NCERT Class 12 Urdu Grammar Chapter 18 – اردو قواعد اور انشاء

کلام میں حُسن ، اثر اور زور پیدا کرنے کے لیے اسے بہت سی خوبیوں کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ قواعد کی زبان میں انھیں ہم صنائع بدائع کے نام سے جانتے ہیں۔ صنائع صنعت کی جمع ہے۔ اس کا مطلب ہے کاری گری /ہنر مندی اور بدائع، بدیع کی جمع ہے۔ اس کا مطلب ہے تازگی اور انوکھا پن۔

بدیع وہ علم ہے جس سے کلام کے معنوی یا ظاہری حسن میں اضافہ ہوتا ہے ۔ بدیع کو علم معنی بھی کہتے ہیں۔ اس علم کے تحت کلام میں استعمال ہونے والی مختلف صنعتوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

صنائع بدائع کو شاعری کا زیور کہا گیا ہے۔ ان سے شعر کو لفظی اور معنوی دونوں اعتبار سے سجایا جاتا ہے۔

شعر میں صنعتوں کا استعمال بذات خود شاعری کا مقصد نہیں اور نہ ہی کسی صنعت کا استعمال شاعری کا اصل مقصد ہوتا ہے ۔ لیکن ان سے شعر کے حسن اور تاثر میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ شعر میں لفظی اور معنوی دو طرح کی خوبیاں (صنائع لفظی و معنوی) ہوتی ہیں۔

صنائع لفظی سے مراد وہ خوبیاں ہیں جو الفاظ کو خصوصی رعایت اور ہنر مندی کے ساتھ استعمال کرنے سے پیدا ہوتی ہیں۔ لفظی خوبیاں (صنائع لفظی ) ذہن کو کلام کی فکری ومعنوی خوبیوں کی طرف لے جائیں تو انھیں صنائع معنوی کہتے ہیں۔

یہ شعر غور سے پڑھیے ۔

اس شعر میں لفظ گلے اور گلِے املا کے اعتبار سے ایک جیسے ہیں مگر تلفظ اور معنی کے اعتبار سے مختلف تجنیس کے لغوی معنی ہیں ایک جیسا / یکساں۔

ذیل میں صنعت تجنیس کی کچھ اور مثالیں پڑھیے  ۔  

غالب کا یہ شعر پڑھیے ۔

یہاں پہلے مصرعے میں ہمت، دل، قسمت اور آنکھیں الفاظ ایک ساتھ استعمال کیے گئے ہیں۔ پھر ان

کی مناسبت سے دوسرے مصرعے میں وضاحت کی گئی ہے۔ ہمت کے لیے ڈھونڈا ، دل کے لیے سمجھا، قسمت کے تعلق سے پایا اور آنکھیں کے واسطے دیکھا، الفاظ لائے گئے ہیں۔ شعر میں اس سے معنوی خوبی پیدا ہوگئی ہے۔

لف کے معنی ہیں پیٹنا اور نشر کے معنی ہیں پھیلانا۔ جیسا کہ پہلے مصرعے میں چند چیزوں کو ایک ترتیب سے بیان کیا گیا۔ یہ لف ہے۔ پھر ان کی مناسبت سے دوسرے مصرعے میں بات کو پھیلا یا گیا یہ نشر ہے۔ لف و نشر کی دو قسمیں ہیں۔ مرتب اور غیر مرتب – لف و نشر مرتب سے مراد یہ ہے کہ پہلے مصرعے میں الفاظ کی جو ترتیب ہو، اسی نسبت سے دوسرے مصرعے میں وضاحت کی جائے جیسا کہ اوپر کے شعر میں آپ نے دیکھا۔ لف و نشر غیر مرتب سے مراد یہ ہے کہ پہلے مصرعے کی ترتیب کے مطابق دوسرے مصرعے میں وضاحت اُسی ترتیب سے نہ ہو۔

میر انیس کا یہ شعر دیکھیے۔

چھتی تھیں ” جسم سے روحیں“ کے لیے ہے بھاگی جاتی تھیں، تیغ کے لیے اور گرتے تھے خاک پر سے مراد تنوں سے سر کا جدا ہو کر گرنا ہے۔ جو ترتیب پہلے مصرعے میں ہے اس کی وضاحت دوسرے مصرعے میں بدل گئی۔ اس ترتیب کا بدلنا لف و نشر غیر مرتب کہلاتا ہے۔

ایک اور شعر دیکھیے

پہلے مصرعے میں زلف اور پھر منہ کا ذکر ہے۔ دوسرے مصرعے میں صبح کا لفظ منہ کے لیے اور شام کا لفظ زلف کے لیے لائے ہیں یہاں بھی ترتیب بدل گئی۔

مراعاة النّظير

یہ شعر پڑھیے ۔

پہلے مصرعے میں پتہ ، پھر بوٹا دوسرے مصرعے میں گل، اور باغ میں باہمی مناسبت ہے ۔

اس شعر پر غور کیجیے ۔

اس شعر میں پانی اور آگ میں تضاد ہے اور تضاد بھی تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔ دوسرے مصرعے میں پانی کی مناسبت سے ماہی (مچھلی) اور آگ کی مناسبت سے گرمی اور سیخ کے تعلق سے کباب کا ذکر ہوا ہے۔

بظاہر مراعاۃ النّظیر اور رعایت لفظی اپنی لفظی خصوصیات کی بنا پر ایک ہی صنعت نظر آتی ہیں۔ لیکن مراۃ النّظیر میں تضاد یا متضاد الفاظ کا استعمال نہیں ہوتا ۔

کام میں باہمی مناسبت کے ساتھ لفظوں کا استعمال صنعت مراعاۃ النظیر کہلاتا ہے۔

اب کچھ اور مثالوں کے ساتھ اس صنعت کا لطف لیجیے  ۔

میر کی غزل کا یہ مشہور شعر پڑھیے

اس شعر میں ان لفظوں پر غور کیجیے

شاعر نے ایسے الفاظ سے شعر کو سجایا ہے جو ایک دوسرے کی ضد ہیں۔

ذیل کے اشعار میں بھی تضاد کا مزہ لیجیے ۔

آپ کو افسر میرٹھی کی نظم کا یہ مصرعہ خوب یاد ہوگا

یا پھر غالب کی غزل کا یہ شعر بھی آپ کے ذہن میں ہوگا۔

ان دونوں مثالوں میں لفظ خضر اور نمروز آئے ہیں۔ حضرت خضر کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ بھولے بھٹکوں کو راستہ دکھاتے ہیں۔

نمرود ایک بادشاہ کا نام ہے جس نے اپنے دور میں خدائی کا دعویٰ کیا تھا۔ جب تک ان کے بارے میں نہ معلوم ہو شعر کا مفہوم واضح نہیں ہو سکتا۔

تلمیح کے استعمال سے شعر میں ایک بڑا مضمون مختصر لفظوں میں بیان ہو جاتا ہے۔

تلمیح کی کچھ اور مثالیں درج ذیل ہیں

غالب کا یہ شعر پڑھیے ۔

غالب نے اس شعر میں مختلف قسم کے پھولوں کے کھلنے کا سبب یہ بتایا ہے کہ زمین کے اندر جو حسین چہرے اور ہستیاں دفن ہیں گویا انھیں کا عکس لالہ و گل میں نمایاں ہو گیا ہے۔

لالہ و گل یعنی پھولوں کا کِھلنا فطری عمل ہے مگر شاعر نے اس کا کچھ اور سبب بتایا ہے۔

صنعت حسن تعلیل کی کچھ اور مثالیں دیکھیے  ۔

اس شعر کو غور سے پڑھیے ۔

اس شعر میں لفظ لَو کو پر غور کیجیے۔ اس کے ایک معنی ہیں شعلہ اور دوسرے معنی ہیں شوق / آرزو لیکن شاعر نے یہاں لو کو دوسرے معنی شوق / آرزو میں استعمال کیا ہے۔

ایہام کے لغوی معنی ہیں وہم میں ڈالنا شاعر اپنے کلام میں ایک ایسے لفظ سے وہم میں ڈالتا ہے جس کے دو معنی ہوتے ہیں۔ پڑھنے والا بظاہر قریب کے معنی سمجھتا ہے مگر شاعر دور کے معنی مراد لے کر اپنا مدعا بیان کرتا ہے۔

اب کچھ اور مثالیں دیکھیے  ۔

ان اشعار کو پڑھیے اور غور کیجیے

ان اشعار میں بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔

پہلے شعر میں رات بھر جاگ کر صبح کرنا۔

دوسرے شعر میں ہزار برس جینے کی دعا دینا۔

تیسرے شعر میں  گرمی کی شدت کا یہ حال کہ جو دانہ زمین پر گر جائے فوراً بھن جائے۔

پہلے شعر میں رات بھر جاگ کر صبح کر دینا عقل اور عادت دونوں اعتبار سے ممکن ہے۔

دوسرے شعر میں ہزار برس جینے کی دعا عقلی طور پر تو ممکن ہو سکتی ہے مگر عملی طور پر نہیں۔

تیسرے شعر میں گرمی کی شدت کا یہ بیان کہ دانہ زمین پر گرتے ہی بھن جائے یہ بات نہ عقلی طور پر صحیح ہے نہ عملی طور پر ممکن ہے۔

ذیل کی مثالوں میں مبالغے اور اس کی مختلف شکلوں کو پہچاہیے

علمِ بدیع وہ علم ہے جس کے ذریعے کلام کے لفظی اور معنوی حسن میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد شاعری یا نثر میں خوب صورتی، اثر اور زور پیدا کرنا ہے۔ اس میں مختلف صنعتوں کا استعمال کر کے کلام کو دل کش بنایا جاتا ہے۔

وہ خوبیاں جو الفاظ کے ہنرمندانہ استعمال سے پیدا ہوں صنائعِ لفظی کہلاتی ہیں، جیسے تجنیس۔
وہ خوبیاں جو معنی اور خیال کی گہرائی سے تعلق رکھتی ہوں صنائعِ معنوی کہلاتی ہیں، جیسے تضاد، تلمیح اور حسنِ تعلیل۔

کلام میں ایسے دو یا دو سے زیادہ الفاظ کا آنا جو املا یا تلفظ میں ایک جیسے ہوں مگر معنی مختلف ہوں، تجنیس کہلاتا ہے۔
مثال ۔
گلے سے ملتے ہی جتنے گلِے تھے بھول گئے
یہاں گلے اور گلِے املا میں یکساں مگر معنی میں مختلف ہیں۔

شعر میں پہلے چند چیزوں کو ترتیب سے بیان کرنا اور پھر ان کی مناسبت سے وضاحت کرنا لف و نشر کہلاتا ہے۔
اس کی دو قسمیں ہیں ۔

لف و نشر مرتب ، جب وضاحت اسی ترتیب سے ہو۔

لف و نشر غیر مرتب ، جب وضاحت کی ترتیب بدل جائے۔

کلام میں کسی بات یا کیفیت کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنا مبالغہ کہلاتا ہے۔
اس کی تین شکلیں ہیں ۔

تبلیغ، بات عقلی اور عملی دونوں طرح ممکن ہو۔

اغراق، بات عقلی طور پر ممکن ہو مگر عملی طور پر نہ ہو۔

غلو، بات نہ عقلی طور پر ممکن ہو نہ عملی طور پر۔

This post covers NCERT Class 12 Urdu Grammar Qawaid aur Insha, Chapter 18 Ilm-e-Badi‘, explaining how poetic beauty and impact are enhanced through rhetorical devices. It discusses major Sanāyi‘-e-Badī‘ such as Tajnees, Laf-o-Nashr, Mira‘at-un-Nazir, Riaayat-e-Lafzi, Tazaad, Talmih, Husn-e-Ta‘leel, Ihaam/Abhaam, and Mubaligha, with clear definitions and classical Urdu poetry examples for easy understanding.

Scroll to Top