اسم
اسم ۔ کسی شخص ، جگہ، چیز اور کیفیت کے نام کو اسم کہتے ہیں ۔
درج ذیل عبارت کو غور سے پڑھیے
حامد، شاہد اور موہن دہلی کا لال قلعہ دیکھنے گئے۔ دہلی کی تاریخی عمارتوں میں لال قلعہ، قطب مینار، جامع مسجد اور پرانا قلعہ بہت مشہور ہیں۔ لال قلعہ مغل بادشاہ شاہ جہاں نے بنوایا تھا۔ یہ قلعہ لال پتھر کا بنا ہوا ہے۔ تینوں لڑکوں نے ٹکٹ خریدے اور قلعے کے اندر گئے۔ قلعے میں کئی عمارتیں بنی ہوئی ہیں لیکن موتی مسجد کی خوبصورتی کا کوئی جواب نہیں۔ اسے دیکھ کر لڑکوں کو بہت خوشی ہوئی ۔
آپ نے دیکھا، اس عبارت کے پہلے جملے میں پانچ نام آئے ہیں۔ حامد، شاہد اور موہن اشخاص کے نام ہیں جب کہ دہلی اور لال قلعہ جگہ کے نام ہیں۔ ان کے علاوہ پتھر اور ٹکٹ بھی کسی چیز کے نام ہیں، آخری جملے میں خوشی ایک کیفیت کا نام ہے۔
اوپر دی ہوئی عبارت میں حامد، شاہد اور موہن تینوں کو لڑکوں کہا گیا ہے۔ اسی طرح لال قلعہ، قطب مینار، جامع مسجد اور پرانے قلعے کے لیے عمارت کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ۔
لڑکا اور عمارت ایسے نام ہیں جو ہر لڑکے اور ہر عمارت کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔
حامد، شاہد ، موہن، لال قلعہ، موتی مسجد ، دہلی ، لڑکوں ، عمارتوں اور جگہ کے خاص نام ہیں۔ حامد، شاہد یا موہن کے نام سے کسی اور کو نہیں پکارا جا سکتا ۔ اسی طرح ہر قلعہ، ہر شہر اور ہر مسجد کو نہ تو لال قلعہ کہا جا سکتا ہے نہ موتی مسجد نہ دہلی ۔
کسی عام شخص، عام جگہ اور عام چیز کے نام کو اسم عام کہتے ہیں۔ اسم عام کو نکرہ بھی کہا جاتا ہے۔
کسی خاص شخص، خاص جگہ اور خاص چیز کے نام کو اسم خاص کہتے ہیں۔ اسم خاص کو اسم معرفہ بھی کہا جاتا ہے۔
دنیا کے ہر شخص کو اس کے نام سے پکارا جاتا ہے لیکن بعض لوگ ایسے بھی ہیں جنھیں اُن کے اصل نام کے علاوہ دوسرے نام ، خطاب یا لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔
نیچے دیے ہوئے جملوں سے یہ بات آسانی سے سمجھ میں آجائے گی
مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام محی الدین احمد ہے۔
سروجنی نائیڈو کو بلبل ہند کہا جاتا ہے۔
سچن تندولکر کو ان کی شاندار بلے بازی کی وجہ سے انھیں ماسٹر بلاسٹر کے نام سے پکارا جاتا ہے۔
رگھوپتی سہائ اردوادب میں فراق گورھپوری کےنام سے جانے جاتے ہیں۔
حضرت عیسی کو ابنِ مریم بھی کہا جاتا ہے۔
ان جملوں میں سروجنی نائیڈو کے لیے بلبل ہنڈ اور سچن تندولکر کے لیے ماسٹر بلاسٹر کے نام ان کے لقب کے طور پر استعمال کیے گئے ہیں۔ لقب اسم خاص کی ایک قسم ہے۔
وہ نام جو کسی شخص کی خوبی یا کمال کی وجہ سے مشہور ہو گیا ہو، اسے لقب کہتے ہیں۔
اس کی مزید مثالیں ہیں بابائے اردو (مولوی عبدالحق ) ، حکیم الامت (اقبال)، شاعر انقلاب (جوش)
خدائے سخن (میر)، مصورغم ( راشد الخیری ) وغیرہ۔
خطاب بھی اسم خاص کی ایک قسم ہے۔
وہ نام جو نمایاں خدمات کے لیے حکومت یا کسی ادارے کی طرف سے کسی شخص کو دیا جائے، اسے خطاب کہتے ہیں۔
مثلاً بھارت رتن، پدم بھوشن ، پدم شری ، نجم الدولہ، دبیر الملک، خان بہادر، شمس العلماء ۔ مخلص بھی اسم خاص کی ایک قسم ہے۔
اکثر شاعروں کا اپنے نام کے علاوہ ایک اور نام بھی ہوتا ہے، جسے وہ اپنی شاعری میں استعمال کرتے ہیں۔
اس طرح کے نام کو مخلص ، کہتے ہیں جیسے خواجہ میر کا مخلص درد، شیخ محمد ابراہیم کا تخلص ذوق اور الطاف حسین کا تخلص حالی ۔
آپ نے اوپر لکھے ہوئے جملے میں ابنِ مریم پڑھا۔
حضرت عیسی کو ان کی والدہ کے نام کی مناسبت سے ابن مریم یعنی مریم کا بیٹا کہا جاتا ہے۔
وطن، ماں، باپ اور خاندان کے تعلق سے جو نام مشہور ہو جاتے ہیں انھیں کنیت کہتے ہیں۔ یہ اسم خاص کی ایک قسم ہے۔
اسم خاص کی طرح اسم عام کی بھی قسمیں ہیں۔
ان قسموں کو سمجھنے کے لیے نیچے دی ہوئی عبارت پڑھیے۔
حامدہ نے اپنی بیٹی سے لوٹا مانگا۔ وہ لٹیا لے آئی۔ دادی نے حامدہ سے کہا کہ ننھے کے سامنے کٹورا، کٹوری اور گھنٹی رکھ دو۔ وہ کھیلتا رہے گا۔ اس کے آگے چاقو، قلم اور کنگھا رکھا ہے۔ ان چیزوں کو اٹھا لو۔ دادا نے نتھے کو بہلانے کے لیے میاؤں میاؤں ، غڑغوں اور ککڑوکوں وغیرہ کی آوازیں نکالیں ۔ دادی نے حامدہ سے پوچھا۔ دو پہر ہوگئی۔ زینب اب تک اسکول سے گھر نہیں آئی۔ وہ صبح سے بھوکی پیاسی ہوگی ۔
اس عبارت میں آپ نے کئی چیزوں کے نام پڑھے۔ جیسے لوٹا، لٹیا ، کٹورا، کٹوری، چاقو، قلم، میاؤں میاؤں، دو پہر، صبح، اسکول، گھر وغیرہ ۔ یہ سب اسم عام ہیں لیکن اپنی خصوصیت کے اعتبار سے ان کی الگ الگ قسمیں ہیں۔
وہ لفظ جو کسی چیز کو بڑا یا بھاری بھر کم کر کے ظاہر کرے، اسے اسم مکبر کہتے ہیں۔
جیسے لٹیا سے لوٹا، پتیلی سے پتیلا ، کٹوری سے کٹورا گھنٹی سے گھنٹہ وغیرہ۔
وہ لفظ جو کسی چیز کو چھوٹا کر کے ظاہر کرے ، اسے اسم مصغر کہتے ہیں۔
جیسے صندوق سے صندوقچہ ، باغ سے باغیچہ ، کتاب سے کتابچہ وغیرہ۔
وہ لفظ جو کسی ہتھیار، اوزار یا آلہ کا نام ظاہر کرے ، اسے اسم آلہ کہتے ہیں۔
جیسے چاقو، قلم، تلوار، بیچ کس، ہتھوڑا ، چھینی اور کنگھا وغیرہ۔
وہ لفظ جو کسی جاندار یا بے جان اشیا کی مخصوص آوازوں کو ظاہر کرے، اُسے اسم صوت کہتے ہیں۔
جیسے میاؤں میاؤں ، ککڑوکوں ، ٹرٹر ، غٹرغوں، چوں چوں ، کھٹ کھٹ ، چھن چھن وغیرہ۔
وہ لفظ جو کسی جگہ یا وقت کے نام کو ظاہر کرے، اسے اسم ظرف کہتے ہیں۔
جیسے گھر، کتب خانہ، چوراہا، اسکول، صبح ، دو پہر، شام وغیرہ۔
وہ لفظ جس سے کسی مقام کا علم ہو اسے اسم ظرف مکاں کہتے ہیں۔
جیسے عیدگاہ، اسکول، کتب خانہ وغیرہ۔
وہ لفظ جس سے وقت کا پتا لگے اُسے اسم ظرف زماں کہتے ہیں۔
جیسے سبح، دوپہر ، مل، پرسوں وغیرہ۔
سوال و جواب
سوال 1 ۔ اسم کسے کہتے ہیں؟
جواب ۔ کسی شخص، جگہ، چیز اور کیفیت کے نام کو اسم کہتے ہیں۔
سوال 2 ۔ اسم عام اور اسم خاص میں کیا فرق ہے؟
جواب ۔ کسی عام شخص، عام جگہ اور عام چیز کے نام کو اسم عام کہتے ہیں، جبکہ کسی خاص شخص، خاص جگہ اور خاص چیز کے نام کو اسم خاص کہتے ہیں۔
سوال 3 ۔ لقب کسے کہتے ہیں اور اس کی ایک مثال لکھئے؟
جواب ۔ وہ نام جو کسی شخص کی خوبی یا کمال کی وجہ سے مشہور ہو گیا ہو، اسے لقب کہتے ہیں، جیسے سچن تندولکر کو ماسٹر بلاسٹر کہا جاتا ہے۔
سوال 4 ۔ اسم آلہ کسے کہتے ہیں؟
جواب ۔ وہ لفظ جو کسی ہتھیار، اوزار یا آلہ کا نام ظاہر کرے، اسے اسم آلہ کہتے ہیں، جیسے چاقو اور قلم۔
سوال 5 ۔ اسم ظرف کی کتنی قسمیں ہیں اور ان کی وضاحت کیجیے؟
جواب ۔ اسم ظرف کی دو قسمیں ہیں اسم ظرف مکاں اور اسم ظرف زماں۔ جو لفظ کسی جگہ کے نام کو ظاہر کرے وہ اسم ظرف مکاں کہلاتا ہے اور جو لفظ وقت کا پتا دے وہ اسم ظرف زماں کہلاتا ہے۔
This post explains NCERT Class 12 Urdu Grammar Chapter 1 (Urdu Qawaid aur Insha) with a clear introduction to Ism (Noun). It covers the definition of nouns and their main types, including Ism Aam (Common Noun) and Ism Khaas (Proper Noun). The lesson also explains important forms such as Laqab (title), Khitaab (honorary title), Takhallus (Pen Name), and Kunniyat with simple examples. In addition, it introduces various types of common nouns, including Ism Mukabbir, Ism Musagghar, Ism Aala, Ism Saut, and Ism Zarf, as well as Ism Zarf Makaan and Ism Zarf Zamaan. The content is written in simple language and is useful for students to understand basic Urdu grammar concepts and for exam preparation.