داستان سب رس کا تنقیدی جائزہ
سب رس کا مرکزی خیال
سب رس کے قصے کے دو محور ہیں۔ ایک آب حیات کی تلاش اور دوسرا معرکہ حسن و عشق ۔
آب حیات کی تلاش سے قصے کی شروعات ہوتی ہے۔ جیسا کہ آپ نے پڑھا کہ شہزادہ ایک دن اپنے دوستوں کے ساتھ خوشی کی محفل میں مشروب پی رہا تھا۔ کسی نے آب حیات کا ذکر کیا اور اس کی اہمیت بتائی کہ اسے پینے والا ہمیشہ زندہ رہے گا۔ بس پھر کیا تھا، شہزادہ آب حیات کا ایسا دیوانہ ہوا کہ کھانا پینا بھی چھوڑ دیا۔ اس کی حالت دیکھ کر اس کا دوست نظر آب حیات کی تلاش میں نکل پڑا۔ کئی مرحلے طے کرنے کے بعد اسے معلوم ہوا کہ آب حیات شہزادی حسن کے باغ دیدار کے چشمہ دہن میں ملتا ہے۔ نظر کسی طرح شہزادی حسن تک بھی پہنچ گیا اور وہاں اسے پتا چلا کہ شہزادی حسن ایک ہیرے پر بنی ہوئی تصویر پر فدا ہے۔ اتفاق سے وہ تصویر شہزادہ دل کی نکلی۔ جب نظر نے یہ سچ شہزادی حسن کو بتایا تو وہ دیکھے بغیر ہی شہزادہ دل پر عاشق ہو گئی۔ اور اس نے نظر سے درخواست کی کہ کسی طرح شہزادہ دل سے اس کی ملاقات کرا دے۔ اس مقام پر قصہ کا محور بدل جاتا ہے۔
آگے قصہ آب حیات کی تلاش کی بجائے اپنے دوسرے محور یعنی عشق کے اطراف گھومنے لگتا ہے۔ عشق نہ صرف وجہی کا بلکہ گولکنڈے کے ادب کا بھی پسندیدہ موضوع رہا ہے۔ پروفیسر عزیز احمد کے مطابق دنیا بھر کے عشقیہ قصوں کے چار مراحل ہوتے ہیں۔ وجہی کا قصہ سب رس بھی دوسرے عشقیہ قصوں کی طرح عشق کے چار بنیادی مرحلوں یعنی (1) طلب (2) عشق (3) وصال عارضی (4) فراق اور وصال حقیقی پر محیط ہے۔ سب رس کے قصے کے لحاظ سے یہ چار مراحل حسب ذیل ہیں
طلب ۔ شہزادی حسن کا دل کی تصویر پر فدا ہونا اور اسی طرح نظر کی زبانی شہزادی حسن کی تعریف سن کر دل کا بے چین ہو جانا اور ایک دوسرے کو حاصل کر نیکی تمناؤں کا ان کے دل میں پیدا ہونا ۔۔۔۔۔
عشق ۔ ایک دوسرے کے لیے تڑپنا ایک دوسرے کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا بلکہ حاصل کرنے کے لیے جنگیں کرنا، دل کو گھائل حالت میں گرفتار کرنا اور باپ کے حکم پر چاہ ذقن میں قید کرنا، پھر اس کے لیے تڑپنا اور چوری سے دل کو کنویں سے نکال کر ملاقاتیں کرنا ایک دوسرے کے لیے رونا تڑپنا ۔۔۔۔۔۔۔
وصال عارضی ۔ باغ رخسار میں ایک دوسرے سے ملاقات کرنا۔ ایک دوسرے کے دیوانے بن جانا اور عیش کرنا۔۔۔۔۔
ہجر ۔ غیر کے دھوکے میں آکر دل کا غیر سے پیار کرنا یہ اطلاع پا کر حسن کا دل کو قید کرنے کا حکم دینا۔ پھر رقیب کا دل کو ہجراں کے قلعے میں قید کر کے سزائیں دینا۔ محبت میں دل کا صعوبتیں اُٹھانا، شہزادی حسن کا بھی تڑپنا یہ۔۔۔۔۔۔
وصال حقیقی ۔ اور آخر میں شہنشاہ عشق کے ہاتھوں دل اور شہزادی حسن کا نکاح عمل میں آنا ۔۔۔۔۔۔
وجہی نے قصے کی شروعات تو آب حیات کی تلاش سے کی تھی، لیکن آگے چل کر سارا قصہ حسن و عشق کے معرکے اور واقعات تک ہی محدود ہو کر رہ گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ آب حیات کی تلاش کی بات وجہی کے ذہن سے نکل گئی۔ اصل بات یہ ہے کہ عشق وجہی کا پسندیدہ موضوع ہے۔ جیسے ہی عشق کے واقعات کا بیان آتا ہے، وجہی ان میں ڈوب جاتا ہے۔ اس لیے اس قصے میں آب حیات کی تلاش پر کم توجہ دی گئی اور حسن و عشق کے واقعات اور ان کے جذبات کی تفصیل پر زیادہ زور دیا گیا۔
سب رس کے کردار
سب رس ایک عشقیہ قصہ ہے اور وجہی نے عشق کی ساری کیفیتوں اور عشق کے مرحلوں کو حسن و دل کے معرکے کے انداز میں پیش کر کے ایک عام موضوع کو بھی خوبصورت اور دلچسپ بنا دیا ہے۔ کتاب کی شروعات ہی میں وجہی نے قصے کا عنوان سب رس کی وجہ بتاتے ہوئے یہ مانا ہے کہ اس نے زندگی اور خاص طور پر عشق سے جڑے سارے رس (سب رس یعنی سارے جذبات) جیسے محبت، اطاعت، قربانی، رشک، رقابت، ہجر، وصال، خوشی اور غم کو ان جذبات کے اصل سرچشموں یعنی حسن، عشق، دل، نظر، عقل کے کرداروں کی صورت میں پیش کیا ہے۔ وجہی کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے کرداروں کو دو طرح سے پیش کیا ہے۔
پہلے طریقے میں انہوں نے عشق کے جذبات اور حالتوں جیسے صبر، ہمت، مہر، وصال، ہجر وغیرہ لفظوں کو الگ الگ پیش کیا ہے۔ کہیں انہوں نے عشق سے جڑے خیالوں کی نمائندگی کرنے والے لفظوں جیسے عشق، حسن، وفا، ناز، غمزہ، رقیب اور غیر وغیرہ کو کردار بنایا ہے۔ اور کہیں وہ جسم کے حصے، جن کا عشق کے کھیل میں اہم کردار ہوتا ہے، جیسے دل، عقل، زلف، خال، رخسار وغیرہ کو شکل دے کر پیش کیا ہے۔
دوسرے طریقے میں انہوں نے کسی خیال یا کسی تصور کو ظاہر کرنے والے لفظوں کو، اور کہیں جسم کے حصوں کے لیے استعمال ہونے والے لفظوں کو کسی جگہ یا علاقے کے تصور کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیا ہے: مثلاً تن کی مملکت، رخسار کا باغ، دہن کا چشمہ، عافیت کا شہر، دیدار کا شہر، زہر کا پہاڑ، ہجر کا قلعہ اور وصال کا چھجا وغیرہ۔
غرض وجہی نے عشق سے جڑے خیالات، لفظوں اور جسم کے حصوں کو شکل دے کر زندہ کرداروں کی طرح پیش کیا ہے۔ اسی وجہ سے قصے میں کردار زیادہ ہونے کے باوجود نہ کردار بوجھ لگتے ہیں اور نہ قصہ۔ بلکہ یہ سب ایک خاص لطف پیدا کرتے ہیں۔ یہ کردار کہانی کی خوبصورتی بڑھانے کا سبب بنتے ہیں۔ ان کرداروں کی بھیڑ میں دل، عشق، حسن، عقل، رقیب، غیر وغیرہ کو خاص اہمیت حاصل ہے، تو قامت، توبہ، خیال، صبر، مہر، غمزہ، ہمت، خال وغیرہ بھی کوئی چھوٹے کردار نہیں ہیں۔ سارے کردار اپنی اپنی جگہ ٹھیک اور مناسب ہیں اور قاری کی دلچسپی اور تجسس بڑھاتے ہیں۔
سب رس میں وجہی کا اسلوب اور انشا پردازی
سب رس اردو ادب کی شروع کی نثری کتابوں میں سے ایک ہے۔ بلکہ ادبی نثر کی پہلی مثال مانی جاتی ہے۔ سب رس لکھتے وقت وجہی کے سامنے دکنی زبان میں لکھے گئے چند مذہبی رسالے تھے، ادبی نثر کی کوئی مثال موجود نہیں تھی۔ اس لیے ممکن ہے کہ اس نے فارسی کے ادبی نثری رسالوں سے فائدہ اٹھایا ہو اور خاص طور پر ہمارے کچھ محققین اور ناقدین کے مطابق وجہی نے فتاحی کی نثر سے اثر لیا ہے اور مقفی عبارت کا انداز وہیں سے لیا ہے، لیکن اس کا اس نے نہ اعتراف کیا اور نہ ذکر کیا۔ بات صرف سجی ہوئی اور قافیہ دار عبارت لکھنے کی نہیں ہے۔ ایسا فیصلہ کرتے وقت ہمارے ناقدین یہ بھول جاتے ہیں کہ وجہی کے زمانے تک خود دکنی زبان بھی بننے کے دور سے گزر رہی تھی۔ نہ اس کے پاس زیادہ الفاظ تھے اور نہ ادبی نثر کی کوئی مثال وجہی کے سامنے تھی۔ دو چار مذہبی رسالے ضرور تھے، لیکن ان کی زبان بہت مشکل تھی، جملوں کی ساخت کمزور تھی۔ اور اہم بات یہ ہے کہ ساخت کے لحاظ سے فارسی اور دکنی زبان میں فرق پایا جاتا ہے۔ اس لیے صرف فارسی کی نقل سے اچھی نثر نہیں لکھی جا سکتی جب تک کہ خود لکھنے والے میں بہت زیادہ تخلیقی صلاحیت نہ ہو۔ گویا وجہی نے اپنی محنت اور تخلیقی صلاحیت کے زور پر سب رس کی نثر لکھی جو روانی اور ادبی مٹھاس رکھتی ہے۔ یہ خود ایک بڑا کارنامہ ہے۔
سب رس کی نثر وجہی کے اسلوب اور انشا پردازی کی وجہ سے ایک خاص پہچان رکھتی ہے۔ وجہی کا اسلوب جملوں کی ساخت، مقفی عبارت، اندرونی قافیوں کے اہتمام سے پیدا ہونے والی آواز، جملوں کی روانی اور ان کی تخلیقی خوبیوں کا مجموعہ ہے۔ کہیں چھوٹے چھوٹے جملوں سے لطف پیدا کیا ہے تو کہیں لمبے جملے بھی لکھے ہیں، لیکن اس طرح کہ انہیں پڑھتے وقت قاری کی نہ سانس پھولتی ہے اور نہ معنی سمجھنے میں دقت ہوتی ہے۔ جملے سادہ بھی ہیں اور مرکب بھی۔ جملے لمبے اور مرکب ہونے کے باوجود پیچیدہ اور مشکل نہیں ہیں۔ مطلب آسانی سے سمجھ میں آ جاتا ہے۔ ان میں ایسی روانی ہے کہ پڑھتے جائیں تو محسوس ہوتا ہے جیسے سمندر کی لہروں کے ساتھ ہم بہتے چلے جا رہے ہوں۔
سب رس کے اسلوب کی دوسری خوبی وجہی کی انشا پردازی ہے۔ وجہی کی تخلیقی صلاحیتیں خاص طور پر اس وقت پوری چمک کے ساتھ سامنے آتی ہیں جب اس کا قلم انشا پردازی کے کمال دکھانے لگتا ہے۔ جیسے خیال خود بخود آنے لگتے ہیں۔ ایک ایک بات کئی انداز سے بیان ہوتی جاتی ہے۔ مثلاً عقل کا ذکر آیا تو لفظ عقل کی مناسبت سے اس کی تعریف میں صفحے کے صفحے بھرے جاتے ہیں۔ شراب کا ذکر آیا تو شراب کی خوبیوں، نئی شراب اور شراب نوشی کی ضرورت پر جب قلم چلتا ہے تو رکنے کا نام نہیں لیتا۔ عورت کی وفاداری کا ذکر ہو یا عورت کی بے وفائی کا، بس موقع ملنے کی دیر ہے، وجہی ان کے بیان میں بہت سے صفحات لکھ دیتا ہے۔ اپنی بات کو اثر دار بنانے کے لیے تشبیہات اور استعارات کی بہتات کر دیتا ہے۔
غرض سب رس میں دو اندازِ بیان صاف نظر آتے ہیں۔ ایک قصہ حسن و دل اور آب حیات کی تلاش کا بیان، اور دوسرا وجہی کی انشا نگاری۔ دونوں انداز اپنی جگہ اہم ہیں اور نظر انداز کرنے کے قابل نہیں۔ لیکن ہمارے ناقدین کے مطابق وجہی کی انشا نگاری سے قصے کی رفتار اور اس کی ہلکی چال متاثر ہوتی ہے۔ توجہ اصل قصے سے ہٹ جاتی ہے۔ مگر وجہی کی انشا پردازی ایک الگ ہی لطف دیتی ہے۔ خود وجہی کو بھی اپنی اس خوبی کا احساس تھا۔ اسی لیے قصے کی شروعات ہی میں اس نے لکھا ہے کہ
غرض بھوت نادر باتاں (۱) بولیا (۲) ہوں۔ دریا ہو کو موتیاں (۳) رولیاں ہوں ۔ موتیاں کی موجاں (۴) کا میں دریا ہوں ۔ تمام موتیاں بھریا (۵) ہوں۔
یہ وہ موتی ہیں جنہوں نے نہ صرف سب رس کی بلکہ وجہی کی بھی آبرو وقعت اور قدرو قیمت کو برقرار رکھا ہے۔
Dastan Sabras ka Tanqeedi Jaiza is a critical analysis of Sabras written by Mulla Wajhi. The post explains the central idea of the story, which revolves around two main themes: the search for Aab-e-Hayat (water of life) and the battle of love between Husn and Dil. Although the story begins with the quest for eternal life, it gradually focuses on the stages of love, desire, passion, separation, and ultimate union. The article also discusses the symbolic characters, where emotions and abstract ideas like love, intellect, patience, and beauty are presented as living figures. It highlights Wajhi’s unique prose style, creative imagination, and poetic expression, which make Sab Ras one of the earliest and most important works of Urdu prose.