NCERT Class 12 Urdu Grammar Chapter 16 – اردو قواعد اور انشاء

دوستوں کی محفل تھی۔ بے تکلف گفتگو نے رفتہ رفتہ ہنسی مذاق کی جگہ ایک دوسرے پر طنز اور تضحیک کا رنگ اختیار کر لیا۔ محفل سمٹ سمٹا کر بس دوستوں پر مرکوز ہوگئی ۔ شائستہ گفتگو غیر شائستگی میں بدلنے لگی۔ خوش کلامی کی جگہ بد کلامی نے لے لی۔ تو تکرار تک نوبت آگئی۔ اس سے پہلے کہ کچھ اور صورت پیش آئے۔ ان دونوں میں سے ایک صاحب نے سمجھداری کا ثبوت دیتے ہوئے رخ بدلنے کی کوشش کی اور مسکراتے ہوئے کہا۔ غالب کا ایک شعر سنیے ۔

بس یہ سننا تھا کہ پہلے صاحب کو کچھ احساس ہوا۔ وہ اپنے رویے پر شرمندہ ہوئے۔ حالات بے قابو ہونے سے بچ گئے اور وہ بالآخر ایک دوسرے سے گلے مل کر یہ کہتے ہوئے رخصت ہوئے۔

ایسا اکثر ہوتا ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات چیت کے دوران کوئی مناسب اور برمحل شعر بھی پیش کر دیتے ہیں۔ اس لیے کہ شعر ہمارے جذبے اور احساس کو زیادہ متاثر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم شعر کو بار بار سنتے ، پڑھتے اور یاد بھی کر لیتے ہیں۔

غور کیجیے کیا نثر اور شعر دونوں ایک ہی ہیں یا ان میں کچھ فرق بھی ہے ؟ جی ہاں ! نثر اور شعر کا فرق بہت واضح ہے۔ نثر یعنی جملوں میں کہی جانے والی بات اور شاعری یعنی شعر میں کہی گئی بات۔ نثر میں بات واضح اور مفصل انداز سے کہی جاتی ہے اور شعر میں اشارے اور اختصار کے ساتھ۔ لفظوں کی ایک خاص ترتیب کی وجہ سے شعر میں بات زیادہ پُر اثر ہو جاتی ہے۔

حسرت موہانی کا شعر ہے

شعر در اصل ہیں وہی حسرت

سنتے ہی جو دل میں اتر جائے

شعر کے دو حصے ہوتے ہیں۔ ہر حصہ مصرع کہلاتا ہے۔ پہلے مصرعے کو مصرعہ اولیٰ اور دوسرے کو مصرعہ ثانی کہتے ہیں۔ مثلاً

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں (مصرعہ اولی)

اب دیکھیے ٹھیرتی ہے جا کر نظر کہاں (مصرعہ ثانی)

سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا (مصرعہ اولی)

ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا (مصرعہ ثانی)

شعر کی طرح بعض مصرعے بھی اتنے مشہور ہو جاتے ہیں کہ ایک مصرعہ ہی مکمل مفہوم اور تاثر پیدا کر دیتا ہے اور دوسرے مصرعے کو اس مصرعے کے ساتھ پڑھنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔

مثال کے طور پر یہ چند مصرعے دیکھیے

جب ہم کسی مصرعے یا شعر کو کہیں نقل کرتے ہیں تو شعر کو اس سے علامت کے ساتھ اور مصرعے کوی علامت کے ساتھ ظاہر کرتے ہیں۔

آپ جانتے ہیں کہ کسی چیز کوتولنے، وزن کرنے یا ناپنے کے لیے مختلف قسم کے باٹ اور پیمانے مقرر ہیں۔ جیسے گرام، لیٹر اور میٹر وغیرہ ۔ ٹھیک اسی طرح شعر کہنے اور اسے پرکھنے کے بھی خاص پیمانے ہیں۔ اس پیمانے کو وزن کہا جاتا ہے۔

شاعری میں مختلف اوزان کے مطابق شعر کہا جاتا ہے اور اس کے وزن کو پرکھا جاتا ہے۔ وزن ہی ایک ایسا پیمانہ ہے جو شعر کو نثر سے مختلف بناتا ہے۔ شعر کی موزونیت وزن سے قائم ہوتی ہے۔ اسی لیے شعر کے لیے وزن کی پابندی لازمی قرار دی گئی ہے۔ وزن کی پابندی یعنی موزونیت سے شعر میں نغمگی ، لئے اور آہنگ پیدا ہوتا ہے۔ مختلف اور ان کو جب ہم قافیے کی پابندی کے ساتھ استعمال کرتے ہیں تو اسے بحر کہتے ہیں۔

اب کچھ مقررہ اوزان کے پیمانے پر شعر کو پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

اب غور کیجیے کہ ان دونوں مثالوں میں شعر کے الفاظ کی تعداد کہیں کم اور کہیں زیادہ ہے۔ الفاظ کی ایسی کمی بیشی سے وزن ظاہر ہوتا ہے اور اس سے بحر مقرر ہوتی ہے۔ پہلی مثال میں فعولن کی چار بار تکرار ہے اور اس وزن پر بحر کا نام ہے بحرِ متقارب ۔ دوسری مثال میں مفاعیلن کی چار بار تکرار ہے اور اس وزن پر بحر کا نام ہے بحرِ ہزج مختلف اوزان اور بحروں سے تفصیلی واقفیت کے لیے علم عروض کی کتابوں کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔

اوپر دیے گئے شعروں میں خط کشیدہ لفظوں پر غور کیجیے  ۔

یہ لفظ ایک جیسی آواز پرختم ہوتے ہیں اور ان سب میں آخری حرف یا حروف مشترک بھی ہیں، جیسے

دم اور کم میں دم – حباب اور سراب میں اب ، جہاں، امتحاں میں اں اور گلشن اور دامن میں دن۔

قافیے سے شعر میں نغمگی اور ترنم پیدا ہوتا ہے۔

اک معما ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا

زندگی کا ہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا

دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر

نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر

قافیے کے تعلق سے آپ نے ابھی کئی شعر پڑھے۔ چوتھے شعر کے قافیے تھے، گلشن اور دامن ۔ یہ شعر تو قافیے پر ہی ختم ہو گیا۔ اس کے بعد اور شعر دیکھیے ۔ ہر شعر میں قافیے کے بعد کچھ اور بھی ہے۔

شعر نمبر 1 ۔ میں دم اور کم قافیوں کے بعد نکلے

شعر نمبر 2 ۔ میں جہاں اور امتحان قافیوں کے بعد اور بھی ہیں۔

شعر نمبر 3 ۔ میں حباب اور سراب قافیوں کے بعد کی سی ہے۔

دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے

آخر اس درد کی دوا کیا ہے

جو گزری مجھ پہ مت اس سے کہو ہوا سو ہوا

بلاکشانِ محبت پہ جو ہوا سو ہوا

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمھیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمھیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ وزن شعر کا لازمی جزو ہے۔ قافیہ اور ردیف شعر کے لیے ضروری نہیں ہیں۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ قافیہ اور ردیف سے شعر کی نغمگی، حسن اور اثر آفرینی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

شعر کے مفہوم و معنی اور اہمیت سے متعلق یہاں پروفیسر مسعود حسن رضوی ادیب کی کتاب ہماری شاعری سے یہ چند جملے نقل کیے جاتے ہیں

دو کامل شعر وہی ہے جس میں موزونیت بھی ہو اور اثر بھی۔ کلام کے موزوں ہونے کے معنی یہ ہیں کہ وہ ایسے ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا جائے جن کو ادا کرتے وقت آواز میں ایک خوبصورت تسلسل یا ترنم پیدا ہو جائے اور ایک خاص طرح کی لذت حاصل ہو۔ اس لذت کا احساس انسان کی فطرت میں داخل ہے اور اسی فطری احساس پر غور کرنے اور تجزیہ کرنے سے وہ اوزان دریافت ہوئے جن کی مطابقت سے کلام میں موزونیت پیدا ہوتی ہے۔

لیکن موزونیت کے تحت شعر کے نئے اور ان دریافت کرنے کا امکان اب بھی ہے اور ہمیشہ رہے گا۔

لفظوں کا وہ مجموعہ جس میں موزونیت کی صفت پائی جائے مصرعہ کہلاتا ہے۔ شاعری جذبات کی ترجمانی ہے اور انسان کے گہرے جذبات فطرتاً موزونیت اور موسیقیت کے ساتھ ظاہر کیے جاتے ہیں۔ تعلیم کا مقصد یہی تو ہے کہ قدرت نے جو قوتیں انسان کی فطرت میں چھپا رکھی ہیں، وہ ظاہر کر دی جائیں ۔ مگر اس طرح کہ ان کا قدرتی تناسب اور توازن بگڑنے نہ پائے۔ اس صورت میں اگر یقین ہو جائے کہ انسان میں کچھ قوتیں ایسی بھی ہیں جن کی ترقی بالکل یا بہت کچھ شعر کی محتاج ہے تو نظام تعلیم میں شعر کی جگہ نکل آئے گی۔ جذبات کی تربیت کا شعر سے بہتر کوئی ذریعہ نہیں اور کوئی نظام تعلیم انھیں نظر انداز نہیں کر سکتا۔

شعر کی اصطلاح میں مسمط ایسی نظم کو کہتے ہیں، جو کئی بندوں میں لکھی جائے۔ ایک بند میں اشعار کی تعداد میں مسمط نظم کو بند تین سے لے کر دس تک ہوتی ہے۔ مسمط کے ہر بند میں مصرعوں کی تعداد برابر ہونی چاہیے۔ یعنی پہلا بند اگر پانچ مصرعوں کا ہے تو بعد کے تمام بند بھی پانچ پانچ مصرعوں کے ہوں گے۔

مثلث ۔ جس کے ہر بند میں تین مصرعے ہوتے ہیں۔

مربع ۔ جس کے ہر بند میں چار مصرعے ہوتے ہیں۔

مخمس ۔ جس کے ہر بند میں پانچ مصرعے ہوتے ہیں۔

مسدس ۔ جس کے ہر بند میں چھے مصرعے ہوتے ہیں۔

مسبع ۔ جس کے ہر بند میں سات مصرعے ہوتے ہیں۔

مثمن ۔ جس کے ہر بند میں آٹھ مصرعے ہوتے ہیں۔

متسع ۔ جس کے ہر بند میں نو مصرعے ہوتے ہیں۔

معشر ۔ جس کے ہر بند میں دس مصرعے ہوتے ہیں۔

ترکیب بند اور ترجیع بند میں زیادہ فرق نہیں ہے۔ ترکیب بند میں ٹیپ کا شعر ہر بار بدلتا ہے جب کہ ترجیع بند میں ٹیپ کا شعر تبدیل نہیں ہوتا، ہر بند کے آخر میں جوں کا توں دہرایا جاتا ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہربند کے آخر میں صرف ایک مصرعہ ہی بار بار لایا جاتا ہے۔ اس میں مثالیں بہت کم ہیں۔ نظیر اکبر آبادی کی نظم دو بنجارہ نامہ اس کی ایک معروف مثال ہے۔

اس کے ہر بند میں عام طور پر پانچ سے گیارہ تک اشعار ہوتے ہیں۔ ہر بند میں غزل کی طرح مستقل قافیہ ہوتا ہے۔ لیکن ہر بند کا قافیہ دوسرے بند سے مختلف ہوتا ہے۔ پورے ترکیب بند کا ایک ہی بحر میں ہونا ضروری ہے۔ ہر بند کے آخر میں ٹیپ کا شعر ہوتا ہے جس کا وزن تو باقی نظم کے موافق ہوتا ہے لیکن اس کا قافیہ مختلف ہوتا ہے۔ اس شعر کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں نیز ٹیب کا یہ شعر ہر بند کے آخری شعر سے مربوط ہوتا ہے۔ ترکیب بند میں ہر بند کے اشعار کی تعداد گھٹتی بڑھتی رہتی ہے اور یکساں بھی ہو سکتی ہے۔ ترکیب بند کی مثال حالی کی نظم ” مرثیہ غالب یا اقبال کی نظم مسجد قرطبہ ہے۔

ایک شعر فرد کہلاتا ہے۔ بیت اور فرد میں یہ فرق ہے کہ بیت ہر شعر کو کہا جا سکتا ہے ۔ جب کہ فرد وہ شعر ہے جو اکیلا ہی کہا گیا ہو۔ بعض اوقات شاعر صرف ایک شعر موزوں کر کے چھوڑ دیتا ہے۔ یہ شعر اکیلا ہی دیوان یا کلیات میں شامل ہو جاتا ہے۔ اس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ بھی ہو سکتے ہیں اور نہیں بھی۔

ایک بیت میں دو مصرعے ہوتے ہیں۔ اردو میں بیت کے لیے لفظ شعر زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ ہم رباعی کو دو بیتی بھی کہتے ہیں کیوں کہ اس میں دو شعر ہوتے ہیں۔

 نثر اور شعر دونوں اظہارِ خیال کے طریقے ہیں، لیکن ان میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔ نثر میں بات عام جملوں کے ذریعے سیدھے اور مفصل انداز میں کہی جاتی ہے، اس میں وزن یا آہنگ کی پابندی نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس شعر میں بات مختصر، اشاروں اور علامتوں کے ذریعے کہی جاتی ہے۔ شعر میں لفظوں کی خاص ترتیب ہوتی ہے جسے وزن یا موزونیت کہتے ہیں۔ اسی موزونیت کی وجہ سے شعر میں نغمگی، ترنم اور اثر پیدا ہوتا ہے، جو نثر میں نہیں ہوتا۔ یہی خصوصیات شعر کو نثر سے ممتاز بناتی ہیں۔

 شعر اس کلام کو کہتے ہیں جس میں لفظوں کی خاص ترتیب یعنی وزن موجود ہو اور اس سے لے، نغمگی اور آہنگ پیدا ہو۔ شعر کا مقصد جذبات اور احساسات کو مؤثر انداز میں پیش کرنا ہوتا ہے۔ ایک اچھے شعر میں موزونیت کے ساتھ ساتھ اثر بھی ہونا ضروری ہے، تاکہ وہ سننے یا پڑھنے والے کے دل میں اتر جائے۔ حسرت موہانی کے مطابق، وہی شعر اصل شعر ہے جو سنتے ہی دل میں اتر جائے۔ اس طرح موزونیت اور اثر آفرینی شعر کی بنیادی خصوصیات ہیں۔

شعر کے دو حصے ہوتے ہیں اور ہر حصے کو مصرع کہتے ہیں۔ شعر کے پہلے حصے کو مصرعۂ اولیٰ اور دوسرے حصے کو مصرعۂ ثانی کہا جاتا ہے۔
مثال کے طور پر ۔
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا (مصرعۂ اولیٰ)
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا (مصرعۂ ثانی)

بعض اوقات کوئی ایک مصرع اتنا معروف ہو جاتا ہے کہ وہ اکیلا ہی مکمل مفہوم اور تاثر پیدا کر دیتا ہے، جیسے ۔
“صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں”

جس طرح چیزوں کو تولنے یا ناپنے کے لیے گرام، میٹر اور لیٹر جیسے پیمانے ہوتے ہیں، اسی طرح شاعری میں کلام کو پرکھنے کے لیے وزن استعمال کیا جاتا ہے۔ وزن وہ پیمانہ ہے جو شعر کو نثر سے الگ کرتا ہے۔
جب مخصوص وزن کو قافیے کے ساتھ بار بار استعمال کیا جاتا ہے تو اسے بحر کہتے ہیں۔ مثلاً فعولن فعولن فعولن فعولن پر کہی گئی شاعری بحرِ متقارب کہلاتی ہے۔ وزن کی پابندی سے شعر میں نغمگی، لے اور حسن پیدا ہوتا ہے، اسی لیے وزن کو شعر کا لازمی جز قرار دیا گیا ہے۔

قافیے کے بعد اگر کوئی لفظ یا الفاظ ہر شعر میں دہرائے جائیں تو انہیں ردیف کہتے ہیں۔
مثال ۔
دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے

یہاں “کیا ہے” ردیف ہے۔
قافیہ اور ردیف شعر کے لیے لازمی نہیں، لیکن ان کے استعمال سے شعر میں نغمگی، حسن اور اثر میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

This post explains that NCERT Class 12 Urdu Grammar Chapter – 16 (Urdu Qawaid aur Insha) with a focus on Poetry (Sher). It clearly describes the difference between prose and poetry, the definition and features of poetry, misra (line of a verse), meter and rhythm (wazan and bahr), rhyme (qaafiya), and refrain (radeef), along with important poetic forms. Simple examples are used to show how rhythm, musicality, and emotional impact make poetry different from prose. This content is helpful for students preparing for exams and for understanding basic concepts of Urdu poetry.

Scroll to Top