Fort William College Ki Adabi Khidmat, فورٹ ولیم کالج کی ادبی خدمات

فورٹ ولیم کالج لارڈ ویلزلی کے زمانے میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے کورٹ آف ڈائرکٹرس کی اجازت سے کلکتہ میں قائم کیا گیا۔ اس کالج کا بنیادی مقصد انگریز ملازمین کو ہندوستانی زبان (اردو) سکھانا تھا۔ انگریز چاہتے تھے کہ وہ اچھے طریقے سے ہندوستان میں اپنی زیرِ قبضہ ریاستوں میں حکومت کر سکیں۔ چنانچہ انہوں نے 1800ء میں فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں قائم کیا۔ اس کالج میں بہت سے علم اور فن کی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا گیا۔

فورٹ ولیم کالج کی ابتدا جس زمانے میں ہوئی وہ ہندوستان کی تاریخ کا مشکل دور تھا۔ صوبائی بغاوتیں بادشاہت کو نقصان پہنچا رہی تھیں اور غیر ملکی طاقتیں اس دور کی سیاسی افراتفری سے پورا فائدہ اٹھانے کے لیے سرگرم تھیں۔ بنگال، پلاسی کی جنگ 1757ء کے نتیجے میں فرنگیوں کے قبضے میں آگیا تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی جو صرف تجارتی مقصد سے قائم کی گئی تھی اب سیاست کے میدان میں بھی اپنی جگہ بنانے لگی تھی۔ بکسر کی لڑائی کے بعد انگریزوں کا قبضہ نہ صرف مشرقی علاقوں پر مضبوط ہوا بلکہ مغربی اور جنوبی ہند تک بھی پہنچ گیا تھا۔ اس قبضے کو قائم رکھنے، مزید سیاسی طاقت حاصل کرنے اور حکومت کا نظام چلانے کے لیے انگریز افسروں کا مقامی زبانوں سے واقف ہونا ضروری تھا۔ فارسی کا زمانہ ختم ہو چکا تھا۔ اردو ایک عام زبان کی حیثیت سے ملک کے زیادہ تر حصوں میں بولی اور سمجھی جاتی تھی۔ عوام میں اردو کا پھیلاؤ بڑھنے لگا تو کمپنی بہادر کے حکام نے بھی اردو سیکھنے پر سنجیدگی سے توجہ دی اور فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں 1800ء میں قائم کیا۔ اس کالج کا مقصد اردو کی حفاظت یا پھیلانا نہیں تھا بلکہ کمپنی کے انگریز ملازمین کو اردو سکھانے کا انتظام کرنا تھا۔ اس وقت ملک کی ابھرتی ہوئی زبان اردو ہی تھی جو ہندوستان کے ہر حصے میں نہ صرف بولی اور سمجھی جاتی تھی بلکہ اس میں لکھنے کا کام بھی ہو رہا تھا۔ چنانچہ بڑے حکام اس زبان کو سیکھنے اور سمجھنے پر مجبور تھے۔ فورٹ ولیم کالج کا قیام چونکہ سرکاری انتظام کے تحت تھا اس لیے اس کا اردو نثر کی ترقی پر اچھا اثر پڑا۔

فورٹ ولیم کالج میں جو کتابیں تیار ہوئیں وہ ایسے لوگوں کے لیے تھیں جو اردو زبان سیکھنا چاہتے تھے، اسی لیے انہیں آسان اور صاف زبان میں تیار کیا گیا۔ اردو قواعد کی کتابیں اور لغات بھی تیار کی گئیں۔ اردو میں جو نثری کتابیں موجود تھیں وہ مشکل زبان میں تھیں اور زیادہ تر مذہبی تھیں۔ تاریخ اور دوسرے علمی موضوعات پر اردو میں کتابیں نہیں تھیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ علمی اور ادبی کاموں کے لیے ایک لمبے عرصے تک فارسی ہی استعمال کی جاتی تھی، اسی لیے فورٹ ولیم کالج میں آسان اور صاف اردو زبان میں کتابیں لکھوائی گئیں۔

فورٹ ولیم کالج سے پہلے اردو نثر میں پختگی اور خود اعتمادی کی کمی تھی۔ فورٹ ولیم کالج نے اردو نثر کو علمی اہمیت اور عزت دی اور اس کی بات پہنچانے کی طاقت میں بہت اضافہ کیا۔ فورٹ ولیم کالج کی وجہ سے اردو نثر آزاد ماحول میں ترقی کرنے لگی اور اس میں اظہار کے طریقوں کے لحاظ سے مختلف انداز پیدا ہوئے۔ اس سے پہلے خط لکھنے جیسی نثر کا رواج زیادہ تھا۔ تقریظ نویسی، مکتوب نگاری، قصہ کہانی، تاریخ اور سوانح وغیرہ نثر کے مختلف انداز تھے۔ ان سب میں بہ قول سید عبد الله انشائی رنگ پایا جاتا تھا۔ البتہ دکن کے مذہبی رسائل اس سے الگ تھے۔ ہمارے ہاں ایک عرصے تک فارسی انداز ہی کو بہترین انداز سمجھا جاتا تھا، جس کے نتیجے میں اردو نثر میں بناوٹ اور مشکل الفاظ شامل ہو گئے۔ فورٹ ولیم کالج کی نثری کوششوں نے اس حالت کو بدلا اور اردو میں نثر کی اپنی الگ شان اور پہچان سامنے آئی۔ فورٹ ولیم کالج نے رواں اور سادہ نثر کو فروغ دیا۔

فورٹ ولیم کالج کا قیام لارڈ ویلزلی نے ۱۸۰۰ء میں سیاسی مقصد کے تحت کیا تھا۔ اس کالج کے قیام کا پہلا مقصد یہاں آنے والے انگریز نوجوانوں کو اردو سکھانا تھا۔ دراصل ایسٹ انڈیا کمپنی نے تجارت کے ذریعے ہندوستان کے بڑے حصے پر اپنا قبضہ کر لیا تھا۔ ہندوستان مشکل دور سے گزر رہا تھا۔ یہاں کے سیاسی اور معاشی حالات دن بہ دن خراب ہوتے گئے۔ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انگریزوں نے حکومت کرنے کے لیے یہاں کی تہذیب، معاشرت اور زبان و ادب میں دلچسپی لینا شروع کر دی۔ اس وقت اردو تیزی سے ترقی کر رہی تھی اور لکھنے کا کام بھی ہو رہا تھا۔ اس لیے حکومت کرنے کے خواہش مند انگریز بھی اردو سیکھنے پر مجبور تھے۔ اسی سیاسی منصوبے کے تحت فورٹ ولیم کالج کا قیام کلکتہ میں عمل میں آیا۔ مقصد جو بھی ہو، یہ حقیقت ہے کہ فورٹ ولیم کالج نے اردو نثر کی ترقی میں اہم خدمات انجام دی ہیں۔ ۱۸۵۴ء میں کالج بند ہو گیا۔

فورٹ ولیم کالج جان گلکرسٹ اور لارڈ ویلزلی کی کوششوں کا نتیجہ تھا۔ جان گلکرسٹ ہندوستانی شعبہ کے پروفیسر تھے۔ ۱۷۵۹ء میں اسکاٹ لینڈ میں پیدا ہوئے۔ وہ ایسٹ انڈیا کمپنی میں ڈاکٹر کی حیثیت سے ہندوستان آئے تھے۔ انہیں مشرقی علوم سے خاص دلچسپی تھی۔ گلکرسٹ کو اس بات کا شدت سے احساس تھا کہ تجارتی نظام کو بڑھانے کے لیے ہندوستانی زبان کی ضرورت بہت ضروری ہے۔ غرض شوق اور ضرورت دونوں نے انہیں ہندوستانی زبان کی طرف متوجہ کیا۔ انہوں نے اپنی سمجھ بوجھ اور دانش سے کام لیا اور ہندوستان کے مختلف علاقوں سے مشہور ادیبوں اور مصنفوں کو اس کالج میں لکھنے کے لیے جمع کیا۔ انہوں نے ترجمے پر خاص توجہ دی اور عربی، فارسی اور سنسکرت سے قصے کہانیوں کو آسان اردو میں ترجمہ کروایا۔

فورٹ ولیم کالج میں تمام مشرقی زبانیں جیسے ہندوستانی، ہندی، سنسکرت، عربی، فارسی، تلنگی، مرہٹی اور تامل وغیرہ شامل تھیں۔ اس کالج میں ہندوستانی مذاہب کے قانون، ہندو دھرم شاستر، اسلامیات اور انگلستان کے قوانین بھی پڑھائے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ جغرافیہ، تاریخ اور حساب کے ساتھ یورپ کی جدید زبانوں کے شعبے بھی شامل تھے جن میں لاطینی، انگریزی اور کلاسیکی یونانی زبانیں سکھائی جاتی تھیں۔ سائنس میں علم نباتات، علم کیمیا اور علم نجوم وغیرہ کی تعلیم پر بھی توجہ دی گئی۔ اگرچہ فورٹ ولیم کالج میں مختلف موضوعات پر کتابیں لکھی اور ترجمہ کی گئیں، لیکن داستانوں کی کتابوں پر خاص توجہ دی گئی۔ کالج نے مصنفین اور منشیوں کو ہدایت دی کہ سادہ اور آسان زبان میں ترجمہ کریں۔ اس لیے ان کتابوں نے سادہ اور صاف انداز کو آگے بڑھایا۔ گلکرسٹ فورٹ ولیم کالج سے چار سال تک وابستہ رہے۔ اس عرصے میں ہندوستانی زبان کی ۶۳ کتابیں ترجمہ اور تصنیف ہوئیں۔ فورٹ ولیم کالج کے مصنفین میں میر امن، میر شیر علی افسوس، حیدر بخش حیدری، بہادر علی حسینی، نہال چند لاہوری اور اکرام علی وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں میر امن کو سب سے زیادہ شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی۔

گل کرسٹ کا پورا نام جان بارتھ وک گل کرسٹ تھا۔ اسکاٹ لینڈ کے رہنے والے تھے۔ 1783ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی میں ڈاکٹر کی حیثیت سے ملازم ہوئے اور ہندوستان آئے۔ ہندوستان میں دہلی اور لکھنو میں رہ کر انہوں نے اردو اور فارسی سیکھی اور کمپنی کو اطلاع دی کہ اب فارسی کے بجائے اردو کو دفتری زبان بنانا زیادہ فائدہ مند ہوگا۔ بعد میں ان کی تجویز پر عمل کرتے ہوئے 1832ء میں اردو کو سرکاری زبان قرار دیا گیا۔ فورٹ ولیم کالج کے قیام سے پہلے گل کرسٹ نئے آنے والے انگریز افسروں کو فارسی سکھایا کرتے تھے۔ جب 1800ء میں فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں قائم ہوا تو ان کی خدمات کو دیکھتے ہوئے انہیں کالج کا صدر اور پروفیسر بنایا گیا۔ گل کرسٹ 1804ء تک کالج میں کام کرتے رہے۔ صحت خراب ہونے کی وجہ سے پنشن لے کر اپنے وطن واپس چلے گئے۔ 1818ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے انگلستان میں اور نینٹل انسٹیٹیوٹ قائم کیا تو وہ اردو کے پروفیسر مقرر ہوئے اور اس ادارے کے بند ہونے تک کام کرتے رہے۔ 1814ء میں 88 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوا۔

گل کرسٹ نے صرف چار سال تک فورٹ ولیم کالج میں کام کیا، لیکن ان چار سالوں میں انہوں نے پورے ہندوستان سے قابل اور ماہر زبان لوگوں کو جمع کیا اور ان سے اس طرح لکھنے کا کام لیا کہ مختلف موضوعات پر اردو میں نثری کتابوں کا بڑا ذخیرہ تیار ہو گیا۔ اس کے علاوہ اردو سیکھنے کے لیے بنیادی کتابوں کا جو بڑا مجموعہ انہوں نے تیار کیا وہ ان کا یادگار کارنامہ ہے۔ ان کی اہم کتابیں یہ ہیں

انگریزی ہندوستانی لغت۔ اس لغت میں ہر لفظ کی اصل بتائی گئی ہے کہ وہ کس زبان کا ہے۔ یہ لغت 1792ء میں کلکتہ سے شائع ہوئی۔
ہندوستانی علم اللسان۔ یہ اردو زبان کے علم کی کتاب ہے۔
اردو کی صرف و نحو۔ اردو قواعد کی یہ کتاب فورٹ ولیم کالج کے نصاب میں شامل تھی۔
اورنینٹل لنگوسٹ (مشرقی زبان دان)۔ اس کتاب میں اردو زبان سیکھنے کا آسان طریقہ بتایا گیا ہے۔
اجنبیوں کے لیے رہنمائے اردو۔ انگریزوں کو اردو سکھانے کے لیے یہ کتاب لکھی گئی۔
بیاض ہندی۔ فورٹ ولیم کالج کے لکھنے والوں کے کاموں کا انتخاب وغیرہ۔

ڈاکٹر گل کرسٹ کے انگلستان واپس جانے کے بعد کپتان ٹامس رو بک اردو کے پروفیسر اور صدر مقرر ہوئے۔ ان کا تعلق فوج سے تھا۔ انہوں نے کالج کے لکھنے والوں کو کتابیں لکھنے کی طرف متوجہ کیا اور کئی کتابیں شائع کیں۔ انہوں نے خود بھی کئی کتابیں لکھیں۔ لغت جہاز رانی کے نام سے ایک لغت لکھی اور اس کے ساتھ مختصر اردو قواعد بھی شامل کیے۔ ان کی دوسری کتاب ترجمان ہندوستان ہے۔ اس میں بھی زبان کے قواعد کی وضاحت کی گئی ہے۔ ان اردو کتابوں کے علاوہ انہوں نے فورٹ ولیم کالج کی تاریخ بھی لکھی۔

میر امن باغ و بہار کی وجہ سے اردو ادب میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ میر امن کا اصل نام میر امان تھا اور لطف تخلص کرتے تھے۔ وہ فورٹ ولیم کالج میں منشی مقرر ہوئے اور ہندوستانی زبانوں کے شعبے میں لکھنے اور ترجمہ کرنے کا کام کرنے لگے۔ انہوں نے گل کرسٹ کی فرمائش پر دو کتابیں باغ و بہار اور گنج خوبی لکھیں۔ باغ و بہار ۱۸۰۳ء میں پہلی بار شائع ہوئی۔ باغ و بہار کا ماخذ نوطرز مرصع ہے۔ عطا حسین خاں تحسین کو اتنی شہرت نہیں ملی جتنی میر حسن کو ملی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میر امن نے اسے اپنی مادری زبان یعنی دہلی کی جامع مسجد کے آس پاس بولی جانے والی زبان میں لکھا تھا۔ دراصل میر امن کو حکم ملا تھا کہ اسے خالص ہندوستانی زبان میں لکھیں۔ اس زمانے میں نثر کا یہ انداز عام نہیں تھا۔ نثر پر فارسی زبان کا اثر زیادہ تھا۔ چونکہ باغ و بہار ایک خاص مقصد کے تحت لکھی گئی، اس لیے اس میں جان بوجھ کر آسان اور سادہ زبان استعمال کی گئی ہے۔ میر امن کو زبان پر مکمل قابو حاصل تھا۔ اسی لیے باغ و بہار میں تخلیقی رنگ محسوس ہوتا ہے۔ ڈاکٹر سید عبداللہ میر امن کی نثر پر رائے دیتے ہوئے لکھتے ہیں

میر امن سادگی کو دلچسپ بنانے کے لیے ہندوستان کی بولیوں کا سہارا لیتے ہیں۔ زبان میں سادگی، صفائی اور روانی کے باوجود باغ و بہار کی نثر ہندوستانی تہذیب اور معاشرت کی تصویر پیش کرتی ہے۔ اس قصے کے کردار چاہے یمن کے شہزادے ہوں یا فارس، حلب اور بصرہ کی شہزادیاں، ان کے طور طریقے، رسم و رواج، لباس اور عادتیں سب ہندوستانی دکھائی دیتی ہیں۔ میر امن کی دوسری کتاب گنج خوبی کو زیادہ شہرت حاصل نہ ہو سکی۔

میں جن میں فورٹ ولیم کالج ، ولیم کالج کی دوسری بڑی شخصیت حیدر بخش حیدری کی ہے۔ اُنھوں نے متعدد کتا بیں تصنیف کیں جن قصه مهر و ما قصہ لیلی مجنوں ، طوطا کہانی آرائش محفل گلدستۂ حیدری گلشن ہند جامع   القوانین ، گل نفرت اور گلزار دانش وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن ان میں سے طوطا کہانی اور آرائش محفل زیادہ مقبول ہوئیں۔ طوطا کہانی  سید محمد قادری کے طوطی نامہ  کا ترجمہ ہے۔ طوطا کہانی  میں صرف دس کہانیوں کا ماخذ   شک سپیتی ہے۔ یہ سنسکرت کی ایک کتاب ہے۔ قصہ کی ابتدا خدا کی حمد وثنا سے ہوتی ہے۔ اصل قصہ نجستہ اور میمون کا ہے۔ لیکن داستان طوطے کے ذریعے سنائی گئی ہے۔ قصہ طویل اور پیچیدہ ہو گیا ہے جس سے قاری کا تجسس بڑھتا ہے۔ قصہ کی زبان بہت حد تک صاف اور با محاورہ ہے۔ حیدر بخش حیدری اپنے زمانے کی معاشرتی و تہذیبی قدروں سے اچھی طرح واقف ہیں۔ طوطا کہانی  اپنے دور کے احساسات و جذبات اور سماجی و اخلاقی تصورات کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس کے سلیس اور دل کش انداز بیان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

حیدری کی دوسری کتاب آرائش محفل ہے۔ یہ قصہ حاتم طائی کے نام سے مشہور ہے۔ اس میں حاتم کی سات مہموں کا ذکر ہے جو سات سوالوں کے جواب معلوم کرنے کے سلسلے میں اس کو پیش آتی ہیں۔ حاتم کی شرافت، انسان دوستی اور ایثار و قربانی کے جو ہر اس قصہ میں نمایاں طور پر نظر آتے ہیں ۔ آرائش محفل اخلاقی قصہ ہے۔ اس کا ہیر واخلاق کا مجسمہ ہے۔ اس کی مقبولیت بھی زبان کی سلاست اور انداز بیان کی دل کشی میں پنہاں ہے۔ اس کی زبان صاف ، شستہ اور سلیس ہے۔ زبان کی وجہ سے ترجمہ سے زیادہ تخلیقی رنگ غالب ہے۔

شیر علی افسوس کا شمار بھی فورٹ ولیم کالج کے اہم مصنفوں میں ہوتا ہے۔ وہ ہندوستانی منشیوں میں سب سے اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ اُنھوں نے کئی کتابیں تالیف کیں جن میں باغ اُردو اُن کی اہم کتاب ہے۔ یہ گلستان سعدی کا اُردو ترجمہ ہے۔ شیر علی افسوس بہت اچھے شاعر بھی تھے۔ اُنھوں نے ایک دیوان بھی لکھا۔ اُنھوں نے کلیات سودا بھی مرتب کیا ہے۔ افسوس کو عربی اور فارسی الفاظ و تراکیب کے برمحل استعمال کے ساتھ ساتھ ہندی اور دوسری علاقائی زبانوں سے بھی آگہی تھی۔ چوں کہ افسوس ایک اچھے شاعر بھی تھے، اس لیے اُنھیں عروض پر بھی عبور حاصل تھا۔ لہذا جب وہ برسات کا ذکر کرتے ہیں تو شاعر کی شخصیت بھی سامنے آتی ہے۔ یعنی عبارت سلیس اور با محاورہ ہونے کے ساتھ ساتھ شگفتہ اور مرصع بھی ہے۔

مرزا علی نام تھا اور لطف تخلص ۔ دہلی کے رہنے والے تھے ۔ دہلی کی بربادی نے دہلی چھوڑ نے پر مجبور کر دیا۔ وہ لکھنو آئے اس کے بعد پٹنہ گئے اور وہاں سے پھر کلکتہ پہنچ گئے ۔ گلکرسٹ نے ان سے اردو شاعروں کا ایک تذکرہ لکھنے کی فرمائش کی اور انھوں نے اردو میں تذکرہ  گلشن ہند  لکھا جو فارسی تذکرہ  گلزار ابرا گلزار ابراہیم کا اردو ترجمہ ہے۔ تذکرہ کی زبان مشکل اور پیچیدہ ہے۔ عبارت مقفی وسیع ہے لیکن اس تذکرہ کی خصوصیت یہ ہے کہ انھوں نے بہت سی باتیں ایسی لکھی تھیں جو اس زمانے کے تذکروں میں عام طور پر نہیں ملتیں۔ انھوں نے شعرا کے حالات ہی بیان نہیں کیے بلکہ اس دور کے ماحول اور پس منظر کو بھی پیش کیا ہے۔

میر بہادر علی حسینی نے فورٹ ولیم کالج کی ملازمت کے دوران کئی کتابیں تالیف کیں۔ نثر بے نظیر اخلاق ہندی ، تاریخ آسام ، حکایت لقمان اور ترجمہ قرآن مجید وغیرہ انھوں نے ترجمہ و تالیف کیں۔ میر بہادر علی حسینی کی پہلی کتاب نثر بے نظیر ہے جو مثنوی میر حسن ( سحر البیان ) کی نثری تلخیص ہے۔ نثر بے نظیر کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اُنھیں روزمرہ محاوروں پر عبور حاصل نہیں تھا۔ اخلاق ہندی گل کرسٹ کی فرمائش پر حسینی نے ۱۸۰۲ء میں لکھی۔ اس کی نثر سلیس اور سادہ ہے لیکن زبان با محاورہ نہیں ہے۔

مرزا کاظم علی جو ان ۱۸۰۰ء میں فورٹ ولیم کالج کے شعبہ تصنیف و تالیف سے وابستہ ہوئے ۔ وہ اُردو، فارسی اور سنسکرت زبانیں جانتے تھے۔ عربی سے بھی انھیں لگاؤ تھا۔ اُنھوں نے ۱۸۰۱ء میں للولال جی کی مدد سے شکنتلا کا ترجمہ کیا۔ کاظم علی جو ان کا اسلوب سادہ اور عبارت میں دل کشی پائی جاتی ہے۔ جا بجا غیر مانوس اور مشکل الفاظ اُردو عبارت میں ضرور کھٹکتے ہیں۔ چوں کہ شکنتلا برج بھاشا سے اُردو میں ترجمہ کی گئی تھی اور یہ کتاب ہندی اور اردو دونوں میں چھپ رہی تھی ، اس لیے ہندی الفاظ کا زور کچھ زیادہ ہی نظر آتا ہے۔  سنگھاسن بتیسی کو زیادہ شہرت نہیں ملی۔ یہ کہانی مہا بھارت کی طرز پر لکھی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ جو ان کے یہاں اُردو اور ہندی کا امتزاج نظر آتا ہے۔ مرزا کاظم علی جو ان فورٹ ولیم کالج کے مصنفوں میں تھے۔ اُنھیں شاعری سے بھی خاصی دلچسپی تھی۔ کاظم علی جو ان نے بارہ ماسہ اور   قرآن پاک کا ترجمہ بھی کیا جن کو کافی شہرت ملی ۔

مولوی امانت اللہ شیدا بھی فورٹ ولیم کالج میں شعبہ تصنیف و تالیف سے وابستہ تھے۔ اُنھوں نے گل کرسٹ کی فرمائش پر ہدایت الاسلام تصنیف کی۔ اس میں اسلامی عقائد سے متعلق معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ ان کی دوسری کتاب اخلاق جلالی اور تیسری کتاب حرف اُردو ہے۔ امانت اللہ شیدا نے اُردو قواعد نظم کر کے اس کا نام اُردو رکھا ۔ وہ اُردو ، فارسی کے مشہور شاعر تھے۔ ان کا بڑا کارنامہ اخلاق جلائی ہے۔ علاوہ ازیں ان کا ترجمہ قرآن شریف بھی شاندار کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔

خلیل علی خان اشک نے داستان امیر حمزہ ۱۸۰ ء میں تحریر کی۔ فورٹ ولیم کالج میں   داستان امیر حمزہ کو قابلِ قدرا ہمیت حاصل ہے۔ اس داستان کو اشک کا کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ داستان شگفتہ اور لطیف عبارت میں لکھی گئی ہے۔ اس سے اشک کی زبان دانی اور فنی مہارت کا اندازہ ہوتا ہے۔ خلیل علی خاں اشک نے دلی کی مختلف بولیوں کی آمیزش سے اُردو نثر کے دامن کو وسیع کیا ہے۔

نہال چند لاہوری نے گل کرسٹ کی فرمائش پر قصہ تاج الملوک  کو نثر میں ترجمہ کر کے اس کا نام مذہب عشق رکھا۔ یہ کتاب چھبیس ابواب پر مشتمل ہے۔ لاہوری نے ترجمہ میں اصل کتاب کے بہت سے فارسی الفاظ باقی رکھے ہیں ۔ ترجمہ اصل سے زیادہ قریب ہے۔ اس کتاب میں فارسیت چھائی ہوئی ہے۔ نہال چند لاہوری نے فارسی لفظوں کو اُردو میں خوب صورتی سے کھپایا ہے۔ قصہ میں ہندی الفاظ کم استعمال ہوئے ہیں۔ لیکن جب عورتوں کی زبان سے گھریلو الفاظ ادا کرتے ہیں تو اُن کی فن کاری کے جو ہر کھلتے ہیں۔ ترجمہ کی عبارت میں چستی اور برجستگی نہیں لیکن صفائی اور دل کشی پائی جاتی ہے۔ نہال چند لاہوری کا نام  مذہب عشق کی وجہ سے ہی زندہ رہے گا۔

مولوی اکرام علی فورٹ ولیم کالج کی مشہور شخصیتوں میں سے تھے۔ ان کا پورا نام اکرام علی تھا اور اکرام مخلص کرتے تھے۔ وہ سیتا پور کے رہنے والے تھے۔ ترجمہ   اخوان الصفا کی وجہ سے ہی اکرام علی کا نام زندہ رہے گا۔ اُنھوں نے کپتان جان ولیم ٹیلر کی ایما سے اخوان الصفا کا ترجمہ کیا۔ یہ کتاب داستان امیر حمزہ کے بعد سب سے زیادہ محیم ہے۔

فورٹ ولیم کالج کا قیام لارڈ ویلز لی نے ۱۸۰۰ء میں سیاسی مقاصد کے تحت کیا تھا۔ اس کالج کے قیام کا پہلا مقصد یہاں آنے والے انگریز نو جوانوں کو اُردو سکھانا تھا۔ دراصل ایسٹ انڈیا کمپنی نے تجارتی وسیلے سے ہندوستان کے بڑے حصے پر اپنا قبضہ کر لیا تھا۔ حکومت کرنے کے خواہش مند انگریز بھی اردو سیکھنے کے لیے مجبور تھے۔ اسی سیاسی حکمت عملی کے پیش نظر فورٹ ولیم کالج کا قیام کلکتہ میں عمل میں آیا۔ مقصد جو بھی ہو لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ فورٹ ولیم کالج نے اُردو نثر کی ترقی و رفتار میں قابلِ قدر خدمات انجام دی ہیں ۔ ۱۸۵۴ء میں کالج بند ہو گیا۔ فورٹ ولیم کالج میں تمام مشرقی زبانیں ہندوستانی ، ہندی ہنسکرت ، عربی ، فارسی، تلنگی ، مرہٹی اور تامل وغیرہ زبانیں شامل تھیں ۔ اس کالج میں ہندوستانی مذاہب کے قانون ، ہندو دھرم شاستر ، اسلامیات اور انگلستان کے قوانین وغیرہ بھی شامل تھے۔ علاوہ ازیں جغرافیہ، تاریخ اور حساب کے ساتھ ساتھ یورپ کی جدید زبانوں کے شعبے بھی اس کالج میں شامل تھے جن میں لاطینی ، انگریزی ، کلاسیکی یونانی زبانیں سکھائی جاتی تھیں۔ سائنس میں علم نباتات علم کیمیا اور علم نجوم وغیرہ کی تعلیم پر بھی توجہ دی گئی ۔ فورٹ ولیم کالج کے زیر اثر تالیف و ترجمے میں زیادہ تر داستانیں ہیں جو برج بھاشا، عربی اور فارسی زبانوں سے ترجمہ کی گئی۔ لہذا اس عہد کی نثر میں برج بھاشا کے اثرات ، ہندی اسلوب کی بے ساختگی اور عربی و فارسی اسالیب کی عظمت یعنی فورٹ ولیم کالج میں پہننے والی نثر میں مشترکہ خصوصیات شامل ہیں۔ فورٹ ولیم کالج کے مصنفین میں میر امن، میر شیر علی افسوس، حیدر بخش حیدری، بہادر علی حسینی ، نہال چند لاہوری اور اکرام علی وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں میر امن کو سب سے زیادہ شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی ۔

This post provides a detailed overview of the literary services of Fort William College, established in 1800 in Calcutta by Lord Wellesley under the East India Company. It explains the political background of its foundation, its primary objective of teaching Urdu to British officials, and its major role in the development of Urdu prose. The article highlights the contributions of important scholars and writers such as John Gilchrist, Mir Amman, Haider Bakhsh Haidari, and others. It also discusses key translated and original works produced at the college and examines how Fort William College helped standardize, simplify, and promote Urdu prose in the early 19th century.