ڈپٹی نذیر احمد کے ادبی کارنامے
نذیر احمد کے علمی وادبی کارنامے مسلم ہیں۔ انہوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز ترجمہ سے کیا اور سب سے پہلے انکم ٹیکس ایکٹ کا اردو ترجمہ کیا۔ اس کے بعد ان کے کئی اہم تراجم منظر عام پر آئے ۔ پھر درسی کتابیں تصنیف کی ، متعدد مذہبی کتابیں زیر تحریر آئیں ۔ ایک نئی صنف ناول سے اردو ادب کو آشنا کیا اور اردو ادب کو سات ناول عطا کیے۔ اس کے علاوہ اپنے اکلوتے بیٹے کو لکھے ہوئے خطوط ، شاعری کا مجموعہ، مجموعہ نظم بے نظیر اور مختلف مواقع پر دیے گئے لیکچرز ان کے ادبی کارناموں میں شامل ہیں۔
منتخب الحكايات
نذیر احمد نے بابوشیو پرشاد کی فرمائش پر ایسوپس فیبلز ( حکایات لقمان ) کی چند حکایات کا ترجمہ کیا پھر مزید حکایات شامل کر کے منتخب الحکایات“ کے نام سے 1863 ء میں مرتب کر کے شائع کیا۔ اس میں بچوں کے لیے نصیحت آمیز کہانیاں شامل ہیں۔ ان کہانیوں کے تعلق سے ڈپٹی نذیر احمد کہتے ہیں اور ایک بڑا مطلب اس کتاب کے لکھنے سے یہ بھی ہے کہ بچے اچھی اردو سیکھیں ۔
مراة العروس
مراة العروس نذیر احمد کا پہلا ناول ہے ، جو پہلی مرتبہ 1869 میں شائع ہوا۔ اس ناول کو عمدہ تصنیف ہونے کی وجہ سے 1868ء میں حکومت کی جانب سے اعزاز سے نوازا گیا اور انہیں ایک ہزار روپے بہ طور انعام بھی دیے گئے ۔ اس کے علاوہ سرولیم مور نے ایک گھڑی اپنی جیب خاص سے دی اور اس ناول کے دو ہزار نسخوں کی خریداری کا حکم جاری کیا۔
اس میں ناول میں نذیر احمد نے دوسگی بہنوں اکبری اور اصغری کا حال بیان کیا ہے۔ اکبری بڑی بہن ہے جو اپنی دادی کے لاڈ پیار کی وجہ سے بگڑ جاتی ہے۔ سسرال جا کر اس کو مزاج دار بہو کا خطاب ملتا ہے۔ وہاں بھی وہ نہیں سدھرتی ہے بلکہ وہ مزید بگڑتی جاتی ہے ، جس کی وجہ سے اسے نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس اصغری نہایت ہی مہذب سلجھی ہوئی ہے۔ گھر کے کام میں ماہر علم وادب سے آراستہ، گھر میں سب کی لاڈلی، اپنے علم و ہنر سے سارے گھر کو منظم رکھتی ہے اور سسرال جا کر بد نظمیوں کے شکار گھر کو جنت نما بنادیتی ہے اور مکتب کی شکل میں محلے کی دیگر لڑکیوں کو بھی علم و ہنر سے مزین کرتی ہے۔
بنات النعش
نذیر احمد نے 1872 میں ناول بنات النعش، مراۃ العروس کے تکملہ کے طور پر لکھا ہے، جس کے لیے انہوں نے پہلے سے ارادہ کر رکھا تھا۔ نذیر احمد نے بنات النعش کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ یہ کتاب اس مراۃ العروس کا گویا دوسرا حصہ ہے۔ اس میں وہی بولی اور وہی طرز ہے۔ مراۃ العروس سے تعلیم اخلاق و خانہ داری مقصود تھی اس سے وہ بھی ہے مگر ضمنا اور معلومات علمی خاصہ ۔
بنات النعش میں مراۃ العروس کے تین کردار اصغری، محمودہ اور حسن آرا نظر آتے ہیں ۔ حسن آرا کو اکبری کی صورت میں لیا جاتا ہے اور اصغری بنا کر رخصت کیا جاتا ہے۔ نذیر احمد نے جو نظریات مراۃ العروس میں پیش کیے تھے ، اس کو عملی جامہ پہنا کر بنات النعش میں پیش کیا ہے۔ جمیل جالبی نے بنات النعش کے موضوعات کا نچوڑ ان الفاظ میں بیان کیا ہے
تکلفات موجب زحمت ہیں اور آرام طلبی باعث کلفت ، صبح خیزی ، پڑھنے کے فائدے سن کر حسن آرا کے دل میں شوق کا پیدا ہونا ، مسیح الملک ایک بے رحم امیر کی حکایت ، حسن آرا نے پڑھنا شروع کیا ، مکتب کی لڑکیوں نے مل کر پکوان تلا علم جرثقیل کا تذکرہ، خیرات دے کر احسان جتانا، حساب کی دلچسپ باتیں ، زمین کی کشش سمندر کے منافع ، انگریزوں کا حال علم تاریخ کا تذکرہ، چاند گہن اور سورج گہن کا بیان
توبتہ النصوح
بنات النعش کے دیباچے میں نذیر احمد نے لکھا ہے تعلیم دین داری کا ایک مضمون اور رہ گیا ہے، اگر حیات مستعار باقی ہے۔۔۔ تو انشاء اللہ بشرط خیریت اگلے سال تک وہ بھی ایک کتاب کے پیرائے میں پیش کش ناظرین کیا جائے گا۔ وہی کتاب توبتہ النصوح کی شکل میں 1874 ء میں شائع ہوئی ۔
یہ ناول ڈینیل ڈی فوکے ناول دی فیملی انسٹرکٹر سے ماخوذ ہے، لیکن نذیر احمد نے بالکل اچھوتے اور نئے انداز میں اس کی ترتیب و تنظیم کی ہے اور مسلم معاشرے کی حقیقی معاشرتی زندگی سے اس کی تعمیر کی ہے۔ افتخار ا ہے۔ افتخار احمد صدیقی نے لکھا ہے کہ توبتہ النصوح اور فیملی انسٹرکٹر کی مشابہت محض سطحی اور سرسری ہے ۔
بظاہر اس کتاب کا نام مخلصانہ تو بہ یا کسی شخص کے اپنی گذشتہ زندگی سے توبہ کی جانب اشارہ کرتا ہے اور خود اس کا آغاز بھی اس تو بہ سے ہوتا ہے کہ نصوح اپنے گذشتہ اعمال پر نادم ہو کر نئے اور مذہبی طرز کی زندگی گزارنا شروع کرتا ہے، لیکن اس کتاب کا مقصد صرف تو بہ نہیں ہے بلکہ خود نذیر احمد کے مطابق اس کا مقصد تربیت اولاد کے فرض سے بخوبی آشنائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں۔
اس کتاب میں انسان کے اس فرض کا مذکور ہے جو تربیت اولاد کے نام سے مشہور ہے۔ اس کتاب کے تصنیف کرنے سے مقصود اصلی یہ ہے کہ اس فرض کے بارے میں جو غلط نہی عموماً لوگوں سے واقع ہورہی ہے اس کی اصلاحہو اور ان کے ذہن نشین کرا دیا جائے کہ تربیت اولا د صرف اسی کا نام نہیں کہ پال پوس کر اولاد بڑا کر دیا۔۔۔ بلکہ ان کے اخلاق کی تہذیب ، ان کے مزاج کی اصلاح ، ان کے عادات کی درستی ، ان کے خیالات اور معتقدات کی صحیحبھی ماں باپ پر فرض ہے۔۔۔
قصے کا آغاز دلی میں پھیلے ہوئے ہیضہ کی وبا سے ہوتا ہے جس میں خود ناول کے مرکزی کردار نصوح کے گھر بھی اکٹھے تین آدمی اس و با کی نذر ہو گئے۔ یہاں تک کہ نصوح کو بھی ہیضہ ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر نے اس کو خواب آور دوا دی ، خواب میں نصوح اپنے والد کو حساب و کتاب کے لیے
ابن الوقت
یہ ڈپٹی نذیر احمد کا پانچواں ناول ہے۔ انہوں یہ ناول 1888 ء میں اپنی ملازمت سے سبکدوشی کے بعد لکھا تھا۔ اس ناول میں انہوں نے ایک ایسے شخص کا واقعہ بیان کیا ہے جو مغرب پرستی کی دھن میں مشرقی تہذیب و ثقافت کو پس پشت ڈال دیتا ہے اور مغربی طرز زندگی کو اپنا لیتا ہے۔ اس ناول میں مشرقی اور مغربی معاشرے کا بہترین موازنہ کیا گیا ہے۔ ابن الوقت کی صورت میں مغربی معاشرہ قاری کے سامنے آتا ہے تو حجتہ الاسلام کی شکل میں مشرقی معاشرہ کھل کر سامنے آتا ہے۔
ابن الوقت غدر کے ہنگامے میں ایک انگریز آفیسر نوبل کی جان بچا کر اسے پناہ دیتا ہے۔ ہنگامے کے خاتمے پر مسٹر نو بل اس کو سفارش کر کے سرکاری انعامات سے نوازتا اور اسے ایک اعلیٰ عہدہ پر فائز کراتا ہے، ساتھ ہی اس کے ذہن کو مغربی طرز زندگی کی جانب راغب کرتا ہے۔ اس سے متاثر ہو کر ابن الوقت بھی مغربی تہذیب کو پوری طرح اختیار کر لیتا ہے۔ یہاں تک کہ اپنے آبا واجداد کے طور طریقے اس کو فرسودہ معلوم ہونے لگتے ہیں۔ لیکن اس دوران میں مسٹر نوبل ریٹائرڈ ہو کر انگلستان چلا جاتا ہے اور ان کا عہدہ مسٹر شارپ نامی ایک انگریز افسر سنبھالتا ہے، لیکن اس کو یہ گورا نہیں ہے کہ ہندوستانی انگریزوں کے لباس میں ملبوس ہو کر انگریزوں کی برابری کرے۔ چناں چہ ابن الوقت کے حرکات و سکنات اس کو ناگوار گزرتے ہیں ، جس کی وجہ سے ابن الوقت کی ملازمت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ تب ہی حجتہ الاسلام نمودار ہو کر ابن الوقت کے معاملات کو رفع دفع کرتا ہے اور ابن الوقت کو بھی اپنے مذہبی مباحث اور دلائل سے قائل کر لیتا ہے۔ حجتہ الاسلام ابن الوقت کے برخلاف پرانی روایات کا پاسدار ہے اور کسی بھی صورت میں مشرقی تہذیب طور طریقے ، وضع قطع چھوڑ نا درست نہیں سمجھتا۔ وہ اپنے دلائل سے ابن الوقت کو بھی راہ راست پر لے آتا ہے۔
ابن الوقت میں مولوی نذیر احمد نے مغربی تہذیب کی اندھی تقلید کے بجائے اجتہادی مسلمان بننے کا درس دیا ہے۔ اس ناول میں فن کاری کا بہترین نمونہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ نذیر احمد نے بڑی ہنر مندی سے پلاٹ و کردار تخلیق کیے ہیں۔ اس ناول تک پہنچتے پہنچتے خود نذیر احمد کا فن بھی نکھر کر سامنے آتا ہے۔
ایامیٰ
ڈپٹی نذیر احمد کے ناولوں کے نام سے ہی اس کا موضوع واضح ہو جاتا ہے۔ نذیر احمد نے 1891ء میں اپنا چھٹا ناول لکھا جس کا عنوان ایامی ہے۔ لفظ ایامی کا مطلب بے شوہر والی یعنی بیوہ یا مطلقہ عورت ۔ چناں چہ اس ناول کا موضوع بھی بیوہ عورتوں کے مسائل کو اجاگر کرنا اور ہندوؤں کے زیر اثر مسلمانوں میں بیوہ عورتوں کی شادی کو برا سمجھنے کے تصور کو ختم کرنا ہے۔ اس ناول کا موضوع خاص ہے لیکن اس کے ضمن میں قدم قدم پر زندگی کے دوسرے مسائل بھی سامنے آتے ہیں۔ اس ناول میں نذیر احمد نے عورت کی پیدائش سے موت تک کی داستان کو نفسیاتی انداز میں بیان کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
فسانہ مبتلا (محصنات )
نذیر احمد نے فسانہ مبتلا ( محصنات ) میں ایک نئے مسئلے تعدد ازدواج کو اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے یہ ناول 1885ء میں تصنیف کیا۔ ناول کا ہیرو مبتلا پانچ بہنوں میں اکیلا بھائی ہے۔ گھر کی عورتوں کے لاڈ پیار نے اس کو بگاڑ دیا ہے۔ ماں کی محبت کی وجہ ہی سے اس کی تعلیم کا سلسلہ دیر سے شروع ہوا۔ مدرسہ پہنچ کر دوستوں کی صحبت نے اس کو آوارہ گردی کا راستہ دکھا دیا۔ شادی کے وقت بھی ماں اور بہنوں کا الگ مسئلہ ہے، حسن صورت کو ملحوظ رکھ کر رشتہ تلاش کیا جاتا ہے جب سب کچھ طے ہو جاتا ہے تو بات جہیز کے مطالبہ پر ختم ہو جاتی ہے۔ کئی بار ایسا ہونے پر اس کا رشتہ آنا ہی بند ہو جاتا ہے۔ بالآخر مبتلا کی پھوپھی زاد بہن سے اس کی شادی کر دی جاتی ہے۔ بگڑا انسان والد کے انتقال کے بعد بالکل آزاد ہو جاتا ہے اور رنگ رلیوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ پھر ناول نگار مبتلا کے چچا ” میر تقی کی صورت میں ایک مصلح لاتا ہے۔ وہ حج سے ایسے وقت میں گھر واپس آتے ہیں جس وقت رقص و سرود کی محفل بھی تھی۔ اس کو دیکھ چا میر تقی سب کو نصیحت کرتے ہیں اور ان کی نصیحت رنگ لاتی ہے۔
رویائے صادقہ
رویائے صادقہ ڈپٹی نذیر احمد کا ساتواں اور آخری ناول ہے جو 1892 میں شائع ہوا۔ اس ناول کا مرکزی کردار صادقہ نہایت ہی ہنر مند لڑکی ہے، لیکن اس کے خواب دیکھنے کی عادت کی وجہ سے اس کی شادی میں مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ وہ جو بھی خواب دیکھتی ہے وہ سچ ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے لوگوں کو شائبہ ہوتا ہے کہ اس پر جن کا سایہ ہے۔ بالآخر علی گڑھ کا ایک طالب علم اپنے گھر والوں سے چھپ کر صادقہ کو پیغام نکاحبھیجتا ہے اور تمام شرائط کے بعد دونوں کی شادی ہو جاتی ہے۔ شادی کے بعد لڑکا دلی میں کچھ دن رہتا ہے لیکن مذہبی مسائل کے تئیں بہت سارے شکوک و شبہات کا شکار ہوتا ہے۔ عقل اور مذہب کے آپسی ٹکراؤ میں وہ تذبذب کا شکار ہوتا ہے۔ ان سب کا حل صادقہ کے ایک خواب میں نظر آتا ہے اور اس کے بعد اس کو خواب آنے بھی بند ہو جاتے ہیں۔ خواب کی تکنیک سے ڈپٹی نذیر احمد نے خدا اور اس کی وحدانیت ، صفات الہی کا عقلی ثبوت، عقل انسانی کی نارسائی ، انسان کی معدومیت، مذہب کی ضرورت کو سمجھایا ہے نیز یہ بھی بتایا ہے کہ عاقبت کا یقین انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ اس ناول میں مقلدوں اور غیر مقلدوں کے جھگڑے ، سنی شیعوں کے اختلاف ، فرقہ صوفیہ، نیچری فرقہ ، وحی اور معجزات وغیرہ کو سوال وجواب کی شکل میں سلجھایا ہے۔
This post provides a detailed overview of Deputy Nazir Ahmad’s major literary achievements, highlighting his pioneering role in the Urdu novel. It discusses his contributions as a translator, textbook writer, religious author, and reformist novelist. The post explains his important works, such as Mirat-ul-Uroos, Banat-un-Na‘sh, Taubat-un-Nasuh, Ibn-ul-Waqt, Ayyama, Fasana-e-Mubtala, and Ruya-e-Sadiqa, outlining their themes of social reform, moral education, women’s issues, family life, and the tension between Eastern and Western values. Overall, it presents Nazir Ahmad as a writer who used literature as a tool for social, moral, and intellectual reform in Muslim society.