سب رس دکنی اردو کے مشہور شاعر اور نثر نگار ملا اسد اللہ وجہی کی کتاب ہے۔ وجہی گولکنڈے کی قطب شاہی سلطنت کے پانچویں فرمانروا سلطان محمد قلی قطب شاہ کے دربار کا ملک الشعرا تھا لیکن اس نے سب رس سلطان عبد اللہ قطب شاہ کے دور میں لکھی، جو محمد قلی قطب شاہ کا نواسہ اور ساتواں قطب شاہی حکمران تھا۔ سب رس کا سنہ تصنیف 1045ھ مطابق 1635ء ہے۔ داستان کے آخر میں وجہی نے خود سنہ تصنیف صاف طور پر اس طرح لکھا ہے۔

وجہی نے سب رس سلطان عبد اللہ قطب شاہ کی فرمائش پر لکھی۔ اس کی وضاحت اس نے داستان کے ابتدائی حصے میں سبب تالیف و مدحبادشاہ کے زیر عنوان اس طرح کی ہے

مندرجہ بالا اقتباس کا مطلب یہ ہے کہ سلطان عبد اللہ قطب شاہ صبح کے وقت تخت پر بیٹھے تھے کہ اچانک ان کے دل میں ایک خیال آیا اور انہوں نے مجھ نادر، دریا دل اور گوہرِ سخن وجہی کو اپنی خدمت میں بلایا۔ پان دے کر عزت دی اور فرمایا کہ انسان کے وجود کے اندر عشق کا کوئی قصہ بیان کرو اور دنیا میں اپنا نام مشہور کرو۔

اس اقتباس سے معلوم ہوتا ہے کہ عبداللہ قطب شاہ نے وجہی کو صرف عشق کا قصہ لکھنے کا حکم نہیں دیا بلکہ اس نے موضوع بھی بتایا کہ انسان کے وجود کے اندر عشق کی کہانی لکھی جائے۔ بادشاہ کے حکم پر وجہی نے انسان کے جسم کو قصے کی جگہ بنایا اور انسان کے اعضا اور باطنی صفات کو کرداروں کی شکل دے کر سب رس کی کہانی تیار کی۔

دکنی اردو کی زیادہ تر کتابیں فارسی کتابوں کے ترجمے پر مبنی ہیں۔ اس پس منظر میں سب رس کے بارے میں بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس کا قصہ وجہی کا اپنا بنایا ہوا ہے یا اس نے یہ قصہ کسی اور زبان سے لیا ہے۔ اس بارے میں مولوی عبدالحق لکھتے ہیں۔

دیوی سنگھ چوہان نے اپنے ایک مضمون میں یہ رائے دی ہے کہ فتاحی نے اپنی مثنوی دستور العشاق کا قصہ ایک سنسکرت ڈرامے پر بودھ چند رودے سے لیا ہے۔ ڈراما پر بودھ چند رودے بہار کے پنڈت کرشن مشر نے 1065ء کے قریب لکھا تھا۔ یہ ایک تمثیلی ڈراما ہے، جس کے گجراتی اور مراٹھی کے علاوہ یورپی زبانوں میں بھی ترجمے ہوئے۔ دیوی سنگھ چوہان کے مطابق پر بودھ چند رودے ہی فتاحی کا اصل ماخذ ہے، لیکن ڈاکٹر حمیرہ جلیلی نے اپنی کتاب ”سب رس کی تنقیدی تدوین“ میں پر بودھ چند رودے کے قصے کا خلاصہ پیش کر کے یہ ثابت کر دیا کہ قصہ حسن و دل اس سے مختلف ہے۔ فتاحی کا ماخذ جو بھی ہو، لیکن یہ بات طے ہے کہ سب رس کا ماخذ فتاحی کی نثری تصنیف حسن و دل ہے۔

وجہی کی تصنیف ’سب رس‘ زمانے کے بدلتے حالات کی وجہ سے گمنامی میں چلی گئی تھی۔ لوگ اس سے واقف نہیں تھے۔ مولوی عبدالحق نے اسے تلاش کیا اور اس پر ایک تفصیلی مضمون لکھ کر رسالہ اردو (بابت اکتوبر 1924ء) میں شائع کیا۔ اس طرح اردو دنیا اس سے آشنا ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے مختلف قلمی نسخوں کی مدد سے سب رس کو ترتیب دے کر 1932ء میں پہلی بار شائع کیا۔ اس کے کوئی تیس سال بعد شمیم انہونوی نے مولوی عبدالحق کے مرتبہ متن کو اپنے مقدمے کے ساتھ 1962ء میں لکھنو سے شائع کیا۔ ڈاکٹر شری رام شرما (ریڈر شعبہ ہندی، عثمانیہ یونیورسٹی) نے سب رس کو دیوناگری رسم خط میں اپنے مقدمے کے ساتھ شائع کیا۔ 1983ء میں حمیرہ جلیلی نے سب رس کی نئے سرے سے ترتیب کی اور ایک مفصل مقدمے اور حواشی کے ساتھ شائع کیا۔ جاپان کے پروفیسر اکیرا تا کا ہاشی نے سب رس پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ٹوکیو یونیورسٹی میں پیش کیا۔ سب رس میں قصے کے درمیان وجہی نے جو لمبے لمبے انشائیے لکھے ہیں، انہیں نکال کر صرف اصل متن کو جاوید وششٹ نے 1965ء میں قصہ حسن و دل کے نام سے شائع کیا۔

ملک سیستان کے بادشاہ عقل کے بیٹے دل کو آب حیات کی تلاش تھی۔ دل کا جاسوس نظر بڑی مشکلیں برداشت کر کے خبر لاتا ہے کہ ملک مشرق کا بادشاہ عشق ہے۔ اس کی بیٹی حسن ہے، جو شہر دیدار کی ملکہ ہے۔ شہر دیدار میں اس کا ایک باغ ہے، باغ رخسار۔ اس باغ رخسار میں ایک کنواں ہے، چاہ دہن۔ اس کنویں کا پانی آب حیات ہے۔ اس دوران حسن شہزادہ دل کی تصویر دیکھ کر اور دل شہزادی حسن کی تصویر دیکھ کر ایک دوسرے پر عاشق ہو جاتے ہیں۔ دل حسن سے ملنے کے لیے جاتا ہے۔ عقل کی فوج بھی اس کے ساتھ ہے۔ عقل اور عشق کے لشکر میں جنگ ہوتی ہے۔ دل زخمی ہو کر پکڑا جاتا ہے اور عقل ہار کر بھاگ جاتا ہے۔ حسن دل کو چاہ زنخداں میں قید کرتی ہے لیکن وصال کے چھجے پر اس سے ملتی ہے۔ رقیب کی بیٹی غیر کی چال اور دھوکے کی وجہ سے حسن دل سے ناراض ہو کر اسے قید خانے میں ڈال دیتی ہے۔ وہاں سے رقیب اسے لے جا کر فراق کے کوٹ میں بند کر دیتا ہے، لیکن کچھ دنوں بعد غیر اپنے کیے پر پچھتاتی ہے اور اپنا جرم مان لیتی ہے۔ عقل کے سردار ہمت کی کوشش سے عقل اور عشق میں صلح ہو جاتی ہے۔ عشق عقل کو اپنا وزیر بنا لیتا ہے۔ دل کو قید سے آزادی ملتی ہے۔ رقیب اور غیر کو سزا دی جاتی ہے۔ دل اور حسن کی شادی ہو جاتی ہے۔ ایک دن باغ رخسار میں دل کی ملاقات حضرت خضر سے ہوتی ہے اور وہ اسے راز کی باتیں بتاتے ہیں۔ وجہی کہتا ہے کہ آب حیات سخن (کلام) ہے، جو چشمہ دہن (منہ) میں ہے۔

سب رس ایک رومانوی داستان ہے، لیکن عام داستانوں کی طرح اس کا موضوع صرف حسن کی خوبصورتی اور عشق کے حالات تک محدود نہیں ہے۔ وجہی نے داستان کے درمیان جگہ جگہ قصہ روک کر مختلف سماجی، تہذیبی، مذہبی، صوفیانہ، اخلاقی، نفسیاتی اور معاشرتی موضوعات پر جو لمبی لمبی باتیں کی ہیں، ان کی وجہ سے سب رس ایک کئی موضوعات پر مشتمل کتاب بن گئی ہے۔ خود وجہی کو بھی اس بات کا احساس تھا کہ اس میں اس نے دنیا کے بہت سے موضوعات اور مسائل پر اپنی رائے دی ہے۔ چنانچہ وہ فخر سے کہتا ہے۔

سب رس کا اصل موضوع حسن اور عشق ہے۔ وجہی نے اس میں شہزادہ دل اور شہزادی حسن کے عشق کی داستان قلم بند کی ہے۔ مولوی عبد الحق لکھتے ہیں مصنف نے ایک عالم گیر حقیقت کو مجاز کے پیرائے میں بیان کیا ہے اور حسن و عشق کی کش مکش اور عشق و دل کے معرکے کو قصے کی صورت میں پیش کیا ہے ۔ (بحوالہ قدیم اردو ص (221)

پروفیسر رفیعہ سلطانہ کا خیال ہے کہ

پروفیسر رفیعہ سلطانہ آگے لکھتی ہیں کہ

اس کے برعکس عزیز احمد اپنے مشہور مقالے سب رس کے ماخذ اور مماثلات میں لکھتے ہیں ملا وجہی نے اپنی سب رس میں مجازی عشق کی روایات و اصطلاحات کو عرفانی معانی میں تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی ہے ۔ (مشمولہ رسالہ اردو، اپریل 1950 ، ص 119)

بات دراصل یہ ہے کہ فتاحی نے اپنی مثنوی دستور العشاق کے آخر میں حضرت خضر علیہ السلام کے ذریعے یہ کہلوایا ہے کہ یہ پورا قصہ صدف (مجاز) ہے۔ اصل گوہر آبدار (حقیقت) اس کے اندر چھپا ہوا ہے۔ اس لیے صدف کو توڑ کر گوہر حاصل کرنا چاہیے۔ پھر حضرت خضر قصے کے تمام کرداروں کو علامتی قرار دے کر ان کی صوفیانہ تشریح کرتے ہیں اور قصے کو عشق حقیقی کا رنگ دیتے ہیں، لیکن وجہی نے سب رس میں فن کاری اور ذہانت سے کام لیتے ہوئے حضرت خضر کا ذکر تو کیا ہے، لیکن اس کے کرداروں اور واقعات کی صوفیانہ اور رمزی وضاحت نہیں کی ہے۔

پروفیسر گیان چند جین سب رس کے رومانی اور عارفانہ دونوں پہلوؤں کے قائل ہیں، لیکن ان کی نظر میں سب اس کا لطف حسن انسانی اور عشق مجازی کی کیفیتوں کے بیان ہی میں پوشیدہ ہے۔ اسے عرفان کے مقدس حلقے میں محصور کر دینا حسن کے حضور بد مذاقی کا مظاہرہ کرنا ہے۔ ( اردو کی نثری داستانیں ، ص 132)

سب رس ایک دلچسپ داستان ہے اور اس کی عام فضا مجازی حسن و عشق کی ہے۔ وجہی کا رجحان بھی اس کے رومانوی پہلو کی طرف ہے، لیکن قصے کے دوران کہیں کہیں عشق حقیقی کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وجہی نے مجاز کو حقیقت تک پہنچنے کا پردہ بنایا ہے۔

وجہی اگرچہ رند مشرب تھا لیکن علوم اسلامی پر اسے اچھی مہارت حاصل تھی۔ اسے تصوف کے مسائل اور نکات کی گہری سمجھ تھی۔ سب رس میں اس نے مختلف مقامات پر تصوف و عرفان کے موضوعات مثلاً ذات و صفات، وحدة الوجود، فنا و بقا، ولایت و نبوت، ذکر و شغل، عشق الہی، نفس، فقیر، انا الحق وغیرہ پر صاف اور واضح انداز میں بات کی ہے اور ان موضوعات کے ہر پہلو کو آیات قرآنی، احادیث، عربی و فارسی اقوال، فارسی و ہندی اشعار کے ذریعے اس قدر سادہ اور آسان انداز میں پیش کیا ہے کہ عام قاری بھی اگر کچھ غور کرے تو ان کی گہرائی تک پہنچ سکتا ہے۔ ذیل میں ایک مثال بطور نمونہ دی گئی ہے، جس کا موضوع ذات و صفات ہے۔

ذات، ذات سے صفات ہے۔ ذات سے جو کچھ نکلا وہ بھی ذات ہی ہے۔ جیسے آفتاب ہو اور اس کا نور، اگر آفتاب ہی نہ ہو تو نور کیسے پہچانا جائے۔ اگر آفتاب کے اندر چلا جائے تو نور بھی آفتاب ہی میں شامل ہو جائے، کیونکہ نور آفتاب ہی سے نکلا تھا اور پھر اسی میں مل جاتا ہے۔ سورج کو نور کہتے ہیں اور نور ہو تو سورج کہا جاتا ہے۔ نور سے ہی آفتاب ہے، ورنہ آفتاب کو آفتاب کون کہے۔ اثر سے شراب پہچانی جاتی ہے، ورنہ شراب کو شراب کون کہے۔ خوشبو سے پھول کو عزت ملی، خوشبو سے ہی پھول کہلایا۔ روشنی سے جوہر کی قدر ہوئی، معنی سے بات میٹھی لگتی ہے۔ جیسے خدا کے رسول، محبوب رب العالمین، صاحب آسمان و زمین نے فرمایا کہ تفکروا فی صفات الله ولا تفکروا فی ذات الله یعنی ذات کو صفات کے ذریعے تلاش کرو تو ملے گی، لیکن اگر صفات کو چھوڑ دو تو ذات کہاں سے ملے گی۔

ذات سے صفات ہے۔ ذات سے جو کچھ نکلا وہ بھی ذات ہی ہے۔ جیسے آفتاب اور اس کا نور۔ اگر آفتاب ہی نہ رہے تو نور کیسے پہچانا جائے گا۔ اگر آفتاب ہی بیچ سے ہٹ جائے تو نور جو آفتاب سے نکلا تھا، آفتاب ہی میں مل جائے گا۔ سورج کو نور کہتے ہیں، نور ہے تو سورج کہتے ہیں۔ نور سے آفتاب ہے ورنہ آفتاب کو آفتاب کون کہتا۔ اثر (نشہ) سے شراب ہے، نہیں تو شراب کو شراب کون کہتا۔ خوشبو سے پھول نے عزت پائی۔ خوشبو کی وجہ سے پھول کہلایا۔ چمک سے ہیرے نے قیمت پائی۔ معنی کی وجہ سے بات میٹھی لگتی ہے۔ جیسا خدا کے رسول، محبوب رب العالمین، صاحب آسمان و زمین نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی صفات پر غور کرو، اللہ کی ذات کے بارے میں غور نہ کرو۔ یعنی اس کی ذات کو صفات میں تلاش کرو گے تو ملے گی۔ اگر صفات کو چھوڑ دو تو ذات تک کہاں سے پہنچو گے۔

صوفیانہ مسائل کے علاوہ وجہی نے سب رس میں کئی سماجی اور معاشرتی موضوعات پر بھی بات کی ہے، جیسے سخاوت، ماں باپ، مشورہ، عورت، سوتن کی جلن، لالچ، آقا اور ملازم، شراب، اچھے لوگ، عاشق و معشوق وغیرہ۔ وجہی نے سماجی رسم و رواج کی بھی خوب تصویر پیش کی ہے۔ دل اور حسن کے بیاہ کا بیان دیکھیے۔

( بیاہ کے کام کا آغاز کیا۔ جگہ جگہ ڈیرے تان دیے۔ گھروں کی آرائش کی ۔ جگہ جگہ تنش و نگاراً تارے۔ قالین فرش وغیرہ بچھائے۔ اس کے بعد رنبھا ، اروشی اور مین کا جیسی رقاصائیں وہاں رقص کرنے لگیں۔ جگہ جگہ آرائش کی گئی۔ سورج جیسے دل کا چاند جیسی حسن سے جلوہ دیے۔ ناز ، غمزہ، عشوه ، لطافت ، مہر چھند (حسن کی سہیلیاں اور خدمت گار ) یہ ساری چاندنیاں اس سورج (دل ) اس چاند ( حسن ) پر سے تارے نچھاور کیں ۔ دنیا ( مشکلات اور رکاوٹیں ) کو شکست ہوئی ۔ دن کے اجالے سے رات روشن ہو گئی ۔ آسمان سے مشتری تماشہ دیکھنے آئی ۔ زہرہ نے جلوے کا گیت گایا۔ حسن اور دل کا عقد کیے اور سب مل کر مبارک باد دیے ۔)

وجہی نے سب رس میں اخلاقی موضوعات پر بھی خامہ فرسائی کی ہے۔ ایک جگہ طمع یعنی حرص اور لالچ کی مذمت میں وہ لکھتا ہے

( بہت طمع [ حرض] سے بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے۔ بہت طمع سے عزت کو نقصان پہنچتا ہے۔ طمع کی زیادتی سے آبرو نہیں رہتی ۔ طمع کی زیادتی سے آدمی دین گنواتا ہے۔ بہت طمع سے آدمی کا ایمان چلا جاتا ہے۔ طمع کی وجہ سے حضرت آدم کو جنت سے نکالا گیا۔ طمع کی وجہ سے آدم پر یہ مصیبت ڈالے۔ جس کے بڑوں پر طبع نے ایسی ذلت ڈالی تو ان کی اولاد سے وہ کیا وفا داری کرے گی ۔ طمع رکھنے والا آدمی سر نہیں اٹھاتا۔ جہاں جاتا ہے سر جھکائے رہتا ہے، جس کے سر پر طبع کا بوجھ ہو اس کا سر ہمیشہ نیچا رہے گا۔ وہ بے مغز [ بے وقوف ] خالی سر ہوتا ہے اور بار بارزمین ہی پر گزارہتا ہے۔)

وجہی نے سب رس میں قصے کے دوران ایک بات سے دوسری بات نکالتے ہوئے مذہب، تصوف، اخلاق، عقل، شراب، راگ، بادشاہ کا درجہ، اس کے کام، مالک اور نوکر اور ان کے کام، انسان کی فطرت، اس کی نفسیات اور عام سماجی اور دنیاوی مسائل پر بہت دلچسپ انداز میں بات کی ہے۔ اس کی باتوں میں سوچ کی گہرائی بھی ہے اور تجربے کی مضبوطی بھی۔ یہ صرف وجہی کے ذاتی خیالات نہیں بلکہ اس دور کے عام معاشرتی، تہذیبی اور اخلاقی رجحانات ہیں، جن کی وجہی نے نمائندگی کی ہے۔

This post presents a detailed introduction to Dastan SabRas, the famous allegorical prose work of Mulla Wajhi, written in 1045 Hijri (1635–36 CE) during the reign of Abdullah Qutb Shah of the Qutb Shahi dynasty. It discusses the background of its composition, its possible Persian source Dastur-ul-Ushshaq by Fattahi Nishapuri, and its later research and publication history. The post also summarizes the romantic and symbolic story of Dil and Husn, explains its themes of love, mysticism, ethics, and society, and highlights how Wajhi blends romance with Sufi thought, moral lessons, and reflections on human nature, culture, and spiritual philosophy.