Ghalib Ki Halat e Zindagi, غالب کی حالتِ زندگی

مغل سلطنت کا آفتاب غروب ہونے والا تھا، لیکن غروب ہوتے وقت بھی اس آفتاب نے جو قیمتی خزانے چھوڑے، ان میں سے ایک کو دنیا اسد اللہ خاں غالب کے نام سے جانتی ہے۔ یہ زمانہ اگرچہ مغلیہ سلطنت کے زوال کا تھا، لیکن اردو شاعری کا سورج پورے عروج پر تھا۔ بہادر شاہ ظفر اگرچہ نام کے بادشاہ تھے، مگر علم و فن کے قدر دان تھے اور ادبی لوگوں کو اپنے دربار میں جمع کر رکھا تھا۔ جہاں تک شعر و ادب کا تعلق ہے، اس وقت کی دلّی ایسی دلّی تھی کہ شاید آسمان نے پھر کبھی ایسی دلّی نہ دیکھی ہو۔ غالب، ظفر، شاہ نصیر، مولوی فضل حق خیر آبادی، ذوق، مومن، امام بخش صہبائی، میر مہدی مجروح، ہر گوپال تفتہ، شیفتہ، حالی—سب اپنے وقت کے نایاب اور بے مثال لوگ تھے۔
غالب نے اگرچہ 1813-1812 سے دہلی میں رہائش اختیار کر لی تھی، لیکن ان کا دہلی آنا جانا اس وقت سے تھا جب وہ ہوش سنبھال چکے تھے۔

غالب کے آباؤ اجداد کا تعلق نہ دہلی سے تھا اور نہ آگرہ سے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے دادا مرزا قوقان بیگ، جو تورانی نسل سے تھے، سمرقند کے رہنے والے تھے۔ احمد شاہ ابدالی کے تیسرے حملے (دسمبر 1751ء تا مارچ 1752ء) کے بعد ہندوستان ابھی سنبھل ہی رہا تھا کہ مرزا قوقان بیگ روزگار کی تلاش میں یہاں آئے۔ پہلے وہ لاہور میں نواب معین الملک کے ہاں ملازم رہے، پھر عالمگیر کے زمانے میں دہلی پہنچے، اور ڈیڑھ دو سال بعد شاہ عالم کے شہزادگی کے دور میں شاہی ملازم ہو گئے۔ اس کے بعد انہوں نے نجف خان کی ملازمت اختیار کی، پھر وہاں سے استعفیٰ دے کر مہاراجہ جے پور کے یہاں ملازم ہو گئے۔ اس طرح آگرہ ان کی رہائش گاہ بنا۔ مرزا قوقان بیگ کی شادی 1763ء میں ہوئی اور غالب کے والد مرزا عبداللہ بیگ خاں 1765ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کی شادی 1793ء میں آگرہ میں خواجہ غلام حسین خاں کمیدان کی بیٹی عزت النسا بیگم سے ہوئی۔ ان ہی کے بطن سے 27 دسمبر 1797ء مطابق 8 رجب المرجب 1212ھ کو غالب پیدا ہوئے۔ مرزا عبداللہ بیگ خاں نے کچھ عرصہ حیدر آباد میں ملازمت کی، بعد میں وہ ریاستِ الور کی فوج میں شامل ہو گئے۔ 1801ء میں الور میں ایک گڑھی کے زمیندار سے لڑائی کے دوران انہیں گولی لگی اور وہ جانبر نہ ہو سکے۔ ان کی تدفین الور ہی میں ہوئی۔

والد کے انتقال کے بعد غالب کی پرورش ان کے چچا مرزا نصر اللہ بیگ خاں نے کی۔ مرزا نصر اللہ بیگ خاں مرہٹوں کی طرف سے آگرہ کے قلعہ دار تھے۔ 1806ء میں ایک لڑائی کے دوران وہ ہاتھی سے گر کر زخمی ہو گئے اور یہی چوٹ ان کی موت کا سبب بنی۔ اس وقت غالب کی عمر صرف (9) برس تھی۔ ایسے حالات میں غالب کی پرورش ان کے ننھیال میں ہونے لگی۔ مالی آسودگی تو تھی ہی، اس کے ساتھ لاڈ پیار نے انہیں باقاعدہ تعلیم سے دور رکھا۔ غالب کا یہ زمانہ زیادہ تر عیش و عشرت میں گزرا۔ البتہ انہوں نے تھوڑے عرصے کے لیے آگرہ میں مولوی معظم کے مکتب میں تعلیم حاصل کی، مگر اپنی فطری صلاحیت کی وجہ سے زبان، بیان اور شعر و ادب پر اچھی گرفت حاصل کر لی۔ غالب ابھی تیرہ برس کے تھے کہ الٰہی بخش خاں معروف کی چھوٹی بیٹی امراؤ بیگم سے 19 اگست 1810ء مطابق 17 رجب المرجب 1225ء کو دہلی میں ان کا نکاح ہو گیا۔ دو ایک سال تک آنا جانا رہا، پھر 1812-13 سے غالب نے دہلی میں مستقل قیام اختیار کر لیا۔

غالب جب آگرہ سے دہلی آئے تو انہیں یہاں بڑی بڑی شخصیات کی صحبت نصیب ہوئی، جن سے انہوں نے بہت کچھ سیکھا۔ یہ سب لوگ غالب کے ساتھ محبت اور عزت سے پیش آتے تھے۔ غالب کی طبیعت بلند حوصلہ اور خرچ کرنے والی تھی۔ ان کا زمانہ آرام اور بے فکری کا نہیں تھا۔ آمدنی کم اور خرچ زیادہ تھا۔ وہ لوگوں سے قرض لے کر گزارا کرتے اور شراب پیتے تھے، لیکن اس بات کو انہوں نے چھپایا نہیں۔ اپنی شراب نوشی کی وجہ انہوں نے ایک شعر میں اس طرح بیان کی ہے

مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کو
اک کو نہ لے خودی مجھے دن رات چاہیے

اگر غالب آگرہ میں رہتے تو انہیں وہ علمی اور ادبی محفلیں نصیب نہ ہوتیں جو دہلی جیسے بڑے شہر میں انہیں ملیں۔ غالب نے ان محفلوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔

ان کے خسر نواب الٰہی بخش خاں معروف اپنے وقت کے مشہور شاعر تھے اور نیک لوگوں میں شمار ہوتے تھے۔ معروف کے بڑے بھائی نواب فخر الدولہ دلاور الملک احمد بخش خاں رستم جنگ، والی لوہارو، اور ان کے بڑے صاحبزادے ضیاء الدین احمد خان نیر، دہلی کے نمایاں افراد میں تھے۔ اسی طرح فضل حق خیر آبادی کی صحبت نے بھی غالب کی شخصیت کو نکھار دیا۔ اسی زمانے میں مالی پریشانیاں بھی بڑھنے لگیں۔ نصر اللہ بیگ خاں کے وارث ہونے کی وجہ سے غالب کو ان کی جاگیر سے حصہ ملتا تھا، جو ان کی آمدنی کا ذریعہ تھا۔ نصر اللہ بیگ خاں کے انتقال کے بعد یہ جاگیر نواب احمد بخش خاں کے علاقے میں شامل ہو گئی۔ جب نواب صاحب نے اپنی جاگیر اولاد میں تقسیم کی تو غالب کے حصے کی تقسیم شمس الدین احمد خان، رئیس فیروز پور کے سپرد ہوئی۔ غالب اور شمس الدین احمد خان کے درمیان پہلے ہی اختلاف تھا۔ جب جاگیر کی تقسیم میں ان کا رویہ نامناسب رہا تو غالب نے مقدمہ دائر کرنے کا فیصلہ کیا اور اسی مقصد کے لیے کلکتہ کا سفر کیا، جو اس زمانے میں ہندوستان کا دارالحکومت تھا۔

غالب فروری 1828ء میں کلکتہ پہنچے۔ اس سفر میں انہوں نے فیروز پور، فرخ آباد، لکھنؤ اور بنارس میں بھی قیام کیا، جن کے اثرات ان کی شخصیت اور شاعری میں نظر آتے ہیں۔ غالب کی عظمت کو اردو کے تمام شاعروں نے تسلیم کیا، اور خود غالب نے بھی اپنے کلام میں اس بات پر فخر کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں

غالب کو کلکتہ میں پنشن کے معاملے میں خاص کامیابی نہ ملی، لیکن ادبی اور تہذیبی لحاظ سے ان کے سامنے ایک نئی دنیا کھل گئی۔ وہاں انہوں نے انگریزی تہذیب، سائنسی ایجادات اور صنعتی ترقی کو قریب سے دیکھا۔ اس کا ذکر انہوں نے آئینِ اکبری کے لیے لکھی گئی اپنی تقریظ میں تفصیل سے کیا ہے۔ ایک مشہور غزل میں بھی انہوں نے کلکتہ کا دلکش ذکر کیا ہے، جس کا مطلع ہے

کلکتہ میں غالب کو ذہنی پریشانیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ مرزا قتیل سے جھگڑا اس سفر کا ایک اہم واقعہ تھا۔ اس کرب کی جھلک ان کی فارسی مثنوی بادِ مخالف میں ملتی ہے۔ اس سفر کے دوران انہوں نے بنارس میں بھی قیام کیا، جس کی یادگار مثنوی چراغِ دیر ہے۔ مجموعی طور پر غالب نے کلکتہ میں کم پایا اور زیادہ کھویا، اور یوں 29 نومبر 1829ء کو دہلی واپس آئے۔ تاہم اس سفر نے ان کی شخصیت اور شاعری کو نیا رخ دیا۔

مالی حالات کے لحاظ سے غالب کی قسمت کچھ خاص اچھی نہ تھی۔ دہلی میں ان کے لیے حالات سازگار نہیں تھے۔ یہاں قرض خواہ موجود تھے، جن سے وہ بچتے پھرتے تھے۔ شمس الدین احمد خان کو پھانسی ہوئی، اور چونکہ وہ غالب کے دشمن تھے، اس لیے دہلی کے لوگ غالب پر بھی شک کرنے لگے۔
غالب کو 1840ء میں دہلی کالج میں فارسی کے پروفیسر کی پیشکش ہوئی، مگر انہوں نے یہ عہدہ اس لیے قبول نہیں کیا کہ انٹرویو کے وقت پرنسپل، جن سے غالب کے ذاتی تعلقات تھے، سواری تک آ کر استقبال کے لیے نہ آئے۔ پرنسپل کا کہنا تھا کہ غالب امیدوار کی حیثیت سے آئے ہیں، اس لیے ذاتی استقبال ضروری نہیں۔
غالب کو بچپن سے شطرنج اور چوسر کھیلنے کی عادت تھی اور کبھی کبھی وہ جوا بھی کھیلتے تھے۔ وہ اپنے گھر میں لوگوں کو جوا کھیلنے کی اجازت بھی دیتے تھے، جو قانوناً جرم تھا۔ کسی نے اس کی اطلاع دے دی، اور اگست 1841ء میں غالب گرفتار ہو گئے۔ عدالت نے انہیں (100) روپے جرمانہ اور جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں چار ماہ قید کی سزا سنائی۔ جرمانہ ادا کر دیا گیا اور معاملہ ختم ہو گیا۔ مگر چند سال بعد 25 مئی 1847ء کو گھر پر جوئے کا اڈا چلانے کے الزام میں وہ دوبارہ گرفتار ہوئے۔ اس بار چھ ماہ قید اور (200) روپے جرمانہ ہوا۔ (50) روپے ادا کرنے پر مشقت معاف کر دی گئی، اور دوستوں کی سفارش سے تین ماہ بعد رہائی ملی۔ یہ دور غالب کے لیے شرمندگی کا تھا، مگر ان کی ادبی حیثیت کم نہ ہوئی۔
کچھ عرصے بعد حالات بدلے اور 4 جولائی 1850ء کو غالب بہادر شاہ ظفر کے دربار میں پیش ہوئے۔ انہیں خلعت، جواہر اور نجم الدولہ دبیر الملک نظام جنگ کا خطاب ملا۔ خاندانِ تیموریہ کی تاریخ لکھنے کی ذمہ داری دی گئی اور 600 روپے سالانہ تنخواہ مقرر ہوئی۔

اس کے بعد غالب کی زندگی ایک نئے دور میں داخل ہوئی، مگر دولت اور آرام انہیں اپنی خواہش کے مطابق نہ مل سکے۔ 15 نومبر 1854ء کو استاد شاہ ذوق کا انتقال ہوا، اور بہادر شاہ ظفر نے اپنا کلام غالب کو دکھانا شروع کیا۔ غالب درباری استاد بن گئے، لیکن 10 مئی 1857ء کو میرٹھ سے جنگِ آزادی شروع ہوئی اور دہلی پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ 20 ستمبر 1857ء کو انگریزوں نے دہلی پر قبضہ کر لیا۔ قلعے کی تنخواہ بند ہو گئی اور انگریزی پنشن بھی رک گئی۔ غالب کی بیوی کے زیورات اور کپڑے لٹ گئے، اور روزمرہ ضروریات کے لیے برتن تک بیچنے پڑے۔ غالب گوشہ نشین ہو گئے، مگر قلم نہ چھوڑا۔ انہوں نے دستنبو لکھی، جو جنگِ آزادی کے حالات پر مبنی ہے، اور یہ نومبر 1858ء میں شائع ہوئی۔ بعد میں انہوں نے برہانِ قاطع کی غلطیوں پر قاطعِ برہان لکھی، جو 1862ء میں شائع ہوئی۔

نواب رام پور سے غالب کے تعلقات پہلے سے تھے۔ 10 جولائی 1859ء سے انہیں 100 روپے ماہانہ وظیفہ ملنے لگا، جو زندگی بھر جاری رہا۔ اسی تعلق کی بدولت انگریزوں کی پنشن بھی بحال ہو گئی۔
آخرکار بیماری نے غالب کو گھیر لیا۔ 14 فروری 1869ء کو فالج کا حملہ ہوا اور 15 فروری 1869ء کو انہوں نے وفات پائی۔ انہیں بستی حضرت نظام الدین اولیا میں دفن کیا گیا۔ حالی کے الفاظ میں

This post presents a detailed biography of Mirza Asadullah Khan Ghalib. It discusses his family background, birth, education, literary environment of Delhi, financial struggles, travels, court life, arrests, and major life events. The article also highlights Ghalib’s personality, poetic greatness, relationships with contemporaries, and his response to the 1857 revolt through his writings. It concludes with his later years, literary contributions, and death, portraying Ghalib as a towering figure of Urdu poetry and culture.

Scroll to Top