NCERT Class 12 Urdu Grammar Chapter 1 – اردو قواعد اور انشاء

درج ذیل عبارت کو غور سے پڑھیے

حامد، شاہد اور موہن دہلی کا لال قلعہ دیکھنے گئے۔ دہلی کی تاریخی عمارتوں میں لال قلعہ، قطب مینار، جامع مسجد اور پرانا قلعہ بہت مشہور ہیں۔ لال قلعہ مغل بادشاہ شاہ جہاں نے بنوایا تھا۔ یہ قلعہ لال پتھر کا بنا ہوا ہے۔ تینوں لڑکوں نے ٹکٹ خریدے اور قلعے کے اندر گئے۔ قلعے میں کئی عمارتیں بنی ہوئی ہیں لیکن موتی مسجد کی خوبصورتی کا کوئی جواب نہیں۔ اسے دیکھ کر لڑکوں کو بہت خوشی ہوئی ۔

آپ نے دیکھا، اس عبارت کے پہلے جملے میں پانچ نام آئے ہیں۔ حامد، شاہد اور موہن اشخاص کے نام ہیں جب کہ دہلی اور لال قلعہ جگہ کے نام ہیں۔ ان کے علاوہ پتھر اور ٹکٹ بھی کسی چیز کے نام ہیں، آخری جملے میں خوشی ایک کیفیت کا نام ہے۔

اوپر دی ہوئی عبارت میں حامد، شاہد اور موہن تینوں کو لڑکوں کہا گیا ہے۔ اسی طرح لال قلعہ، قطب مینار، جامع مسجد اور پرانے قلعے کے لیے عمارت کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ۔

لڑکا اور عمارت ایسے نام ہیں جو ہر لڑکے اور ہر عمارت کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔

حامد، شاہد ، موہن، لال قلعہ، موتی مسجد ، دہلی ، لڑکوں ، عمارتوں اور جگہ کے خاص نام ہیں۔ حامد، شاہد یا موہن کے نام سے کسی اور کو نہیں پکارا جا سکتا ۔ اسی طرح ہر قلعہ، ہر شہر اور ہر مسجد کو نہ تو لال قلعہ کہا جا سکتا ہے نہ موتی مسجد نہ دہلی ۔

دنیا کے ہر شخص کو اس کے نام سے پکارا جاتا ہے لیکن بعض لوگ ایسے بھی ہیں جنھیں اُن کے اصل نام کے علاوہ دوسرے نام ، خطاب یا لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔

نیچے دیے ہوئے جملوں سے یہ بات آسانی سے سمجھ میں آجائے گی

ان جملوں میں سروجنی نائیڈو کے لیے بلبل ہنڈ اور سچن تندولکر کے لیے ماسٹر بلاسٹر کے نام ان کے لقب کے طور پر استعمال کیے گئے ہیں۔ لقب اسم خاص کی ایک قسم ہے۔

اس کی مزید مثالیں ہیں  بابائے اردو (مولوی عبدالحق ) ، حکیم الامت (اقبال)، شاعر انقلاب (جوش)

خدائے سخن (میر)، مصورغم ( راشد الخیری ) وغیرہ۔

مثلاً  بھارت رتن، پدم بھوشن ، پدم شری ، نجم الدولہ، دبیر الملک، خان بہادر، شمس العلماء ۔ مخلص بھی اسم خاص کی ایک قسم ہے۔

اس طرح کے نام کو مخلص ، کہتے ہیں جیسے خواجہ میر کا مخلص درد، شیخ محمد ابراہیم کا تخلص ذوق اور الطاف حسین کا تخلص حالی ۔

آپ نے اوپر لکھے ہوئے جملے میں ابنِ مریم پڑھا۔

حضرت عیسی کو ان کی والدہ کے نام کی مناسبت سے ابن مریم یعنی مریم کا بیٹا کہا جاتا ہے۔

ان قسموں کو سمجھنے کے لیے نیچے دی ہوئی عبارت پڑھیے۔

حامدہ نے اپنی بیٹی سے لوٹا مانگا۔ وہ لٹیا لے آئی۔ دادی نے حامدہ سے کہا کہ ننھے کے سامنے کٹورا، کٹوری اور گھنٹی رکھ دو۔ وہ کھیلتا رہے گا۔ اس کے آگے چاقو، قلم اور کنگھا رکھا ہے۔ ان چیزوں کو اٹھا لو۔ دادا نے نتھے کو بہلانے کے لیے میاؤں میاؤں ، غڑغوں اور ککڑوکوں وغیرہ کی آوازیں نکالیں ۔ دادی نے حامدہ سے پوچھا۔ دو پہر ہوگئی۔ زینب اب تک اسکول سے گھر نہیں آئی۔ وہ صبح سے بھوکی پیاسی ہوگی ۔

اس عبارت میں آپ نے کئی چیزوں کے نام پڑھے۔ جیسے لوٹا، لٹیا ، کٹورا، کٹوری، چاقو، قلم، میاؤں میاؤں، دو پہر، صبح، اسکول، گھر وغیرہ ۔ یہ سب اسم عام ہیں لیکن اپنی خصوصیت کے اعتبار سے ان کی الگ الگ قسمیں ہیں۔

جیسے صندوق سے صندوقچہ ، باغ سے باغیچہ ، کتاب سے کتابچہ وغیرہ۔

جیسے چاقو، قلم، تلوار، بیچ کس، ہتھوڑا ، چھینی اور کنگھا وغیرہ۔

جیسے  میاؤں میاؤں ، ککڑوکوں ، ٹرٹر ، غٹرغوں، چوں چوں ، کھٹ کھٹ ، چھن چھن وغیرہ۔

جیسے گھر، کتب خانہ، چوراہا، اسکول، صبح ، دو پہر، شام وغیرہ۔

جیسے عیدگاہ، اسکول، کتب خانہ وغیرہ۔

جیسے  سبح، دوپہر ، مل، پرسوں وغیرہ۔

جواب ۔ کسی شخص، جگہ، چیز اور کیفیت کے نام کو اسم کہتے ہیں۔

جواب ۔ کسی عام شخص، عام جگہ اور عام چیز کے نام کو اسم عام کہتے ہیں، جبکہ کسی خاص شخص، خاص جگہ اور خاص چیز کے نام کو اسم خاص کہتے ہیں۔

جواب ۔ وہ نام جو کسی شخص کی خوبی یا کمال کی وجہ سے مشہور ہو گیا ہو، اسے لقب کہتے ہیں، جیسے سچن تندولکر کو ماسٹر بلاسٹر کہا جاتا ہے۔

جواب ۔ وہ لفظ جو کسی ہتھیار، اوزار یا آلہ کا نام ظاہر کرے، اسے اسم آلہ کہتے ہیں، جیسے چاقو اور قلم۔

جواب ۔ اسم ظرف کی دو قسمیں ہیں اسم ظرف مکاں اور اسم ظرف زماں۔ جو لفظ کسی جگہ کے نام کو ظاہر کرے وہ اسم ظرف مکاں کہلاتا ہے اور جو لفظ وقت کا پتا دے وہ اسم ظرف زماں کہلاتا ہے۔

This post explains NCERT Class 12 Urdu Grammar Chapter 1 (Urdu Qawaid aur Insha) with a clear introduction to Ism (Noun). It covers the definition of nouns and their main types, including Ism Aam (Common Noun) and Ism Khaas (Proper Noun). The lesson also explains important forms such as Laqab (title), Khitaab (honorary title), Takhallus (Pen Name), and Kunniyat with simple examples. In addition, it introduces various types of common nouns, including Ism Mukabbir, Ism Musagghar, Ism Aala, Ism Saut, and Ism Zarf, as well as Ism Zarf Makaan and Ism Zarf Zamaan. The content is written in simple language and is useful for students to understand basic Urdu grammar concepts and for exam preparation.