NCERT Class 12 Urdu Grammar Chapter 17 – اردو قواعد اور انشاء

اس شعر کو پڑھیے اور غور کیجیے

گلدستہ معنی کو نئے ڈھنگ سے باندھوں

اک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں

کسی بات کو دل کش اور پُر اثر انداز سے کہنے کے بہت سے طریقے ہو سکتے ہیں ۔

زبان و بیان پر قدرت ہو تو کہنے والا ایک ہی خیال کو نت نئے انداز سے ادا کر سکتا ہے، اس خوبی سے کہ اس میں دل کشی اور اثر بھی رہے اور ایجاز واختصار بھی۔

میر انیس کا یہ بند پڑھیے اور اس کے ذریعے علم بیان کے مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کیجیے۔

اک رنگ کا مضمون سورنگ سے باندھنا یہی علم بیان ہے۔

کسی خیال کو پیش کرنے کے مختلف طریقے ہو سکتے ہیں، جیسے تشبیہ، استعاره، کنایہ، مجاز مرسل وغیرہ۔

یہ اجزا نثر اور شعر دونوں میں برتے جاتے ہیں۔

اس شعر میں لب ( ہونٹ ) کو گلاب کی پنکھڑی کے مانند بتایا گیا ہے۔

ان دونوں چیزوں میں کسی نہ کسی طرحکی مشابہت کا ہونا ضروری ہے۔

تشبیہ کے چارجز ہیں

مشتبہ ۔ جس چیز کی تشبیہ دی جائے۔ جیسے لب کو گلاب کی پنکھڑی سے تشبیہ دی گئی ہے اسے مشتبہ کہتے ہیں۔

مشبہ بہ ۔ جس چیز سے تشبیہ دی جاتی ہے ۔ جیسے گلاب کی پنکھڑی سے لب کو تشبیہ دی گئی ہے۔

وجہ یا غرض تشبیہ ۔ ایک شے کو دوسری شے سے تشبیہ دینے کی کوئی وجہ یا غرض ہوتی ہے۔ جیسے نازک سرخ لب کو گلاب کی پنکھڑی اس لیے کہا گیا کہ گلاب کی پنکھڑی نازک اور سرخ ہوتی ہے۔ ان دونوں میں نزاکت اور سرخ رنگ وجہ تشبیہ / وجہ شبہ ہے ۔

حرف تشبیہ ۔ وہ لفظ جو تشبیہ ظاہر کرے۔ میر کے اس شعر میں لفظ ”سی” حرف تشبیہ ہے۔ اسی کے علاوہ جیسا، ایسا، ویسا، سا، مانند، طرح، گویا، یوں، وغیرہ الفاظ بھی تشبیہ کو ظاہر کرتے ہیں، یہ حرف تشبیہ ہیں۔

حسرت موہانی کی غزل کا درج ذیل مطلع پڑھیے اور غور کیجیے کہ انھوں نے محبوب کی تعریف کے لیے کیا الفاظ استعمال کیے ہیں۔

دوسرے مصرعے میں آتش گل استعمال ہوا ہے۔ آتش گل سے مراد ہے دہکتا ہوا پھول یا بہت خوبصورت پھول۔ شاعر نے اس مصرعے میں یہ نہیں کہا کہ اس کے محبوب کا حسن آتش گل کی مانند ہے۔ اس نے صرف آتش گل کہا اور ہم نے سمجھ لیا کہ اس کا مطلب دہکتا ہوا پھول نہیں بلکہ جمال یار یعنی محبوب کا حسن ہے۔ یہاں لفظ کو اپنے اصل معنی کے بجائے مجازی معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔

استعارہ لفظ مستعار سے بنا ہے جس کے معنی ادھار لینا ہے۔ اسی لیے استعارے میں لفظ اپنے لغوی معنی کے بجائے کسی اور معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ البتہ دونوں لفظوں کے مابین کسی خصوصیت کی بنا پر تشبیہ کا تعلق ضرور پایا جاتا ہے۔

استعارے اور تشبیہ میں گہرا تعلق ہے۔ تشبیہ ہی کی طرح استعارے میں مشتبہ اور مشتبہ بہ ہوتا ہے۔ تاہم استعارے میں مشتبہ کو مستعارلہُ اور مشبہ بہ کو مستعارمنہ کہتے ہیں۔

ان دونوں کے مابین ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ تشبیہ میں کسی ایک چیز کو کسی دوسری چیز کے جیسا بتایا جاتا ہے اور اس کے اظہار کے لیے حرف تشبیہ یعنی جیسا کی طرح ، مانند وغیرہ الفاظ استعمال ہوتے ہیں، جب کہ استعارے میں یہ الفاظ نہیں ہوتے۔

تشبیہ۔ زید رستم کی طرح ہے، احمد فرشتے جیسا ہے، شکیلہ چاند کی مانند ہے

استعاره ۔ زید رستم ہے، احمد فرشتہ ہے، شکیلہ چاند ہے

عام طور پر استعارے میں صرف مستعار منہ کا ذکر کیا جاتا ہے اور اس سے مراد مستعار لہ ہوتا ہے۔ سیدھے سادے انداز میں اسی بات کو یوں سمجھیے کہ استعارے میں جس چیز سے تشبیہ دی جاتی ہے صرف اسی کا ذکر کر دیتے ہیں اور اس سے مراد وہ چیز ہوتی ہے جسے تشبیہ دی گئی ہے۔

مثال کے طور پر مثنوی سحر البیان میں جب شہزادہ بے نظیر کو پری چھت سے اٹھا لے جاتی ہے تو بادشاہ کا رد عمل اس طرح ہوتا ہے۔

یوسف جیسا بے نظیر کہاں گیا۔ صرف یوسف کہنے سے ہی ہم نے سمجھ لیا کہ یہ بے نظیر کا استعارہ ہے۔

اس شعر میں طائر کم سے مراد ہے کم اڑنے والا پرندہ۔ ایسا پرندہ جو تیز رفتار نہ ہو۔ کم پر کہہ کر شاعر نے بات واضح نہیں کی بلکہ بات پوشیدہ رکھی۔

کنا یہ وہ لفظ ہے جس کے حقیقی یا اصلی معنی مراد نہ ہوں بلکہ غیر حقیقی معنی مراد لیے جائیں۔

غالب کا ایک شعر ہے

اس شعر میں بھی کسی کی طرف ایک مخفی اشارہ ہے۔ جس کا نام پوشیدہ رکھ کے کنایہ کا استعمال کیا گیا ہے۔

دوسرے مصرعے میں لفظ ہاتھوں اپنے اصلی یا حقیقی معنی میں استعمال نہیں ہوا ہے ۔ اس سے مراد خدا کی قدرت ہے۔

حالی کا ایک شعر

اس شعر میں گرم بازار سے مراد ترقی ہے۔ شاعر یہ کہنا چاہتا ہے کہ اب جو لوگ ہنر مند ہیں وہی ترقی کر رہے ہیں۔ شاعر نے براہ راست بات نہ کہہ کر شاعرانہ انداز سے شعر میں ایک معنوی خوبی پیدا کر دی ہے۔

علمِ بیان وہ علم ہے جس کے ذریعے کسی خیال یا بات کو خوبصورت، دل کش اور مؤثر انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ اس میں ایک ہی مضمون کو مختلف اسالیب اور رنگوں میں بیان کیا جاتا ہے۔
میر انیس کے اشعار میں ایک ہی خیال کو تشبیہات اور تصویری انداز سے اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ معمولی بات بھی اثر انگیز بن جاتی ہے۔
اک پھول کا مضمون ہو تو سو رنگ سے باندھوں علمِ بیان کے اسی حسن کی بہترین مثال ہے۔

،تشبیہ میں ایک چیز کو دوسری چیز کے مانند بتایا جاتا ہے اور اس میں حرفِ تشبیہ (جیسے، سی، مانند) موجود ہوتا ہے

مثلاً ۔

،جب کہ استعارے میں حرفِ تشبیہ نہیں ہوتا اور مشبہ بہ کو براہِ راست مشبہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے

مثلاً ۔ زید رستم ہے
یہاں رستم کا لفظ بہادری کے معنی میں استعارہ ہے۔

،کنایہ وہ اندازِ بیان ہے جس میں بات کو پوشیدہ اشارے میں کہا جائے اور لفظ کے اصل معنی مراد نہ ہوں
مثلاً میر مینائی کے شعر میں طائرِ کم پر کمزور انسان کے لیے کنایہ ہے۔

مجازِ مرسل میں لفظ اپنے اصل معنی کے بجائے کسی دوسرے معنی میں استعمال ہوتا ہے، مگر تشبیہ کا تعلق نہیں ہوتا،
مثلاً ۔ خدا نے اپنے ہاتھوں سے تری صورت بنائی ہے، یہاں ہاتھ سے مراد خدا کی قدرت ہے۔

This post explains NCERT Class 12 Urdu Grammar Qawaid aur Insha, Chapter 17, Ilm-e-Bayan, focusing on how ideas are made attractive and effective in Urdu prose and poetry. It clearly discusses the meaning of Ilm-e-Bayan with examples and covers its main elements Simile (Tashbeeh), Metaphor (Isti‘ara), Allusion (Kinayah), and Majaz-e-Mursal using verses from classical Urdu poets for better understanding.

Scroll to Top