رجب علی بیگ سرور، دبستان لکھنو کے ایک ممتاز انشا پرداز اور نمائندہ ادیب ہیں۔ فسانۂ عجائب ، ان کی ایک شاہکار اور طبع زاد داستان ہے۔ فسانہ عجائب صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ تہذیبی اور اسلوبی خوبیوں کا ایک ایسا خوبصورت نمونہ ہے جس میں لکھنوی تہذیب کی رنگا رنگی اور زبان و بیان کی خوبصورتی پوری طرح موجود ہے۔ فسانہ عجائب لکھنؤ کے تئیں سرور کی محبت ، جذباتی وابستگی اور لکھنو کی جدائی کے دکھ کا صاف اظہار ہے۔ سرور کو لکھنو سے بہت زیادہ محبت تھی۔ وہ دربار اودھ سے وابستہ رہے۔ لکھنو کے کوچہ و بازار میں بہت وقت گزارا۔ شہر لکھنو سے جدائی کا دکھ بھی برداشت کیا۔ لہٰذا فسانہ عجائب کے ہر ایک لفظ سے سرور کے عشقِ لکھنو ، دل کے درد اور عقیدت کا اظہار ہوتا ہے۔ انسانی تفریحات میں داستانوں کی مقبولیت بہت پرانے زمانے سے رہی ہے۔ قصوں کو سننا اور سنانا انسان کی فطری عادت رہی ہے۔ دراصل داستانیں ذہنی سکون اور تفریح کا ایک اہم ذریعہ ہوتی ہیں۔ فسانہ عجائب کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ اس میں یہ تمام خوبیاں موجود ہیں۔ فسانۂ عجائب میں خیالی دنیا ہونے کے باوجود اس زمانے کے حالات ، معاشرتی اتار چڑھاؤ اور اُس دور کی تاریخ و تہذیب کی جھلک بھی ملتی ہے۔ دراصل فسانہ عجائب قوتِ بیان ، اندازِ بیان اور دلچسپ حکایتوں کا ایک بہترین نمونہ ہے۔

مرزا رجب علی بیگ سرور کی ایک ہمہ جہت شخصیت تھی۔ انہیں بیک وقت داستان نگار، داستان گو، شاعر، مترجم، سپاہی، خطاط، موسیقار، مکتوب نگار، انشا پرداز، معاشرتی حالات کو سمجھنے والے، محب شاہان اودھ، لکھنوی تہذیب کے شیدائی، تہذیبی مورخ، تاریخ دان، معمار دبستان لکھنو اور عوامی نفسیات کو سمجھنے والے کی حیثیت حاصل تھی۔ سرور کو سب سے زیادہ مقبولیت داستان نگاری اور منفرد انداز کے باعث حاصل ہوئی۔ ان کے نام سے کئی داستانیں منسوب ہیں لیکن جو مقبولیت فسانۂ عجائب کو حاصل ہوئی وہ کسی اور کو نصیب نہ ہو سکی۔ انہوں نے فسانہ عجائب میں جس انداز کا استعمال کیا ہے اسے اردو انشا پردازی میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ رجب علی بیگ سرور ایک ایسے انشا پرداز کا نام ہے جسے ایک غیر معمولی صلاحیت رکھنے والے ادیب کی حیثیت حاصل ہے۔

رجب علی بیگ سرور، سلطنت اودھ کے پایہ تخت لکھنو میں تقریباً 1200ھ (86-1785ء) میں پیدا ہوئے۔ اس کی دلیل فسانۂ عجائب کے دیباچے سے ملتی ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ چالیس سال دنیا کے حالات دیکھے۔ سرور کی پیدائش کے بارے میں اس کے علاوہ کوئی اور حوالہ نہیں ملتا۔ اس لیے تمام محققین اسی سنِ پیدائش پر متفق ہیں۔ سرور کا انتقال 1286ھ (1869ء) میں ہوا تھا۔ بقول نیر مسعود، سرور کی وفات 14 اپریل اور 14 مئی 1869ء کے درمیان کسی تاریخ میں ہوئی ہوگی۔ سرور نے شہر لکھنو کو نہ صرف قریب سے دیکھا بلکہ اسے پوری طرح جیا بھی تھا۔ دراصل سرور لکھنو کی سیر و تفریح، کوچہ و بازار، کھانے پینے، آداب و اطوار، رہن سہن، صنعت و حرفت، شاہانِ اودھ کی شان و شوکت، جاہ و جلال، سخاوت، شعرا کی سرپرستی، ادب کی قدر دانی اور سیاسی اتار چڑھاؤ کے چشم دید گواہ تھے۔

رجب علی بیگ سرور نے اپنی ادبی زندگی کی ابتدا شاعری سے کی۔ وہ آغا نوازش حسین خاں نوازش، عرف مرزا خانی لکھنوی کے عزیز شاگرد تھے۔ سرور نے فسانہ عجائب میں جس قدر اشعار کا استعمال کیا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے اردو اور فارسی شعرا کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ انہوں نے فسانہ عجائب میں جن شعرا کے اشعار نقل کیے ہیں ان میں انشا اللہ خاں انشا، غلام ہمدانی مصحفی، مرزا محمد رفیع سودا، نور الدین عبد الرحمن جامی، مرزا قتیل، شیفتہ اور بقا کے نام اہم ہیں۔ فسانہ عجائب میں مؤلف کے نام سے سرور کے متعدد اشعار بھی درج ہیں۔ سرور نے اپنی بات میں اثر پیدا کرنے کے لیے متعدد نظمیں، غزلیں اور الگ اشعار پیش کیے ہیں جن سے زبان و بیان میں ایک خاص خوبصورتی اور تازگی پیدا ہوگئی ہے۔ سرور کو جب شاعری کے میدان میں زیادہ مقبولیت نہیں ملی تو انہوں نے داستان نگاری کی طرف توجہ کی۔

سرور کو بحیثیت داستان نگار بڑی مقبولیت حاصل ہوئی۔ شاہانِ اودھ میں داستان نگاری اور داستان گوئی کو ایک معزز فن سمجھا جاتا تھا۔ اس لیے سرور نے نہ صرف داستانیں لکھیں یا رنگین اردو نثر میں داستانوں کا ترجمہ کیا بلکہ وہ داستان سنانے کے فن میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ اس بات کی گواہی فسانہ عجائب کے دیباچے میں بھی ملتی ہے۔ فسانہ عجائب میں بیان کیے گئے قصوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں قدیم داستانوں میں گہری دلچسپی تھی۔ سرور کی مقبولیت اگرچہ فسانۂ عجائب سے ہے لیکن ان کی تین اور داستانیں شگوفہ محبت (ترجمہ)، شبستان سرور (ترجمہ) اور شررِ عشق بھی ہیں۔

سرور کی حیثیت ایک مکتوب نگار کی بھی ہے۔ عہد سرور میں رسمی خطوط لکھنے کا رواج تھا جس میں رنگین اندازِ بیان اور بڑھا چڑھا کر آداب و القاب لکھے جاتے تھے۔ سرور نے بھی اپنے مکتوبات کو خوبصورت نثر اور مؤثر اندازِ بیان سے سجایا تھا۔ انہوں نے ذاتی خطوط کے علاوہ خطوط لکھنے کو ذریعۂ معاش بھی بنایا تھا۔ واجد علی شاہ کی بیگمات جو کلکتہ نہیں جا سکیں، نواب اور ان کے درمیان خط و کتابت ہوتی تھی۔ ان میں اکثر ایسی تھیں جو اچھی طرح لکھ نہیں سکتی تھیں۔ کچھ بیگمات نے رجب علی بیگ سرور کو بطور محرر اس کام کے لیے منتخب کر لیا۔ اس طرح سرور کو اس کام سے کچھ مالی فائدہ ہو گیا۔ سرور کے ایسے سات خطوط ہیں جو انشائے سرور میں شامل ہیں۔ سرور کو اس کام کے لیے کتنی اجرت ملتی تھی اس کا علم نہیں ہے۔ سرور کے خطوط میں سلطنتِ اودھ کے خاتمے اور انقلاب اٹھارہ سو ستاون کا درد بھرا بیان ملتا ہے۔

سرور نے ترجمہ نگاری میں بھی اپنی انشا پردازی کی خوب صلاحیت دکھائی۔ سرور کا تخلیقی انداز ان کے تراجم میں بھی واضح نظر آتا ہے۔ انہوں نے مہر چند مبر کی داستان نو آئین ہندی کا ترجمہ رنگین اردو نثر میں شگوفہ محبت کے نام سے کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے توکل بیگ حسینی کی مشہور فارسی کتاب شمشیر خانی کا اردو میں سرور سلطانی کے نام سے ترجمہ کیا۔ ملا رضی بن محمد شفیع کی فارسی تصنیف حدائق العشاق کا ترجمہ گلزار سرور کے نام سے کیا۔ عربی کی مشہور داستان الف لیلہ کا اردو ترجمہ شبستان سرور کے نام سے کیا۔ سرور نے فسانۂ عجائب میں جس قدر علمِ نجوم کی اصطلاحیں جیسے رمال، نجومی، پنڈت، جفر داں، ہندسہ، علمِ ہیئت، قرعہ پھینکنا، زائچہ کھینچنا، شکلیں بنانا، پوتھی کھولنا، حرف مفر دلکھ کر حساب لگانا، تلا، برچھک، دھن، مکر، کمبھ وغیرہ کا ذکر کیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں علمِ نجوم کا بھی اچھا علم تھا۔

سرور کو فنِ سپہ گری میں مہارت حاصل تھی۔ وہ اس زمانے کے رواج کے مطابق لباس کے ساتھ ڈھال اور تلوار بھی پہنتے تھے۔ بقول نیر مسعود وہ صرف دکھاوے کے لیے ہتھیار نہیں باندھتے تھے بلکہ ایک بہادر آدمی کی طرح ان کا استعمال بھی کرتے تھے۔ سرور نے مرزا احمد علی کے نام ایک خط لکھا تھا جو انشائے سرور (خطوں کا مجموعہ) میں شامل ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی قتل کے معاملے میں شامل تھے جس کی وجہ سے انہیں ایک مجرم کی حیثیت سے لکھنو چھوڑ کر کانپور میں رہنا پڑا۔ چونکہ کانپور اودھ کی حکومت کے اختیار میں نہیں تھا اس لیے مجرموں کو جلاوطنی کی سزا دے کر گنگا پار بھیج دیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ شاہی سزا سے بچنے کے لیے بھی لوگ کانپور میں پناہ لیتے تھے۔ یہ بات واضح نہیں ہے کہ سرور خود اپنی مرضی سے کانپور گئے تھے یا نواب غازی الدین حیدر کے حکم سے جلاوطن کیے گئے تھے۔ سرور نے ایک جگہ یہ بھی لکھا ہے کہ انہیں روزگار کی تلاش میں کانپور جانا پڑا۔

سرور کی زندگی میں بہت سے اتار چڑھاؤ آئے۔ ان کی شادی 1228ھ / 14-1813ء میں ہوئی تھی۔ ان کی بیوی ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ انہیں زندگی بھر سو روپے ماہانہ وظیفہ ملتا تھا۔ وہ ایک نیک، وفادار اور خوش نصیب خاتون تھیں۔ سرور انہیں عاشقِ وفادار، دوستِ سچا اور سچے اقرار والی کہہ کر یاد کرتے تھے۔ سرور نے شروع کے زمانے میں اپنی بیوی کی دولت پر خوب عیش و آرام کیا لیکن یہ حالت ہمیشہ برقرار نہیں رہی۔ کچھ عرصے بعد سرور ہر وقت روزگار کی فکر میں لگے نظر آتے ہیں۔ اس تبدیلی کی اصل وجہ کا صاف طور پر علم نہیں ہے۔ کچھ اشاروں سے معلوم ہوتا ہے کہ سرور نے دوسری شادی کر لی تھی۔ اس کا ذکر صاف طور پر کہیں نہیں ملتا لیکن انشائے سرور میں ایک خط موجود ہے جس کے مطابق سرور نے اپنے ایک دوست کو لکھا تھا کہ ان کی ایک بہت عزیز خاتون کی وفات 21 نومبر 1847ء کو ہوئی تھی جو ان کے ساتھ لکھنو میں رہتی تھیں۔ اس خاتون کے لیے سرور نے آرامِ خاطر میں بے قراری اور تسکین میں بے چینی جیسے الفاظ لکھے ہیں۔ خط کو پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مرنے والی خاتون سرور کی دوسری بیوی تھیں۔ شاید اسی وجہ سے سرور نے اپنی پہلی بیوی کی دولت کو اپنی عیش و آرام کے لیے استعمال کرنا چھوڑ دیا ہو۔ دوسری طرف سرور کی پہلی بیوی گھر کے لوگوں کی دیکھ بھال کرتی رہیں اور انہوں نے کبھی سرور سے شکایت نہیں کی۔

واجد علی شاہ کے زمانے میں فسانۂ عجائب کی مقبولیت میں کافی اضافہ ہوا۔ یہ ایک عجیب اتفاق تھا کہ واجد علی شاہ کے گھر کا نام اور فسانہ عجائب کے ہیرو کا نام بھی جان عالم تھا۔ اکثر پڑھنے والے داستان کے ہیرو میں واجد علی شاہ کی صورت دیکھتے تھے۔ رجب علی بیگ سرور نے واجد علی شاہ کی تعریف میں ایک قطعہ لکھا اور ان کی خدمت میں اپنی پریشانیوں کے بارے میں ایک درخواست بھی بھیجی۔ بادشاہ نے تاریخِ جلوس کے انعام میں شاہی خزانے سے سرور کے لیے پچاس روپے ماہانہ رقم مقرر کر دی۔ اس کے علاوہ سرور کو واجد علی شاہ کی نظموں کو نثر میں لکھنے کا بھی حکم دیا گیا۔

واجد علی شاہ، سلطنت کے کاموں میں انگریزوں کی زیادہ مداخلت سے تنگ آ کر شاہی انتظام نواب علی نقی خاں (وزیرِ سلطنت) کو دے دیا جس کا شاہی نظم و نسق پر بہت برا اثر پڑا۔ دراصل سرور، قطب الدولہ کے مداح تھے جن کی وجہ سے سرور کو نوکری ملی تھی۔ جبکہ نواب علی نقی خاں، قطب الدولہ کے مخالف تھے۔ اس کا اثر سرور پر یہ پڑا کہ انہیں تنخواہ وقت پر نہیں ملتی تھی۔ کبھی ایسا بھی ہوا کہ انہیں تیرہ مہینے تک کوئی تنخواہ نہیں ملی۔ جب سرور نے واجد علی شاہ سے اپنی پریشانی بیان کی تو تنخواہ باقاعدگی سے ملنے لگی۔ سلطنتِ اودھ کے حالات اس وقت اچھے نہیں تھے، اس لیے سرور نے اپنے دوسرے مددگاروں کی طرف بھی توجہ کرنے کا سوچا۔ ان مددگاروں میں ایک سندیلہ کے رئیس امجد علی خاں بلوچ تھے۔ انہوں نے سرور سے کہا کہ وہ مہر چند مہر کی داستان نو آئین ہندی کا اردو میں ترجمہ کریں۔ اس طرح سرور نے اس داستان کو شگوفہ محبت کے نام سے رنگین نثر میں لکھا۔

دریں اثنا سرور کا بنارس بھی آنا جانا شروع ہوا جہاں کے راجہ ایشری پر شاد نرائن سنگھ ان کے بڑے قدر دان تھے۔ رجب علی بیگ سرور نے 1854ء میں دہلی اور میرٹھ کا سفر کیا۔ غالباً اسی سفر میں پہلی مرتبہ مرزا غالب سے ان کی ملاقات ہوئی۔ سرور 1856ء میں بنارس گئے۔ سرور بھی بنارس میں ہی تھے کہ انہیں انتزاعِ سلطنتِ اودھ (7 فروری، 1856ء) کی خبر ملی۔ یہ سن کر سرور بہت پریشان ہو گئے اور انہیں گہرا صدمہ ہوا۔ لکھنو پر انگریزوں کے قبضے سے لکھنو کی تہذیب اور روایت کو بڑا نقصان پہنچا۔ سرور کو لکھنو کی تباہی کا بہت غم تھا۔ انتزاعِ سلطنت کے بعد ان کی زیادہ تحریروں میں لکھنو کا مرثیہ ملتا ہے۔ دراصل سلطنتِ اودھ کی تباہی کے ساتھ ہی سرور کی پریشانیوں کا ایک لمبا سلسلہ شروع ہو گیا۔ شگوفہ محبت کو اگرچہ واجد علی شاہ کے زمانے میں لکھنا شروع کیا گیا تھا لیکن اس کی طباعت اس وقت ہوئی جب واجد علی شاہ لکھنو چھوڑ رہے تھے۔ اس لیے شگوفہ محبت کا آخری حصہ سرور کے گہرے صدمے کی عکاسی کرتا ہے۔

رجب علی بیگ سرور، مہا راجہ ایشری پر شاد نرائن سنگھ بہادر کے بلانے پر 18 جون، 1859ء کو بنارس گئے اور مہا راجہ کے باقاعدہ ملازم بن گئے۔ ان کی تنخواہ سو روپے مہینہ مقرر ہوئی۔ انشائے سرور کے خطوط زیادہ تر اسی زمانے کے ہیں جن سے ان کی آخری زندگی کے حالات کا زیادہ علم ہوتا ہے۔ سرور نے 75 برس کی عمر میں مہا راجہ کی ملازمت کی تھی۔ وہ اکثر بیمار رہنے لگے تھے۔ ان کی آنکھوں میں بھی دھند آ گئی تھی۔ اب انہیں لکھنے پڑھنے میں بھی مشکل ہونے لگی تھی۔ سرور نے اپنی آنکھوں کے علاج کے لیے کلکتہ کا بھی سفر (1280ھ) کیا۔ وہاں واجد علی شاہ سے بھی ملاقات کی، لیکن علاج کامیاب نہیں ہوا۔ وہ کلکتہ سے واپس آ کر 1281ھ میں رام نگر پہنچے۔ قسمت کی سختی یہ تھی کہ اس عمر میں بھی انہیں گھر چلانے کے لیے کام کرنا پڑ رہا تھا۔ سرور کی تنخواہ وقت پر نہیں ملتی تھی کیونکہ خواص صاحب کی وجہ سے یہ اکثر رکی رہتی تھی۔ سرور آخری وقت میں تنہائی، بیماری، قرض اور غم کا شکار تھے۔ دوسرا دکھ یہ کہ ان کی تنخواہ مہا راجہ بنارس کے حکم سے سو روپے کی جگہ پچاس روپے کر دی گئی۔ اس وقت ان پر پندرہ سولہ افراد کی کفالت کی ذمہ داری تھی۔ مہا راجہ نے ان کی کمزور صحت کے سبب سرور کو ملازمت سے الگ کر کے ان کے لیے پنشن مقرر کر دی۔ اسی دوران سرور کے گھر میں چوری بھی ہوئی جس سے ان کی پریشانی اور بڑھ گئی۔

سرور کی زندگی کا زیادہ حصہ دکھ، تکلیف اور تنگ دستی میں گزرا۔ ان کے قدر دانوں کی ایک لمبی فہرست ہے۔ سلطنت اودھ کے کئی نوابوں نے ان کی سرپرستی کی۔ اس کے علاوہ مہا راجہ بنارس، نواب سکندر جہاں، پٹیالہ کے راجا اور شیودان سنگھ بھی ان کے قدر دان تھے، لیکن اس کے باوجود انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دراصل سرور ایک خود دار اور باعزت شخصیت کے مالک تھے۔ انہوں نے کبھی اپنے ضمیر کا سودا نہیں کیا، کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا اور کسی کی چاپلوسی یا ضرورت سے زیادہ تعریف نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ذاتی ترقی کی دوڑ میں ان لوگوں سے پیچھے رہ گئے جنہوں نے تعریف اور خوشامد سے بہت دولت کما لی۔

سرور کی اہلیہ جو کانپور میں رہتی تھیں، وہ کافی عرصے سے بیمار تھیں۔ ان کی وفات 19 اور 20 صفر، 1278ھ (25 اور 26 ستمبر، 1891ء) کی درمیانی رات میں ہوئی۔ اہلیہ کے انتقال کے بعد ان کا وہ سو روپے ماہانہ وظیفہ بھی ختم ہو گیا جس سے اب تک رشتہ داروں کی کفالت ہو رہی تھی۔ اہلیہ کے انتقال کے کچھ عرصے بعد سرور کے چھوٹے بھائی مرزا کلو بیگ کا بھی انتقال ہو گیا۔ اسی زمانے میں نواب سکندر جہاں لکھنو آئیں۔ وہ خود رجب علی بیگ سرور سے ملنا چاہتی تھیں۔ انہی کی فرمائش پر سرور نے شرر عشق نام کا ایک قصہ لکھا۔

سرور تاریخ، تہذیب، فنونِ لطیفہ اور تلمیحات پر اچھی نظر رکھتے تھے۔ انہوں نے ایران اور عرب کی تاریخ کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ ان کی تحریروں میں شاہ کیواں، جم شوکت، فریدون، سلیمان، رستم، سام، نریمان، اسفند یار، یوسف، یعقوب، مانی، بہزاد، آزر، کوہکن، شیریں، زلیخا، لیلیٰ مجنوں، عذرا وامق وغیرہ تاریخی شخصیات اور مثالوں کا جگہ جگہ استعمال ملتا ہے۔ سرور کا لکھنو کی عوامی زندگی سے گہرا تعلق تھا۔ ان کی رسائی حکمران طبقے تک بھی تھی۔ وہ کئی نوابانِ اودھ سے وابستہ رہے۔ انہوں نے سلطنتِ اودھ کے سیاسی اتار چڑھاؤ کو بہت قریب سے دیکھا تھا، اسی وجہ سے انہیں تاریخِ اودھ کا اچھا علم تھا۔

This post provides a detailed introduction to Mirza Rajab Ali Beg Suroor, a prominent Urdu prose writer and storyteller from Lucknow. It covers his masterpiece Fasana-e-Ajaib, literary style, life events, contributions as a poet, translator, and letter-writer, his love for Lucknow, and the historical and cultural context of his works. Perfect for readers interested in Urdu literature, Lucknow’s cultural heritage, and 19th-century storytelling.