حروف
ذیل کی تحریری علامتوں کو ہم اچھی طرح پہچانتے ہیں
ا، ب، ج، د
घ، ग، ख، क
A, B, C, D
کسی بھی زبان کی تعلیم حاصل کرتے ہوئے ہم اس کی بنیادی آوازوں کی علامات سیکھتے ہیں۔ انھیں حروف تہجی کہا جاتا ہے ۔ آزادانہ ان حروف کے معنی نہیں ہوتے ۔ زبان بولتے یا لکھتے پڑھتے ہوئے ہم نیچے دی گئی آواز میں بھی استعمال کرتے ہیں۔
با، بے، پر، تک، سے، میں
اور ان کے علاوہ بہت سی آوازیں ، کیا ان کے کچھ معنی سمجھ میں آتے ہیں؟ اکیلے پڑے رہنے میں ا، ب، ج وغیرہ کی طرح یہ بھی بے معنی رہتے ہیں۔
اب ذیل کی مثالیں پڑھیے
با ادب، بے خوف، گھر تک، ہاتھ سے، باغ میں
یعنی دوسرے بامعنی لفظوں سے پہلے یا بعد میں آکر ان کے کچھ معنی سمجھ میں آنے لگتے ہیں۔ بے معنی حروف تہجی کی طرح یہ بھی حروف ہیں، بات کرتے یا لکھتے وقت جنھیں دوسرے لفظوں کے ساتھ لانا ضروری ہوتا ہے۔ ایسے حروف کی چند قسمیں ہیں، یہاں جن کا تعارف کیا جاتا ہے۔
حرفِ جار
ذیل کے جملے پڑھیے
بچے باغ میں کھیل رہے ہیں۔
وہ گھر سے نکلا۔
سر پر ٹوپی پہنو۔
گیلی دیوار کو ہاتھ نہ لگاؤ۔
دریا تک پہنچ کر میں رک گیا۔
پردوں کا رنگ اڑ چکا تھا۔
ہم نے کھانا کھا لیا ہے۔
ان جملوں میں خط کشیدہ حروف ایسے حروف ہیں جن سے ایک لفظ کا دوسرے لفظ سے تعلق قائم ہوتا ہے۔
وہ حروف جو ایک لفظ کا دوسرے لفظ سے تعلق قائم کرتے ہیں ، انھیں حرفِ جار کہتے ہیں ۔
انھیں حرف ربط بھی کہا جاتا ہے۔
حرف اضافت
ان لفظوں کو پڑھیے
نسیم کا گھر، اسکول کے بچے، صبا کی کتاب
ان لفظوں میں کا، کے ، کی ایسے حروف ہیں جو دو لفظوں کے درمیان نسبت/ تعلق ظاہر کرتے ہیں۔
وہ حروف جو دو لفظوں کے درمیان نسبت / تعلق ظاہر کرے، اسے حرف اضافت کہتے ہیں
ان لفظوں میں گھر کی نسبت نسیم سے بچوں کی نسبت اسکول سے اور کتاب کی نسبت صبا سے ہے۔
ان مثالوں کو غور سے پڑھیے
خالد کا مکان، رضیہ کی گھڑی، کتاب کے اوراق
اوپر کی مثالوں کے بارے میں ہم یہ سوالات کر سکتے ہیں
مکان کس کا ہے؟
گھڑی کس کی ہے؟
اوراق کس کے ہیں؟
ان سوالوں کا جواب ہوگا
خالد، رضیہ، کتاب
خالد، رضیہ اور کتاب کی نسبت جس سے ظاہر کی گئی ہے، اسے مضاف الیہ کہتے ہیں اور جن کی طرف ان کی نسبت ظاہر کی گئی ہے ، انھیں مضاف کہتے ہیں۔ ان میں مکان ، گھڑی اور اوراق مضاف ہیں۔
اضافت کے تعلق سے اب ذیل کی مثالیں پڑھیے
ابن مریم، زنجیرآهن، بنده خدا، گوشتہ عافیت، بوئے گل
ان مثالوں میں حرف اضافت کا، کے، کی استعمال نہیں کیے گئے۔ ان کے بجائے زیر/ ہمزہ/ ئے/ سے اضافت کو ظاہر کیا گیا ہے۔ ان ترکیبوں کا اردو میں مطلب ہوگا۔
مریم کا بیٹا، لوہے کی زنجیر، خدا کا بندہ، عافیت کا گوشہ، گل کی بو
فارسی قاعدے کے مطابق اضافت کے لیے زیر/ ہمزہ/ ئے کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جب کہ اردو میں اضافت کو لفظ کا، کے، کی سے ظاہر کیا جاتا ہے۔
حرف عطف
ذیل میں دیے گئے فقرے اور جملے غور سے پڑھیے
الف) ۔ جوان اور بوڑھے، آدمی یا انسان، میں کہ وہ
ب) ۔ میں تو وہاں پہنچا مگر وہی نہ آیا، یہ کتاب پڑھویا وہ کتاب پڑھو، میں نے اسے بہت سمجھایا لیکن وہ نہ مانا، اس نے مجھ سے کہا کہ ابھی مت جاؤ
دو فقرے (الف) کے فقروں میں دو اسموں اور ضمیروں کو اور، یا، کہ سے جوڑا گیا ہے ۔ فقرے (ب) کی مثالوں میں دو دو جملے ہیں جنھیں مگر، یا، لیکن، کہ سے جوڑا گیا ہے۔
وہ حرف یا لفظ جو دو لفظوں فقروں جملوں کو جوڑتا ہے، حرف عطف کہلاتا ہے۔
حروف تخصیص
ذیل کے جملوں کو پڑھیے اور دھیان دیجیے کہ انھیں پڑھتے یا بولتے ہوئے ہم کن لفظوں پر زور دیتے ہیں
اس نے اسکول کا منہ بھی نہیں دیکھا تھا۔
تھوڑے ہی دنوں میں باغ کا منظر بدل جائے گا۔
ہر شخص کو اس بات کا پتا چل گیا۔
شکل دیکھتے ہو نا تم اس کی ۔
ان جملوں کو ادا کرتے ہوئے ہم نے بھی، ہی، ہر، نا لفظوں پر زور دیا ہے۔
سوال اور جواب
سوال 1 ۔ حروفِ تہجی کیا ہوتے ہیں؟ کیا ان کے اکیلے کوئی معنی ہوتے ہیں؟
جواب ۔
حروفِ تہجی کسی بھی زبان کی بنیادی آوازوں کی تحریری علامتیں ہوتی ہیں، جیسے ا، ب، ج، د ۔ یہ حروف اکیلے استعمال ہوں تو ان کا کوئی واضح معنی نہیں ہوتا۔ جب یہی حروف مل کر لفظ بناتے ہیں تو معنی پیدا ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ب، ا، غ مل کر باغ بنتا ہے جس کا مطلب سمجھ میں آتا ہے۔
سوال 2 ۔ حرفِ جار کسے کہتے ہیں؟ مثال کے ذریعے وضاحت کیجیے۔
جواب ۔
وہ حروف جو ایک لفظ کا دوسرے لفظ سے تعلق ظاہر کرتے ہیں حرفِ جار کہلاتے ہیں۔ یہ تعلق جگہ، سمت یا حالت کو ظاہر کرتا ہے۔ جیسے جملہ بچے باغ میں کھیل رہے ہیں میں لفظ ’’میں‘‘ باغ اور کھیلنے کے عمل کے درمیان تعلق قائم کرتا ہے اس لیے یہ حرفِ جار ہے۔
سوال 3 ۔ حرفِ اضافت کیا ہے؟ مضاف اور مضاف الیہ کی وضاحت کیجیے۔
جواب ۔
وہ حروف جو دو لفظوں کے درمیان نسبت یا تعلق ظاہر کریں، حرفِ اضافت کہلاتے ہیں، جیسے کا، کے، کی۔ مثال کے طور پر ’’خالد کا مکان‘‘ میں مکان کی نسبت خالد سے ظاہر کی گئی ہے۔ یہاں خالد مضاف الیہ ہے اور مکان مضاف ہے، کیونکہ مکان کسی کی ملکیت کو ظاہر کر رہا ہے۔
سوال 4 ۔ فارسی اور اردو میں اضافت کے استعمال میں کیا فرق ہے؟
جواب ۔
اردو میں اضافت کو کا، کے، کی کے ذریعے ظاہر کیا جاتا ہے، جبکہ فارسی میں اضافت کے لیے زیر، ہمزہ یا ئے کا استعمال ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ’’ابنِ مریم‘‘ کا مطلب مریم کا بیٹا ہے اور ’’بوئے گل‘‘ کا مطلب گل کی خوشبو ہے۔ ان مثالوں میں کا، کے، کی استعمال نہیں ہوئے بلکہ فارسی قاعدے کے مطابق اضافت ظاہر کی گئی ہے۔
سوال 5 ۔ حروفِ تخصیص کیا ہوتے ہیں؟ مثال کے ساتھ وضاحت کیجیے۔
جواب ۔
وہ الفاظ جن پر بولتے یا پڑھتے وقت خاص زور دیا جاتا ہے، حروفِ تخصیص کہلاتے ہیں۔ یہ الفاظ بات کو خاص اور نمایاں بنا دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر جملہ ’’اس نے اسکول کا منہ بھی نہیں دیکھا‘‘ میں لفظ ’’بھی‘‘ پر زور دے کر بات کی شدت کو ظاہر کیا گیا ہے، اس لیے ’’بھی‘‘ حرفِ تخصیص ہے۔
This post explains NCERT Class 12 Urdu Grammar Chapter 5 (Urdu Qawaid aur Insha), focusing on Particles (Huroof). It introduces the alphabet and explains that letters alone have no meaning, but gain meaning when used in conjunction with words. The lesson covers important types of particles, including prepositions, particles of possession (izafat) with concepts of modifier and modified, conjunctions, and emphasizing particles. It also explains the difference between Urdu and Persian usage of izafat with clear examples. Written in simple language, this post helps students understand how particles connect words, show relationships, and add emphasis in sentences, making it useful for grammar learning and exam preparation.