ڈرامے کی تعریف ، آغاز و ارتقا
اردو میں ڈرامے کو وہ عزت اور احترام نہیں ملا جو دوسری قسم کے ادب کو ملا۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس کا تعلق ہمیشہ عام لوگوں کی روایات سے رہا اور اردو میں عام لوگوں کی روایات کو کم اہمیت دی جاتی رہی۔ نظیر اکبر آبادی کے یہاں شیفتہ جیسے ذمہ دار تذکرہ نگار کو ”بازاری پن“ محسوس ہوا کیوں کہ ان کا انداز عام لوگوں جیسا تھا۔ نجم الغنی جیسے مؤرخ بادشاہ واجد علی شاہ پر ان کی عام دلچسپیوں کی وجہ سے سخت تنقید کرتے رہے۔ یہاں تک کہ امانت کو اندر سبھا کے مصنف کی حیثیت سے اپنا نام چھپانا پڑا، اور اندر سبھا کی غزلوں میں انھوں نے استاد تخلص استعمال کیا۔ ڈرامے کے ساتھ اردو والوں کی عدم توجہ کا سلسلہ آج تک برقرار ہے۔
ڈرامے کی تعریف
ڈرامہ ادب کی ایک ایسی صنف ہے جس میں زندگی کے حقائق اور مظاہر کو اشخاص اور مکالموں کے وسیلے سے عملا پیش کیا جائے۔ ڈرامہ نگاری میں اسٹیج، اداکار، اور تماشائی کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔
ڈرامے کی تعریف مغربی نقطہ نظر سے
ڈراما صرف مکالمے میں لکھی ہوئی تحریر کا نام ہے، نہ کہ صرف واقعات اور کرداروں کا مجموعہ۔ ڈراما صرف تفریح ہے، کبھی فلسفہ ہے، کہیں انسان کی اصلاح کے لیے ہے، کہیں تخیل کی بلندی ہے اور کہیں نجات کا ذریعہ ہے۔ اس کے اجزاء میں پلاٹ، کردار، مکالمہ اور زبان شامل ہیں، اور رنگ، آواز، موسیقی، روشنی، سایہ اور خاموشی بھی اس کے اہم حصے ہیں۔ اس لیے اس کی واضح تعریف اگر ناممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہے۔
محمد شاہد حسین، ڈراما اور روایت، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی۔
ڈرامے کی تعریف مشکل ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ادب اور فن کی تخلیقات کے بارے میں مختلف لوگوں کے خیالات اور تصورات الگ الگ ہو سکتے ہیں، اور اکثر واقعی الگ ہی ہوتے ہیں۔ اسی اختلاف کی وجہ سے ڈرامے کی منطقی تعریف مشکل ہو جاتی ہے۔ یہی صورت حال مختلف دوروں میں ڈرامے کے بارے میں بھی رہی ہے، جب دانشوروں نے مختلف آرا پیش کیں جس سے مسئلہ اور الجھ گیا۔
یونان قدیم میں ڈراما بھی شاعری کے دائرے میں آتا تھا، اس لیے اس دور کے شاعری کے نظریات ڈرامے پر بھی لاگو ہوتے تھے۔
ارسطو نے افلاطون کے نظریے کو نقل کیا لیکن وہ مکمل طور پر ماننے والا نہیں تھا۔ وہ نقل کو مانتا ہے، لیکن نقل کی نقل کو نہیں۔ اس کا خیال تھا کہ شاعری الفاظ کے ذریعے اس دنیا کے انسانوں کے اعمال اور حرکات کی تصویر پیش کرتی ہے۔
گو کہ یہ ڈرامے کی مکمل تعریف نہیں ہے، لیکن ان وضاحتوں سے ڈرامے کا ایک بنیادی تصور سامنے آتا ہے۔ بعد کے دانشوروں اور نقادوں نے، خاص طور پر انیسویں صدی کے حقیقت نگار، عموماً ڈرامے کے لیے نقالی کے نظریے کو پیش کیا۔ اسی طرح سیسرو نے نقالی کے نظریے کو حقیقت نگاری کی شکل دے کر پیش کیا۔ وہ لکھتا ہے کہ ڈراما زندگی کی نقل، رسم و رواج کا آئینہ اور حقیقت کا عکس ہے۔
ڈرامے کی تعریف ہندوستانی نقطہ نظر سے
سنسکرت قواعد کے مطابق ڈرامے کی یہ تعریف کی جاتی ہے کہ یہ ایک ایسی نظم ہے جسے دیکھا بھی جا سکتا ہے اور سنا بھی جا سکتا ہے۔ دراصل سنسکرت میں شاعر کی دو قسمیں ہیں: ایک درشئے (دیکھنے والی) اور دوسری شروے (سننے والی)۔ اگرچہ ڈرامے کا تعلق کسی حد تک دونوں سے ہے، پھر بھی اسے درشیہ میں شمار کیا جاتا ہے۔
سنسکرت میں ڈرامے کے مترادف جو لفظ استعمال ہوتا ہے وہ “رو پک” ہے، یہ لفظ “رُوپ” سے نکلا ہے۔ اس کا مطلب ہے کرداروں اور کیفیتوں کو واضح کرنا اور جذبات کے قدرتی مظاہر دکھانا۔ چونکہ اس میں کردار مختلف شکلیں اختیار کر کے سامنے آتے ہیں، اس لیے اسے رو پک کہا جاتا ہے۔
ناٹک، رو پک کی دس قسموں میں سے ایک ہے، مگر یہ قسم اتنی مقبول ہوئی کہ اسے ہی ڈرامے کا مترادف سمجھ لیا گیا۔ نائمیہ شاستر میں ڈرامے کی تعریف اس طرح کی گئی ہے۔ یعنی کسی واقعے کو پھر سے کرنا ناٹیہ ہے۔
چنانچہ یہاں یہ نتیجہ نکالنا غلط نہیں ہوگا کہ مغربی اور ہندوستانی ڈرامے کی بنیادی تعریف میں زیادہ فرق نہیں ہے۔ ارسطو کے مطابق نقل کرنا اور ناحیہ شاستر کے مطابق دوبارہ کرنا، دونوں کا مطلب ایک ہی ہے۔
ان تمام تعریفات میں “کرنا، کیا ہوا، کر کے دکھانا، پیش کرنا، دکھانا” جیسے الفاظ بار بار آتے ہیں، جس سے ڈرامے میں عمل کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ دراصل ڈراما ناول یا افسانے کی طرح صرف تحریری ادب نہیں ہے جو لکھنے اور پڑھنے تک محدود ہو، اس کا لازمی تعلق عمل سے ہے۔ یہ مکمل تب ہوتا ہے جب اسے اداکاروں کے ذریعے عملی طور پر پیش کیا جائے۔
مختصر یہ کہ ڈرامے کی تحریری شکل کی اہمیت اس نقشے کی طرح ہے جو کسی عمارت کی تعمیر سے پہلے بنایا جاتا ہے، لیکن نقشہ تیار ہونے سے عمارت مکمل نہیں ہوتی، اسی طرح اسکرپٹ تیار ہونے سے ڈراما مکمل نہیں ہوتا۔
جس طرح عمارت کو مکمل کرنے کے لیے اینٹ، پتھر، ریت، مٹی، لوہا، سیمنٹ، لکڑی، کاریگر اور مزدور کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح ڈرامے کو مکمل کرنے کے لیے اسکرپٹ کے علاوہ اداکار، تماشائی، اسٹیج، آواز، روشنی، موسیقی اور کئی اور چیزیں بھی ضروری ہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ڈرامے کی تکمیل، اس کی پیشکش کے بغیر ممکن نہیں اور پیشکش میں عمل کی اہمیت بنیادی ہے۔
ڈرامے کا آغاز و ارتقا
اظہار ذات اور نقالی کی فطرت انسان میں پیدا ہونے سے ہی موجود ہے اور انسان نے اسی وقت سے ان کا اظہار بھی کیا۔ نقالی کے بارے میں پہلے ہی بہت کچھ کہا جا چکا ہے۔ اظہار ذات کا مطلب یہ ہے کہ انسان جو کچھ سوچتا، سمجھتا اور محسوس کرتا ہے، جو خوشی یا غم اس پر گزرتا ہے، اسے دوسروں کو بتا کر قدرتی طور پر سکون محسوس کرتا ہے۔ لہذا انسان جن مشاہدات، خیالات، تجربات اور جذبات سے گزرتا ہے، وہ انہیں صرف اپنے تک محدود نہیں رکھ سکتا، اگر وہ صرف اپنی ذات تک محدود رکھے تو اس کے اندر مسلسل بات پہنچانے کی خواہش پیدا ہوتی رہتی ہے۔ اسی خواہش کو پورا کرنا اظہار ذات کہلاتا ہے۔ یہ انسان کی ذہنی صحت کے لیے ضروری بھی ہے اور اسی سے ادب و فن کے بیج پھوٹتے ہیں، اور تہذیب و تمدن کی ترقی بھی ان فطرتی جبلتوں پر منحصر ہے۔
جب انسان ادب و فن کے جدید طریقوں سے واقف نہیں تھا، تب بھی اس میں نقالی کا جذبہ موجود تھا اور اس میں بات پہنچانے کی خواہش پیدا ہوتی تھی۔ اس وقت انسان کے پاس اظہار ذات کے صرف دو طریقے تھے: ایک آواز اور دوسرا حرکات و اشارے، اور یہی قدیم ترین طریقے ہیں جن پر ڈرامے کی بنیاد بنی۔
عہدِ سنگ کے انسان جب غاروں اور جنگلوں میں رہتا تھا اور جانوروں کا شکار کر کے ان کا گوشت اور جنگلی پھل پھول کھاتا تھا، تو اسے درندوں سے بھی سامنا ہوتا ہوگا، کبھی وہ ان پر قابو پاتا اور کبھی اپنی جان سے ہاتھ دھوتا۔ یہی انسان جب کسی پہاڑی یا الاؤ کے گرد اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھتا تھا، تو نقالی کی فطرت اور اظہار ذات کی خواہش کے تحت شکار حاصل کرنے کی خوشی میں اچھل کود کرتا اور خوشی کی بے ترتیب آوازیں نکالتا، ساتھ ہی اپنی آواز اور جسم کی حرکتوں سے وہ تجربات اور جذبات بھی ظاہر کرتا جو شکار یا جنگل میں چلتے پھرتے یا اپنے ساتھیوں سے ملتے ہوئے اسے محسوس ہوتے۔ یہ جذبات اور تجربات ہی ڈرامے کے ابتدائی دھندلے نقش ہیں جو تہذیب و تمدن کی ترقی کے ساتھ ساتھ واضح اور مکمل ہوتے گئے۔
انسانی عقل اور شعور کی ترقی کے ساتھ شکار کی ان بے ترتیب، بے ہنگم حرکتوں اور آوازوں میں ہم آہنگی پیدا ہوئی۔ جسموں کی متوازن حرکتوں اور آوازوں کے ساتھ ہم آہنگ حرکات ظاہر ہونے لگیں، اور یہاں سے ناچ کی بنیاد پڑی۔ چنانچہ ناچ کو ڈرامے بلکہ تمام فنون کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔
شلڈن جینی لکھتا ہے
“انسان کی مادی ضروریات خوراک اور پناہ گاہ کے بعد اسانی مشاغل میں ناچ کو اولیت حاصل ہے اور ناچ تمام فنون کی ماں ہے”
انسانی ذہن نے کچھ اور ترقی کی، وہ غاروں اور جنگلوں سے نکل کر میدانوں میں آیا اور خوراک حاصل کرنے کے دوسرے طریقے، جیسے زراعت اور مویشی پالنا، بھی سیکھ لیے۔ اس کے بعد انسانی ذہن فطرت کے مظاہر کی طرف متوجہ ہوا کیونکہ اس صورت میں ہر وقت اس کا تعلق فطرت سے رہتا۔ کبھی قحط سالی ہوتی، کبھی بارش زیادہ ہونے سے فصلیں خراب ہوتیں، اور کبھی وبائی بیماری سے لوگوں کی جان جاتی۔ چنانچہ انسان نے اپنی پہنچ سے باہر ہر طاقت اور نقصان یا فائدہ پہنچانے والے ہر فطرتی مظاہر کو دیوی دیوتا سمجھ کر ان کی پرستش شروع کر دی۔ پھر آہستہ آہستہ ان دیوتاؤں کو نام دیے گئے اور ان کی تصویریں یا شکلیں بنائی گئیں۔ ان دیوتاؤں کی شکلوں کے سامنے ناچ گانے کے ذریعے ان کی پرستش کی جانے لگی۔ کچھ اور وقت گزرا تو اس قسم کے مذہبی ناچ میں شامل ہونے کے لیے خود انسان مختلف شکلیں بنانے لگا۔ یہاں تک کہ یہ عبادت کا طریقہ کافی ترقی کر گیا اور وقت اور حالات کے مطابق اس میں کمی و زیادتی ہوتی رہی۔ مولانا ابوالکلام آزاد لکھتے ہیں
نوع انسان کے دینی تصورات کا سب سے زیادہ قدیم عہد، جو تاریخ کی روشنی میں آیا ہے، مظاہر فطرت کی پرستش کا عہد ہے۔ اس پرستش نے بتدریج اصنام پرستی کی صورت اختیار کی۔ اصنام پرستی کا لازمی نتیجہ تھا کہ مختلف زبانوں میں بہت سے الفاظ دیوتاؤں کے لیے پیدا ہو گئے۔ اور جوں جوں پرستش کی نوعیت میں وسعت پیدا ہوتی گئی الفاظ کا تنوع بھی بڑھتا گیا ۔ ابوالکلام آزاد، ترجمان القرآن ، جلد اول، کلکتہ،
چونکہ اس عبادت کے طریقے میں ارسطو کے بیان کردہ توازن، نغمہ اور نقل موجود ہیں، لہذا یہ ڈرامے کی بنیاد بن گیا۔ ڈرامے کے ارتقا پر نظر ڈالیں تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ دنیا میں مذہبی ڈرامے کا سب سے پہلا نمونہ جو دستیاب ہوا، اس کا مرکزی کردار مصر کے بڑے دیوتا اوسیرس ہیں۔ اس کی نوعیت آسٹریا کے ٹرول یا ایران کے مذہبی ڈرامے جیسی ہے۔