فسانہ عجائب، رجب علی بیگ سرور کی ایک خود لکھی ہوئی کہانی ہے۔ یہ دبستان لکھنو کی ایک اہم کتاب ہے۔ فسانہ عجائب کی مقبولیت کی تین بڑی وجوہ ہیں: اول یہ ایک چھوٹی داستان ہے۔ اختصار اس کی بڑی خوبی ہے۔ دوم، اس کی زبان اور انداز بیان بہت خاص ہے۔ سرور نے ایک نیا انداز بنایا اور نئی طرزِ تحریر پیش کی۔ زبان کو خوبصورت بنانے کے لیے نئے نئے طریقے استعمال کیے۔ سوم، اس داستان میں لکھنؤ کی تہذیب کی دلچسپ، مؤثر اور جیتی جاگتی تصویر دکھائی گئی ہے۔ سرور کو خاص اور عام لوگوں کی تہذیب کا اچھا علم تھا۔ ان کا تعلق دربار اودھ سے بھی رہا اور وہ عوامی زندگی کے بھی قریب رہے۔ اسی وجہ سے ان کی تحریر میں شاہی اور عوامی تہذیب دونوں صاف نظر آتی ہیں۔ فسانہ عجائب خود لکھی ہوئی داستان ہونے کے باوجود اس میں پرانی کہانیوں کے کئی قصوں سے فائدہ اٹھایا گیا ہے، لیکن بیان کا انداز ایسا ہے کہ ہمیشہ نیا اور دلچسپ لگتا ہے۔ سرور نے کہانی کے پلاٹ کو بہت مہارت سے ترتیب دیا ہے اور اس میں جذبات کی خوبصورت عکاسی کی ہے۔

فسانہ عجائب ایک دل چسپ کہانی ہے جس میں عشق و محبت اور جنگ و محفل کو خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اس میں تفریح کے تمام اچھے پہلو موجود ہیں۔ کہانی میں پڑھنے والوں کی دلچسپی کو بھی قائم رکھا گیا ہے۔ چھوٹی چھوٹی کہانیوں کے ذریعے اخلاقی سبق بھی دیا گیا ہے۔
کردار نگاری کی اچھی مثالیں بھی جگہ جگہ دیکھنے کو ملتی ہیں۔ فسانۂ عجائب ایک ایسے زمانے کی پیداوار ہے جب سلاطین ونوابین اور امیر لوگوں کے یہاں عیش و آرام، محفلیں، جلسے جلوس، ناچ گانا اور تفریح کے تمام وسائل موجود تھے۔ کہانی میں حسن و عشق، جنگ و محفل، چالاکی، مزاح، حیرت انگیز باتیں، بیان کی طاقت، پرجوش اندازِ گفتگو اور تخیل کے ساتھ ساتھ ایک دوست کی دعا اور دھوکے کو بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ فسانۂ عجائب میں واقعات بہت زیادہ ہیں لیکن کبھی کبھی ان میں ترتیب اور تسلسل کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کہانی کو زبردستی لمبا کیا گیا ہے۔ دراصل فسانہ عجائب کو پڑھنے سے ایک غیر منظم کہانی کا احساس ہوتا ہے لیکن اس کی سب سے بڑی خوبی اس کا اندازِ بیان اور لکھنوی تہذیب کی جھلک ہے۔ ذیل میں فسانہ عجائب کا فنی نقطہ نظر سے تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

داستان کا پلاٹ کئی تہوں والے قصوں اور چھوٹی کہانیوں سے سجا ہوتا ہے۔ داستان میں لمبائی اور ایک قصے سے دوسرا قصہ پیدا کرنا ایک فن ہے۔ چھوٹی کہانیوں کا مقصد تعلیم دینا، کسی بات کو ثابت کرنا اور اخلاقی سبق دینا ہوتا ہے۔ داستان میں ایک خیالی دنیا بنائی جاتی ہے۔ اس میں جادوئی اور طلسمی ماحول پیدا کیا جاتا ہے تاکہ قاری حقیقی زندگی سے نکل کر ذہنی سکون حاصل کر سکے۔ دراصل داستانیں حیرت انگیز اور عجیب واقعات سے بھری ہوتی ہیں۔ ان میں حیرت، پیچیدہ واقعات اور ایک لمبی سلسلہ وار کہانی ہوتی ہے۔ داستان کے پلاٹ میں تاریخی اور تہذیبی ماحول بھی قائم رہتا ہے جس سے پڑھنے والوں کو لگتا ہے کہ وہ ایک حقیقی اور تاریخی دنیا کی سیر کر رہے ہیں۔

داستانوں میں طلسمی دنیا کو حقیقی دنیا جیسا بنا کر دکھایا جاتا ہے۔ یہاں جھوٹ کو سچ کی طرح پیش کیا جاتا ہے۔ داستانیں عیش و آرام، جرات، ہمت، بہادری اور اچھی قدروں کو ظاہر کرتی ہیں۔ ان میں کردار، مناظر، واقعات، حادثات اور طلسمات کی بہتات ہوتی ہے۔ یہاں جنگ و جدل، طلسمی کھیل، خوبصورتی، میلے ٹھیلے، جلسے جلوس، چالاکی و دھوکہ، محبت، جادو اور عیاری وغیرہ کا کھل کر بیان ملتا ہے۔ بقول عبد الحلیم شرر داستان کے چار فنی لوازمات ہیں یعنی رزم، بزم، حسن و عشق اور عیاری۔ داستان میں ہر بات عجیب، حیرت انگیز اور پُرکشش ہوتی ہے۔ جادو اور اس کے توڑ کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ دلکش اور دلچسپ قصے ہوتے ہیں۔ حسن و عشق کی حالتوں سے داستان مزید پرکشش بنتی ہے۔ یہاں نیکی اور برائی کی لڑائی ہوتی ہے اور آخر میں سچ کی جیت دکھائی جاتی ہے۔ داستانوں میں بادشاہ، وزیر، امیر، تاجر، پری، دیو، پیر فقیر جیسے کردار لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچتے ہیں۔

تخیل، عوامی زندگی سے دوری اور بڑھا چڑھا کر بیان کرنا داستان کے اہم حصے ہیں۔ داستان میں ہر واقعہ غیر معمولی، نیا اور سنسنی خیز ہوتا ہے۔ واقعات کو لمبا کرنے کی پوری کوشش کی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے کبھی کبھی پلاٹ غیر منظم ہو جاتا ہے۔ دراصل داستانیں جذباتی سکون کا ایک اہم ذریعہ ہوتی ہیں۔ یہ مثالی زندگی کو پیش کرتی ہیں۔ داستانوں میں عام لوگوں کے بجائے خاص لوگوں کی زندگی دکھائی جاتی ہے۔ فسانہ عجائب میں اگرچہ لکھنؤ کی تصویر پیش کی گئی ہے لیکن اس میں خاص لوگوں کی زندگی زیادہ نمایاں ہے۔ فسانۂ عجائب کا دیباچہ اگرچہ عوامی زندگی کو دکھاتا ہے لیکن پوری داستان خاص لوگوں کی زندگی پر مبنی ہے۔

فسانہ عجائب کا پلاٹ مربوط ہے۔ اس کا پلاٹ عام داستانوں کی طرح ہی بنتا ہے۔ مثلاً بادشاہ کو اولاد نہ ہونا، ساٹھ برس کی عمر میں اولاد کا پیدا ہونا، کسی خوبصورت ہستی کے عشق میں مبتلا ہونا، مقصد حاصل کرنے کے لیے وطن چھوڑ دینا، راستے میں مشکلات کا سامنا کرنا اور آخر میں کامیابی حاصل کرنا وغیرہ۔ داستان کا پلاٹ کئی چھوٹی کہانیوں سے سجا ہوا ہے جن کا مقصد کہانی کو لمبا کرنا اور قارئین کی دلچسپی بڑھانا ہے۔ پلاٹ سازی واقعات کی ترتیب، تسلسل اور باہمی تعلق کا نام ہے۔ فسانہ عجائب کا پلاٹ واقعات کی ترتیب کے لحاظ سے کئی اہم عروج رکھتا ہے، جس کی تفصیل درج ذیل ہے۔

طوطا اور ماہ طلعت کی کج بحثی ۔ انجمن آرا سے جان عالم کا عشق ۔ اس کی تلاش میں نکلنا۔ راہ کا بھٹکنا ۔ خضر راہ کا ملک زرنگار اور انجمن آرا کا پتہ دینا۔ ساحرہ کے چنگل میں پھنسنا اور اس سے رہائی پانا۔ جب جان عالم ساحرہ کی گرفت سے نجات پاتا ہے تو یہاں پلاٹ کے پہلے کلائمکس کا اختتام ہوتا ہے۔

ملکہ مہر نگار سے جان عالم کی ملاقات ۔ ملکہ کا عشق میں مبتلا ہونا ۔ جان عالم کا ملک زرنگار پہنچنا۔ انجمن آرا کو طلسماتی قلعے سے رہا کرانا۔ پلاٹ کا دوسرا کلائمکس اپنے اختتام کو پہنچتا ہے۔

انجمن آرا سے جان عالم کی شادی ۔ مہر نگار سے جان عالم کی شادی۔ وزیر زادے کا انجمن آرا پر فریفتہ ہونا اور جان عالم سے غداری کرنا۔ یہاں ملکہ مہر نگار اپنی فہم و فراست سے جان عالم کو وزیر زادے کے فریب سے نجات دلاتی ہے۔ اسی تگ و دو میں پلاٹ کا تیسرا کلائمکس اپنے انجام کو پہنچتا ہے۔

جان عالم ، انجمن آرا اور ملکہ مہر نگار کا وطن واپس ہونا۔ راہ میں ساحرہ و شہپال کا حملہ کرنا۔ جان عالم کا ملکہ مہر نگار کے درویش باپ کی مدد سے ساحرہ وہ پال پر فتح پانا۔ جان عالم کی فتح و کامرانی کے ساتھ چوتھا کل امس اپنے انجام کو پہنچتا ہے۔

جان عالم ، ملکہ مہر نگار اور انجمن آرا کا دریا کی سیر پر نکلنا۔ جہاز کا طوفان کا شکار ہونا۔ تینوں کا ایک دوسرے سے بچھڑ جانا۔ شہزادے کا جوگی سے ملاقات کرنا۔ جان عالم کا نیک دیو کی مدد سے انجمن آرا کو بددیو کی قید سے آزاد کرانا ۔ اس جنگ و جدل میں پلاٹ کا پانچواں کلانگس اپنے انجام کو پہنچتا ہے۔

جہاز کی شکست کے دوران ملکہ مہر نگار ، جان عالم سے بچھڑ جاتی ہے۔ ملکہ ایک بادشاہ کی قید میں رہتی ہے۔ بادشاہ، ملکہ سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ اس دوران جان عالم کی ملاقات طوطے سے ہوتی ہے۔ ملکہ کا پتہ ملتے ہی جان عالم ، بادشاہ پر حملہ آور ہوتا ہے۔ جان عالم کی فتح ہوتی ہے۔ اس جنگ و جدل میں چھٹواں کلائمکس اپنے انجام کو پہنچتا ہے۔

جان عالم ، ملکہ مہر نگار اور انجمن آرا کی جانب سے یہ سوچ کر مشکوک ہو جاتا ہے کہ وہ اتنے دنوں تک اس اس ۔ سے دور رہیں، کیا معلوم کہ انھوں نے بے وفائی کی ہو۔ طوطے کی فہم و ذکاوت کے سبب جان عالم کے شکوک دور ہو جاتے ہیں۔ ساتوان کلانگس یہیں ختم ہوتا ہے اور ہنسی خوشی قافلہ اپنے وطن پہنچ جاتا ہے۔

سرور نے فسانۂ عجائب میں کئی ضمنی داستانیں بھی پیش کی ہیں۔ جیسے کہ سوداگر کی بیٹی، پسر مجسٹن، فسانہ شاہ یمن، برادران توام اور پاک دامن عورت کے قصے۔ ان تمام چھوٹی کہانیوں کے اپنے اپنے اہم موڑ (کلائمکس) ہیں جو داستان میں پڑھنے والوں کی دلچسپی کو برقرار رکھتے ہیں۔ داستان کا ایک بڑا حصہ اصل کہانی کے ختم ہونے کے بعد بیان کیا گیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کہانی کو لمبا کرنے کے لیے بعد کے واقعات زبردستی شامل کیے گئے ہیں۔ سرور کا کمال یہ ہے کہ ان اضافی واقعات کے باوجود پڑھنے والوں کی دلچسپی کم نہیں ہوتی۔ داستان کے لحاظ سے بہتر یہ تھا کہ وزیر زادے کی غداری، ملکہ مہر نگار سے شادی، شہپال اور ساحرہ کا حملہ اور جہاز کے ٹوٹنے کی وجہ سے بچھڑنا وغیرہ اصل کہانی یعنی جان عالم اور انجمن آرا کی شادی سے پہلے بیان کیا جاتا، لیکن مصنف کے لیے ایسا کرنا ممکن نہ تھا۔

سرور نے فسانہ عجائب کے پلاٹ کو اخلاقی سبق اور نصیحت سے بھی خوبصورت بنایا ہے۔ انہوں نے طوطے اور بندر کے ذریعے اخلاقیات کا درس دیا ہے۔ آخر میں جب انجمن آرا ماہ طلعت سے ملتی ہے تو وہ کہتی ہے کہ خوبصورتی ایک عارضی چیز ہے لیکن انسانی رشتے ہمیشہ قائم رہتے ہیں۔ اس میں نیکی کی طرف رغبت دلائی گئی ہے اور بے جا غرور کی برائی بیان کی گئی ہے۔ سرور نے بندر کی تقریر میں دنیا کی ناپائیداری، برے لوگوں کی پرورش، زمانے کے بدلتے رنگ، اخلاقی اقدار، تعلیم و تربیت اور نصیحت بھری باتوں کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اسی طرح فسانہ شاہ یمن میں خدا دوست کا کردار دوستی اور سچ کے راستے میں قربانی کی مثال پیش کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کہانی سے لالچ سے بچنے کا سبق بھی ملتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ فسانہ عجائب اپنی خوبیوں اور کمزوریوں کے باوجود ایک دلچسپ اور مربوط پلاٹ رکھتی ہے اور داستانی ادب کا ایک بہترین نمونہ ہے۔

داستانوں میں کرداروں کی ذہنی حالت، زندگی کی گرمی، شخصیت کے اثرات، عدل، انصاف، سخاوت، مکمل پن اور مثالیت پسندی وغیرہ کو بیان کیا جاتا ہے۔ ان میں عام طور پر کرداروں کی ظاہری زندگی کو دکھایا جاتا ہے۔ مرکزی کردار اکثر اعلیٰ طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور عام لوگوں کے کردار بہت کم ہوتے ہیں۔ اگر کہیں ان کا ذکر آتا بھی ہے تو وہ ضمنی طور پر ہوتا ہے۔ کردار نگاری کے ذریعے تہذیب اور معاشرت کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے۔ قدیم داستانوں کی خاص بات یہ ہے کہ ان میں زیادہ تر مثالی کردار ہوتے ہیں جن میں یا تو صرف اچھائیاں ہوتی ہیں یا صرف برائیاں۔ لیکن فسانۂ عجائب میں کرداروں کی ذہنی حالت اور احساسات و جذبات کی بہت اچھی تصویر کشی کی گئی ہے۔ دراصل فسانۂ عجائب میں کہانی کے قریب حقیقی کردار نگاری نظر آتی ہے۔ فسانہ عجائب کے مرکزی اور ضمنی کرداروں کا ذکر درج ذیل ہے۔

فسانہ عجائب کا مرکزی کردار جان عالم ہے۔ جان عالم کے کردار میں خوبیاں اور خامیاں دونوں پائی جاتی ہیں۔ ظاہری طور پر جان عالم خوبصورت، شاہی آداب سے مزین اور خوش مزاج بات کرنے والا شخص ہے۔ باطنی طور پر اس میں انسانی کمزوریاں بھی ہیں۔ اس کے کردار میں دور اندیشی کی کمی ہے۔ وہ جلدی کسی پر بھی بھروسہ کر لیتا ہے۔ جان عالم کے کردار پر اس وقت روشنی پڑتی ہے جب وہ طوطے کی زبانی انجمن آرا کے حسن کی تعریف سن کر اسے حاصل کرنے کے لیے گھر بار چھوڑ دیتا ہے اور اپنی بیوی ماہ طلعت، بوڑھے ماں باپ اور سلطنت کے بارے میں ایک بار بھی نہیں سوچتا۔ راستے میں ملکہ مہر نگار سے ملاقات ہوتی ہے تو اس کی طرف بھی مائل ہو جاتا ہے۔ وہ انجمن آرا سے شادی کرنے کے بعد ملکہ مہر نگار سے بھی نکاح کرتا ہے۔

جب وہ انجمن آرا کے عشق میں گھر چھوڑتا ہے تو راستے میں ایک جادوئی تالاب ملتا ہے، جس میں ایک خوبصورت چہرہ نظر آتا ہے۔ وہ اسے انجمن آرا سمجھ کر تالاب میں کود جاتا ہے اور فوراً ہی ساحرہ کی قید میں آ جاتا ہے۔ یہاں جان عالم اپنی نادانی کا پورا ثبوت دیتا ہے۔ ملکہ مہر نگار ایک موقع پر اس سے کہتی ہے کہ اگر تم عقل سے کام لیتے تو تالاب میں کود کر ساحرہ کے جال میں نہ پھنس جاتے۔

وزیر زادہ، جان عالم کا بچپن کا دوست تھا۔ انجمن آرا کو دیکھ کر وہ بھی اس کی طرف مائل ہو گیا۔ جان عالم، وزیر زادے کی چالاکی کو نہ سمجھ سکا۔ ملکہ کے درویش باپ کے منع کرنے کے باوجود وہ قالب بدلنے کا راز وزیر زادے کو بتا دیتا ہے۔ اس طرح وہ اس کے جال میں پھنس کر بندر کے جسم میں قید ہو جاتا ہے۔ اس موقع پر ملکہ مہر نگار، انجمن آرا سے کہتی ہے کہ ہمیں شروع سے اس پر شک تھا، ہم نے منع بھی کیا تھا، مگر اس نے ہماری بات نہ مانی اور اس کا نتیجہ بھگتا۔ جب ملکہ مہر نگار اپنی سمجھداری سے جان عالم کو وزیر زادے کے جال سے آزاد کرا لیتی ہے تو وہ انجمن آرا سے کہتی ہے کہ اللہ نے ہماری عزت بچائی اور ہمیں دوبارہ ملایا، یہ تمہارا نادان شہزادہ ہے۔ یہاں جان عالم کو بیوقوف کہا گیا ہے۔

جان عالم جب دریا کی سیر کرنے کی خواہش ظاہر کرتا ہے تو ملکہ مہر نگار اور انجمن آرا دونوں منع کرتی ہیں، لیکن اس کے زیادہ اصرار پر مان جاتی ہیں۔ دریا میں جہاز طوفان میں پھنس جاتا ہے اور سب ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے ہیں۔ جب انجمن آرا اور جان عالم دوبارہ ملتے ہیں تو وہ کہتی ہے کہ تمہاری وجہ سے ہمیں یہ ذلت، تکلیف، صحرا میں بھٹکنا اور اپنوں سے جدائی برداشت کرنی پڑی۔ دراصل جان عالم کو اپنی مہم میں جو بھی کامیابی ملتی ہے، وہ نقش سلیمانی، لوح طلسم، سفید دیو کی مدد، مہر نگار کی سمجھداری اور کوہ مطلب برآر کے جوگی کی مدد سے ملتی ہے۔ جان عالم ایک عام انسان کی طرح ملکہ مہر نگار اور انجمن آرا کی پاکدامنی پر شک کرتا ہے، لیکن طوطے کے سمجھانے پر اس کا شک دور ہو جاتا ہے۔ یہ سب باتیں اس کی ذہنی حالت کو ظاہر کرتی ہیں۔

اس کے باوجود جان عالم کے کردار میں اعلیٰ ظرفی، خود داری، اچھے اخلاق، ادب اور معاف کرنے کی خوبی بھی پائی جاتی ہے۔ بندر کا کردار دراصل جان عالم کی ایک شکل ہے، جس کی تقریر میں وہ ایک اچھا مقرر، دانا، سمجھدار اور خدا سے ڈرنے والا انسان نظر آتا ہے۔

فسانہ عجائب کا ایک مضبوط، سمجھدار، دور اندیش اور داستانی ادب کا ایک یادگار کردار ہے۔ ملکہ کا کردار اگرچہ خیالی دنیا سے تعلق رکھتا ہے لیکن حقیقت کے بہت قریب محسوس ہوتا ہے۔ سرور نے ملکہ مہر نگار کی جذباتی حالت کو بہت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ ملکہ مہر نگار، جان عالم سے پہلی ملاقات میں ہی اس پر فریفتہ ہو جاتی ہے۔ جب وہ جان عالم سے بات کرتی ہے تو اس کے جذبات صاف ظاہر ہوتے ہیں۔ جان عالم بھی ملکہ کی خوبصورتی اور ذہانت سے متاثر ہو جاتا ہے۔ جان عالم سے جدا ہونے کے بعد ملکہ جدائی کے غم میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ وہ جدائی میں روتی ہے، اس کی کامیابی کے لیے دعا کرتی ہے اور ہر وقت اس سے ملنے کا خواب دیکھتی ہے۔ یہاں ملکہ کی تصویر ایک سچے عاشق کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ وہ ایک وفادار اور دکھی دل رکھنے والی عورت ہے جو ہر حال میں اپنے محبوب کو دل سے قبول کرتی ہے۔ سرور نے داستان میں ملکہ کی حالت کو اس طرح بیان کیا ہے: ہاتھ پاؤں سن ہونے لگتے ہیں، خود بخود اس کی طرف بڑھتے ہیں۔ باغ ویران لگتا ہے، پھول کانٹوں جیسے محسوس ہوتے ہیں۔ گھر قید خانے جیسا لگتا ہے اور بات کرنا بے فائدہ معلوم ہوتا ہے… سینہ جلتا ہے اور دل میں درد محسوس ہوتا ہے۔

ملکہ مہر نگار کی جذباتی حالت اس وقت اور زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے جب شہپال جادوگر کی بیٹی ساحرہ، جان عالم اور اس کے لشکر کو آدھا جسم پتھر بنا دیتی ہے۔ اتفاق سے ملکہ کے باپ کا ایک شاگرد، جو جادو کے فن میں ماہر تھا، وہاں سے گزرتا ہے۔ جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تباہی اس کے استاد کی بیٹی کی وجہ سے ہے تو وہ ملکہ سے ملتا ہے۔ اس موقع پر ملکہ صرف پریشان نہیں ہوتی بلکہ مسئلے کا حل بھی سوچتی ہے۔ وہ شاگرد سے کہتی ہے۔

ملکہ کا ایک مضبوط کردار اس وقت بھی سامنے آتا ہے جب وہ دریا میں بہتے ہوئے ایک بادشاہ کی قید میں آ جاتی ہے۔ بادشاہ، ملکہ کی خوبصورتی پر فریفتہ ہو جاتا ہے اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ ملکہ اس مشکل صورت حال سے گھبراتی نہیں بلکہ وہ جان عالم کی واپسی تک بادشاہ سے مہلت مانگتی ہے۔ خوش قسمتی سے جان عالم، ملکہ تک پہنچ جاتا ہے۔ اگر ملکہ سمجھداری سے کام نہ لیتی تو وہ بادشاہ کی بیوی بن جاتی۔ اس طرح وہ اپنی عزت کو بچانے میں کامیاب رہتی ہے۔

ملکہ مہر نگار کا کردار ایک سمجھدار، حاضر دماغ، ثابت قدم، مضبوط ارادے والی اور تجربہ کار عورت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ بقول عزیز احمد انجمن آرا خوبصورتی کی علامت ہے اور مہر نگار عقل کی علامت ہے۔ لیکن مہر نگار کا کردار محبت کی علامت بھی ہے۔ دراصل مہر نگار کا کردار عقل اور عشق کا ملاپ ہے جس میں اندرونی کشمکش بھی پائی جاتی ہے۔ ملکہ کے کردار میں بھرپور خود اعتمادی موجود ہے۔ جان عالم کو وزیر زادے کے فتنہ سے نجات بھی ملکہ کی وجہ سے ملتی ہے۔ وہ انجمن آرا اور خود کو وزیر زادے کے دھوکے سے بچاتی ہے اور جان عالم کو بندر کے جسم سے آزاد کرانے کا طریقہ بھی سوچتی ہے۔ ملکہ عورت کی شرم و حیا سے بھی مزین ہے۔ وہ ایک ملکہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نازک، خوبصورت اور دلکش عورت بھی ہے۔ اس کا انداز صرف محبوبہ جیسا ہی نہیں بلکہ ایک سچی عاشقہ جیسا بھی ہے۔ وہ جان عالم سے محبت کرتی ہے اور اس کی جدائی میں تڑپتی بھی ہے۔ دراصل ملکہ کا کردار اتنا مضبوط ہے کہ اسے داستان کی اصل ہیروئن بھی مانا جا سکتا ہے۔ ملکہ مہر نگار، سرور کی کردار نگاری کی بہترین مثال ہے۔

ملک زرنگار کی شہزادی ہے۔ اس کی خوبصورتی کا چرچا ہر طرف ہے۔ جان عالم نے جب اس سے اپنی محبت کا اظہار کیا تو وہ بے رخی اور لاتعلقی دکھاتی ہے۔ وہ اس کے حسن اور احسان سے متاثر نہیں ہوتی بلکہ اپنی عزت اور شاہی آداب پر قائم رہتی ہے۔ اس کی خودداری اسے یہ اجازت نہیں دیتی کہ وہ فوراً جان عالم کی محبت قبول کر لے۔ دراصل انجمن آرا کا کردار نہ صرف خوبصورتی کی علامت ہے بلکہ اس میں انا، شرم و حیا، ناز و انداز اور سادگی بھی موجود ہے۔

انجمن آرا کا کردار اس وقت اور زیادہ نمایاں ہوتا ہے جب اس کی ماں، جان عالم سے شادی کے لیے اس کی رائے پوچھتی ہے۔ انجمن آرا کہتی ہے کہ میری قسمت خراب ہے، ایک مصیبت سے نکلی تو دوسری میں پھنس گئی۔ ہر وقت یہ سننا پڑتا ہے کہ یہ آیا اور مجھے قید سے آزاد کرایا۔ خدا جانے وہ کون ہے اور کہاں سے آیا ہے! میں آپ کی تابع ہوں اور ہر حال میں حکم مانوں گی، اگر آپ مجھے کنویں میں بھی ڈال دیں تو بھی شکایت نہیں کروں گی، لیکن اگر آپ صرف اس کی شکل اور اس کی محنت دیکھ کر یہ فیصلہ کرنا چاہتی ہیں تو میں اس پر راضی نہیں ہوں۔ اس موقع پر انجمن آرا کے کردار میں خودداری اور نفسیاتی کیفیت کو اچھی طرح محسوس کیا جا سکتا ہے۔

انجمن آرا شادی کے بعد جب ملکہ مہر نگار سے ملتی ہے تو انتہائی محبت سے پیش آتی ہے ۔ وہ نہ تو اس سے کوئی رقابت رکھتی ہے اور نہ ہی اسے اپنے حسن کا غرور رہتا ہے۔ سرور نے ملکہ اور انجمن آرا کی ملاقات کی تصویر کچھ اس طرح پیش کی ہے: انجمن آرا نے ملکہ کو گلے سے لگایا ۔ ملکہ آبدیدہ ہو کر بولی تم نے مجھے محجوب کیا۔ میں فقیر کی بیٹی تم شاہ زادی ۔۔۔ انجمن آرا بولی: ہم نے خوب کیا۔ یہ چوچلے کی باتیں بیگانہ وار نہ کرتی تو کیا ہوا! اے صاحب ہمارے اور تمھارے تو رشتہ ہمسری، سر رشته برابری ہے۔ اس موقعے پر انجمن آرا نے ملکہ مہر نگار کو نہ صرف عزت بخشی اور محبت سے پیش آئی بلکہ اسے برابری کا درجہ بھی دیا۔ وہ ملکہ کے متعلق جان عالم سے بھی کہتی ہے کہ بہ خدا! اس خلق و مروت، سنجید وصفت کی عورت آج تک نہ دیکھی نہ سنی تھی ۔ انجمن آرا، ملکہ کو بہت عزیز رکھتی تھی۔

انجمن آرا جب جہاز کے دریا میں غرق ہونے کے بعد جان عالم سے ملتی ہے تو اسے ملکہ مہر نگار کی بہت فکر ہوتی ہے۔ وہ جان عالم سے کہتی ہے کہ بہ خدا مفارقت ملکہ میں خواب و خور حرام ہے۔ چین دل کو نہ جی کو آرام ہے۔۔۔ ہر دم ملکہ کا خیال ، ہر گام دل پر فرقت کا ملال تھا کہ خدا جانے ، ڈوب گئی یا ہماری طرح کسی آفت میں پھنسی ۔ انجمن آرا کے قول میں ملکہ کے لیے بلا کی محبت ، فکرمندی اور اضطراب کا احساس ہوتا ہے۔

انجمن آرا کی تصویر اس وقت بھی ابھرتی ہے جب طوطا ، ماہ طلعت کو انجمن آرا کے حسن سے شرمندہ کرتا ہے تو انجمن آرا انتہائی محبت سے پیش آتی ہے اور ماہ طلعت سے کہتی ہے کہ یہ حسن عارضی ہے، اصل انسان کا کردار، رشتہ اور اعمال ہوتے ہیں۔ لہذا ایسی عارضی حسن پر کسی کو بھی اترانا نہیں چاہیے۔ انجمن آرا صرف بھولی بھالی اور معصوم نہیں ہے بلکہ اس کے کردار میں تیزی ، طراری اور جہاں دیدگی بھی ہے۔

فسانہ عجائب، کے دیگر کرداروں میں ماہ طلعت، طوطا، وزیر زادہ، ساحرہ، درویش اور جوگی وغیرہ کے نام اہم ہیں۔ ماہ طلعت، جان عالم کی پہلی بیوی ہے جسے اپنی خوبصورتی پر فخر ہے۔ طوطا جان عالم کا ایک پالتو پرندہ ہے جسے دنیا کے حالات کا اچھا تجربہ ہے۔ اسے انسانی زندگی کی سمجھ بھی ہے۔ وہ انسانوں کی زبان میں بات کرتا ہے اور ایک تجربہ کار کردار کے طور پر سامنے آتا ہے۔ ماہ طلعت اور طوطے کی بحث سے ہی انجمن آرا کی خوبصورتی کا پتا چلتا ہے اور جان عالم اسے دیکھے بغیر ہی اس کا عاشق بن جاتا ہے۔

وزیر زادہ کا کردار شروع میں ایک سچے دوست کے طور پر سامنے آتا ہے۔ وہ اپنے دوست جان عالم کی محبت کو پورا کرنے کے لیے اس کے ساتھ گھر بار چھوڑ دیتا ہے۔ لیکن جب وہ انجمن آرا کی خوبصورتی کو دیکھتا ہے تو خود بھی اس پر عاشق ہو جاتا ہے اور جان عالم سے بے وفائی کرتا ہے۔ اس طرح اس کا کردار ایک دھوکے باز کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور آخر میں اسے اپنے برے اعمال کا نتیجہ ملتا ہے۔

ملکہ مہر نگار کا باپ ایک بادشاہ تھا جس نے دنیا کی بے ثباتی اور حرص و طمع سے بیزار ہو کر بادشاہت چھوڑ دی اور جنگل میں ایک درویش کی زندگی بسر کرنے لگا۔ وہ ایک عامل درویش تھا جس نے جان عالم کو تبدیلی قالب کا راز بتایا تھا۔ اس کے علاوہ جب ساحرہ نے جان عالم اور اس کے لشکر کو آدھے دھڑ تک پتھر کا بنا دیتی ہے تو وہ ، شہپال جادوگر اور ساحرہ سے جادوئی جنگ لڑتا ہے اور جان عالم اور لشکر کی حفاظت کرتا ہے۔

کوہ مطلب بر آر کا جوگی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور ہندو مسلم اتحاد کی علامت ہے۔ اس کی خانقاہ میں تر شول اور جھنڈی پر کلمہ شہادت درج ہے۔ دراصل جوگی نہ ہندو ہے اور نہ مسلمان بلکہ دونوں سے عقیدت رکھتا ہے۔ جوگی کا کردار سنت کبیر داس کے مماثل ہے۔ جوگی کی موت اور تدفین کو مصنف نے کچھ اس طرح بیان کیا ہے: شہزادے نے بہ موجب وصیت غسل دیا، کفنایا، قبر تک لاتے لاتے کچھ نہ پایا۔ آخر کار برابر کفن پھاڑ دیا، آدھا چیلوں نے جلایا، نصف مریدوں نے منڈھی میں گاڑ دیا۔ ہندوؤں نے راکھ پر چھتری بنائی۔ مسلمانوں نے قبر بنا کے سبز چادر اڑھائی ۔

دراصل جوگی کے کردار میں محبت صلح و آستی اور مذہبی رواداری ہے۔

شہپال جادوگر کی بیٹی ہے۔ وہ جان عالم کے حسن پر فریفتہ ہے۔ وہ زور و جبر سے جان عالم کو حاصل کرنا چاہتی ہے۔ وہ جان عالم کو اپنی طلسم میں قید کر لیتی ہے۔ جان عالم نقش سلیمانی کی مدد سے ساحرہ سے نجات پاتا ہے۔ جادوگرنی انتقام کی آگ میں جانے لگتی ہے۔ ملک زرنگار سے واپسی کے وقت ساحرہ ، جان عالم پر دوبارہ طلسمی حملہ کرتی ہے اور پورے لشکر کو نصف دھڑ تک پتھر کا بنا دیتی ہے۔ دراصل ساحرہ کا کردار ہوس پرستی ، فریب اور مکاری سے آراستہ ہے۔

چڑی مارا انعام واکرام کی لالچ میں بندر ( جان عالم ) کو بادشاہ کے حوالے کرنا چاہتا ہے لیکن جب وہ میاں بیوی ، بندر کی تقریر سنتے ہیں تو اپنا فیصلہ رد کر دیتے ہیں لیکن ایک سوداگر کی نظر بندر پر پڑ جاتی ہے ۔ وہ چڑی مار سے خطیر رقم کے بدلے خریدنا چاہتا ہے لیکن چڑی مارا سے فروخت کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ لیکن سوداگر کے ڈرانے دھمکانے پر وہ بندر کو سوداگر کے حوالے کر دیتا ہے۔ سرور نے اس کیفیت کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے: “آخر کار بہ ہزار گریہ وزاری سوداگر سے دونوں نے قسم لی کہ بادشاہ کو نہ دینا، اچھی طرح پرورش کرنا ۔ یہ کہہ کر بندر حوالے کیا ۔ اس موقعے پر چڑی مار اور اس کی بیوی کے کردار میں رحم دلی اور محبت کی کیفیت نمایاں ہوتی ہے ۔ مصنف نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ ان کے جذبات واحساسات کو نمایاں کر دیا ہے۔

مختصر یہ کہ فسانہ عجائب کے کرداروں میں انسانی جبلت کی بہتات ہے ۔ وہ عام انسانوں کی طرح برتاؤ کرتے ہیں۔ کرداروں میں اگر مثالیت پسندی ہے تو زندگی کی حرارت بھی ہے۔ وہ جذباتیت سے متاثر بھی نظر آتے ہیں۔ جیسے کہ جان عالم کی مفارقت میں ماں باپ کا رو رو کر اندھا ہو جانا۔ جان عالم کا مہر نگار اور انجمن آرا کے کردار پر شک کرنا ، بندر سے جدا ہوتے وقت چڑی مار اور اس کی بیوی کا براحال ہونا، غیر محرم وزیر زادہ کا محل میں آمد و رفت کو ملکہ کا نا پسند کرنا، شادی کے متعلق انجمن آرا کا اپنی پسند و نا پسند کا اظہار کرنا اور جان عالم سے وزیر زادے کی غداری وغیرہ انسانی جذبات واحساسات اور فعل و عمل کا بر ملا اظہار ہے۔ دراصل فسانۂ عجائب کے کردار جیتے جاگتے اور متحرک نظر آتے ہیں۔

داستانوں میں غیر معمولی اور جادوئی کرداروں کی بہتات ہوتی ہے۔ ایسے کردار اچھے یا برے ہو سکتے ہیں۔ عام طور پر داستانیں جن، دیو، بھوت، پریت، پری، پیر، فقیر، جادوگر، سادھو، پرستان کے بادشاہ جیسے کرداروں سے بھری ہوتی ہیں۔ پرستان اور انسانی دنیا کا ایک تعلق ہوتا ہے۔

پری اور شہزادے کے عشق کے ذریعے بھی جادوئی ماحول بنایا جاتا ہے۔ مافوق الفطرت عناصر میں توہمات، تعویز، گنڈے، امام ضامن، کمزور عقیدہ رکھنے والے، نجومی، پنڈت، جنم پتری، شادی بیاہ کے وقت کا علم، رمال، جفر داں وغیرہ بھی شامل ہوتے ہیں۔ فسانہ عجائب کی کہانی بھی مافوق الفطرت عناصر اور کرداروں سے بھری ہوئی ہے، جن کا ذکر درج ذیل ہے۔

شہزادہ جان عالم کے پاس ایک طوطا تھا جو انسان کی زبان میں بات کرتا تھا۔ طوطے اور ماہ طلعت کی کج بحثی سے شہزادہ جان عالم کو ملک زرنگار کی شہزادی انجمن آرا کے متعلق علم ہوتا ہے۔ جان عالم اس کے حسن کی تعریف سن کر اس کا نادیدہ عاشق ہو جاتا ہے۔

فسانۂ عجائب میں ایک طلسماتی حوض کا بیان ملتا ہے۔ جس میں ساحرہ، انجمن آرا کی شکل میں نظر آتی ہے ، جان عالم اس میں داخل ہوتے ہی ساحرہ کی قید میں چلا جاتا ہے۔

یہ ایک طلسمی نقش ہے جو ساحرہ اور ہیپال جادوگر کا خاندانی اثاثہ ہے جس کی مدد سے کسی سر کار دھر کیا جا سکتا ہے۔ جان عالم ، ساحرہ سے نقش سلیمانی حاصل کر کے اس کی قید سے نجات پاتا ہے۔

ملکہ مہر نگار کے درویش باپ نے جان عالم کو لوح طلسم دیا تھا۔ اس کے ذریعے جان عالم کو تبدیلی قالب کے راز کا علم ہو جاتا ہے۔ تبدیلی قالب کوئی عام فعل نہیں بلکہ ایک جادوئی عمل ہے۔

شہپال جادوگر اور ساحرہ (شہپال کی بیٹی ) دوبارہ جان عالم اور اس کے لشکر پر حملہ کرتے ہیں ۔ ملکہ کا درویش باپ ، ساحرہ اور شہپال کی فوج کو شکست دیتا ہے۔ یہاں ایک بڑی جادوئی جنگ کو پیش کیا گیا ہے۔

ایک دیو نے انجمن آرا کو آگ کے قلعہ میں قید کر رکھا تھا۔ جو بھی اسے قلعہ کے قریب جاتا ، جل کر خاک ہو جاتا تھا۔ جان عالم اور دیو کے مابین ایک جادوئی جنگ ہوتی ہے جس میں دیو ہلاک ہو جاتا ہے۔ اس طرح شہزادہ قش سلیمانی اور لوح طلسم کے ذریعے انجمن آرا کو آزاد کرالیتا ہے۔ کوہ مطلب بر آرکا جوگی : ایک جوگی جس کی مدد سے ہر کسی کی مراد پوری ہوتی ہے۔ جان عالم ، انجمن آرا اور ملکہ مہر نگار کی تلاش میں بھٹکتا ہوا، جوگی کے پاس اس پہاڑ پر پہنچتا ہے۔ جوگی ، جان عالم کو ایک ایسے علم سے آراستہ کرتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنی شباہت کو کسی بھی شبیہ میں تبدیل کر سکتا ہے۔ جان عالم اس کی مدد سے خود کو کبھی بھنورے کی شکل میں تبدیل کر کے انجمن آرا کی نگہبانی کرتا ہے تو کبھی طوطا بن ملکہ مہر نگار کی تلاش میں اُڑ نے لگتا

کالا دیو بدی کی علامت ہے اور سفید دیو نیکی کی ۔ کالے دیو نے انجمن آرا کو قید کر رکھا تھا۔ جان عالم، سفید دیو کی مدد سے انجمن آرا کو اس کی قید سے نجات دلاتا ہے۔ اس جنگ میں کالا دیو مارا جاتا ہے۔

داستان لکھنے میں رزم اور بزم کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ داستان میں رزم کے تحت جنگ کے مناظر، جنگ کی حالتیں اور لڑائی کے مناظر دکھائے جاتے ہیں۔ داستانوں میں عام طور پر دو طرح کی جنگیں دکھائی جاتی ہیں: ایک فوجی جنگ اور دوسری جادوئی یا طلسماتی جنگ۔ فسانۂ عجائب میں دونوں طرح کی جنگیں دکھائی گئی ہیں۔

جادوئی جنگ کا پہلا موقع اس وقت آتا ہے جب جان عالم، انجمن آرا کو ایک جادوگر دیو سے بچانے کے لیے لڑائی کرتا ہے۔ دوسرا موقع اس وقت آتا ہے جب جان عالم ایک نیک سفید دیو کی مدد سے ایک بد دیو کو شکست دیتا ہے۔ تیسری جنگ اس وقت لڑی جاتی ہے جب ملکہ مہر نگار ایک بادشاہ کی قید میں ہوتی ہے اور بادشاہ اسے جان عالم کو واپس کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ آخری اور اہم جنگ اس وقت پیش آتی ہے جب شہپال جادوگر کی بیٹی ساحرہ، جان عالم اور اس کے لشکر پر جادوئی حملہ کرتی ہے۔ اس موقع پر ملکہ کے درویش باپ، جان عالم اور شہپال جادوگر و بیٹی ساحرہ کے درمیان جادوئی اور فوجی لڑائی ہوتی ہے۔ اقتباس ملاحظہ کیجیے۔

داستان میں بزم آرائی بھی ایک اہم حصہ ہے۔ اس میں داستان میں رقص و سرود، موسیقی کی محفلیں، بزم سخن، بزم طرب، بزم عیش، بزم خوشی اور دیگر تفریحی محفلیں دکھائی جاتی ہیں۔ داستانوں میں بزم آرائی کو خوبصورتی سے پیش کیا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے کہانی کو دلچسپ اور دلکش بنایا جاتا ہے۔ بزم عیش میں نہ صرف موسیقی، رقص اور سرود کی محفلیں دکھائی جاتی ہیں بلکہ محبت و میل جول کے جذبات کو بھی کھل کر دکھایا جاتا ہے۔

ذیل کے اقتباس میں ملکہ مہر نگار اور جان عالم کی بزم آرائی کی منظر کشی بہت خوبصورت انداز میں کی گئی ہے

مختصر یہ کہ فسانہ عجائب میں مختلف مواقع پر بزم آرائیوں کی پیش کش ملتی ہے۔ سرور نے جان عالم اور انجمن آرا کی شادی کے موقعے پر بھی بزم آرائی کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا ہے۔ اس موقعے پر رقص و سرود ، موسیقی و گائیکی اور طرب و نشاط کی جو تصویر پیش کی گئی ہے، وہ قابل دید ہے۔ سرور نے فسانہ عجائب میں جو شاہی بزم کی تصویر پیش کی ہے اس میں کہیں نہ کہیں دربار اودھ کی جھلک بھی موجود نظر آتی ہے۔

داستان کو لمبا کرنے میں جزئیات نگاری کا اہم کردار ہوتا ہے۔ جزئیات نگاری کے لیے الفاظ کا بڑا ذخیرہ ضروری ہے۔ مصنف جتنا زیادہ الفاظ جانتا اور استعمال کر سکتا ہے، جزئیات اتنی ہی مؤثر انداز میں پیش کی جا سکتی ہیں۔ داستان میں جزئیات کے تحت دسترخوان کے سامان، پھل پھول، باغ و چمن، خوبصورت مناظر، محبوبوں کی شکل و صورت، صحرا کی ویرانی، جنگ کے مناظر، جادوئی اور چالاکی والی لڑائیاں، تیغ و تفنگ، رزم و بزم، دربار، بازار، میلے ٹھیلے، رسم و رواج اور معاشرت وغیرہ کی تفصیل شامل ہوتی ہے۔ داستان لکھنے والا لفظوں پر مہارت رکھتا ہے اور اپنے کردار کی سخاوت، رحم دلی، جفاکشی، قربانی اور پاکیزگی کو زیادہ نمایاں دکھاتا ہے۔ اسے محبت کے جذبات، مرد اور عورت کے تعلقات، جسمانی اور روحانی ربط، جسمانی اعضا اور محبت کے جذباتی لطف بیان کرنے میں بھی مہارت ہوتی ہے۔

سرور نے فسانہ عجائب میں کئی موقعوں پر جزئیات نگاری کی بہترین مثالیں دی ہیں۔ جیسے کہ جب جان عالم انجمن آرا کا چھپا ہوا عاشق بن جاتا ہے، تو مصنف نے اس محبت کے نقصان، مشکلات اور رکاوٹوں کی تفصیل بہت خوبصورت انداز میں بیان کی ہے۔ اسی طرح جان عالم اور ملکہ مہر نگار کی ملاقات، باغ اور محل کے مناظر میں بھی جزئیات نگاری کی اعلیٰ مثال دی گئی ہے۔ سرور نے ملازمہ، خواجہ سرا، انا، چھو چھو، دائی، مغلانی، قلما قنی، محل کی کنیزیں وغیرہ کو بہت تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ علاوہ ازیں، جان عالم اور انجمن آرا کی شادی کے موقع پر مختلف رسم و رواج، چہل پہل اور رونق کو بہت اچھی طرح پیش کیا گیا ہے۔ سرور نے کوہ مطلب برآر کے جوگی کے جسم و صورت کی تفصیل میں باریک بینی کا ثبوت دیا ہے۔ درج ذیل اقتباس میں جوگی کی شخصیت، شکل اور کردار کو بخوبی محسوس کیا جا سکتا ہے۔

مختصر یہ کہ سرور کو زبان اور بات کرنے پر گہری مہارت حاصل تھی۔ ان کے پاس الفاظ کا ایک بہت بڑا ذخیرہ موجود تھا۔ انہوں نے کسی بھی ماحول، فضا اور حالات کو بیان کرنے میں بہت مہارت دکھائی۔ ان کے یہاں جزئیات پیش کرنے میں تازگی اور دلچسپی محسوس ہوتی ہے۔ قاری ہر لفظ سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ سرور جزئیات نگاری میں بھی قاری کی دلچسپی، توجہ اور تجسس کو برقرار رکھنے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔

فسانۂ عجائب، دبستان لکھنو کا ایک عظیم شاہکار اور سلطنت اودھ کی تہذیب کا عکاس ہے، جس میں لکھنؤ کی تہذیب و ثقافت، آداب و اطوار، بازاروں کی رونق اور عوام و خواص کے مشاغل کی جیتی جاگتی تصویر پیش کی گئی ہے۔ اگرچہ داستان میں ملک ختن اور شہر فسحت آباد کا ذکر ہے، لیکن جس تہذیب کو دکھایا گیا ہے، وہ خالص لکھنوی تہذیب ہے۔ فسانۂ عجائب میں معاشرتی عقائد، تہذیب و ثقافت اور رسم و رواج کی بہترین تصویر دیکھنے کو ملتی ہے۔

اس داستان میں معاشرتی عقائد اور توہمات خاص طور پر اس وقت دکھائی دیتے ہیں جب جان عالم اور اس کے لشکر کو ساحرہ نے آدھا دھڑ پتھر کا بنا دیا۔ اس وقت وہاں کا منظر کچھ یوں ہوتا ہے: کوئی بولتی ہے کہ میں سہ ماہی کے روزے رکھوں گی، کونڈے بھروں گی، صحنک کھلاؤں گی، دودھ کے برتن بچوں کو پلاؤں گی۔ کسی نے کہا کہ اگر میں بچ گئی تو جناب عباس کی درگاہ جاؤں گی، سقائے سکینہ کا علم چڑھاؤں گی، نذر حسین سبیل دوں گی۔ یہاں وہی دعا اور وعدے کیے گئے ہیں جو لکھنؤ کے معاشرے میں عام تھے۔ دراصل فسانہ عجائب میں لکھنو کی تہذیب پوری طرح جیتی جاگتی محسوس ہوتی ہے۔

جان عالم کے رخصت ہوتے وقت ملکہ مہر نگار کا یہ کہنا کہ خدا حافظ، امام ضامن ثامن کے حفظ میں سونیا۔ جس طرح پیٹھ دکھاتے ہو، اسی طرح اللہ تمہارا منہ دکھائے۔ اسی طرح درویش کے ذریعے جان عالم کو لوح طلسم دینا، ساحرہ کے ذریعے جان عالم کے بازو پر تش سلیمانی باندھنا تاکہ اس پر کسی اور کے جادو کا اثر نہ ہو سکے وغیرہ معاشرتی اعتقاد کی زندہ مثالیں ہیں۔

فسانۂ عجائب میں ایک جگہ کھانے پینے کا ذکر آیا ہے، جس کے مطابق ہندوؤں کو پوری کچوری، مٹھائی، اچار، اور مسلمانوں کو پلاؤ، زردہ، قورمہ، آبی، شیرمال، فرنی، کباب وغیرہ دیا جاتا تھا۔ اسی طرح شادی بیاہ کی تصویر کچھ یوں کی گئی ہے: ”ڈومنیوں کا سینٹھنیاں اور پا ہوتی گانا، رخصتی کے وقت شہنائیں، بھیرویں، بھباس، الیاللت، رام کلی پھونکنا، نقیب اور چوبداروں کا کوئل کی طرح کو کنا۔

در اصل فسانہ عجائب میں معاصر تہذیب ہر جگہ نظر آتی ہے۔ اس میں طرز معاشرت، رہن سہن، ریت و رسم، بات چیت، رقص و سرود اور عیش و عشرت وغیرہ کا عکس نمایاں ہے۔

فسانہ عجائب کا مزاج خالص ہندوستانی ہے۔ اس میں بیگماتی زبان و محاورات کا بھرپور استعمال ہوا ہے۔ عورتوں کی بولی جس نفاست کے ساتھ فسانہ عجائب میں استعمال ہوئی ہے، اسے اعلیٰ درجہ حاصل ہے۔ اس میں ہر طبقے کی زبان سنائی دیتی ہے، جیسے بیگمات، مغلانیاں، انا، کنیزیں محل دار نیاں، خواصیں، اور محلات کے اندر رہنے والی ہر عمر کی عورتیں: بوڑھی عورتیں، جوان دوشیزائیں وغیرہ۔

شگون و بدشگون معاشرتی اعتقاد کا ایک اہم حصہ ہے۔ ہندوستان میں کسی اہم کام کو اچھے وقت میں کرنے کی روایت رہی ہے۔ دراصل معاشرے میں شگون و بدشگون کا ایک اہم مقام ہے۔ سرور نے ایک موقع پر شگون بد کی تصویر کچھ یوں پیش کی ہے: ملکہ نے کہا: ”آج بہت شگون بد ہوئے: صبح سے آنکھ پھڑکتی تھی، راہ میں ہرنی اکیلی راستہ کاٹتی تھی، خیمے میں اترتے وقت کسی نے چھین لیا، نماز کے وقت عجیب خواب دیکھا۔

جب ساحرہ، جان عالم اور لشکر پر حملہ کرتی ہے، تو انیسوں، جلیسوں اور مغلانیوں کی ذہنی کیفیت کچھ یوں نظر آتی ہے: کوئی کہتی تھی: ہمارا لشکر اس بلا سے نکلے گا، تو مشکل آسان ہو جائے گی۔ کوئی بولی: میں سہ ماہی کے روزے رکھوں گی، کونڈے بھروں گی، صحنک کھلاؤں گی، دودھ کے کوزے بچوں کو پلاؤں گی۔ کسی نے کہا: میں اگر بچ گئی تو جناب عباس کی درگاہ جاؤں گی، سقائے سکینہ کا علم چڑھاؤں گی، نذر حسین سبیل دوں گی۔

در اصل داستان چاہے کسی ملک، خطے اور زمانے کی ہو، اس میں معاصر عہد کی تہذیب، ثقافت اور اعتقاد کی تصویر کشی ہوتی ہے۔ داستان اگرچہ تخیلی دنیا بناتی ہے لیکن تفصیل اس کے اپنے ملک کی ہوتی ہے۔ غیر حقیقی دنیا ہونے کے باوجود معاشرتی زندگی کا عکس نظر آتا ہے۔ داستانوں میں عصر حاضر کی روح محسوس ہوتی ہے۔ اس میں دکھائے گئے اعتقاد اور رسومات میں زمانے کی بازگشت ہوتی ہے۔ فسانہ عجائب ایک ایسی داستان ہے جس میں لکھنوی تہذیب ہر رنگ میں نمایاں ہے۔

Fasana-e-Ajaib is a remarkable Urdu dastan by Rajab Ali Beg Suroor that highlights artistic storytelling through romance, fantasy, and rich cultural depiction. It stands out for its engaging plot, strong characters, magical elements, and vivid portrayal of Lucknow’s refined society and traditions.