NCERT Class 12 Urdu Grammar Chapter 6 – اردو قواعد اور انشاء

واحد (الف) ۔ کتاب، پنسل

جمع (ب) ۔ کتابیں، پنسلیں

ان دونوں فقروں پر غور کیجیے

آپ جانتے ہیں کہ ہر چیز کی کوئی نہ کوئی تعداد ہوتی ہے۔

واحد سے جمع بناتے وقت لفظ کی شکل بدل جاتی ہے

گھوڑا__ گھوڑے

لڑکا __ لڑکے

دائره __ دائرے

چمچہ __ چمچے

یہ بھی ذہن میں رہے کہ واحد سے جمع بناتے وقت جملے کی شکل بھی بدل جاتی ہے۔ جیسے

گھوڑا دوڑ رہا ہے۔ (واحد)

گھوڑے دوڑ رہے ہیں ۔ (جمع)

لڑکا کھیل رہا ہے ۔ (واحد)

لڑکے کھیل رہے ہیں ۔ (جمع)

بچہ پڑھ رہا ہے ۔ (واحد)

بچے پڑھ رہے ہیں ۔ (جمع)

یہ بھی یاد رکھیں کہ واحد لفظ کے آخر میں اگر ی ہو تو اس کی جمع بنانے میںاں لگایا جاتا ہے۔ جیسے

لڑکی ۔ لڑکیاں

کھڑکی ۔ کھڑکیاں

گلی ۔ گلیاں

کلی ۔ کلیاں

اں کے علاوہ وں لگا کر بھی جمع بنائی جاتی ہے۔ جیسے

لوگ ۔ لوگوں

گھر ۔ گھروں

ئیں لگا کر بھی واحد سے جمع بناتے ہیں

دوا ۔ دوائیں

دعا ۔ دعا ئیں

گھٹا ۔ گھٹائیں

صدا ۔ صدائیں

کہیں یں لگا کر بھی جمع بنائی جاتی ہے۔ جیسے

شام ۔ شامیں

رات ۔ راتیں

راہ ۔ راہیں

خبر ۔ خبریں

اپر کی مثالوں میں واحد سے جمع بنانے کا یہ اردو قائدہ ہے کے علاوہ اردو میں فارسی، عربی قاعدے سے بھی واحد سے جمع بنائی جاتی ہے۔ فارسی قاعدے کے مطابق یہ الفاظ دیکھیں۔

خیال ۔ خیالات

سوال ۔ سوالات

احساس ۔ احساسات

اب عربی قاعدے کے مطابق واحد سے جمع بنانے کی یہ مثالیں دیکھیے

قسم ۔ اقسام

شعر ۔ اشعار

حاکم ۔ حکام

ذریعہ ۔ ذرائع

شاعر ۔ شعرا

امیر ۔ امرا

رسالہ ۔ رسائل

ان مثالوں کو دیکھیے

الف) ۔ لڑکا ، گھنٹہ

ب) ۔ لڑکی، گھڑی

الف خانے میں جو الفاظ ہیں وہ جنس کے اعتبار سے ہیں اور ب میں جو الفاظ ہیں وہ مادہ ہیں۔

انھیں جنسِ حقیقی بھی کہتے ہیں۔

اب ذیل میں دیے گئے لفظوں پر غور کیجیے

الف) ۔ ہوا، کرسی، دنیا، ندی، زنجیر، مٹی، گھٹا، کتابا

ب) ۔ اخبار، جہاز، پیر، پرنده، کاغذ، آسمان، قلم

یہ سبھی نام غیر جان دار یا بے جان ہیں۔

الف خانے کے تما کے تمام لفظ مونث ہیں اور ب خانے کے سب الفاظ مذکر ۔

ان مثالوں سے اسم کے مذکر یا مونث ہونے کا پتا چلتا ہے۔ ذیل کی مثالوں پر غور کیجیے

ہوا چل رہی تھی۔ گھٹا چھائی ہوئی تھی۔

ندی پہاڑ سے اترتی ہے ۔ زنجیر کھنکی۔

کرسی ٹوٹ گئی ۔ ہر طرف مٹی اڑنے لگی۔

یہ جملوں کے اسم مؤنث ہیں۔ اردو زبان کی ایک اہم خاصیت یہ ہے کہ اسم مؤنث ہو تو جملے میں اس کا فعل بھی مؤنث استعمال کیا جاتا ہے جیسا کہ ہم نے اوپر کی مثالوں میں دیکھا۔

چل رہی / چھائی / اترتی / کھنکی / ٹوٹ گئی / اُڑنے لگی مثالیں بتاتی ہیں کہ فعل کا تانیث یعنی اس کا مؤنث ہونا فعل کے خاتمے پر آنے والی آواز ی سے ظاہر ہوتا ہے۔

ان جملوں پر غور کیجیے

لڑکا آیا ۔ اس نے اخبار پڑھا۔

جہاز اُڑ گیا ۔ پیڑ ہرا ہو گیا۔

پرندہ منڈیر پر بیٹھا تھا ۔ کاغذ پھٹا ہوا تھا۔

ان جملوں میں بھی اسم مذکر ہیں۔ اس لیے ان کے ساتھ آنے والے فعل بھی مذکر ہیں جیسا کہ ان جملوں میں  آیا / پڑھا / اُڑ گیا / ہو گیا / بیٹھا تھا/ پھٹا ہوا تھا، فعل مذکر اسم کی وجہ سے مذکر ہیں۔

کسی چیز کی تعداد ایک ہو تو اسے واحد کہتے ہیں اور جب وہ چیز ایک سے زیادہ ہو تو اسے جمع کہا جاتا ہے۔ واحد سے جمع بناتے وقت لفظ کی شکل بدل جاتی ہے جیسے گھوڑا سے گھوڑے اور لڑکا سے لڑکے۔ اس کے ساتھ ساتھ جملے کی ساخت بھی بدل جاتی ہے مثلاً ’’گھوڑا دوڑ رہا ہے‘‘ واحد کا جملہ ہے جبکہ ’’گھوڑے دوڑ رہے ہیں‘‘ جمع کا جملہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ واحد اور جمع کی تبدیلی صرف لفظ تک محدود نہیں رہتی بلکہ پورے جملے پر اثر ڈالتی ہے۔

اردو میں واحد سے جمع بنانے کے کئی طریقے ہیں۔ اگر واحد لفظ کے آخر میں ی ہو تو عموماً اس کی جمع اں لگا کر بنائی جاتی ہے، جیسے لڑکی سے لڑکیاں اور گلی سے گلیاں۔ بعض الفاظ کی جمع وں لگا کر بنائی جاتی ہے جیسے گھر سے گھروں اور لوگ سے لوگوں۔ کہیں واحد سے جمع بنانے کے لیے ئیں یا یں لگایا جاتا ہے جیسے دعا سے دعائیں اور شام سے شامیں۔ اس کے علاوہ اردو میں فارسی اور عربی قواعد کے مطابق بھی جمع بنتی ہے، جیسے خیال سے خیالات اور قسم سے اقسام۔

جاندار چیزوں کے نر کو مذکر اور مادہ کو مؤنث کہا جاتا ہے اسے جنسِ حقیقی کہتے ہیں جیسے لڑکا مذکر اور لڑکی مؤنث ہے۔ غیر جاندار یا بے جان چیزوں کے مذکر اور مؤنث کو جنسِ غیر حقیقی کہا جاتا ہے جیسے ہوا، کرسی اور کتاب مؤنث ہیں جبکہ اخبار، قلم اور جہاز مذکر ہیں۔ اردو زبان کی خاصیت یہ ہے کہ اسم اگر مؤنث ہو تو اس کے ساتھ فعل بھی مؤنث آتا ہے، جیسے ’’ہوا چل رہی تھی‘‘ اور اگر اسم مذکر ہو تو فعل بھی مذکر آتا ہے، جیسے ’’لڑکا آیا‘‘۔ اس طرح اسم کی جنس سے فعل کی شکل کا تعین ہوتا ہے۔

This post explains NCERT Class 12 Urdu Grammar Chapter 6 (Urdu Qawaid aur Insha), focusing on Singular and Plural forms and Gender. It clearly defines singular and plural and shows how words and complete sentences change when forming plurals in Urdu. Different methods of making plurals are explained with easy examples, including common Urdu rules and forms influenced by Persian and Arabic. The chapter also introduces gender, explaining masculine and feminine forms in living and non-living nouns. Special attention is given to how verbs change according to gender in sentences. Written in simple and clear language, this post helps students to prepare confidently for exams.