طرف وزیر زادے نے شہزادے کے قالب میں اپنی روح ڈال دی اور اپنے جسم کو ٹکڑے کر کے دریا میں بہا دیا۔ اور بندر کو مارنے کے لیے اس پر اپنی تلوار سے حملہ کیا لیکن بندر (شہزادہ) کسی طرح اپنی جان بچا کر درخت پر چڑھ گیا۔ وزیر زادہ (جان عالم کے قالب میں) روتا پیٹتا محل واپس آیا اور انجمن آرا اور مہر نگار سے کہا کہ اس کے دوست کو شیر نے کھا لیا اور کسی طرح اپنی جان بچا کر واپس آیا ہے۔ ملکہ مہر نگار کو شہزادے (وزیر زادہ) کے قول و فعل پر شک ہوا۔ کیونکہ اس کا رویہ پہلے سے بدلا ہوا تھا۔ جب اس کا شک یقین میں بدل گیا تو اس نے انجمن آرا سے کہا کہ یہ شہزادہ نہیں ہے۔ اس کے قالب میں وزیر زادہ ہے۔ شہزادے نے تبدیلی قالب کا راز وزیر زادے کو بتا دیا ہوگا، اس لیے یہ مشکل پیدا ہوا ہے۔
وزیر زادے کو یہ خوف تھا کہ جان عالم بندر کے قالب میں زندہ ہے لہذا اسے راستے سے ہٹانا ضروری ہے۔ اس کے لیے اس نے اعلان کر دیا کہ اسے بندر چاہیے، جو لائے گا دس روپے پائے گا۔ یہاں تک کہ ایک بندر کے سو روپے تک دیے جانے لگے۔ اس طرح اس نے ہزاروں بندروں کو ماروا دیا۔ ایک چڑی مار نے پیسے کی لالچ میں ایک بندر کو پکڑا۔ اتفاق سے اس بندر کے قالب میں شہزادہ تھا۔ چڑی مار بندر کو بادشاہ کے ہاتھ بیچنا چاہتا تھا لیکن بندر کے سمجھانے پر اسے بیچنے کا ارادہ ترک کر دیا۔ ایک سوداگر پاس کے سرائے میں آ کر ٹھہرا ہوا تھا جب اسے معلوم ہوا کہ یہ بندر انسان کی زبان میں بات کرتا ہے تو اس نے چڑی مار کو ڈرا دھمکا کر اسے خرید لیا، تاکہ وہ زیادہ قیمت میں بادشاہ کو بیچ سکے۔ جب ملکہ نے یہ دیکھا کہ وزیر زادہ، بندروں کو ماروا رہا ہے تو اسے یقین ہو گیا کہ بندر کے قالب میں شہزادہ ہے۔ جب اسے معلوم ہوا کہ کوئی سوداگر ایک بندر بادشاہ کو بیچنے والا ہے جو انسان کی طرح بات کرتا ہے، تو اسے ایک حکمت سوجھی۔ اس نے راستے میں ہی سوداگر سے ملاقات کی، اس نے اپنی پالکی میں ایک پنجرے میں طوطا رکھا ہوا تھا۔ ملکہ نے بندر سے کچھ بات کی، طوطے کی گردن مروڑ کر مار دیا۔ بندر یعنی شہزادے نے موقع کو غنیمت جانا اور فوراً طوطے کے قالب میں داخل ہو گیا۔ بندر کا جسم مردہ ہو گیا۔ لوگوں میں یہ بات عام ہو گئی کہ بندر موت کے خوف سے مر گیا۔ وزیر زادے نے اپنی تسلی کے لیے اس کے مردہ جسم کو آگ میں جلا دیا۔ اب اسے سکون ہو گیا کہ شہزادہ اس کی راہ سے ہمیشہ کے لیے ہٹ گیا۔
دوسری طرف ملکہ نے اپنے رویے میں تبدیلی لے آئی۔ وہ خوب پیار اور دلجوئی کے ساتھ وزیر زادے سے ملنے جلنے لگی۔ رفتہ رفتہ وزیر زادے کو یہ یقین ہو گیا کہ ملکہ اور انجمن آرا اب اس پر کوئی شک نہیں کرتیں، وہ اطمینان سے رہنے لگا۔ ایک روز ملکہ نے وزیر زادے سے کہا کہ میرے میمنے کو زندہ کر کے دکھاؤ جیسے پہلے تم نے میری مینا کو زندہ کیا تھا۔ وزیر زادے نے یہ سوچا کہ اگر ایسا نہ کیا تو ملکہ کو اس پر شک ہو جائے گا۔ جیسے ہی اس نے اپنی روح کو میمنے کے قالب میں ڈال دیا، شہزادے نے اپنی روح کو طوطے سے نکال کر اپنے جسم میں واپس ڈال لیا۔ اس طرح وزیر زادہ میمنے کے قالب میں قید ہو گیا۔ ملکہ نے دوا مچھر پھونک دی تاکہ وہ کسی اور کے قالب میں روح نہ لے جائے۔ تینوں عاشق و معشوق گلے مل کر خوب روئے۔ جان عالم نے سوداگر کو طلب کیا۔ اسے کپڑے، انعام اور ہر قسم کی چیزیں ہاتھی اور پالکی سمیت دی گئیں۔ چڑی مار اور اس کی جورو کو بلایا، روپیہ اشرفی اور زرو جواہر دے کر دنیا کی فکر سے آزاد کر دیا۔
ادھر ساحرہ، جان عالم سے ناراض بیٹھی تھی۔ موقع ملتے ہی اس نے دھوکے سے جان عالم سے نقش سلیمانی اور لوح طلسم حاصل کر لیا اور پھر جان عالم اور اس کے لشکر کو آدھے دھڑ تک پتھر کا بنا دیا۔ اتفاقاً ملکہ کے درویش باپ کا ایک شاگرد اس راستے سے گزرا، جس نے یہ اطلاع اپنے استاد پیر مرد کو دی۔ پیر مرد نے ساحرہ اور اس کے باپ شہپال جادوگر کی فوج سے جنگ کی، انھیں شکست دی اور جان عالم اور اس کے لشکر کو دوبارہ انسان بنایا۔ اس طرح لشکر نے آزادی پائی۔
جان عالم کا لشکر دریائے شور پر پہنچا۔ جان عالم، ملکہ مہر نگار، انجمن آرا اور چند خواصیں جہاز پر سوار ہوئیں اور دریا کی سیر کے لیے چل پڑے۔ ملکہ مہر نگار سیر کے لیے پوری طرح تیار نہ تھی لیکن جان عالم کی خواہش پر راضی ہو گئی۔ جہاز بڑے طوفان کا شکار ہوا۔ سب ایک دوسرے سے بچھڑ گئے اور کسی کو کسی کی خبر نہ ملی۔ جان عالم تختے کے سہارے پانچ دن میں کنارے پہنچا۔ وہ در بدر بھٹکتا ہوا کوہ مطلب برار کے جوگی کے پاس پہنچا۔ جوگی نے اسے چند باتیں بتائیں کہ جس چیز کا دھیان کرے، وہ فوراً ہو جائے۔ پھر جس طرف جوگی نے بتایا، اس طرف چل نکلا۔ شہزادہ پہاڑ سے آگے بڑھا تو دریا ملا۔ قریب سے دیکھا تو بہت سے لعل بہتے ہوئے نظر آئے۔ سوچا کہ یہ حال معلوم کیا جائے۔ دو کوس کا راستہ طے کرنے کے بعد ایک بڑی عمارت دیکھی اور اس چشمے کو اندر سے رواں پایا۔ عمارت کا دروازہ کہیں نظر نہ آیا، وہ بلبل بن کر دیوار پر بیٹھ گیا۔ محل کے اندر جا کر دیکھا تو ایک پلنگ پر کوئی دوشالہ اوڑھے سو رہا تھا۔ جب دوشالہ کا سر دیکھا تو بغیر سر کے کوئی پری کی شکل تھی۔ چھت سے ایک چھینکا بندھا ہوا نظر آیا، جس میں سر کٹا ہوا تھا۔ سر کے نیچے نہر میں پانی جاری تھا، جو خون کا قطرہ پانی میں گر کر اللہ کی قدرت سے لعل میں بدل جاتا تھا۔ قریب جا کر غور سے دیکھا تو چہرہ انجمن آرا کا تھا۔
اسی دوران ایک قوی ہیکل دیو کے آنے کی آواز آئی، وہ فوراً بھورے کی شکل اختیار کر کے بیٹھ گیا۔ دیو نے سامنے رکھے ہوئے گلدستے سے سفید پھول توڑا اور اس پری پیکر کو سنگھایا، سر اچھل کر بدن سے ملا، انجمن آرا اٹھ بیٹھی۔ دیو نے انجمن آرا سے کچھ دیر باتیں کیں اور پھر سرخ رنگ کا پھول اسے دیا، سر چھینکے پر بلند ہوا، تن نے پلنگ پر آرام کیا۔ دیو کے جانے کے بعد جان عالم نے اسی طریقے سے انجمن آرا کو زندہ کیا، دونوں مل کر خوب روئے۔ ان کی آواز سن کر ایک نیک سفید دیو وہاں پہنچا۔ اس وقت ظالم دیو بھی آگیا۔ سفید دیو اور ظالم دیو کی جنگ ہوئی، اور ظالم دیو اپنے انجام کو پہنچا۔
جان عالم اور انجمن آرا طوطے کی ہیئت میں ملکہ مہر نگار کی تلاش میں نکل پڑے۔ ادھر ملکہ جہاز کے ایک تختے پر بہتی ہوئی جا رہی تھی کہ ایک بادشاہ کا جہاز سامنے سے گزرا جو سیر کی غرض سے دریا میں آیا تھا۔ اس نے ملکہ کی جان بچائی، اپنے دارالسلطنت لے گیا۔ وہ ملکہ پر فریفتہ تھا، شادی کرنا چاہتا تھا لیکن ملکہ نے کہا اسے کچھ مدت کی مہلت دے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ اس کے اپنوں کے ساتھ دریا میں کیا ہوا، کون زندہ رہا کون مرا۔ بادشاہ راضی ہوا۔ ملکہ اکثر باغ میں تنہا جاتی، درخت کے نیچے بیٹھ کر رویا کرتی۔ ایک روز درخت پر بیٹھا طوطا یہ سب ماجرا دیکھ رہا تھا، اس نے ملکہ سے اس کا حال زار پوچھا۔ اس نے قصہ عشق جان عالم، انجمن آرا، وزیر زادے کی برائی، جادوگرنی کی کج ادائی، جہاز کی تباہی اور اپنا یہاں آنا اور جان عالم وانجمن آرا سے بچھڑنا، سب کچھ بیان کر دیا۔ طوطے نے ملکہ سے بتایا کہ وہ وہی طوطا ہے جس کی وجہ سے جان عالم آج عشق میں گرفتار اور غریب الوطن ہوا ہے۔ طوطا، ملکہ کا خط لے کر جان عالم کی تلاش میں چل نکلا۔ طوطے کی ملاقات جان عالم اور انجمن آرا سے ہوئی جو بشکل طوطا ایک درخت پر بیٹھے ہوئے تھے۔ جب حقیقت حال معلوم ہوا تو اس نے ملکہ کا خط حوالے کیا۔ تینوں آٹھویں روز ملکہ کے پاس پہنچے۔ یہ خبر بادشاہ کو پہنچی۔ وہ دعا پر آمادہ ہوا۔ بحکم بادشاہ دو ہزار سواروں نے باغ کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔ جان عالم نے لوح طلسم کے ذریعے سبھی سوار مع سپہ سالار کو اپنا فرماں بردار بنا لیا۔ ایک جنگ ہوئی جس میں بادشاہ کو شکست ملی۔ جان عالم نے اس کی جان بخشی کی۔ اس کی حکومت اسے واپس کردی۔ بادشاہ بہت ممنون ہوا۔ جان عالم اپنے لشکر کے ساتھ ایک برفستان میں قیام پذیر تھا۔ راگ رنگ اور شراب و رقص کا سماں بندھا ہوا تھا۔ جان عالم کو خیال آیا کہ انجمن آرا اور ملکہ مہر نگار ایک عرصے تک اس سے دور رہیں، عورت کا کیا اعتبار کہیں بے وفائی تو نہیں کر دی ہوں۔ طوطے کو جان عالم کی کیفیت سمجھ میں آئی، اس نے اس کے شک و شبہات کو رفع کیا۔ جان عالم کو ندامت ہوئی۔ اب یہ خدشہ دور ہوا۔ پھر ہنسی خوشی وہاں سے اپنے وطن واسطے کوچ کیا۔ جان عالم کا لشکر اپنے وطن فسحت آباد کے باہر قیام کیا۔ شہر میں یہ خبر پہنچی کہ کوئی غنیم، فوج لے کر وارد ہوا ہے۔ والدین کی حالت یہ تھی کہ جان عالم کے فراق میں رورو کر اندھے ہو گئے تھے۔ جب معلوم ہوا کہ یہ کوئی عظیم نہیں بلکہ اپنا وارث ہے تو والدین کی خوشی کی انتہا نہ رہی، ان کی بینائی بھی واپس آگئی۔ ملکہ مہر نگار اور انجمن آرا نے خوش دلی سے ماہ طلعت سے ملاقات کی، باہم سبھی ہنسی خوشی رہنے لگے۔ وزیر زادہ جو بکری کے بچے کے قالب میں قید تھا، اسے خلقت کے سامنے قتل کیا گیا۔ بادشاہ نے تخت و تاج بیٹے کے حوالے کر گوشہ نشین ہوا۔ قصہ یہیں تمام ہوا۔
فسانہ عجائب کا موضوعاتی مطالعہ
فسانہ عجائب اردو کی ایک لازوال اور مقبول ترین داستان ہے۔ سرور کی یہ پہلی اہم تصنیف ہے جس میں انھوں نے اپنی زبان دانی اور خوبصورت بیان کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ داستان نہ صرف سرور کا قیمتی کارنامہ ہے بلکہ یہ دبستان لکھنو کی ایک نمائندہ نثری تصنیف بھی ہے۔ اس داستان میں لکھنوی تہذیب ہر رنگ میں صاف نظر آتی ہے۔ انشا پردازی اور لکھنو کی زبان کے طور پر اسے سند کی حیثیت حاصل ہے۔ سرور نے متعدد کتابیں تصنیف کیں لیکن فسانہ عجائب کو جو مقبولیت حاصل ہوئی کسی اور کو نہ مل سکی۔ فسانہ بجائے فسانہ عجائب میں جو قصے بیان کیے گئے ہیں ، وہ قطعی نئے نہیں ہیں ۔ عام طور پر قدیم داستانوں اور مثنویوں میں ان کا کسی نہ کسی شکل میں تذکرہ ضرور ملتا ہے۔ بادشاہ کی اولاد کا نہ ہونا، نجومیوں کی پیشن گوئی ، پندرہویں برس میں حادثے کا ذکر ، طوطے کی خریداری ، طوطے اور ماہ طلعت کی بحث ، جان عالم کا نادیدہ عاشق ہونا ، حوض میں اتر کر کہیں سے کہیں پہنچ جانا ، جان عالم کا ساحرہ سے مجبوراً تعلق قائم کرنا، لوح طلسم ، جادوئی قلعہ، تبدیل قالب، جہاز کا ٹوٹنا اور ایک دوسرے سے بچھڑنا ، آدھے دھڑ کا پتھر بن جانا، انسان کا طوطا بن کر اڑنا، انجمن آرا کی گردن سے خون کی بوندوں کا پانی میں گر کر لعل بن جانا، مہر نگار کا طوطے کے ذریعے خط بھیجنا وغیرہ پر ماوت، بہار دانش ، طوطا کہانی سحر البیان ، گل بکاولی ، داستان امیر حمزہ، پھول بن ، سنھگا سن بتیسی جیسی قدیم داستانوں اور مثنویوں سے ماخوذ ہیں۔ فسانہ عجائب میں جن خاص موضوعات کو پیش نظر رکھا گیا ہے، ان کی تفصیل حسب ذیل ہے۔
عشق و محبت
فسانہ عجائب ایک عشقیہ داستان ہے۔ داستان کا مرکزی کردار جان عالم ، ملک ختن کے شہر فسحت آباد کا شہزادہ ہے جو طوطے کی زبانی انجمن آرا کے حسن کی تعریف سن کر نادیدہ عاشق ہو جاتا ہے۔ انجمن آرا، ملک زرنگار کی شہزادی ہے۔ جان عالم ، انجمن آرا کو حاصل کرنے کی کوشش میں نکلتا ہے۔ اس کوشش میں جان عالم کو متعدد مشکلوں کا سامنا ہوتا ہے۔ آخر میں دونوں کی شادی ہو جاتی ہے۔ عشق پر مبنی دوسرا قصہ ملکہ مہر نگار کا ہے ۔ جان عالم جب ملک زرنگار کے لیے سفر پر جا رہا تھا تو راستے میں اس کی ملاقات ملکہ مہر نگار سے ہوتی ہے۔ ملکہ، پہلی ہی ملاقات میں جان عالم کے حسن کو دیکھ کر اپنے دل پر قابو نہ رکھ سکی اور اس کے حسن پر فریفتہ ہو جاتی ہے۔ جان عالم بھی ملکہ کے حسن و جمال اور عقل و دانش سے بہت متاثر ہوتا ہے۔ جان عالم ، انجمن آرا سے شادی کر کے جب واپس ہوتا ہے تو وہ ملکہ مہر نگار سے بھی شادی کر لیتا ہے۔
ضمنی داستانوں میں سوداگر کی بیٹی اور ایک انگریز سوداگر کے عشق کو پیش کیا گیا ہے ۔ انگریز ، جدائی کی تڑپ اور بے قراری کو برداشت نہیں کر پاتا اور اس کی موت ہو جاتی ہے۔ اس کی وصیت کے مطابق اس کے جنازے کو سودا گر کی بیٹی کے محل کے سامنے گزارا جاتا ہے۔ سوداگر کی بیٹی کو جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ جنازہ اس کے عاشق کا ہے تو وہ محل کی چھت سے کود کر خودکشی کر لیتی ہے۔ اس قصے کا اختتام ایک دکھ بھرا انجام ہے۔ اس کے علاوہ داستان میں دوسرا قصہ پر مجسٹن کے عشق کا بیان کیا گیا ہے۔ اس قصے کا انجام بھی دکھ بھرا ہے۔ مختصر یہ کہ پوری داستان میں حسن و عشق کی فضا قائم ہے۔ مصنف نے حسن و عشق کے معاملات، ناز و نعم، شکوہ و شکایت ، درد و کرب ، بے قراری اور جذبہ ایثار کو بڑی خوبصورتی سے صفحۂ قرطاس پر پیش کیا ہے۔
تہذیب و ثقافت
فسانہ عجائب کے موضوعات میں تہذیب و ثقافت کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ تہذیب و ثقافت کے بیان میں سرور کی خاص توجہ رہی ہے۔ جب وہ ملک ختن کے بادشاہ فیروز بخت کی شان و شوکت ، سخاوت، عدل و انصاف اور جاہ و جلال کو بیان کرتے ہیں تو ان کے ہر لفظ سے سلاطین اودھ کی تصویر نمایاں ہوتی ہے۔ اسی طرح سرور نے جب ملکہ مہر نگار کے محل ، باغ ، بزم آرائیوں کی تصویر کشی کی ہے تو وہاں بھی لکھنو کی تہذیب پوری آن بان کے ساتھ سامنے آ جاتی ہے۔ ملکہ مہر نگار کے جلوس میں خوش لباس اور خوبصورت مہ لقاؤں کی سیکڑوں میں شمولیت سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ بیگمات نوابین اودھ کی سواری نظروں کے سامنے گزر رہی ہے۔ جب ملکہ کے محل اور بزم آرائیوں کی تصویر پیش کی گئی تو وہاں بھی محلات اودھ اور رقص و سرود کی محفلوں کی تصویر سامنے آ جاتی ہے۔ اسی طرح جان عالم اور انجمن آرا کی شادی کی دھوم دھام ، ماجھے کی رسم ، متعدد رسمیں ، محل کی آرائش و سجاوٹ اور بارات کا نقشہ وغیرہ لکھنوی تہذیب کے عکاس ہیں۔ سواریوں میں پالکی ، نالکی ، چنڈول، محافہ کا ذکر ، خادماؤں میں آتو محل دارنیاں ، خواصیں ، لونڈیاں ، باندیاں ، انا، چھو چھو، چٹھی نویس، باری دارنیاں وغیرہ کی پیش کش سے اس زمانے کی تہذیب و ثقافت پر خاص روشنی پڑتی ہے۔ مختصر یہ کہ سرور نے ہر موقع پر تہذیب و ثقافت کی مؤثر تصویر کشی کی ہے۔
جنگ و جدل
داستان میں عام طور پر دو طرح کے جنگی معرکوں کا ذکر آتا ہے۔ ایک طلسماتی جنگ اور دوسری فوجی جنگ ۔ اور کبھی کبھی ایک ہی جنگ میں طلسم اور فوج دونوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ فسانۂ عجائب میں دونوں طرح کی جنگیں پیش کی گئی ہیں۔ پہلی طلسماتی جنگ اس وقت پیش آتی ہے جب شہپال جادوگر کی بیٹی ساحرہ ، جان عالم کو طلسم کے ذریعے قید کر لیتی ہے۔ جان عالم ، اپنی عقل سے ساحرہ سے نقش سلیمانی حاصل کر کے اس کے طلسم سے آزاد ہو جاتا ہے ۔ دوسری طلسماتی جنگ اس وقت پیش آتی ہے جب انجمن آرا کو ایک دیو نے طلسماتی آگ کے قلعے میں قید کر رکھا تھا۔ جان عالم نقش سلیمانی اور لوح طلسم کے ذریعے انجمن آرا کو دیو کی قید سے آزاد کراتا ہے۔ تیسری جنگ اس وقت پیش آتی ہے جب ملکہ مہر نگار ایک بادشاہ کے قبضے میں تھی ۔ جب جان عالم ، ملکہ کی تلاش میں طوطے کی مدد سے وہاں پہنچتا ہے تو بادشاہ، ملکہ کو واپس کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ جان عالم، بادشاہ اور اس کی فوج کو اپنے قابو میں کر لیتا ہے۔ چوتھی جنگ اس وقت پیش آتی ہے جب شہپال جادوگر اور اس کی بیٹی ، جان عالم اور اس کے لشکر پر طلسماتی حملہ کرتے ہیں۔ جان عالم ، ملکہ کے درویش باپ کی مدد سے پہلے طلسماتی جنگ کو جیت لیتا ہے اور بعد میں ایک بڑا فوجی معرکہ ہوتا ہے جس میں شہپال جادوگر اور اس کی فوج پوری طرح تباہ ہو جاتی ہے۔ اس جنگ میں ساحرہ اور شہپال دونوں ہلاک ہو جاتے ہیں۔ فسانہ عجائب میں یہی ایک جنگ ہے جسے بڑے پیمانے پر پیش کیا گیا ہے۔ سرور نے اس جنگ کی چھوٹی چھوٹی تفصیل انتہائی خوبصورتی کے ساتھ پیش کی ہے۔
درس اخلاقیات
فسانہ عجائب میں کئی ایسے مواقع پیش آئے ہیں جس میں اخلاقی سبق دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ جان عالم جب انجمن آرا کا نادیدہ عاشق ہو جاتا ہے تو مصنف عشق کے نقصانات بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ اس میں رسوائی ، صحرانوردی ، غریب الوطنی اور در بدری کا سامنا ہوتا ہے۔ وہ عشق سے باز آنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس کے لیے یوسف زلیخا ، نبل دمن، شیریں فرہاد، لیلی مجنوں وغیرہ کا حوالہ دیتا ہے۔ اسی طرح سوداگر کی بیٹی سے جب ایک انگریز عشق کرتا ہے تو اسے اس راہ سے باز آنے کے لیے پسر جسٹن کی داستان بیان کی گئی ہے جس میں یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ عشق کا انجام برا ہوتا ہے۔ اسی طرح یمنی داستانوں میں کوئی نہ کوئی اخلاقی سبق ضرور دیکھنے کو ملتا ہے۔ فسانہ شاہ یمن کی داستان میں یہ سبق ملتا ہے کہ ایک ایماندار بادشاہ ، اللہ کی راہ میں اپنی پوری سلطنت ایک فقیر کے حوالے کر دیتا ہے۔ آخر میں وہ ایک سلطنت کی جگہ دو سلطنت کا مالک بن جاتا ہے اور وہ لالچی فقیر اپنے برے انجام کو پہنچتا ہے۔ پاک دامن عورت کے قصے میں یہ سبق دیا گیا ہے کہ کسی شخص کو اپنی بیوی کی پاک دامنی پر شک کر کے اپنا دل خراب نہیں کرنا چاہیے کیوں کہ اس کا انجام برا ہوتا ہے۔
وزیر زادہ ، جان عالم کے بچپن کا دوست تھا۔ اس نے شہزادے کی بیوی پر فریفتہ ہو کر جان عالم کو دھوکہ دیا۔ اس کا انجام یہ ہوا کہ اس کے دین اور دنیا دونوں خراب ہو گئے۔ بندر کی تقریر میں بھی اخلاقیات کا سبق دیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ دنیا آزمائش کی جگہ ہے، شاہ و گدا کا انجام دو گز کفن ہے، ماحصل یہ کہ دنیا کی محبت دل سے کم کرے اور آخرت کی فکر سے کام لے۔ غرض یہ کہ داستان میں متعدد ایسے قصے ہیں جہاں درس و نصیحت کا بیان ملتا ہے۔
دیباچہ فسانہ عجائب
سرور نے فسانہ عجائب کی سن تصنیف کے متعلق دیباچے میں لکھا ہے کہ یہ فسانہ شروع زمانہ غازی الدین حیدر میں ہوا اور تمام نصیر الدین کے عہد میں ہوا۔ سرور نے فسانہ عجائب کا کانپور میں لکھا تھا اور اس کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ربیع الثانی کے مہینے میں کہ سنہ ہجری نبوی بارہ سے چالیس تھے، آنے کا اتفاق مجبور، کانپور میں ہوا۔ حکیم اسد علی، کانپور میں سرور کے سرپرست تھے جنھوں نے یہ داستان لکھنے کی ترغیب دی۔ انھوں نے فرمایا ”بیکار نہ رہو، کچھ کام کیا کرو۔“
فسانہ عجائب کی ابتدا حمد و ثنا سے ہوتی ہے جس میں باری تعالیٰ کی تعریف بیان کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی نبی کریم اور اہل بیت رسالت کی تعریف و توصیف پیش کی گئی ہے۔ بعد ازاں والی ملک نواب اودھ غازی الدین حیدر کی شان میں قصیدہ خوانی کرتے ہوئے ان کی شان و شوکت اور جاہ و حشمت کا موازنہ شاہ کیواں، جم شوکت، فریدون فر اور سلیمان سے کیا گیا ہے۔ ان کی بہادری کے سامنے رستم، سام اور نریمان بھی کم نظر آتے ہیں اور سخاوت میں حاتم کا بھی کوئی مقابلہ نہیں۔ اس کے بعد لکھنو شہر کی تعریف و توصیف کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔
سرور لکھنؤ کی عوامی زندگی پر گہری نظر رکھتے تھے۔ ان کا سماجی شعور بہت مضبوط تھا۔ انھوں نے عیش و عشرت بھی دیکھا اور وہ رنج و الم میں بھی مبتلا رہے۔ لہٰذا ان کا ہر لفظ مشاہدے اور تجربے کا ثبوت ہے۔ ان کی نظر باریکی سے زمینی حقائق کی ترجمانی کرتی ہے۔ وہ دربار اودھ سے بھی وابستہ رہے اور انھوں نے لکھنؤ کی گلی کوچوں کی خاک بھی چھانی۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے شہر بے نظیر لکھنو کے بیان میں اس کی جیتی جاگتی تصویر پیش کر دی ہے۔
سرور نے فسانہ عجائب کے دیباچے میں لکھنو کے بیان میں والہانہ محبت کا ثبوت دیا ہے۔ سرور کھانے پینے کے بہت شوقین تھے۔ انھیں معلوم تھا کہ لکھنو میں کون سی چیز کہاں اچھی بنتی ہے۔ انھیں سیر و تفریح میں بھی خصوصی دلچسپی تھی۔ سرور نے چوک بازار، نان بائی، حلوائی، کنجڑن، سنکر نیں، تنبولی، پراچیوں کی گلی کی کھجور، پٹھانا کا تنباکو، میاں خیر اللہ کی دوکان، مدار یے حقے، خاص بازار، سلطان منزل، استری منجن کی کوٹھی، ہر راہ کی بارہ دری، رومی دروازہ، مساجد، امام باڑے، مقبرے، شیر مال، کباب، نان نہاری، ادرک کے لچھے، حسینی کا حلوا سوہن، شیخ کولی کی میٹھائی، نورا کی دوکان کی بالائی، برقی، کھوئے، امرتی، پڑی، ہوائی، جوزی حبشی، دودھیا، میوے نمش کی کفلیاں وغیرہ کا ذکر بڑے شوق سے کیا ہے۔
سرور نے بازار کی چہل پہل کو دلچسپ فقروں سے بھی مزین کیا ہے۔ مثلاً کنجرن ایک طرف شور مچاتی ہوئی کہتی ہے کہ
“ٹکے کو ڈھیر لگا دیا ہے! کھانے والے زور مزا ہے۔ مزہ انگور کا ہے رنگتروں میں! گنڈیریاں ہیں پونڈے کی”
دوسری طرف تنبولی آواز لگاتی ہوئی کہتی ہے کہ
“ماہ کا منہ کالا، مہو با گرد کر ڈالا! کیا خوب ڈھولی ہے، ابھی کھولی ہے۔ عبیر ہے نہ گلال ہے، ادھی میں مکھڑا لال ہے۔”
سرور کے مطابق یہ شہر مرد تماشہ کے لیے تیار ہے۔ یہاں ہر فن کے استاد موجود ہیں۔ سینکڑوں گھامڑ، کم عقل لوگ یہاں آکر وضع دار ہو گئے۔ گومتی میں غوطہ لگایا، دیہاتی پن کے دھبے دھو گئے، آدمی بن گئے۔ سرور کو یہاں کے اہل علم و دانش، اہل ہنر اور فن کاروں پر فخر تھا۔ انھوں نے زندگی کے تمام شعبوں سے وابستہ ماہرین کا صاف اظہار کیا۔
سرور نے تماشائی کی طرح لکھنوی تہذیب کا خاکہ نہیں بنایا بلکہ وہ اس کا حصہ تھے۔ وہ ہر گلی، چوراہے، دکان، بازار اور گاؤں میں موجود تھے۔ انھوں نے ابو تراب کے کڑے میں میاں خیراتی سے خط بنوایا۔ وہ سید حسین خاں کے کڑے کے دروازے پر عبدالله عطر فروش کی دکان پر بھی نظر آئے۔ فیض آبادی گلاب باڑے والے لالے کی افیون، جو مصر کی تریاک کے نشے کو بھی کم کر دے، کا ذائقہ لیا۔ فرنگی محل اور عیش باغ میں تماشے کے میلے بھی دیکھے، موتی جھیل کی سیر کی اور خاص بازار کا نقشہ بنایا۔ شام اودھ کی خوبصورتی کو بھی پیش کیا۔
سرور کے مطابق خوش نویسوں میں حافظ ابراہیم اور مرزائی صاحب کا بڑا نام تھا جن کے سامنے میر علی اور آغا ہوتے تو اپنے لکھے کو روتے اور یا زور سے لکھائی میں مشکل کھاتے۔ مرثیہ خوانوں میں میر علی نے دھر پت، خیال، ٹیا ایسا گایا کہ تان سین جیتا ہوتا تو ان کے نام پر کان پکڑتا۔ مولوی حسین علی خاں وغیرہ اس وقت کے استاد تھے۔ طبیبوں کی حالت یہ کہ جسے دیکھا بقراط، سقراط اور جالینوس کی مثال تھی۔ شاعروں میں ناسخ و آتش ایسے ماہر استاد، میرک جان، پیرنے کے فن کے ماہر۔ فرنگی محل کا حال یہ ہے کہ مولوی انوار، مولوی مبین، مولوی سید مخدوم، قاری محمد تبریزی، مولوی ظہور اللہ، میر سید محمد، مرزا کاظم اور محمد رضا جیسے عالم فاضل موجود ہیں۔ کلاونت و قوال میں چھجو خاں، غلام رسول، بچے کے موجد شوری، طبلے کے استاد بخشو اور سلاری۔ پتنگ سازی میں خیراتی اور چھنگا کا جواب نہیں۔ پتنگ بازوں میں مولوی عمد و اور فرشتے خاں بے مثل۔ مردان بیگ جیسا ماہر و نایاب۔ کاریگری میں زردوزی، اور گی کی پنی، جیغہ، سر پیچ، کلا بتون، جوتا گھیتا کا دھوم دھام۔ ببر علی جوتا ساز، دھنیا کہاری، باورچی میاں محمد اشرف، نواب معتمد الدولہ بہادر کے زمانے میں باورچی خانے کے داروغہ، خیاط مکا، شہدا پیر بخارا کا، غرض سرور نے ان سب کے بیان میں گہری سمجھ و بصیرت کا ثبوت دیا ہے۔ صوفیا کے مزارات میں شاہ مینا، شاہ پیر محمد اور شاہ خیر اللہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ علما و فضلا میں مولوی عبدالرحمن، خواجہ باسط، میر نصیر، خواجہ حسین، خواجہ حسن وغیرہ کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ سرور نے دہلی و لکھنو کا موازنہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ“ بابر تا سلطنت اکبرثانی مثال مشہور ہے، نہ چولھے آگ، نہ گھڑے میں پانی۔ “لکھنو جیسی لطافت، فصاحت و بلاغت کبھی نہ تھی، نہ اب ہے۔
لکھنو میں مشاعرے، غزل خوانی اور عزاداری کے اہتمام کو بھی پیش کیا گیا ہے۔ سرور کے مطابق مرزا معین کے دولت خانے پر پابندی سے مشاعرہ ہوتا تھا۔ غزل خوانی سے پہلے افیون کھانے کا رواج تھا۔ لکھنو کے جیسے بازاری ہیں، کسی شہر کے ایسے مفت ہزاری نہیں۔ مغلانیوں نے گوٹے کناری کی کترنوں سے چاندی سونے کے محل اٹھائے۔ چھا پہ خانہ ایسا کہ جو کتاب چھپی، وہ مرقع مانی کی تصویر تھی۔ کو تہ میں لکھنو کے نام سے چڑھ جاتے ہیں۔ سرور نے کہاریوں، خواصوں، اصیلوں، مغلانیوں، خاصے والیوں، جلسے والیوں اور سواریوں میں چنڈول، بسکھپال، ہاتھی اور پالکی وغیرہ کا بھی ذکر کیا۔
سرور نے میر امن کو ہدف بناتے ہوئے لکھا ہے کہ جیسا میرا من صاحب نے قصہ چار درویش کا باغ و بہار نام رکھ کے مشکلات کھائیں۔ مگر یہ نسبت مولف اول عطا حسین خاں تحسین کے، سو جگہ منہ کی مشکلات کھائی ہیں۔ لکھا تو ہے کہ ہم دلی کے روڑے ہیں، پر محاوروں کے ہاتھ پیر توڑے ہیں۔ مشک آنست کہ خود بو، نہ کہ عطار گوید۔ یہ وہی مثل ہے کہ اپنے منہ سے دھنا بائی۔ علاوہ ازیں میر حسن رضوی، مطبع حسنی اور آغا نوازش حسین خاں نوازش کی تعریف و توصیف پیش کی گئی ہے۔ دیباچے میں داستان کے سبب تالیف اور کتاب کی حالت اور نام کو بھی زیر بحث رکھا گیا ہے۔
This post presents a comprehensive summary and thematic analysis of Fasana-e-Ajaib, a classic and beloved Urdu dastan (epic tale) by Mirza Muhammad Hadi Ruswa, though it was actually written by Mirza Kazim Ali Jawan and published in 1843-1844. It is considered a masterpiece of Lucknow’s literary school and a landmark in Urdu prose.