فعل
ان جملوں کو پڑھیے اور خط کشیدہ لفظوں پر غور کیجیے
طلبا کرکٹ کھیل رہے ہیں۔
میں بہت دیر سے آپ کا انتظار کر رہا ہوں۔
آپ نے بہت اچھا مضمون لکھا ۔
کل ہم پکنک پر جائیں گے۔
یہ ایسے لفظ ہیں جن سے کسی کام کا کرنا یا ہونا ظاہر ہوتا ہے۔ یہ لفظ کھیلنا، کرنا، لکھنا اور جانا، سے بنتے ہیں۔
وہ لفظ جس سے کسی کام کا کرنا یا ہونا ظاہر ہواسے فعل کہتے ہیں۔
فعل کی قسمیں
درج ذیل جملوں کی مدد سے فعل کی مختلف قسموں کو مجھے
آپ کے لطیفے نے سب کو ہنسا دیا۔
ڈاکٹر مریض کو دیکھ رہا ہے۔
آج میں بہت خوش ہوں۔
وہ بغیر سوچے سمجھے بولتے چلے گئے ۔
فعل کے بغیر کوئی جملہ مکمل نہیں ہوتا۔ ان چاروں جملوں میں مختلف قسم کے فعل ہیں۔ پہلے جملے کا فعل ہے ، ہنسا دیا ۔ یہ ایسا فعل ہے جس میں کام کا اثر صرف کام کرنے والے یعنی فاعل تک محدود ہے۔
اور وہ فعل جس میں کسی کام کا اثر صرف فاعل تک محدود رہے فعل لازم کہلاتا ہے۔
دوسرے جملے کا فعل ہے دیکھ رہا ہے ۔ یہ ایسا فعل ہے جس کا اثر فاعل تک محدود نہیں بلکہ مفعول پر بھی اس کا اثر پڑ رہا ہے۔
وہ فعل جس کو اپنے مفہوم کے لیے مفعول کی ضرورت ہوتی ہے فعل متعدی کہلاتا ہے۔
تیسرے جملے میں فعل کے طور پر بس ایک ہی لفظ ہے “ہوں” ۔ یہ ایک ایسا لفظ ہے جہاں فعل اپنی مکمل شکل میں نہیں ہے۔
وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا یا ہونا مکمل طور پر واضح نہیں ہوتا فعل ناقص کہلاتا ہے۔
چوتھے جملے میں فعل ہے “چلے گئے” ۔ یہاں ایک ساتھ دو فعل استعمال ہوئے ہیں۔
وہ فعل جو دو یا دو سے زیادہ افعال سے مل کر بنتا ہے، اُسے فعل مرکب کہتے ہیں۔
فاعل، اسم فاعل اور اسم مفعول
ان جملوں کو پڑھیے
میں خط لکھ رہا ہوں ۔
احمد کتاب پڑھ رہا ہے۔
حِنا جھولا جھول رہی ہے۔
جملوں کے ان لفظوں پر غور کیجیے
میں ، احمد ، حنا
یہ ایسے الفاظ ہیں جو کسی کام کے کرنے والے کو ظاہر کرتے ہیں۔
وہ لفظ جو کسی کام کے کرنے والے کو ظاہر کرے، فاعل کہلاتا ہے۔
اوپر کی مثالوں میں، احمد اور حِنا فاعل ہیں۔
اوپر کی مذکورہ تینوں مثالوں میں اب ان لفظوں پر غور کیجیے
کتاب ، خط ، جھولا
یہ وہ الفاظ ہیں جن پر فعل کے اثر کا پڑنا ظاہر ہوتا ہے۔
وہ لفظ جس پر کسی فعل کا اثر پڑے، ” مفعول“ کہلاتا ہے۔
اوپر کی مثالوں میں، خط ، کتاب یا جھولا مفعول ہیں۔
ان جملوں کو غور سے پڑھیے
درزی نے کپڑے سی دیے۔
بڑھئی نے الماری بنائی۔
کسان نے کھیتی کی۔
شاعر نے غزل پڑھی۔
ان جملوں میں درزی، بڑھئی، کسان ، شاعر ایسے الفاظ ہیں جو پیشے کی مناسبت سے کسی کام کرنے والے کو ظاہر کرتے ہیں۔
پیشے کی مناسبت سے دیا گیا نام ، اسم فاعل کہلاتا ہے۔
ان جملوں کو غور سے پڑھیے
مظلوم کی مدد کرو۔
معقول بات کی تعریف ہونی ہی چاہیے۔
خالق اپنی مخلوق کا ہر دم خیال رکھتا ہے۔
کسی آزمودہ کو بار بار آزمانا حماقت ہے۔
دلّی کے نہ تھے کوچے اوراقِ مُصوِّر تھے۔
ان جملوں میں مظلوم ، معقول، آزمودہ ، مصور ایسے الفاظ ہیں جو مفعول کی مناسبت سے ہیں۔
وہ اسم جو فعل کی مفعولی حالت کے نام کو ظاہر کرے، اسم مفعول کہلاتا ہے۔
زمانہ اور اس کی قسمیں
ان جملوں کو غور سے پڑھیے
فارحہ امتحان میں اول آئی۔
میں اپنا ہر کام وقت کی پابندی کے ساتھ کرتا ہوں ۔
نبیلہ کل ممبئی جائے گی۔
آپ کو معلوم ہے کہ کام کا تعلق کسی نہ کسی وقت سے ہوتا ہے۔ کام یا تو گزرے ہوئے وقت میں ہوتا ہے یا موجودہ وقت میں یا پھر آنے والے وقت میں ۔ زمانے کے لحاظ سے فعل کی یہ تین قسمیں ہیں۔
اوپر کے جملوں میں پہلے جملے کا فعل گزرے ہوئے وقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ دوسرے جملے کا فعل موجودہ وقت کی طرف اور تیسرے جملے کا فعل آنے والے وقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔
وہ کام جو گزرے ہوئے وقت میں ہو، اسے فعلِ ماضی کہتے ہیں۔
وہ کام جو موجودہ وقت میں ہو، اسے فعل حال کہتے ہیں۔
اور وہ کام جو آنے والے وقت میں ہو، اسے فعل مستقبل، کہتے ہیں۔
فعل معروف ، فعل مجهول
ان جملوں کو غور سے پرہیے
سلیم نے ضروت مندوں کو کمبل تقسیم کیے۔
ہمارے گھر میں سب لوگ وقت پر کھانا کھاتے ہیں۔
کمبل تقسیم کیے گئے ۔
کھانا کھایا جاتا ہے۔
پہلے جملوں میں جو فعل ہیں ان کے فاعل معلوم ہیں ۔
سلیم __فاعل
تقسیم کیے__ فعل
کھاتے ہیں__فعل
سب لوگ__فاعل
آخری دو جملوں میں جو فعل ہیں ان کے فاعل معلوم نہیں ہیں۔ جیسے تقسیم کیے گئے۔ کیے گئے۔ کھایا گیا ۔
وہ فعل جس کا فاعل معلوم ہو، اُسے فعل معروف کہتے ہیں اور وہ فعل جس کا فاعل معلوم نہ ہو، اسے فعل مجہول کہتے ہیں ۔
سوال و جواب
سوال 1 ۔ فعل کسے کہتے ہیں؟ مثال کے ساتھ لکھیے۔
جواب ۔ وہ لفظ جس سے کسی کام کا کرنا یا ہونا ظاہر ہو، اسے فعل کہتے ہیں۔
مثال ۔ کھیلنا، لکھنا، جانا، کرنا
سوال 2 ۔ فعل لازم اور فعل متعدی میں کیا فرق ہے؟ مثالوں کے ساتھ وضاحت کیجیے۔
جواب ۔ وہ فعل جس میں کسی کام کا اثر صرف فاعل تک محدود رہے، اسے فعل لازم کہتے ہیں۔
مثال ۔ آج میں بہت خوش ہوں۔
وہ فعل جس کو اپنے مفہوم کے لیے مفعول کی ضرورت ہوتی ہے، اسے فعل متعدی کہتے ہیں۔
مثال ۔ ڈاکٹر مریض کو دیکھ رہا ہے۔
سوال 3 ۔ فعل ناقص اور فعل مرکب کسے کہتے ہیں؟ مثالیں دیجیے۔
جواب ۔ وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا یا ہونا مکمل طور پر واضح نہ ہو، اسے فعل ناقص کہتے ہیں۔
مثال ۔ میں خوش ہوں۔
وہ فعل جو دو یا دو سے زیادہ افعال سے مل کر بنتا ہے، اسے فعل مرکب کہتے ہیں۔
مثال ۔ وہ بولتے چلے گئے۔
سوال 4 ۔ فاعل اور مفعول کسے کہتے ہیں؟ مثالوں کے ساتھ واضح کیجیے۔
جواب ۔ وہ لفظ جو کسی کام کے کرنے والے کو ظاہر کرے، فاعل کہلاتا ہے۔
مثال ۔ احمد کتاب پڑھ رہا ہے۔ (احمد ، فاعل)
وہ لفظ جس پر کسی فعل کا اثر پڑے، مفعول کہلاتا ہے۔
مثال ۔ احمد کتاب پڑھ رہا ہے۔ (کتاب ، مفعول)
سوال 5 ۔ فعل معروف اور فعل مجہول کسے کہتے ہیں؟ مثالوں کے ساتھ بیان کیجیے۔
جواب ۔ وہ فعل جس کا فاعل معلوم ہو، اسے فعل معروف کہتے ہیں۔
مثال ۔ سلیم نے ضرورت مندوں کو کمبل تقسیم کیے۔
وہ فعل جس کا فاعل معلوم نہ ہو، اسے فعل مجہول کہتے ہیں۔
مثال ۔ کمبل تقسیم کیے گئے۔
This post explains NCERT Class 12 Urdu Grammar Chapter 3, focusing on Verbs. It defines verbs as words that show an action or a state of being. The lesson covers the main types of Verbs, including Intransitive and Transitive Verbs, Incomplete and Compound Verbs, and explains subject and Object with clear examples. It also introduces Active and Passive Voice, showing the difference between known and unknown subjects. In addition, the chapter explains the Tenses Past, Present, and Future and their role in expressing time. Written in simple and clear language, this post helps students understand basic verb concepts, improve sentence formation, and prepare effectively for examinations.