جگر مراد آبادی کا تعارف
جگر مرادآبادی کو اپنے زمانے میں جو شہرت اور مقبولیت ملی اس کی مثال ملنا بہت مشکل ہے۔ ان کی یہ مقبولیت ان کی رنگ برنگی شخصیت، نرم اور پیار بھرے اندازِ تغزل اور نغمگی اور ترنم کی وجہ سے تھی۔ جب ان کی شاعری ترقی کرتے ہوئے لوگوں کے سامنے آئی تو پورے ملک کی شاعری کا انداز بدل گیا۔ بہت سے شاعروں نے نہ صرف ان کے اندازِ کلام کی بلکہ ان کے ترنم کی بھی نقل کرنے کی کوشش کی۔ اور جب جگر اپنا اندازِ ترنم بدلتے تو اس کی بھی نقل ہونے لگتی۔
لیکن دوسروں کے لیے ان کے شعری انداز یا لہجے کی نقل کرنا تو ممکن تھا مگر جگر کی شخصیت کی نقل کرنا ناممکن تھا۔ جگر کی شاعری حقیقت میں ان کی شخصیت کا عکس تھی۔ اسی لیے جگر، جگر رہے نہ ان کے زمانے میں اور نہ بعد میں کوئی ان کے رنگ کو اپنا سکا۔
یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے
جگر مرادآبادی کا اصل نام علی سکندر اور تخلص جگر تھا۔ وہ 6 اپریل 1890ء کو پیدا ہوئے۔ ان کی تاریخ پیدائش کے بارے میں محققین میں اختلاف ہے لیکن زیادہ تر لوگ مانتے ہیں کہ وہ 1890ء میں پیدا ہوئے۔ اسی طرح ان کی جائے پیدائش کے بارے میں بھی مختلف رائے ہیں ۔ عام خیال یہ ہے کہ وہ مراد آباد میں پیدا ہوئے اور اسی نسبت سے جگر مراد آبادی مشہور ہوئے۔ البتہ خود جگر کے مطابق وہ بنارس میں پیدا ہوئے اور چھ ماہ تک وہیں رہے اس کے بعد مراد آباد چلے گئے۔ چونکہ بنارس میں قیام بہت کم رہا اسی لیے جگر نے مراد آباد کی نسبت کو زیادہ اہم مانا۔ بچپن میں ہی والد کے انتقال کی وجہ سے انہیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں
ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں
اس زمانے کی روایات کے مطابق جگر کی پڑھائی عربی، فارسی اور قرآن کریم سے شروع ہوئی جو انہوں نے مولانا محمد صدیق سے حاصل کی۔ یہ اس وقت کے بڑے عالم تھے اور مولانا رشید احمد گنگوہی کے پیروکار تھے۔ اس طرح جگر کی ابتدائی تعلیم مذہبی ماحول میں ہوئی جس کا اثر ان کی شخصیت پر زندگی بھر قائم رہا۔ یہاں تک کہ اس وقت بھی جب ان پر شراب نوشی کا غلبہ تھا انہوں نے مذہبی روایات کو کبھی نہیں چھوڑا۔ جگر نے اپنے والد علی محمد نظر سے بھی اردو اور فارسی پڑھی اس کے بعد حکیم حافظ قاری عبد الرحمن اور مولوی محمد اسماعیل بیگ سے ایک مکتب میں تعلیم حاصل کی۔ بچپن میں جگر زیادہ تر اپنے چچا علی ظفر کے ساتھ رہتے تھے۔ ان ہی کے سمجھانے پر جگر نے تعلیم کا رُخ بدلا اور پہلے کروی اور پھر لکھنؤ میں انگریزی تعلیم حاصل کی لیکن انہیں انگریزی سے کوئی دلچسپی نہیں تھی اس لیے درجہ نہم میں انہوں نے انگریزی پڑھائی چھوڑ دی۔ ویسے بھی گھر کی ابتدائی تعلیم نے انہیں اتنا کچھ سکھا دیا تھا کہ اسکول کی رسمی تعلیم کی زیادہ ضرورت نہیں رہی۔
جگر زیادہ تعلیم حاصل کرنے کے بھی خلاف تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کتابیں پڑھنے کے بجائے بڑی اور اچھی شخصیات کی صحبت میں رہنا زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔ ایسی صحبت انسان کی شخصیت بناتی ہے اور ذہنی ترقی دیتی ہے۔ اسی لیے انہوں نے خود کو اصغر گونڈوی کے ساتھ وابستہ کر لیا اور ان کی نگرانی میں اپنی شخصیت بنائی۔ جگر مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والد حضرت مولانا محمد صدیق کے ذریعے قادریہ سلسلہ میں بیعت تھے۔ اس لیے جگر بھی مذہبی اصولوں پر مضبوطی سے عمل کرتے تھے۔ قاضی عبدالغنی منگلوری سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد ان کے مذہبی عقائد اور بھی پختہ ہوئے لیکن وہ مذہبی سختی سے دور رہے۔
ایک ایسا زمانہ بھی آیا جب وہ بہت زیادہ شراب پینے لگے اور اس کی وجہ سے ان کے مذہبی عقائد میں کمزوری پیدا ہوگئی اور وہ مذہب سے دور ہونے لگے، لیکن جلد ہی وہ اس سے توبہ کر کے واپس اپنے خاندانی مذہبی اصولوں کی طرف لوٹ آئے۔ ان کی مذہبی تربیت میں اصغر گونڈوی کا کردار بہت اہم تھا۔
نوجوانی سے ہی انہیں شراب پینے کی عادت پڑ گئی تھی جو بڑھتے بڑھتے اس حد تک پہنچ گئی کہ وہ اکثر نشے کی حالت میں رہنے لگے۔ کبھی کبھار اتنی زیادہ شراب پی لیتے کہ انہیں خود ہوش نہ رہتا۔ مگر اس کے باوجود جگر نے کبھی شراب نوشی کو اچھا نہیں کہا۔ وہ ہمیشہ اس پر شرمندہ رہتے اور اس سے بچنے کی دعا بھی کراتے۔ 1919ء میں جگر کی ملاقات اصغر گونڈوی سے ہوئی جو ان کی ذہنی اور فکری تبدیلی کا زمانہ تھا۔ اصغر کی شاگردی میں ہی جگر نے شراب نوشی اور مذہب سے دوری چھوڑ کر تصوف کی طرف رخ کیا۔ ترکِ شراب کے معاملے میں جگر ہمیشہ اصغر گونڈوی کے احسان مند رہے۔ جگر پر اصغر کا اثر اتنا گہرا تھا کہ وہ ان کے دل و دماغ پر چھا گئے۔
جگر نے کم عمری میں ہی شاعری شروع کر دی تھی۔ جس مشاعرے میں جگر شریک ہوتے وہ مشاعرہ ان ہی کی وجہ سے چمک اٹھتا اور لوگ انہیں مشاعرے کی پہچان کہتے تھے۔ انہوں نے پوری زندگی غزل لکھی۔ اگرچہ کچھ نظمیں بھی لکھیں مگر ان میں بھی غزل کا انداز نمایاں تھا۔ جگر کی زیادہ تر شاعری کا موضوع عشق، محبت اور حسن ہے۔ ان کی شاعری عشق سے شروع ہوتی ہے اور عشق پر ختم ہوتی ہے۔ جگر کی شاعری اور زندگی کو دو حصوں میں بانٹا جا سکتا ہے
پہلا دور شراب، شباب، رندی اور سرمستی کا جس میں جگر حسن و عشق اور محفل کے ماحول میں ڈوبے رہتے تھے۔
دوسرا دور انسان دوستی، نیکی اور روحانیت کا جو ان کی زندگی کی بڑی تبدیلی اور ذہنی انقلاب کے بعد سامنے آیا۔
9 ستمبر 1960ء کو جگر کا انتقال ہو گیا۔ وہ اپنے دور کے پہلے اردو شاعر تھے جنہیں پدم بھوشن کا خطاب ملا۔ اس کے علاوہ ان کے تیسرے مجموعہ آتش گل 1958ء پر انہیں ساہتیہ اکیڈمی انعام بھی ملا۔ ان کے شعری مجموعے داغ جگر، شعلہ طور کو بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔ جگر کی خدمات کے اعتراف میں گونڈہ میں ایک رہائشی کالونی کا نام “جگر گنج” رکھا گیا ہے، اور ایک تعلیمی ادارہ جگر میموریل انٹر کالج بھی ان کے نام سے قائم ہے۔ ان کے شعری مجموعے یہ ہیں
داغ جگر (1922ء)
شعلہ طور (1932ء)
آتش گل (1958ء)
بادۂ شیراز (فارسی کلام)
This post introduces the life and literary personality of Jigar Moradabadi, one of the most popular and influential Urdu poets of his time. It discusses his unique poetic style, musical recitation, and deep emotional expression, along with his early life, education, spiritual influences, and personal struggles. The article highlights the major phases of his poetry, his devotion to Ghazal, his association with Asghar Gondvi, his later turn toward spirituality, and his major poetic works and awards, presenting a complete and balanced portrait of the poet.