ملا وجہی کا تعارف
تعارف
داستان اردو ادب کی ایک اہم صنف ہے۔ اس کا تعلق کہانی والے ادب (افسانوی ادب) سے ہے۔ داستانیں نظم میں بھی لکھی گئی ہیں اور نثر میں بھی۔ اردو میں سب سے پہلے منظوم داستانیں لکھی گئیں، جو مثنوی کی صورت میں ہیں۔ ان کی شروعات دکنی مثنویوں سے ہوئی۔ اردو کی پہلی مثنوی نظامی بیدری کی کدم راؤ پدم راؤ اصل میں ایک داستانی مثنوی ہے۔ منظوم داستانوں کی طرح نثری داستانوں کی شروعات بھی دکنی زبان میں ہوئی۔ اردو کی پہلی نثری داستان سب رس ہے، جو گولکنڈے کی قطب شاہی سلطنت کے ملک الشعراء وجہی کی لکھی ہوئی کتاب ہے۔
ملا وجہی کے سوانح حالات
ملا وجہی دکنی کا ایک بڑا شاعر اور نثر لکھنے والا تھا۔ وہ گولکنڈے کی قطب شاہی سلطنت کے پانچویں حکمران سلطان محمد قلی قطب شاہ کا درباری شاعر تھا اور ملک الشعرا کے عہدے پر مقرر تھا۔ لیکن افسوس کہ دکنی کے بہت سے شاعروں کی طرح اس کی زندگی کے حالات بھی واضح نہیں ہیں، کیونکہ اس زمانے میں شعرا کے حالات اور ادبی تاریخ لکھنے کا رواج نہیں تھا۔ وجہی کی پیدائش اور وفات کا سال بھی معلوم نہیں ہو سکا۔ محققین کا اندازہ ہے کہ وہ سلطان ابراہیم قطب شاہ کے دور (1550 تا 1580) میں پیدا ہوا۔ اس بارے میں ڈاکٹر سید محی الدین قادری زور لکھتے ہیں
وجہی نے ابراہیم قطب شاہ (950ھ تا 988ھ ) کا زمانہ دیکھا تھا اور ممکن ہے اسی وقت سے شاعری بھی شروع کر دی ہو کیوں کہ قطب مشتری [ مثنوی ] بالکل وضاحت کے ساتھ ثابت کرتی ہے کہ اس کا مصنف ایک مشاق اور مشہور شاعر ہے۔ اگر ابراہیم کی وفات اور محمد قلی کی تخت نشینی (988ھ) کے وقت اس کی عمر پندرہ (15) سال کی فرض کی جائے تو قطب مشتری کی تصنیف کے وقت ( یعنی 1018ھ میں ) وہ پینتالیس (45) سال کا اور سب رس کی تصنیف کے وقت (1045ھ میں ) بہتر (72) سال کا تھا۔ (اردو شہ پارے ، ص 89)
اس لحاظ سے وجہی کا سنہ پیدائش 973 ھ مانا جاتا ہے، لیکن یہ صرف اندازہ ہے، پکا ثبوت نہیں۔ کوئی مضبوط دلیل موجود نہ ہونے کی وجہ سے مختلف محققین نے وجہی کی پیدائش کا وقت الگ الگ بتایا ہے۔ چنانچہ نصیر الدین ہاشمی لکھتے ہیں
اگر 988ھ میں (یعنی محمد قطب شاہ کی تخت نشینی کے وقت ) اس کی وجہی کی عمر پچیس (25) سال قرار دی جائے تو 1045ھ میں (یعنی سب رس کی تصنیف کے وقت ( 82 سال ہوتے ہیں۔ یہ کوئی ایسی عمر نہیں جو غیر ممکن ہو ۔ ( یورپ میں دکنی مخطوطات ، ص 28)
ایک لمبے عرصے تک اردو ادب کی دنیا وجہی کے اصل نام سے بھی واقف نہیں تھی۔ وہ اپنے تخلص ہی سے پہچانا جاتا تھا۔ محمد سخاوت مرزا نے وجہی کے فارسی دیوان میں شامل ایک غزل کے شعر کی بنیاد پر بتایا کہ وجہی کا اصل نام اسد اللہ ہے۔ شعر یہ ہے
اسمم اسد الله وجهہ است تخلص
آرائش د کانچہ بازار کلام است
میرا نام اسد اللہ اور تخلص وجہ یہ ہے جو شاعری کے بازار کی دکان کی زینت ہے۔
وجہی کی شاعری میں اس کے تخلص کی کئی صورتیں ملتی ہیں۔ مثنوی قطب مشتری میں وہ اپنا تخلص وجہی اور وجیہی لکھتا ہے۔ فارسی دیوان میں وجہی اور وجیبی کے علاوہ وجہیہ، وجہ اور وجیہا بھی بطور تخلص استعمال کیا ہے۔
اس کے بعد اختر حسن (ایم۔ اے) نے کتب خانہ سالار جنگ میوزیم (حیدرآباد) میں محفوظ وجہی کے فارسی دیوان کے مخطوطے کا مطالعہ کر کے دیوان کے اندر موجود دلائل سے اس کے بارے میں کچھ نئی باتیں معلوم کیں۔ اس دیوان سے پتا چلتا ہے کہ دکنی کے اس مشہور شاعر اور خاص انداز کے نثر نگار کا نام وجیہہ الدین یا وجہ الدین نہیں تھا، جیسا کہ بعض محققین اندازہ لگاتے رہے تھے، بلکہ اسد اللہ تھا۔ فارسی دیوان کے کچھ اشعار میں وجہی نے اپنے آبائی وطن کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ ایک شعر میں وہ کہتا ہے کہ میں تو ہندوستان میں پیدا ہوا ہوں، لیکن میری صاف طبیعت خراسان سے تعلق رکھتی ہے۔
من ز ہند آشکار گشتم لیک
طبع پاک من از خراسان است
یعنی میں تو ہندوستان میں ہوں مجھے خراساں سے کیا مطلب؟ وجہی کا وطن تانگا نہ تھا۔ اسے تلنگانہ سے بڑی محبت تھی ۔ مثنوی قطب مشتری میں اس نے بڑے والہانہ انداز میں تلنگانہ کی تعریف کی ہے۔ لکھتا ہے
دکھن سا نہیں ٹھار سنسار میں
پیچ فاضلاں کا ہے اس ٹھار میں
دکھن ہے نگینہ انگوٹھی ہے جگ
انگوٹھی کوں حرمت نگینہ ہے لگ
دکھن ملک کوں دھن عجب ساج ہے
کہ سب ملک سر ہور دکھن تاج ہے
دکھن ملک بھو تیچ خاصہ اہے
تلگانہ اس کا خلاصہ اہے
وجہی کی تصانیف کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے زمانے کا بڑا عالم و فاضل اور سمجھدار انسان تھا۔ اسلامی علوم، قرآن، حدیث اور تصوف وغیرہ میں اچھی معلومات رکھتا تھا۔ عربی کے علاوہ اسے فارسی زبان پر بھی پوری مہارت حاصل تھی۔ چونکہ فارسی اس کے آباواجداد کی زبان تھی، اس لیے وہ فارسی شعر و ادب کی باریک باتوں اور اہم نکات سے اچھی طرح واقف تھا۔ اپنی شاعری میں اس نے فارسی کے بڑے شعرا جیسے حافظ شیرازی، امیر خسرو، خاقانی، خواجہ حسن سجزی، کمال نجندی وغیرہ کو محبت اور احترام سے یاد کیا ہے۔ عربی اور فارسی کے ساتھ ساتھ وجہی کو دکنی زبان پر بھی مکمل عبور تھا۔ وہ دکنی زبان، گوالیری (برج بھاشا) اور زبانِ ہندوستاں میں فرق کرتا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ شمالی ہند کی کچھ بولیوں سے بھی واقف تھا۔ اس کے علم و فضل کی وجہ سے بعد کے زمانے کی تاریخوں میں اسے “ملا” کے عزت والے لقب سے یاد کیا گیا ہے۔
وجہی نے جب دکنی زبان میں شاعری شروع کی تو اس وقت گولکنڈے میں فیروز محمود اور ملا خیالی جیسے پہلے سے موجود بڑے اساتذۂ سخن مشہور تھے، لیکن وجہی نے شاعری میں شاید کسی استاد کے سامنے شاگردی اختیار نہیں کی۔ وہ شاعری میں کسی کو اپنا استاد نہیں مانتا تھا۔ البتہ اس نے مثنوی قطب مشتری کے شروع کے حصے میں گولکنڈے کے دو اساتذہ خشن فیروز اور محمود کی خوبیوں کو مانا ہے، جو اُس وقت زندہ نہیں تھے۔
وجہی کو اپنے علم، عقل، خیال اور فن پر بہت فخر تھا، جو بعض اوقات غرور تک پہنچ جاتا تھا۔ جس زمانے میں اس کی شاعری پروان چڑھی، اس وقت گولکنڈے میں دکنی زبان میں شاعری کا شوق عام ہو رہا تھا اور کئی اچھے شاعر بھی پیدا ہو چکے تھے، لیکن وجہی کسی کو اہمیت نہیں دیتا تھا بلکہ سب کو اپنے سے کم سمجھتا تھا۔ اس نے اپنی شعری اور نثری کتابوں میں دوسرے شاعروں پر تنقید کی ہے اور کھل کر اپنی تعریف اور بڑائی بیان کی ہے۔ اپنی شاعری کی تعریف کرتے ہوئے وہ فخر سے کہتا ہے۔
نہ نیچے نہ پیچھیا ہے گن گیان میں
سو طوطی منج ایسا ہندوستان میں
کہ باتاں یوسن کر میری گیان کیاں
رھیاں تھک ہو قمریاں خراسان کیاں
جتے شاعراں شاعر ہو آئیں گے
سو منبج تے طرز شعر کا پائیں گے
اگرچہ وجہی نے اپنے زمانے کے زیادہ تر شعرا کو کم تر سمجھا اور ان پر طنز کے تیر چلائے، لیکن کچھ اشعار سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا خاص نشانہ غواصی تھا، جو اس سے کم عمر ہم عصر تھا۔ مگر سلطان محمد قلی قطب شاہ کے دور ہی سے وہ ایک شاعر کے طور پر نمایاں ہونے لگا تھا۔ وجہی اس کی شاعری کی طاقت اور بڑھتی ہوئی شہرت سے بے خبر نہیں تھا۔ اسے ڈر تھا کہ غواصی جلد ہی اس کی برابری کا دعویٰ کرے گا۔ اس کا یہ ڈر صحیح ثابت ہوا، کیونکہ محمد قلی قطب شاہ کے بعد غواصی نے آہستہ آہستہ وجہی کی جگہ حاصل کر لی۔ ذیل کے اشعار میں وجہی نے اشارے اور کنایے کے انداز میں غواصی پر تنقید کی ہے۔
اگر غو طے لک برس غواص کھاے
تو یک گو ہر اس دھات امولک نہ پائے
قطب شاہی دربار سے وابستگی کے حوالے سے وجہی کی زندگی کو تین ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا دور محمد قلی قطب شاہ کے عہد سے تعلق رکھتا ہے۔ جب ایک شاعر کی حیثیت سے اس کی شہرت اپنے عروج پر تھی۔ وہ محمد قلی کے دربار کا سب سے بڑا شاعر اور سلطنت گولکنڈے کا ملک الشعر اتھا۔ اس دور میں اسے خوش حالی اور بے فکری حاصل تھی۔ اسے آرام اور عیش کے تمام سامان میسر تھے۔ اپنے مربی و سر پرست محمد قلی کی طرح وہ بھی خوش مزاج اور عیش پسند تھا۔ اس دور میں وجہی کی زندگی شاعری، خوبصورت لڑکوں کی صحبت اور شراب نوشی میں گزری لیکن محمد قلی کے انتقال (1020ھ مطابق 1612ء) کے بعد محمد قطب شاہ اس کا جانشین ہوا جو بہت دیندار، متقی اور پرہیزگار تھا۔ اسے شعرا سے زیادہ علما کی صحبت پسند تھی۔ اس نے راگ رنگ اور رقص و سرود کی محفلوں اور شراب نوشی پر پابندی لگا دی۔ محمد قطب شاہ جیسے شریعت کے پابند حکمراں کے ساتھ وجہی جیسے آزاد مزاج انسان کا تعلق زیادہ دن تک برقرار نہیں رہ سکا۔ وجہی کے فارسی دیوان سے پتہ چلتا ہے کہ بعض حاسدوں اور دشمنوں نے محمد قطب شاہ سے وجہی کی شکایت کی، جس کے نتیجے میں وہ بادشاہ کے غضب کا شکار ہو گیا۔ دربار سے اس کا تعلق ختم ہو گیا۔ غرض محمد قطب شاہ کا عہد حکومت وجہی کے لیے سخت تکلیفوں اور پریشانیوں کا دور ثابت ہوا۔ اس تمام مدت کے دوران وہ گمنامی میں رہا۔ شاہی سر پرستی سے محرومی کی وجہ سے اس کی زندگی غربت اور تنگ دستی میں گزرنے لگی حتیٰ کہ فاقوں کی نوبت آ گئی۔ دیوان فارسی میں اس نے خود پر گزرنے والے تین تین دن کے فاقوں کا ذکر کیا ہے۔
کس نیست کہ یک پارچہ نا نے بدہد
از گرسنگی جاں بلب آمد چہ کنم
( کوئی نہیں کہ جو مجھے روٹی کا ایک ٹکڑا دے۔ بھوک کی شدت سے جان ہونٹوں پر آگئی ہے، کیا کروں ۔ )
تنگ دستی اور فاقہ کشی سے گھبرا کر کبھی اسے اپنا مذہب بدلنے کا خیال آتا ہے اور کبھی وہ دکن چھوڑ کر کسی اور علاقے میں جانے کا ارادہ کرتا ہے۔ شدید مایوسی اور غم و غصے کی حالت میں اس نے بادشاہِ وقت کو برا بھلا کہا اور طنزیہ اشعار لکھے۔ وجہی کی تکلیفوں کا سلسلہ اس وقت ختم ہوا جب 1035ھ مطابق 1626ء میں محمد قطب شاہ کا انتقال ہوا اور سلطان عبداللہ قطب شاہ تخت نشین ہوا۔ یہاں سے وجہی کی درباری زندگی کا تیسرا دور شروع ہوتا ہے۔ عبداللہ قطب شاہ اپنے نانا محمد قلی قطب شاہ کی طرح شاہد و شراب اور شعر و سرود کی محفلوں کا شوقین تھا۔ اس کے عہد میں وجہی کے حالات بہتر ہو گئے۔ شاہی دربار سے اس کا تعلق دوبارہ قائم ہو گیا۔ عبداللہ قطب شاہ نے وجہی کو دربار میں آنے کی اجازت دی اور اس کی عزت و مقام واپس کر دیا۔ بادشاہ کی مہربانیوں سے وجہی کو خوش حالی اور دولت حاصل ہو گئی۔ چنانچہ فارسی دیوان کے ایک شعر میں وجہی کہتا ہے۔
نشنیده وجیہہ گدائی گذاشتم
گشتم تو نگر از کرم بادشاه نو
وجہی کے نام اور تصانیف کی اندرونی باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شیعہ مسلک کا پیرو تھا۔ کتب خانہ ادارہ ادبیات اردو میں محفوظ وجہی کی تصنیف ”سب رس“ کے مخطوطے (مکتوبہ 1183 فصلی) کے آخر میں لکھے ہوئے نوٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وجہی چشتیہ سلسلے میں مرید تھا۔ اسے شاہ علی متقی سے بیعت حاصل تھی۔ شاہ علی متقی کے پیر میاں شاہ باز تھے۔ وجہی اپنے زمانے کا بہت بڑا شاعر اور ادیب تھا۔ اس کے ہم عصر اور بعد کے زمانے کے شاعروں نے اس کی شاعری کی مہارت اور فن کی خوبی کو مانا ہے۔ غواصی، باہمی مقابلہ کے باوجود، ایک قصیدے میں عبداللہ قطب شاہ کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ دکن کے شاعروں میں غواصی اور وجہی جو تیرے دربار سے وابستہ ہیں، حاضر جواب اور فوراً شعر کہنے والے شاعر ہیں۔
اس دکھن کے شاعراں میں تجہ شیشہ کے نزیک
ہے غواصی ہور وجہی شاعر حاضر جواب
اسی طرح شاه افضل قادری ( مصنف مثنوی محی الدین نامہ ) نے اپنے ایک قصیدہ میں ، جو عبداللہ قطب شاہ کی مدح میں ہے ، ضمنا وجہی کا ذکر کرتے ہوئے اس کی شاعرانہ صلاحیتوں کو اس طرح سراہا ہے
تجھ ایسے شاہ کو ہونا س وجہی سار کا شاعر
نیٹ عاقل، نیٹ کامل، نیٹ گیانی، نیٹ گٹھر
وجہی نے لمبی عمر پائی۔ اس نے قطب شاہی خاندان کے چار بادشاہوں کا زمانہ دیکھا لیکن سنہ ولادت کی طرح اس کا سنہ وفات بھی معلوم نہیں ہے۔ تاہم وجہی کے ہم عصر اور بعد کے زمانے کے بعض شعرا کی مثنویوں کے اندرونی اشاروں کی روشنی میں وجہی کے سنہ وفات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ دکنی شاعر ابن نشاطی نے 1066ھ میں مثنوی ’پھول بن‘ لکھی، جس میں ان تمام اساتذۂ سخن کو یاد کیا ہے جو وفات پا چکے تھے۔ ان میں وجہی کا نام نہیں ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وجہی 1066ھ میں زندہ تھا۔ ایک اور دکنی شاعر طبعی نے 1081ھ میں مثنوی ’بہرام و گل اندام‘ لکھی۔ اس میں وہ وجہی کے نہ ہونے پر افسوس کرتے ہوئے اسے خواب میں دیکھنے کا ذکر کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وجہی 1081ھ تک وفات پا چکا تھا۔ اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ وجہی نے 1066ھ اور 1081ھ کے درمیان وفات پائی۔ ڈاکٹر زور کا خیال ہے کہ وجہی کا انتقال 1070ھ کے قریب ہوا۔
اردارہ ادبیات اردو، حیدر آباد میں محفوظ سب رس کے ایک مخطوطے مکتوبہ 1196ھ کے ترقیمے میں لکھا ہے کہ وجہی کی قبر حضرت برہنہ شاہ صاحب کی درگاہ (حیدر آباد) میں ہے لیکن اس کی نشاندہی نہیں ہو سکی۔
This post provides a concise overview of Mulla Wajhi, a prominent Dakhni poet and prose writer of the Qutb Shahi dynasty period, best known for writing Sab Ras, regarded as the first prose work of Urdu literature. It outlines his position as court poet under Muhammad Quli Qutb Shah, the hardships he faced during the reign of Muhammad Qutb Shah, and his restoration under Abdullah Qutb Shah. The post also discusses scholarly debates about his birth and death dates, his real name Asadullah, his mastery of Persian and Dakhni, his literary pride and rivalry with Ghawasi, and his lasting importance in the early development of Urdu literature.