رموز اوقاف
ذیل کی علامتوں کو دیکھیے اور ان کے معنی واہمیت پر غور کیجیے۔
| +، -، X، ÷، =، ✓ |
ان علامتوں کا ا استعمال حساب کے سوالات حل کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔
اسی طرح زیر، زبر، پیش، تشدید اور جزم وغیرہ اعراب ہیں۔ ان کا استعمال الفاظ کے تلفظ کے لیے کرتے ہیں۔ کچھ علامتیں ہم عبارت میں بھی استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے کہ عبارت میں جگہ جگہ ٹھہر نا بھی پڑتا ہے۔ کہیں لہجے کے اتار چڑھاؤ کے لحاظ سے آواز دھیمی یا تیز کرنی پڑتی ہے۔ کبھی وقفہ دینا یا لہجے کو تبدیل کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ اسی طرح کچھ علامتیں ہیں جو وقفوں یا لہجے کی تبدیلی کو ظاہر کرتی ہیں۔
وہ خاص علامتیں جو عبارت کو صحیح طور پر پڑھنے کے لیے ضروری ہوتی ہیں، انھیں رموز اوقافکہتے ہیں
نیچے دیئے گئے جملوں کو با آواز بلند پڑھیے۔
(الف)
میلے میں مرد عورتیں بچے اور بوڑھے سبھی موجود تھے
زبان خیالات کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے
اچانک موسم بدل گیا ٹھنڈی ہوا چلنے لگی بادل گھر آئے اندھیرا چھا گیا۔
تم دلّی کب آؤ گے
شاباش اسی طرح محنت کرتے رہو۔
چٹانوں کی کئی قسمیں ہیں تہ دار چٹانیں ، آتشیں چٹانیں وغیرہ۔
ننگے سرتر لوچن نے کسی قدر بوکھلا کر کہا میں ننگے سر نہیں جاؤں گا۔
انڈیا گیٹ دہلی میں ہے
(ب)
میلے میں مرد، عورتیں، بچے اور بوڑھے بھی موجود تھے۔
زبان، خیالات کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے۔
اچانک موسم بدل گیا، ٹھنڈی ہوا چلنے لگی، بادل گھر آئے ، اندھیرا چھا گیا۔
تم دلّی کب آؤ گے؟
شاباش! اسی طرح محنت کرتے رہو۔
چٹانوں کی کئی قسمیں ہیں ۔ تہہ دار چٹانیں، آتشیں چٹانیں و غیره۔
ننگے سر؟ تر لوچن نے کسی قدر بوکھلا کر کہا، ” میں ننگے سر نہیں جاؤں گا ۔“
انڈیا گیٹ دہلی میں ہے۔
ان جملوں کی روشنی میں اب غور کیجیے
ہر جملے کے آخر میں نشان (-) لگایا گیا ہے۔
وہ نشان جو جملے کے ختم ہونے پر لگاتے ہیں، اُسے ختمہ (-) کہتے ہیں ۔
جہاں بولتے یا لکھتے ہوئے کچھ مختلف چیزوں کا ذکر ہو تو ہر ایک کا نام لے کر تھوڑا ٹھہر نا چاہیے۔
کسی ایک لفظ یا فقرے کے بعد تھوڑا سا ٹھہرنے کے لیے جو علامت استعمال کی جاتی ہے، اُسے سکتہ ، کہتے ہیں ۔
جہاں ٹھہراؤ ذرا زیادہ ہوتا ہے۔
سکتے سے ذرا طویل ٹھہراؤ وقفہ ( ؛ ) کہلاتا ہے۔
کوئی بات کہہ کر اس سے متعلق جب تفصیل بیان کرنی ہوتی ہے۔
وہ نشان جو کسی شخص یا بات کی تفصیل بیان کرنے سے پہلے لگاتے ہیں، اُسے رابط ( ۔ ) کہتے ہیں۔
جہاں سوالیہ لہجہ ہوتا ہے۔
سوالیہ لہجے کے اظہار کے لیے جملے کے آخر میں جو نشان لگایا جاتا ہے، اُسے سوالیہ نشان (؟) کہتے ہیں ۔
جہاں کسی کی بات یا قول کو نقل کیا جاتا ہے۔
کسی کی بات کو اسی کے الفاظ میں نقل کرتے ہوئے جو علامت لگائی جاتی ہے، اُسے واوین (“ــــ”) کہتے ہیں ۔
جہاں فوری حیرت، استعجاب، خوشی یا غم کا لہجہ ہو۔
حرف نشاط، حرف تاسف یا حرف ندا یا جوش و جذبے کو جس نشان کے ذریعے ظاہر کیا جاتا ہے، اُسے فجائیہ نشان (!) کہتے ہیں ۔
جہاں کسی بات کی اضافی یا توضیحی شکل ہو یا دوسری زبان کا لفظ ہو۔
کسی بات کی اضافی شکل یا دوسری زبان میں پیش کرنے کے لیے اس بات کو جس علامت کے ساتھ ساتھ لکھا جاتا ہے، اُسے قوسین ( ) کہتے ہیں۔
اگر ہم ہموار لہجے میں بھی بولتے ہوئے آواز کے اُتار چڑھاؤ کے بغیر مسلسل بولتے جائیں تو سننے والا ہماری بات کا مطلب کچھ کا کچھ سمجھ سکتا ہے۔ اسی طرح لکھتے ہوئے بھی ہمیں اپنی تحریر میں ٹھہراؤ اور لہجوں کے مطابق علامتیں لگانی چاہئیں ۔ ان علامتوں کو رموز اوقاف کہتے ہیں۔ ( رموز ۔ رمز کی جمع = نشانات ، اوقاف ۔ وقف کی جمع = ٹھہراؤ)
ذیل کے خاکے میں ان رموز کا تعارف پیش کیا جاتا ہے
، سکتہ جملے میں مختصر وقفے کے لیے۔
؛ وقفہ سکتے سے کسی قدر طویل وقفے کے لیے۔
۔ رابطہ مفصل ہم خیال مختصر جملوں کو ایسے ہی دوسرے جملوں سے جوڑنے کے لیے۔
۔ ختمہ جملے کے خاتمے پر۔
؟ سوالیہ جملے میں سوالیہ اظہار کے لیے۔
فجائیہ جملے میں کسی جذبے یا تخاطب کے لیے۔!
ــــ” واوین کہنے والے کے اپنے الفاظ لکھنے کے لیے۔“
قوسین جہاں کسی دوسری زبان کا لفظ ہو۔(ـــ)
سوال اور جواب
سوال 1 ۔ رموزِ اوقاف کسے کہتے ہیں اور ان کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟
جواب ۔
وہ خاص علامتیں جو عبارت کو صحیح طور پر پڑھنے، سمجھنے اور درست لہجے کے ساتھ ادا کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں، رموزِ اوقاف کہلاتی ہیں۔ بولتے وقت ہم آواز کے اتار چڑھاؤ، وقفے اور لہجے کی تبدیلی سے بات واضح کر لیتے ہیں، لیکن تحریر میں یہ سہولت موجود نہیں ہوتی۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے رموزِ اوقاف استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ قاری صحیح مقام پر رکے، سوال، حیرت یا جذبات کو سمجھ سکے اور مطلب میں کوئی ابہام نہ رہے۔
سوال 2 ۔ ختمہ اور سکتہ میں کیا فرق ہے؟ مثال کے ساتھ وضاحت کیجیے۔
جواب ۔
ختمہ وہ علامت ہے جو جملے کے مکمل ہونے پر لگائی جاتی ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ بات ختم ہو گئی ہے، جیسے “زبان خیالات کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے۔” اس کے برعکس سکتہ جملے کے درمیان مختصر وقفے کے لیے استعمال ہوتا ہے جہاں مکمل ٹھہراؤ مقصود نہیں ہوتا، جیسے “میلے میں مرد، عورتیں، بچے اور بوڑھے موجود تھے۔” یوں ختمہ مکمل وقفے اور سکتہ مختصر وقفے کو ظاہر کرتا ہے۔
سوال 3 ۔ وقفہ اور رابط کی علامتیں کہاں اور کیوں استعمال کی جاتی ہیں؟
جواب ۔
وقفہ اس جگہ استعمال کیا جاتا ہے جہاں سکتہ کے مقابلے میں کچھ زیادہ ٹھہراؤ درکار ہو لیکن جملہ ختم نہ ہوا ہو۔ یہ عام طور پر دو ہم خیال حصوں کے درمیان آتا ہے۔ رابط کی علامت وہاں لگائی جاتی ہے جہاں کسی بات کے بعد اس کی وضاحت، تفصیل یا مثال پیش کرنی ہو۔ مثال کے طور پر “چٹانوں کی کئی قسمیں ہیں ۔ تہہ دار چٹانیں، آتشیں چٹانیں وغیرہ۔” اس میں رابط نے تفصیل کو واضح کیا ہے۔
سوال 4 ۔ سوالیہ نشان اور فجائیہ نشان کے استعمال کی وضاحت کیجیے۔
جواب ۔
سوالیہ نشان جملے کے آخر میں اس وقت لگایا جاتا ہے جب سوالیہ لہجہ موجود ہو، جیسے “تم دہلی کب آؤ گے؟” اس کے ذریعے قاری کو معلوم ہو جاتا ہے کہ سوال کیا جا رہا ہے۔ فجائیہ نشان اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب کسی جملے میں حیرت، خوشی، افسوس، جوش یا ندا کا اظہار ہو، جیسے “شاباش! اسی طرح محنت کرتے رہو۔” یہ نشان جذبات کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
سوال 5 ۔ واوین اور قوسین کی اہمیت بیان کیجیے۔
جواب ۔
واوین اس وقت استعمال کی جاتی ہیں جب کسی شخص کی بات کو اسی کے الفاظ میں نقل کرنا مقصود ہو۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ الفاظ مصنف کے نہیں بلکہ کسی اور کے ہیں، جیسے “میں ننگے سر نہیں جاؤں گا۔” قوسین اس جگہ لگائی جاتی ہیں جہاں کسی لفظ کی وضاحت کرنی ہو یا دوسری زبان کا لفظ ساتھ لکھنا ہو، جیسے “انڈیا گیٹ دہلی میں ہے۔” ان دونوں علامتوں سے تحریر میں وضاحت اور درست مفہوم پیدا ہوتا ہے۔
This post explains NCERT Class 12 Urdu Grammar Chapter 15 (Urdu Qawaid aur Insha), which focuses on Ramooz-e-Awqaf (punctuation marks). It describes various symbols such as khatma (.), sakta (,), waqfa (؛), sawaliah nishan (?), fajaiyah nishan (!), wawein (“ ”), and qausain ( , ), and their importance in reading and writing. These marks help indicate pauses, questions, emotions, quotations, and clarifications, making the text easier to understand and express correctly. The chapter emphasizes how punctuation replaces the voice modulation and pauses used in speaking, ensuring the reader grasps the intended meaning, tone, and rhythm of the text.