اُردو کی ادبی اصناف کو عام طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: اصنافِ نظم اور اصنافِ نثر۔ اصنافِ نظم میں غزل، قصیدہ، مثنوی، رباعی وغیرہ شامل ہیں، جبکہ اصنافِ نثر میں داستان، ناول، افسانہ، ڈراما وغیرہ کو افسانوی نثر کہا جاتا ہے، اور غیر افسانوی نثر میں سوانح نگاری، خود نوشت سوانح حیات، انشائیے، مکتوب نگاری، سفرنامے اور رپور تاژ شامل ہیں۔ خطوط نویسی یا مکتوب نگاری بھی جیسا کہ کہا گیا ہے، اُردو نثر کے غیر افسانوی ادبی سرمایے سے تعلق رکھتی ہے۔

مکاتیب سیاسی، معلوماتی اور عام خبری نوعیت کے بھی ہو سکتے ہیں، اور تجارتی و کاروباری، سرکاری و دفتری بھی، یا پھر ذاتی اور شخصی نوعیت کے بھی۔ اسی لیے خطوط یا مکاتیب کی بھی مختلف قسمیں پائی جاتی ہیں، جیسے تجارتی یا کاروباری خطوط، سرکاری و دفتری خطوط، اور شخصی یا ذاتی خطوط۔ اس اکائی میں جن خطوط پر بات کی جا رہی ہے، وہ ذاتی یا شخصی خطوط ہیں۔

موجودہ دور میں نئی سائنسی ایجادات اور تبدیلیوں نے ہماری خطوط نویسی کی روایت کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ ٹیلی فون اور ٹیلی گرام کی ایجاد نے ابتدا میں مکتوب نگاری پر کوئی خاص اثر نہیں ڈالا، لیکن آج کے دور میں سائنس کی ترقی نے ہماری تہذیب، معاشرت اور خیالات کی ترسیل کے طریقوں کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے۔ تبدیلی کی رفتار تیز ہو گئی ہے اور ہر نیا تجربہ یا ایجاد بہت جلد پرانی بن جاتی ہے۔ مختلف علوم و فنون کے ساتھ ساتھ پیغام رسانی کے نئے اور آسان ذرائع جیسے کمپیوٹر، انٹرنیٹ، فیکس اور موبائل فون سامنے آئے، جن کی وجہ سے مکتوب نگاری کی روایت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔

خطوط کے ذریعے بعض اوقات دیگر اصناف جیسے انشائیہ، تنقید اور ناول وغیرہ بھی پیش کیے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر ابوالکلام آزاد نے غبارِ خاطر کے مکاتیب کے ذریعے انشائیہ نگاری کی۔ نیاز فتح پوری نے خطوط کی صورت میں تنقیدی تحریریں لکھیں۔ قاضی عبد الغفار نے لیلیٰ کے خطوط کے پردے میں ناول تحریر کیا، اور جواہر لال نہرو نے اپنی بیٹی کے نام خطوط (باپ کے خطوط بیٹی کے نام) میں تاریخ بیان کی ہے۔

خط یا مکتوب نگاری کے آغاز و ارتقا کا جائزہ لینے سے پہلے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ خط کے معنی و مفہوم سے بھی واقفیت حاصل کی جائے۔

خط عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے لغوی معنی لکیر، سطر یا تحریر کے ہیں۔ زمانے کی تبدیلیوں کے ساتھ لفظ خط کے معنی و مفہوم میں بھی تبدیلی آئی اور یہ لفظ مکتوب یا نامہ کے معنی میں بھی مستعمل ہونے لگا۔ خط یا مکتوب دراصل دو افراد کے مابین ترسیل خیال کا ایک وسیلہ ہے۔ جس میں ایک شخص کسی دوسرے شخص کو اپنا پیغام پہنچاتا ہے۔

خط عام طور سے مکتوب نگار ( پہلا آدمی) اور مکتوب الیہ (دوسرا آدمی) کے بیچ تبادلہ خیال کا ذریعہ ہے۔

خطوط عموماً صیغہ واحد متکلم میں ہوتے ہیں۔ ان میں روز مرہ کی چھوٹی باتوں کا تذکرہ کیا جاتا ہے، جن کا تعلق مکتوب نگار یا مکتوب الیہ کی ذات سے ہوتا ہے۔ خطوط میں بے ربطی اور منتشر خیالی کے ساتھ کبھی ذاتی اور کبھی سیاسی، سماجی، معاشرتی اور تہذیبی اشارے بھی ملتے ہیں۔ بقول ڈاکٹر خورشید اسلام

مکتوب نویسی اگر دو ادبی شخصیتوں کے درمیان ہو تو اس کی اہمیت اور افادیت دو چند ہو جاتی ہے۔ کیوں کہ مکتوب ایک تحریر ہی نہیں ہوتا بلکہ ایک ایسے صاف اور شفاف آئینے کی حیثیت بھی رکھتا ہے جس میں صاحب تحریر کی شخصیت اپنی تمام تر خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ نمایاں ہو جاتی ہے۔

شعرا اور ادیب اکثر و بیشتر اپنی شخصیت کو تخلیقات کے پردے میں پوشیدہ رکھنے کے عادی ہوتے ہیں۔ اس لیے جدید تحقیق کی رو سے کسی بھی فن کار کی شخصیت اور اس کے مزاج و کردار کے تجزیاتی مطالعے کے لیے اس کی تخلیقات سے کہیں زیادہ مکاتیب معاون و مددگار ہوتے ہیں۔

ادبی شخصیتوں کے خطوط نہ صرف ادبی تقاضوں کو پورا کرتے ہیں بلکہ لکھنے والے کے نہاں خانہ دل تک پہنچنے کے لیے بھی ممد و معاون ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں ادیبوں اور شاعروں کے مکاتیب کا بالاستعیاب مطالعہ محققین کے لیے بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتا ہے۔ بے تکلف دوستوں کے نام ادیبوں کے خطوط نہ صرف دل کش اور پر کشش ہوتے ہیں بلکہ معلومات کا خزانہ بھی ہوتے ہیں۔ ان کے مطالعے سے ایک طرف مکتوب نگار کی شخصی زندگی اور نجی حالات کا علم ہوتا ہے، اس کے دوستوں اور ہم عصروں کے بارے میں آگہی حاصل ہوتی ہے تو دوسری طرف اس دور کے سماجی حالات، اصلاحی تحریکوں اور ادبی سرگرمیوں پر بھی روشنی پڑتی ہے۔

خطوط میں تمام جان دار اور بے جان اشیا کو موضوع بحث بنایا جاسکتا ہے۔ کبھی یہ محض استفسار کے جواب میں لکھا جاتا ہے تو کبھی دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے۔ کبھی اپنے دکھ اور شادمانی میں دوسروں کو شریک کرنے کے لیے اور کبھی ان آرزؤں اور خوابوں کے اظہار کے لیے لکھا جاتا ہے جو شر مندہ تعبیر ہونے کے لیے مچلتے رہتے ہیں۔

خط کے بالعموم دس اجزا ہوتے ہیں۔  (1) مکتوب نویس کا نام اور پتہ (2) تاریخ تحریر (3) نشان مجاریہ (4) مقدمہ (5) حوالہ نشان (6) القاب (7) آداب (8) نفس مضمون (9) خاتمہ (10) مکتوب نویس کے دستخط (11) مکتوب الیہ کا نام اور پستہ

ایک ۔ مکتوب نویس کا نام اور پتہ خط کی ابتدا میں دائیں جانب مکتوب نویس اپنا نام اور پتہ درج کرے۔ پتے کے نیچے گھر اور دفتر کے فون نمبر، فیکس نمبر ، فائل نمبر اور ای میل کا پتہ موجود ہو تو درج کیا جائے۔

دو۔ پتے کے نیچے تاریخ تحریر درج کی جائے۔

تین ۔ سرکاری / دفتری، مراسلہ یا کاروباری خط میں تاریخ تحریر کے محاذی بائیں طرف نشان مجاریہ دیا جائے تاکہ پتہ چلے کہ خط یا مراسلہ کس فائل سے متعلق ہے اس کا سلسلہ نشان کیا ہے۔

چار ۔ نشان مجاریہ (اگر ضروری ہو) اور تاریخ تحریر کے بعد مخاطب کی مناسبت سے القاب لکھے جاتے ہیں جیسے محترمی و معظمی، مکرمی، عزیز من ، ڈیر وغیرہ۔ سرکاری اور کاروباری خطوط میں مکرمی یا جناب والا لکھنا کافی ہے۔

پانچ ۔ القاب کے بعد آداب لکھے جاتے ہیں جیسے اسلام علیکم ، سلام مسنون، آداب، آدب عرض ہے۔

چھ ۔ سرکاری دفتری مراسلوں اور کاروباری خط میں صراحت کی جاتی ہے کہ اس کا موضوع کیا ہے۔ اسے اصطلاح میں مقدمہ کہا جاتا ہے۔

سات ۔ مقدمے کے بعد سرکاری دفتری مراسلے یا کاروباری خط میں اگر اس موضوع سے متعلق پہلے خط و کتابت ہو چکی ہو تو مکتوب نویس اور مکتوب الیہ کے خطوط / مراسلوں کے حوالے دیے جاتے ہیں۔ نجی خطوط میں مقدمہ یا حوالہ نہیں ہوتا۔

آٹھ ۔ ان اجزا کے بعد نفس مضمون تحریر کیا جاتا ہے۔ مکتوب نویس مکتوب الیہ سے جو کچھ کہنا چاہتا ہے، وہ حالات و واقعات ہوں، کیفیات و خیالات ہوں، احکام ہوں، فرمائش یا جواب فرمائش ہو، حسب ضرورت اختصار کے ساتھ یا کسی قدر تفصیل کے ساتھ قلمبند کیا جاتا ہے۔

نو ۔ نفس مضمون کا خاتمہ ایسی عبارت سے ہو جو یہ ظاہر کرے کہ خط مکمل ہو چکا ہے اور مکتوب نگار رخصت لے رہا ہے۔ اختتامی کلمات کچھ اس طرح کے ہوتے ہیںاب اجازت دیجیے۔ خدا حافظ ، فقط و غیرہ۔

دس ۔ آخری کلمات کے بعد مکتوب الیہ سے اپنی وابستگی ظاہر کرتے ہوئے چند الفاظ لکھ کر اپنے دستخط ثبت کرتا ہے۔ جیسے آپ کا، خیر اندیش، دعا گو، مخلص و غیرہ۔

 گیارہ ۔ آج کل یہ رواج ہے کہ خط کے اختتام پر نیچے کی طرف داہنی جانب مکتوب الیہ کانام اور مکمل پتہ تحریر کیا جائے۔ یہی پتہ لفافے پر درج کیا جاتا ہے۔ مکتوب الیہ کا نام اور پتہ لفافے کے داہنی طرف لکھا جائے اور بائیں طرف نیچے کی جانب مکتوب نویس اپنا نام اور پتہ لکھے۔

خطوط کئی قسم کے ہوتے ہیں۔ چند خاص قسمیں مندرجہ ذیل ہیں ۔

  نجی اور ذاتی خطوط ، دفتری / سرکاری خطوط ، کاروباری / تجارتی خطوط ، اخباری خطوط / مراسلے ، ادیبوں اور دانش وروں کے خطوط

یہ وہ خطوط ہیں جو کسی شناسا، دوست یا رشتہ دار کو لکھے جاتے ہیں۔ مکتوب نویس اور مکتوب الیہ کے باہمی تعلق کے لحاظ سے القاب اور آداب لکھے جاتے ہیں۔ جیسے بزرگوں کے لیے مخدومی و معظمی، محترمی، نیاز کیش، حضرت اباجان قبلہ ، جناب بھائی صاحب قبلہ ۔ چھوٹوں کے لیے۔ عزیزی، جان پدر، میرے نورِ نظر ۔

اسی اعتبار سے خط کے خاتمے پر مکتوب نویس (1) آپ کا خادم ۔ دعا گو ، آپ کا بیٹا، آپ کا چھوٹا بھائی۔ (2) تمھارا، خیر طلب، مخلص، تمھاری ماں، دعا گو ، خیر طلب، نیاز مند لکھ کر دستخط کرتا ہے۔

یہ وہ خطوط یا مراسلے ہوتے ہیں جو ایک دفتر کا عہدہ دار دوسرے دفتر کے عہدہ دار کو لکھتا ہے۔ دفتری میمو، گشتی مراسلے، درخواستیں وغیرہ اسی ذیل میں آئیں گے۔

یہ خطوط دفتری خطوط سے مماثلت رکھتے ہیں۔ ان خطوط میں مکتوب نویس اور مکتوب الیہ بالعموم کاروباری ادارے اور خریدار ہوتے ہیں۔ خط کا سانچہ وہی ہے جو دفتری خطوط کا ہوتا ہے۔

یہ وہ خطوط ہیں جو اخبار کے قاری اخبار کے ایڈیٹر کو لکھتے ہیں۔ ان خطوط کے موضوعات معین نہیں ہیں۔ ملک کے سیاسی حالات معاشی مسائل، بلدی مسائل اور مختلف محکموں کی کار کردگی کے بارے میں تعریفی یا شکایتی مراسلے لکھے جاتے ہیں۔ خط کے آغاز میں ایڈیٹر کو مخاطب کیا جاتا ہے۔ مراسلے کے موضوع کے لحاظ سے ایڈیٹر اس پر کوئی عنوان لگا دیتے ہیں۔ القاب ، مکرمی ایڈیٹر صاحب کے بعد آداب تسلیم، تسلیمات، آداب عرض ہے، لکھے جاتے ہیں۔

ادبی، علمی، تہذیبی اور تاریخی اعتبار سے ادیبوں اور دانش وروں کے خطوط بہت اہم ہیں۔ ادیبوں کے خطوط سے ان کی زندگی کے حالات، ان کی شخصیت، ان کے دور کی تہذیبی، معاشرتی اور سیاسی زندگی کے بارے میں معلومات ملتی ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ زندگی کے بارے میں ان کے خیالات کیا تھے۔ اس کے علاوہ ان خطوط سے ان کی شعری اور ادبی تخلیقات کو سمجھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ عالموں اور دانش وروں کے خطوط کے ذریعے جہاں مختلف علمی مسائل پر ان کے خیالات اور تبصروں سے معلومات بڑھتی ہیں وہیں ان سے اجتماعی زندگی کے مختلف شعبوں کی بہتری اور ترقی میں رہنمائی بھی ملتی ہے۔ ادیبوں، شاعروں، عالموں اور دانش وروں کے خطوط خاص ادبی اہمیت رکھتے ہیں۔ انھیں اصنافِ ادب میں جگہ دی جا سکتی ہے اور ادب کے نمونے کے طور پر ان کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ اُردو میں ایسے خطوط کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ جن ادیبوں شاعروں اور دانشوروں نے اس صنفِ ادب میں قیمتی اضافہ کیا ہے ان میں چند قابلِ ذکر نام یہ ہیں۔ مرزا غالب، سرسید احمد خاں، الطاف حسین حالی، شبلی نعمانی، محمد حسین آزاد، نذیر احمد، مہدی افادی، مولانا محمد علی، ابوالکلام آزاد، اقبال عبد الرحمن بجنوری، نیاز فتح پوری، خواجہ حسن نظامی، اکبر الہ آبادی، امیر مینائی، شاد عظیم آبادی، امتیاز علی تاج، فراق گورکھپوری، جوش ملیح آبادی، جگر مراد آبادی، فیض احمد فیض و غیرہ۔

قدیم زمانے میں خطوط نہایت پر تکلف ہوتے تھے۔ مکتوب الیہ کے القاب و آداب مبالغے کے ساتھ تحریر کیے جاتے تھے۔ مرضع مسیح عبارت آرائی میں نفس مضمون کہیں گم ہو کر رہ جاتا تھا۔ مرزا غالب نے مکتوب نگاری کے روایتی طریقوں کو بدلا۔ انھوں نے فارسی خط و کتابت کے لیے مندرجہ ذیل اصول پیش کیے۔

خط کے شروع میں مکتوب الیہ کو اس کے مرتبے اور اس سے ذاتی تعلق کو ملحوظ رکھتے ہوئے مخاطب کیا جائے۔

القاب و آداب مختصر ہوں اور رسمی طور پر اپنی خیریت کی اطلاع دینے اور مکتوب الیہ کی خیریت طلبی سے گریز کیا جائے۔

اس کی کوشش کرنی چاہیے کہ تحریر میں باہمی گفتگو اور مکالمے کا انداز پیدا ہو۔

خط میں جو بھی باتیں بیان کرنی ہوں انھیں سلیقے سے ترتیب دیا جائے۔

الفاظ اور عبارت پیچیدہ نہ ہو جس سے مطلب سمجھنے میں مشکل ہو۔

زبان کی صحت اور خوبی کا خیال رکھیں۔ ایک ہی لفظ کو بار بار نہ دہرائیں۔ بے جا طوالت سے بچنا چاہیے۔

مخاطبت کے علاوہ عبارت میں بھی مکتوب الیہ کے مرتبے کا خیال رکھا جائے۔ غالب نے فارسی مکتوب نگاری کے جو اصول بیان کیے ہیں وہ اُردو خطوط کے لیے بھی مناسب ہیں۔ غالب نے اپنے اُردو خطوط میں بھی ان اصولوں کو برتا ہے۔

This post explains the definition, importance, and art of Letter writing (Maktub Nigari) in Urdu literature. It discusses the meaning of letters, their parts, types, and literary value, especially personal and literary letters. The post also highlights famous Urdu writers and poets who enriched this genre and outlines the basic principles of good letter writing.