Gair Afsanvi Nasr Ka Taruf,  غیر افسانوی نثر کا تعارف

اردو میں ادبی نثر کو ایک اہم مقام حاصل ہے۔ اگرچہ اردو میں شاعری کی ابتدا پہلے ہوئی، لیکن جیسے جیسے زبان عوام اور خواص میں عام ہوتی گئی، شاعری کے ساتھ ساتھ نثر بھی لکھی جانے لگی۔ اردو میں ادبی نثر کی مثالیں سترہویں اور اٹھارہویں صدی عیسوی میں واضح طور پر ملنے لگتی ہیں۔ ابتدا میں کچھ مذہبی کتابیں اور کچھ داستانیں سامنے آئیں۔ بعد میں اردو نثر کو اتنی ترقی حاصل ہوئی کہ اس میں دوسری اصناف بھی لکھی جانے لگیں۔ اس اکائی میں اردو میں لکھی گئی غیر افسانوی نثر پر گفتگو ہو گی۔ جس طرح افسانوی نثر میں داستان، ناول اور افسانہ شامل ہیں، اسی طرح غیر افسانوی نثر میں مضمون، انشائیہ، سوانح، خاکہ، طنز و مزاح اور خطوط وغیرہ شامل کیے جاتے ہیں۔

انسان کے جذبات اور احساسات کے اظہار کے ذریعے کو نثر کہتے ہیں۔ نثر شاعری سے مختلف ہوتی ہے۔ جو کلام وزن اور بحر میں ہو اُسے شاعری کہا جاتا ہے اور جو وزن میں نہ ہو اُسے نثر کہتے ہیں۔ زندگی کے عام معاملات یا مقصد کی باتیں زیادہ تر نثر کے ذریعے تحریر کی جاتی ہیں۔ عام بول چال سے ہٹ کر جب خوبصورتی اور فنی انداز کے ساتھ کوئی نثری تحریر لکھی جائے تو اسے ادبی نثر کہتے ہیں۔ ادبی نثر کی بھی مختلف قسمیں ہیں۔ داستان، ناول، افسانہ، مضمون، انشائیہ، سوانح، خاکہ، طنز و مزاح اور خطوط ادبی نثر کی مختلف اقسام ہیں۔ داستان، ناول اور افسانہ افسانوی اصناف ہیں جبکہ باقی غیر افسانوی نثر میں شمار ہوتی ہیں۔ اردو میں نثر کی ابتدا غیر افسانوی نثر سے ہی ہوتی ہے۔ شروع میں صوفیاء نے اپنے خیالات کے اظہار کے لیے نثر کا استعمال کیا۔ شمالی ہند میں اردو نثر کی پہلی ادبی کتاب “کربل کتھا” ایک مذہبی کتاب ہے۔ بعد میں قصہ مہر افراز دلبر، نوطرز مرصع اور عجائب القصص جیسی نثری داستانیں لکھی گئیں۔ فورٹ ولیم کالج اور دلی کالج کے قیام سے بھی اردو نثر کو فروغ ملا۔ اردو میں باقاعدہ غیر افسانوی نثر، یعنی مضمون نگاری کی ابتدا انیسویں صدی عیسوی میں سرسید احمد خاں اور ان کے رفقاء کے ہاتھوں ہوئی۔

سرسید اور ان کے رفیقوں نے سرسید کے رسالے ”تہذیب الاخلاق“ میں مختلف موضوعات پر مضامین لکھ کر مضمون نگاری کی بنیاد رکھی۔ ”تہذیب الاخلاق“ میں ادبی، اخلاقی، تمدنی، اصلاحی اور مذہبی مضامین شائع ہوتے تھے۔ ان مضامین نے اردو مضمون نگاری کو ایک خاص انداز دیا۔ اس رسالے میں سرسید کے علاوہ حالی، شبلی، محسن الملک، وقار الملک اور چراغ دہلوی وغیرہ کے مضامین شائع ہوتے تھے۔

اسی زمانے میں منشی سجاد حسین نے لکھنو سے ”اودھ پنچ“ اخبار شروع کیا اور اس طرح غیر افسانوی نثر کا ایک نیا طریقہ سامنے آیا، سرسید اور اُن کے رفقاء کے مضامین میں سنجیدگی، سچائی اور وقار تھا برخلاف اس کے اودھ پنچ کے لکھنے والوں نے اپنی تحریر میں طنز اور مزاح کو شامل کر کے اردو نثر کو ایک نیا رنگ دیا جس میں خاص اسلوب اور موضوع کو طنزیہ اور مزاحیہ انداز میں پیش کیا گیا۔ طنز و مزاح باقاعدہ کوئی الگ صنف ادب نہیں بلکہ مختلف تحریروں میں طنزیہ اور مزاحیہ پہلو نظر آتے ہیں۔ انشائیہ اور خاکہ کا اہم حصہ ہی طنز و مزاح ہے۔ انشائیہ باقاعدہ ایک غیر افسانوی نثری صنف کی حیثیت رکھتا ہے۔ انشائیہ ادب کی ایسی صنف یا تحریر کا نام ہے جس میں کسی بھی موضوع کو اس طرح لکھا جائے کہ پڑھنے والا خوش ہو جائے۔ اس میں طنز اور مزاح دونوں شامل ہوتے ہیں۔ اردو میں پطرس بخاری، عظیم بیگ چغتائی، فرحت اللہ بیگ، رشید احمد صدیقی، کنہیا لال کپور، ملارموزی، شوکت تھانوی، فکر تونسوی، احمد جمال پاشا، مشتاق یوسفی، کرنل محمد خاں وغیرہ قابل ذکر انشائیہ نگار ہیں۔ خاکہ نگاری جیسے انگریزی میں اسکیچ کہتے ہیں۔ کسی بھی شخصیت کی ایسی تحریری تصویر ہوتی ہے جس میں خوشگوار انداز میں اس کی خوبیاں بیان کی جاتی ہیں۔ جسے پڑھ کر قاری لطف اندوز ہوتا ہے۔ اس میں خاکہ نگار شخصیت سے متعلق دلچسپ باتیں اور لطیفے وغیرہ شامل کر کے اس کی خصوصیات بیان کرتا ہے۔ اردو میں فرحت اللہ بیگ ہی سے باقاعدہ خاکہ نگاری کی ابتدا ہوتی ہے۔ ان کے علاوہ مولوی عبدالحق، آغا سید حسن، خواجہ محمد شفیع، رشید احمد صدیقی، عبد الرزاق کانپوری اور راشد الخیری وغیرہ نے بھی خاکے تحریر کیے ہیں۔

سوانح اور خطوط مضمون کی طرح سنجیدہ غیر افسانوی نثر کا حصہ ہیں۔ سوانح میں کسی بھی معروف اور مشہور شخصیت کی زندگی کے حالات اور اس کی خدمات کا تفصیلی ذکر ہوتا ہے۔ سوانح نگار کے بیان کی ایک تاریخی اہمیت ہوتی ہے۔ خاکہ نگار ایک مختصر مضمون میں تحریری تصویر بناتا ہے لیکن سوانح نگار تاریخی حقائق کے ساتھ کسی شخصیت پر مکمل کتاب تحریر کرتا ہے۔ جیسے حالی نے یادگار غالب، حیات سعدی اور حیات جاوید قلمبند کیں۔ یا شبلی نے سیرۃ النبی، الفاروق، المامون، سوانح مولانا روم وغیرہ لکھیں۔

خطوط نگاری ایک ذاتی تحریر ہے۔ خط میں لکھنے والا اپنے ذاتی معاملات، مسائل اور اپنے دل کی بات بیان کرتا ہے لیکن بعض ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں نے اس انداز کے خطوط لکھے کہ اُن کی ایک تاریخی اہمیت بن گئی۔ وہ حوالہ جاتی حیثیت اختیار کرنے لگے۔ مختلف لوگوں کے مختلف انداز کی وجہ سے غیر افسانوی نثر میں خطوط کو ایک الگ صنف کا درجہ ملا۔ انیسویں صدی میں غالب کے خطوط خاص اور عام لوگوں میں مقبول ہوئے۔ بعد میں سرسید، نذیر احمد، حالی، شبلی، محمد حسین آزاد، اقبال، عبدالحق، ابوالکلام وغیرہ کے خطوط کو بھی شہرت حاصل ہوئی۔

یوں تو ہر وہ غیر منظوم تحریر جو داستان، ناول یا افسانہ نہیں ہے، غیر افسانوی نثر کے زمرے میں آتی ہے مثلا مذکورہ اصناف کے علاوہ تنقید، تحقیق ، سفر نامہ اور رپوتاژ بھی غیر افسانوی نثر کا حصہ ہیں لیکن یہاں چند مخصوص اصناف کو ہی زیر بحث لایا گیا ہے۔

مضمون کی کوئی صاف اور مکمل تعریف نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی اس کی کوئی پکی شکل اور حد مقرر کی جا سکتی ہے۔ اہلِ مغرب و مشرق نے اس کی مختلف تعریفیں کی ہیں لیکن کوئی بھی تعریف پوری طرح واضح نہیں کرتی۔ دراصل مضمون سے مراد ذاتی خیالات اور تجربات کا اظہار ہے۔ مضمون کے موضوعات میں بہت زیادہ وسعت پائی جاتی ہے۔ ہر قسم کے موضوع کو مضمون کی صورت میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ مضمون میں اندرونی اور بیرونی دونوں طرح کے خیالات شامل ہوتے ہیں۔ مضمون میں اختصار، سادگی اور اپنے خاص انداز کا خیال رکھنا چاہیے۔ مضمون کے بنیادی اصول موضوع کا انتخاب، لمبائی سے بچاؤ اور بیان کا انداز بتائے گئے ہیں۔ مضمون کا اندازِ بیان ہی اُسے دوسرے مضمون نگاروں سے الگ کرتا ہے۔ ہر مضمون نگار کا انداز جدا ہوتا ہے۔ مضمون کی سب سے بڑی خصوصیت یہی ہے کہ اس میں ہر جگہ انفرادیت نظر آئے۔ ہر مضمون میں مضمون نگار کی شخصیت جھلکتی ہے۔ مضمون، مضمون نگار کی شخصیت کا آئینہ ہوتا ہے۔ مضمون میں قاری کی دلچسپی کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ موضوع کچھ بھی ہو، جب تک اسے دلچسپ انداز میں بیان نہ کیا جائے، پڑھنے والے کو لطف نہیں آئے گا۔

اردو میں انگریزی ادب کے اثر سے مضمون نگاری کا رواج ہوا۔ سب سے پہلے سرسید احمد خاں نے اپنے بھائی سید محمود خاں کے ”سید الاخبار“ میں مضمون لکھنا شروع کیے جو ۱۸۳۶ء میں جاری ہوا تھا۔ اسی زمانے میں ماسٹر رام چندر نے بھی مضامین تحریر کیے۔ سرسید نے جب اپنا رسالہ ”تہذیب الاخلاق“ جاری کیا تو اس میں سرسید کے علاوہ ان کے دوسرے رفقاء نے بھی مختلف موضوعات پر مضامین لکھے۔ اگرچہ سرسید اور ان کے رفقاء نے ادیب یا انشاء پرداز کے طور پر مضامین نہیں لکھے تھے لیکن ان کی تحریروں کی خوبصورتی نے انہیں ادب کا حصہ بنا دیا۔ اردو نثر کو انہوں نے ایک خاص انداز دیا۔ سرسید کے رفقاء میں حالی، شبلی، وقار الملک، محسن الملک اور چراغ علی وغیرہ شامل ہیں۔ مولانا محمد حسین آزاد، سجاد انصاری، مہدی افادی، نیاز فتح پوری، سجاد حیدر یلدرم، میر ناصر علی، خواجہ حسن نظامی وغیرہ نے مضمون نگاری کی روایت کو آگے بڑھایا۔ بعد میں قاضی عبدالغفار، مولوی عبدالحق، سلیمان ندوی، عبد الماجد دریا بادی، وحید الدین سلیم، عظمت اللہ خاں، چراغ حسن حسرت، شیخ عبدالقادر، عابد حسین، مجنوں گورکھپوری وغیرہ نے بھی مضامین تحریر کیے۔

انشائیہ بھی مغربی ادب کے اثر سے اردو میں رائج ہوا۔ انشائیہ کی بھی کوئی خاص اور واضح تعریف بیان نہیں کی گئی، انشائیہ کو دماغ کی ایک کیفیت کہا گیا ہے۔ یہ ادب لطیف کی ایک ایسی صنف ہے جسے عام طور پر ہلکے پھلکے ادب سے جوڑا جاتا ہے۔ اس کا مقصد مضمون کی طرح عملی و ادبی یا سیاسی و سماجی اصلاح نہیں بلکہ صرف خوشی اور لطف پہنچانا ہے۔ انشائیہ ایسی تحریر کو کہتے ہیں جو قاری کے ذہن پر خوشگوار اثر ڈالے۔ ناقدین نے انشائیہ کی کچھ خصوصیات بیان کی ہیں۔ اختصار انشائیہ کا اہم حصہ ہے۔ اسی اختصار کی وجہ سے انشائیہ کو غزل کے فن سے ملتا جلتا قرار دیا گیا ہے۔ غزل کی طرح انشائیہ نگار بھی اپنی بات اشاروں اور علامتوں میں بیان کرتا ہے۔ اختصار سے مراد یہ ہے کہ انشائیہ میں نہ صرف کم الفاظ استعمال کیے جائیں بلکہ موضوع کی غیر ضروری تفصیل بھی بیان نہ کی جائے۔ انشائیہ کے لیے تحریر میں بے ربطی بھی ضروری سمجھی جاتی ہے۔ بے ربطی کا مطلب یہ ہے کہ خیالات کو ترتیب کے پابند ہوئے بغیر بیان کیا جائے، یعنی کسی بھی موضوع پر بغیر کسی اصول اور قاعدے کے اپنے خیالات کا آزادانہ اظہار کیا جائے۔ اسی وجہ سے انشائیہ نگار عام طور پر انشائیوں میں اپنی زندگی کے ایسے تجربات بھی بیان کر دیتا ہے جنہیں کسی اور جگہ بیان کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ اس بیان میں اس کی شخصیت بھی نمایاں ہو جاتی ہے۔

انشائیہ کا ایک خاص انداز ہوتا ہے جس میں مشکل اور الجھی ہوئی عبارت سے بچا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قاری کی دلچسپی اور تفریح میں رکاوٹ نہ آئے۔ انشائیہ کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ علمی و ادبی یا سیاسی و سماجی باتوں کو اس انداز میں پیش کیا جائے کہ پڑھنے والا لطف اندوز ہو اور تحریر سے خوشی حاصل کرے۔ انشائیہ میں لفظوں کے برتاؤ اور عبارت کی سادگی سے مزاح پیدا کیا جاتا ہے۔ انشائیہ کی کامیابی اسی کے انداز پر منحصر ہوتی ہے۔ ہر انشائیہ نگار کا اپنا الگ انداز ہوتا ہے۔ وہی ادیب اچھا انشائیہ لکھ سکتا ہے جس کا مطالعہ وسیع ہو، مزاج میں ہنسی مزاح ہو اور بیان پر عبور حاصل ہو۔ دراصل انشائیہ نگار زندگی کا ناقد ہوتا ہے، وہ زندگی کے مختلف تجربات کا خلاصہ اپنی اندرونی کیفیت کے ساتھ انشائیہ کی صورت میں پیش کر دیتا ہے۔

اردو میں انشائیہ کی روایت بھی سرسید احمد خاں ہی سے شروع ہوتی ہے۔ ان کے بعض مضامین انشائیہ کی شرطوں کو پورا کرتے ہیں۔ مولانا محمد حسین آزاد کو بھی انشائیہ نگاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اردو کے مشہور انشائیہ نگاروں میں فرحت اللہ بیگ، پطرس بخاری، رشید احمد صدیقی، حسن نظامی، کنہیا لال کپور، فکر تونسوی، شوکت تھانوی، مشتاق احمد یوسفی اور مجتبیٰ حسین کے نام قابل ذکر ہیں۔

غیر افسانوی نثر میں سوانح نگاری بھی شامل ہے۔ کسی شخص کی زندگی کے حالات، واقعات اور خدمات کو بیان کرنے کو سوانح کہا جاتا ہے۔ یہ ایک طرح کی ذاتی تاریخ ہوتی ہے۔ کسی بھی معروف شخصیت کی پیدائش سے وفات تک کے حالات بیان کیے جاتے ہیں۔ سوانح نگار اپنے خیال اور فنی انداز سے تحریر کو ادبی شکل میں پیش کرتا ہے۔ اسی لیے سوانح نگاری کو تاریخ سے الگ کر کے ایک ادبی صنف مانا گیا ہے۔ سوانح کو دو قسموں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک وہ جس میں کوئی سوانح نگار کسی معروف شخصیت پر اپنے خیالات کے ساتھ اس کی زندگی کے حالات لکھے۔ دوسری خود نوشت سوانح، یعنی ادیب یا کوئی معروف شخصیت یا شاعر اپنی زندگی کے حالات اور واقعات خود قلم بند کرے۔ دنیا کی تمام زبانوں میں دونوں طرح کی سوانح لکھی گئی ہیں۔ سوانح نگار کے لیے ضروری ہے کہ وہ سچائی اور ایمانداری کے ساتھ تمام واقعات بیان کرے اور کسی قسم کی جانبداری یا حد سے زیادہ عقیدت سے کام نہ لے، کیونکہ سوانح نگار کا بیان تاریخ کا حصہ بھی بن جاتا ہے۔ سوانح کسی بھی شخصیت کا آئینہ ہوتی ہے۔ اس میں زندگی کے حالات اور واقعات اس طرح پیش کیے جاتے ہیں کہ اس شخص کی خوبیاں اور خامیاں، اچھائیاں اور برائیاں سب سامنے آ جاتی ہیں۔ خود نوشت سوانح عموماً زندگی کے آخری دور میں لکھی جاتی ہے۔ خود نوشت سوانح نگار اپنی زندگی کے تجربات کو دلچسپ انداز میں بیان کر کے گویا خود کو دوبارہ زندہ کر دیتا ہے۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ خود نوشت سوانح مکمل اور قابلِ بھروسا نہیں ہوتی، کیونکہ مصنف لوگوں کے خوف سے بہت سی باتیں چھپا لیتا ہے اور بعض باتیں بڑھا چڑھا کر بیان کرتا ہے۔ یہ انسانی فطرت ہے، انسان اپنی خامیوں اور کمزوریوں کو کھل کر بیان نہیں کر سکتا۔ خود نوشت سوانح نگاری ایک نہایت نازک کام ہے، کیونکہ اپنے بارے میں سچ لکھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

اردو میں سوانح نگاری کی ابتدا شبلی اور حالی سے ہوتی ہے۔ شبلی نے اسلامی تاریخ کی مشہور شخصیات کی سوانح لکھیں۔ انہوں نے الفاروق، المامون، حیات خسرو کے علاوہ سیرۃ النبی بھی تحریر کیں۔ حالی نے یادگار غالب، حیات سعدی اور حیات جاوید جیسی سوانح عمریاں لکھیں۔ ان کے بعد سید سلیمان ندوی، حبیب الرحمن خاں شیروانی، غلام رسول مہر، شیخ اکرم، قاضی عبدالغفار، صالحہ عابد حسین اور مالک رام وغیرہ معروف سوانح نگاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ خود نوشت سوانح عمری کی روایت نسبتاً پرانی ہے۔ میر نے فارسی میں ذکر میر لکھی۔ عبدالغفور نساخ نے اردو میں اپنے حالات و واقعات قلم بند کیے۔ بیسویں صدی میں بہت سے ادیبوں اور شاعروں نے خود نوشت سوانح عمریاں لکھیں، جن میں خواجہ حسن نظامی، عبد الماجد دریا بادی، حکیم احمد شجاع، جوش ملیح آبادی، سید اعجاز حسین، عبدالمجید سالک، آل احمد سرور، مسعود حسین خاں اور اختر الایمان وغیرہ اہم ہیں۔

غیر افسانوی نثر کی ایک اہم اور مستقل صنف خاکہ ہے۔ اس میں خاکہ نگار کسی بھی شخصیت کی خوبیوں کو اپنے ذاتی تجربات کی بنیاد پر بیان کرتا ہے۔ زیادہ تر لغات میں خاکہ کے معنی ”خدوخال کی نقل جو اصل سے ملتی جلتی ہو“ یعنی تصویر کا خاکہ یا نقشہ بتائے گئے ہیں۔ خاکہ کے لیے انگریزی میں اسکیچ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ ادبی اصطلاح میں خاکہ کسی شخصیت کی جیتی جاگتی تصویر کو کہتے ہیں۔ اس تحریری تصویر میں خاکہ نگار طنز و مزاح کے انداز میں زیرِ تحریر شخصیت کی اچھائیوں اور برائیوں کو بیان کرتا ہے۔ یہ بیان اس انداز سے کیا جاتا ہے کہ نہ تو یہ صرف تعریف محسوس ہو اور نہ ہی صرف مذاق۔ دراصل خاکہ نگار اسی شخصیت کا خاکہ لکھتا ہے جسے وہ بہت قریب سے جانتا ہو۔

جس کی ہر حرکت اور عادت سے وہ واقف ہوتا ہے، کیونکہ الفاظ کے ذریعے کاغذ پر بنائی گئی بولتی ہوئی تصویر ہی کو خاکہ کہتے ہیں۔ عام طور پر خاکہ نگار ابتدا میں شخصیت کا حلیہ بیان کرتا ہے۔ پھر مختلف واقعات کو جوڑ کر اس شخصیت کی خوبیاں اور کمزوریاں سامنے لاتا ہے۔ اس طرح اس شخص کی چلتی پھرتی تصویر قاری کے سامنے آ جاتی ہے۔ خاکہ میں خاکہ نگار کا اندازِ تحریر سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ کسی شخص کی شکل و صورت اور عادتوں کو الفاظ میں اس طرح ڈھال دینا کہ قاری کی آنکھوں کے سامنے اس کی تصویر ابھر آئے، خاکہ نگار کی بڑی کامیابی ہوتی ہے۔

یوں تو خاکہ نگاری کے کوئی باقاعدہ اصول طے نہیں ہیں، لیکن اختصار، وحدتِ تاثر، کردار نگاری، واقعہ نگاری اور منظر نگاری کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اختصار کا مطلب یہ ہے کہ جس شخصیت کا خاکہ لکھا جا رہا ہو، اس کی زندگی کے صرف منتخب حالات اور واقعات ہی شامل کیے جائیں۔ غیر ضروری لمبائی خاکے کو بھدا بنا سکتی ہے۔ اچھے خاکے کی خوبی یہ ہے کہ وہ کم الفاظ میں پوری شخصیت کی تصویر پیش کر دے۔ کردار نگاری خاکہ کا لازمی حصہ ہے، کیونکہ پورا خاکہ ایک ہی کردار کے گرد گھومتا ہے۔ خاکہ نگار اپنی تمام تخلیقی صلاحیت اسی کردار کی تحریری تصویر بنانے میں لگا دیتا ہے۔ کردار کے اٹھنے بیٹھنے، بولنے چلنے، مزاج و خیالات اور عادات، یعنی زندگی کے ہر پہلو کو گہرے مشاہدے کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ واقعہ نگاری یا منظر نگاری بھی خاکہ کے فن کا حصہ ہے، کیونکہ اس میں خاکہ نگار شخصیت سے جڑے واقعات کو منظر کی صورت میں بیان کرتا ہے۔

اردو میں باقاعدہ خاکہ نگاری کی ابتدا مرزا فرحت اللہ بیگ کی تصنیف نذیر احمد کی کہانی کچھ اُن کی کچھ میری زبانیسے ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ جن ادیبوں نے خاکے تحریر کیے اُن میں آغاز حیدر حسن، مولوی عبدالحق، خواجہ محمد شفیع، سید عابد حسین، سعادت حسن منٹو، شوکت تھانوی، عبدالرزاق کانپوری، رشید احمد صدیقی، فکر تونسوی، عصمت چغتائی، اشرف صبون، رئیس احمد جعفری، شاہد احمد دہلوی، اخلاق احمد دہلوی، یوسف ناظم اور مجتبیٰ حسین وغیرہ شامل ہیں۔

طنز و مزاح کوئی باقاعدہ صنف نہیں بلکہ ادب کی مختلف اصناف میں طنزیہ اور مزاحیہ عناصر شامل کر کے تحریر کو طنز و مزاح کی لذت دی جاتی ہے۔ اگرچہ طنز و مزاح دو الگ اندازِ بیان ہیں لیکن دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ طنز و مزاح میں بنیادی اہمیت ظرافت کو حاصل ہوتی ہے۔ زندگی کی کڑوی سچائیاں مزاح نگار خوشگوار انداز میں پیش کر کے انہیں نہایت دلچسپ بنا دیتا ہے۔ سیاسی اور سماجی برائیوں، معاشرتی اور تہذیبی خامیوں اور انسانی کردار کی کمزوریوں کو ہنسی کے انداز میں اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ قاری تحریر سے لطف بھی اٹھاتا ہے اور شرمندگی بھی محسوس کرتا ہے۔ طنز نگار سماجی بے اعتدالیوں اور ناانصافیوں سے ناپسندیدگی رکھتا ہے، لیکن اس کا اظہار سیدھے انداز میں نہیں کرتا بلکہ ہلکے پھلکے اور ظریفانہ طریقے سے بیان کرتا ہے۔

درحقیقت طنز و مزاح میں مصنف سماج یا انسان کی خامیوں، کمزوریوں اور تلخ پہلوؤں کو اس طرح ہنسی اور طنز کے ساتھ پیش کرتا ہے کہ پڑھنے والے کو ناگوار نہیں گزرتا بلکہ وہ لطف بھی لیتا ہے اور اس کمی یا خامی کو سمجھ بھی لیتا ہے۔ اردو داستانوں میں بھی طنز و مزاح کے آثار ملتے ہیں۔ باقاعدہ اس کا فروغ غالب کے خطوط اور اودھ پنچ میں لکھنے والے تخلیق کاروں کی تحریروں سے ہوا۔ طنز و مزاح نثر اور شاعری دونوں صورتوں میں پایا جاتا ہے۔ اودھ پنچ کے جن ادیبوں کے نام قابل ذکر ہیں ان میں منشی سجاد حسین، رتن ناتھ سرشار، نواب سید محمد آزاد، شیخ ظریف، احمد علی شوق، جوالا پرشاد برق اور تربھون ناتھ ہجر وغیرہ شامل ہیں۔ بعد میں فرحت اللہ بیگ، پطرس بخاری، رشید احمد صدیقی، یوسف ناظم، احمد جمالی پاشا، مجتبیٰ حسین اور مشتاق یوسفی جیسے ادیبوں نے طنزیہ اور مزاحیہ تحریریں لکھیں۔

خط یا مکتوب ایک ذاتی تحریر ہے، لیکن بعض ادیبوں اور شاعروں کے خطوط کی خوبصورت اور دلچسپ نثر نے اسے غیر افسانوی نثر کی ایک صنف بنا دیا ہے۔ چونکہ خط ایک ذاتی عمل ہے، اس لیے اس کی نثر کے کوئی باقاعدہ فنی اصول مقرر نہیں کیے جا سکتے۔ یہ تحریر انشا کی ایک صورت ہے جس میں ذاتی مسائل، کاروباری باتیں، غم کے اظہار، خوشی اور مسرت کا بیان، ادبی اور غیر ادبی مسائل، الغرض ہر طرح کی بات شامل ہو سکتی ہے۔ ادیبوں اور شاعروں کے خطوط اس لیے اہم ہوتے ہیں کہ ان کا اندازِ تحریر عام خطوط سے مختلف ہوتا ہے۔ ان کے اسلوب کی انفرادیت قاری کو بار بار پڑھنے پر مجبور کرتی ہے۔ خطوط نہ صرف نثر کا ایک نمونہ ہوتے ہیں بلکہ مکتوب نگار کے حالاتِ زندگی، اس کے دور کے واقعات اور حالات، اور دوسری اہم معلومات بھی فراہم کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر غالب کے خطوط سے غالب کی زندگی اور ان کے عہد کی مکمل تصویر سامنے آتی ہے۔

اردو میں غالب کے خطوط کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اقبال اور شبلی کے خطوط بھی شوق سے پڑھے جاتے ہیں۔ مولانا ابوالکلام آزاد کے خطوط کا مجموعہ غبار خاطر کے نام سے خاص و عام میں مقبول ہے۔ یہ خطوط انہوں نے احمد نگر قلعہ کی اسیری کے دوران لکھے۔ عبد الماجد دریا آبادی، سید سلیمان ندوی، نیاز فتح پوری، جوش ملیح آبادی، جگر مراد آبادی، رشید احمد صدیقی، منٹو اور آل احمد سرور وغیرہ کے خطوط بھی قابلِ ذکر ہیں۔

This post provides a comprehensive introduction to Non-Fictional Prose (Ghair Afsanvi Nasr) in Urdu literature. It explains the meaning, importance, and historical development of non-fiction prose, distinguishing it from fictional prose. The article discusses major non-fictional genres such as essay (mazmoon), inshaiya, biography (sawanih), sketch (khaka), satire and humor (tanz-o-mazah), and letter writing (khutoot), along with their characteristics and notable Urdu writers. Overall, it highlights how non-fictional prose is based on facts, real experiences, and truthful observation, and plays a vital role in informing, educating, and refining society.