Insha Allah Khan Insha Ka Taruf, انشا اللہ خاں انشا کا تعارف

ادب میں داستان گوئی کی روایت خاصی قدیم ہے۔ اردو ادب میں اس کی ابتدا ترجمہ شدہ داستانوں سے ہوئی ۔ داستانوں کو ترجمہ کرنے یا ان کو آسان زبان میں منتقل کرنے کا کام سب سے پہلے فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں ہوا ، جہاں پر عربی ، فارسی اور سنسکرت کی کئی اہم داستانوں کا اردو میں ترجمہ کیا گیا۔ جس وقت فورٹ ولیم کالج میں مختلف زبانوں سے اردو میں داستانیں ترجمہ ہورہی تھیں اس وقت انشا اللہ خاں انشا نے اردو میں ایک طبع زاد داستان رانی کیتیکی کی کہانی لکھی ۔ اس داستان کی سب سے اہم خوبی یہ ہے کہ انشا اللہ خاں انشا نے اس میں عربی اور فارسی زبان کے الفاظ سے احتراز کیا ہے اور خالص ہندوستانی الفاظ کا استعمال کر کے رانی کیتکی کی کہانی کو مکمل کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس داستان کو اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں یکساں اہمیت حاصل ہے۔

اردو ادب کی تاریخ میں انشا اللہ خاں انشا ایک منفرد اور غیر معمولی شخصیت کے مالک تھے۔ وہ صرف شاعر ہی نہیں بلکہ اردو زبان کے ارتقائی سفر میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انشا کا مشہور نظریہ یہ تھا کہ جو لفظ اردو میں عام استعمال میں آ جائے، چاہے وہ عربی، فارسی، ترکی یا کسی اور زبان سے آیا ہو، وہ اردو کا لفظ بن جاتا ہے اور اس کی صحت یا غلطی کا فیصلہ بھی اردو کے استعمال سے ہوتا ہے۔ اس نظریے سے ان کی لسانی بصیرت اور زبان کے بارے میں وسیع نظریہ واضح ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے وہ اردو کے ان ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اردو زبان کی خود مختاری کا عملی اعلان کیا۔

انشا اللہ خاں انشا 1752ء میں مرشدآباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے آبا و اجداد نجف اشرف (عراق) سے ہجرت کر کے دہلی میں آباد ہوئے تھے۔ ان کے دادا سید نور اللہ خاں ایک مشہور طبیب تھے جنہیں مغل بادشاہ فرخ سیر نے علاج کے لیے دہلی بلایا تھا۔ بعد میں ان کے والد میر ماشاء اللہ خاں مرشدآباد منتقل ہو گئے اور وہیں انشا کی پیدائش ہوئی۔ انشا نے کم عمری میں ہی اعلیٰ تعلیم حاصل کر لی تھی۔ صرف و نحو، منطق و حکمت کے علاوہ عربی اور فارسی زبانوں پر بھی انہیں مکمل عبور حاصل تھا۔ کہا جاتا ہے کہ سولہ برس کی عمر میں انہوں نے اپنا اردو دیوان مرتب کر لیا تھا جس میں اردو کے ساتھ عربی اور فارسی کے اشعار بھی شامل تھے۔

انشا کی زندگی مختلف نشیب و فراز سے گزری۔ وہ ابتدا میں اپنے والد کے ساتھ فیض آباد آئے جو اس زمانے میں نواب شجاع الدولہ کا دارالحکومت تھا۔ بعد میں وہ دہلی گئے اور شاہ عالم کے دربار سے وابستہ ہو گئے۔ اپنی ذہانت، حاضر جوابی اور ظرافت کی وجہ سے وہ دربار میں خاصے مقبول ہو گئے، لیکن بدقسمتی سے انہیں ایسا سرپرست نہ ملا جو ان کی علمی صلاحیتوں کی صحیح قدر کرتا۔ اسی وجہ سے انہیں اکثر دربار میں ظریفانہ اور مسخرے کے انداز میں محفل کو محظوظ کرنے کا کردار ادا کرنا پڑتا تھا۔ بعد میں جب دہلی کے حالات خراب ہوئے تو وہ لکھنؤ چلے گئے جہاں اس زمانے میں ادبی سرگرمیوں کا مرکز قائم ہو رہا تھا۔

انشا کی شخصیت کا نمایاں پہلو ان کی جدت پسندی اور تجرباتی مزاج تھا۔ وہ کسی روایت یا مروجہ ادبی طریقے کی پابندی کو پسند نہیں کرتے تھے اور ہمیشہ نئے تجربات کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ شاعری میں انہوں نے مشکل زمینوں میں غزلیں کہیں اور مختلف لسانی صنعتوں کا کثرت سے استعمال کیا۔ ان کے اشعار میں فنی مہارت اور زبان پر غیر معمولی قدرت نمایاں ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ان کے بعض اشعار ایسے ہیں جنہیں نقطوں کی تبدیلی کے ساتھ مختلف زبانوں میں پڑھا جا سکتا ہے۔ اسی طرح انہوں نے سلکِ گوہر نامی ایک تحریر لکھی جس میں ایک بھی نقطہ استعمال نہیں کیا گیا۔

انشا کی سب سے بڑی ادبی خدمت اردو زبان کے قواعد سے متعلق کتاب دریائے لطافت ہے۔ یہ اردو گرامر کی ابتدائی اور اہم کتابوں میں شمار ہوتی ہے اور خاص بات یہ ہے کہ اسے خشک اور مشکل انداز کے بجائے نہایت دلچسپ اسلوب میں لکھا گیا ہے۔ اس کتاب میں مختلف کردار اپنی اپنی بولیوں میں گفتگو کرتے نظر آتے ہیں جس سے زبان کی مختلف شکلیں واضح ہوتی ہیں۔ ان کی دوسری مشہور تصنیف رانی کیتکی کی کہانی ہے جس میں انہوں نے عربی اور فارسی کے الفاظ استعمال نہیں کیے اور خالص ہندوستانی الفاظ کے ذریعے ایک داستان پیش کی۔ اس طرح انہوں نے یہ ثابت کیا کہ اردو زبان اپنی الگ شناخت اور صلاحیت رکھتی ہے۔

انشا اللہ خاں انشا کی زندگی کا ایک اہم دور لکھنؤ میں گزرا جہاں وہ آصف الدولہ اور بعد میں نواب سعادت علی خاں کے دربار سے وابستہ رہے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کے مطابق یہی زمانہ انشا کی تخلیقی زندگی کا بہترین دور تھا۔ اسی زمانے میں انہوں نے اپنی اہم تصنیفات جیسے دریائے لطافت اور رانی کیتکی کی کہانی تصنیف کیں۔ تاہم زندگی کے آخری حصے میں بعض وجوہات کی بنا پر وہ دربار کی عنایت سے محروم ہو گئے اور ان کے باقی دن مفلسی اور پریشانی میں گزرے۔ بالآخر 1817ء (1233ھ) میں لکھنؤ میں ان کا انتقال ہو گیا۔

مختصراً کہا جا سکتا ہے کہ انشا اللہ خاں انشا اردو ادب کے ایک نہایت اہم اور تجرباتی ادیب تھے۔ انہوں نے نہ صرف شاعری میں نئی راہیں تلاش کیں بلکہ اردو زبان کی ساخت، قواعد اور خود مختاری کو واضح کرنے میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی ادبی خدمات اور لسانی تجربات اردو ادب کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔

This post introduces the tradition of storytelling in Urdu literature and focuses on the life and literary contributions of Insha Allah Khan Insha. It explains how early Urdu stories developed through translations at Fort William College and highlights Insha’s unique work, Rani Ketki Ki Kahani, written in purely Indian vocabulary, without Arabic or Persian. The post also discusses his biography, linguistic ideas, major works, including Darya-e-Latafat, and his significant role in shaping the development and independence of the Urdu language.