تحریک عربی زبان کا لفظ ہے جس کے سادہ معنی کسی کام کو شروع کرنے کے ہیں۔ اصطلاح میں جب کچھ لوگ کسی خاص مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مل کر کوشش کرتے ہیں تو اسے تحریک کہتے ہیں، چاہے اسے کتنی ہی کامیابی کیوں نہ ملے۔ ترقی پسند تحریک بھی ایک ایسی ہی تحریک تھی۔ اس کے خاص مقصد یہ تھے کہ غریبوں کو ان کا حق دلایا جائے، برابری نہ ہونے کے خلاف آواز اٹھائی جائے، انسان دوستی کو بڑھایا جائے اور آزادی ہند کی کوشش کی جائے۔ یعنی ادب کو صرف گل و بلبل کی باتوں تک محدود نہ رکھ کر اسے کسی مقصد کے ساتھ جوڑنا تھا۔

ترقی پسند تحریک کی بنیاد لندن میں رکھی گئی۔ 1930ء میں لندن میں چند ہندوستانی طالب علموں نے اپنے ملک کے سیاسی اور سماجی حالات کو دیکھتے ہوئے انسانیت کی خدمت کا خواب دیکھا۔ انہوں نے اکیلے کوشش کرنے کے بجائے مل کر کام کرنے کا فیصلہ کیا اور سب زبانوں کے لکھنے والوں کو ساتھ لے کر ہندوستانیوں کو پستی، غلامی، مظلومی اور ظلم سے آزاد کرانے کا ارادہ کیا۔ اس تحریک سے وابستہ اور اس کے خیالات سے متفق ادیبوں نے اپنی اپنی زبان کے ادب میں ترقی پسند خیالات کو عام کیا۔ اس طرح یہ تحریک پورے ہندوستان اور زیادہ تر زبانوں میں پہچانی جانے لگی۔ اصل میں ترقی پسند تحریک کا بنیادی مقصد ادب کے ذریعے انسانیت کو نئی زندگی دینا تھا۔

اس تحریک کا باقاعدہ آغاز اپریل 1936ء میں لکھنو میں ہونے والی کانفرنس سے ہوا، جس کی صدارت مشہور ادیب منشی پریم چند نے کی تھی۔ اردو کے معروف ادیبوں اور شاعروں نے اس تحریک کی حمایت کی، جن میں منشی پریم چند، مولوی عبدالحق، مولانا حسرت موہانی، جوش ملیح آبادی، فراق گورکھپوری، سید سجاد ظہیر، فیض احمد فیض، ملک راج آنند، عزیز احمد وغیرہ شامل تھے۔ اس کانفرنس کے بعد تحریک نے باقاعدہ منظم شکل اختیار کی اور مختلف زبانوں کے ادیبوں نے انجمن ترقی پسند مصنفین قائم کی۔ یہ تحریک اس زمانے میں بہت اثر انداز ہوئی۔ پرانے اور تجربہ کار لکھنے والوں کے ساتھ ساتھ نئے لکھنے والے بھی اس سے جڑنا فخر سمجھنے لگے۔ بیسویں صدی کی چوتھی اور پانچویں دہائی میں ترقی پسندی ایک عام رجحان بن گئی، لیکن 1950ء کے بعد تحریک میں سستی آ گئی، جسے آزادی ہند اور تقسیم کا نتیجہ کہا جا سکتا ہے۔ بعد میں اسے دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی گئی، مگر اسے پہلے جیسا عروج نہ مل سکا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب جدیدیت سامنے آ رہی تھی۔ جدیدیت کی تحریک کو بھی اردو ادب کی تاریخ میں خاص اہمیت حاصل ہے۔

ترقی پسند تحریک کے باقاعدہ آغاز سے ہٹ کر اگر ہم غور کریں تو معلوم ہوگا کہ اس تحریک کی بنیاد بہت پہلے سے پڑ رہی تھی۔ لندن میں ہندوستان کے کافی طلبہ تعلیم کے لیے رہتے تھے۔ ان طلبہ کا تعلق اگرچہ ہندوستان کے مختلف علاقوں سے تھا اور ان کی مادری زبانیں بھی الگ الگ تھیں، لیکن خیالات کے لحاظ سے وہ ایک جیسے تھے۔ ہندوستان میں غریبوں اور مجبور لوگوں پر ہونے والے ظلم کی خبریں انہیں ملتی رہتی تھیں اور ان میں برطانوی حکومت اور سرمایہ دار طبقہ کے خلاف ناراضی اور غصہ بڑھتا جاتا تھا۔ لہٰذا ہندوستانی نوجوانوں نے، جن میں سجاد ظہیر، ملک راج آنند، جیوتی گھوش، محمد دین تاثیر اور پر مودسین گپتا وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں، انڈین پروگریسیو رائٹرس اسوسی ایشن قائم کی۔ پھر اس کا اعلان نامہ تیار کیا گیا جس میں کہا گیا کہ

اس کے علاوہ اسی اسوسی ایشن نے ایسی تجاویز بھی پیش کیں جن کی بنیاد پر ادیبوں کو اور اس اسوسی ایشن کو آگے کا کام کرنا تھا۔ مثلاً ہندوستان کے مختلف لسانی صوبوں میں ادیبوں کی انجمنیں قائم کرنا، ان انجمنوں کے درمیان جلسوں اور پمفلٹوں وغیرہ کے ذریعے رابطہ اور تعاون پیدا کرنا۔ صوبوں کی انجمنوں کا مرکز اور لندن کی انجمنوں سے تعلق قائم کرنا، ترقی پسند ادب کی تخلیق اور ترجمہ کرنا جو صحت مند اور مضبوط ہو، تاکہ ہم تہذیبی پسماندگی کو ختم کر سکیں اور ہندوستانی آزادی اور سماجی ترقی کی طرف بڑھ سکیں وغیرہ۔ اس گروپ نے اپنی پہلی باقاعدہ میٹنگ لندن کے ایک چینی ریستوران نان کنگ ریستوران میں کی، جس میں ملک راج آنند کو صدر منتخب کیا گیا۔ یہ لوگ پیرس میں منعقدہ ورلڈ کانگریس آف دی رائٹرز فار دی ڈیفنس آف کلچر سے بھی کافی متاثر ہوئے۔ اس کانفرنس میں میکسم گورکی، ویلڈ وفرینک، آندرے مارلو، برتول بریخت، ای ایم فاسٹر، لوئی آراگان، بورس پاسترنک اور رومین رولاں جیسے مشہور ادیبوں نے شرکت کی تھی اور انہوں نے جو تجاویز منظور کی تھیں ان میں انسانیت کی برتری اور ظلم کے خاتمے کے ارادوں کو بنیادی اہمیت دی گئی تھی۔ پوری دنیا کے ادیبوں کو ایک کرنے کی یہ ایک بہت بڑی اور کامیاب کوشش تھی۔ اس کانگریس سے انڈین پروگریسیو رائٹرس اسوسی ایشن کے ارکان کو اپنے مقصد کو تیزی سے پورا کرنے کی حوصلہ افزائی ملی اور انہوں نے اپنی کوشش لندن کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں بھی شروع کر دی۔ انہوں نے اپنے اعلان نامے کو ہندوستان کے اہم ادیبوں تک پہنچایا۔ پریم چند نے اس کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے اسے اپنے رسالے ”ہنس“ میں شائع کر دیا۔ مجموعی طور پر پورے ملک میں اس اعلان نامے کا خیر مقدم کیا گیا۔ 1935ء کے آخر میں سجاد ظہیر ہندوستان واپس آگئے۔ انہوں نے مختلف علاقوں اور مختلف زبانوں سے تعلق رکھنے والے ادیبوں سے رابطہ قائم کیا۔ اس سے پہلے انگارے کے افسانوں نے ماحول کو کافی گرم کر دیا تھا، جس کے مصنفین میں سجاد ظہیر، احمد علی، محمود الظفر اور ڈاکٹر رشید جہاں شامل تھے۔ ان میں سے آخر کے تین ادیبوں نے ہندوستان میں ترقی پسند خیالات کی تبلیغ سجاد ظہیر کی آمد سے پہلے ہی شروع کر دی تھی۔ اندرونِ ہندوستان اور لندن میں کی گئی تمام کوششوں کا سب سے بڑا نتیجہ اپریل 1936ء میں لکھنو میں منعقدہ ترقی پسند مصنفین کی پہلی کانفرنس کی صورت میں سامنے آیا۔

اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ترقی پسند تحریک کی بنیاد دو باتوں سے بنی۔ پہلی بات لندن میں تعلیم حاصل کرنے والے ہندوستانی نوجوانوں کے خیالات تھے اور دوسری بات ہندوستان میں انگارے کی اشاعت۔ یہ دو ایسے اسباب تھے جنہوں نے ترقی پسند تحریک کے لیے راستہ آسان کیا۔ اس کے علاوہ یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ ہندوستان میں بیداری کی تحریکیں کافی عرصے سے چل رہی تھیں۔ شاہ محدث دہلوی کی تحریک، وہابی تحریک، راجہ رام موہن رائے کی تحریک اور پھر سرسید کی علی گڑھ تحریک خاص طور پر اہم ہیں۔ اسی دوران آزادی کی تحریک بھی شروع ہوگئی اور نہ صرف اندرونِ ہندوستان بلکہ پوری دنیا سے اس کی حمایت ہونے لگی۔

اصل میں ہندوستانی عوام میں ایک نئی صبح کی تلاش کا شوق تیزی سے بڑھتا گیا۔ اگرچہ ہندوستان میں انگریزوں نے کچھ ایسے کام بھی کیے جو ہندوستانیوں کے فائدے میں تھے اور سماجی سطح پر کچھ اصلاحات ہوئیں۔ انہوں نے مقامی حکومتوں کی طاقت کم کی، ستی اور اس طرح کی اندھی رسموں کو ختم کیا، جوٹ کے مل اور سوت کے کارخانے قائم کیے جہاں ہزاروں مزدوروں کو روزگار ملا، مگر اس کے باوجود غلامی سے نجات کی خواہش اندر ہی اندر بڑھتی رہی اور وقت کے ساتھ قومی بیداری کا جذبہ تیز ہوتا گیا۔

ہندوستان کی تحریک آزادی میں شروع سے دو طرح کے نظریے کام کر رہے تھے۔ ایک گرم رویہ تھا اور دوسرا نرم۔ گرم رویے والوں کا خیال تھا کہ آزادی ہر حال میں حاصل کرنی ہے، چاہے اس کے لیے جان دینی پڑے یا لڑنا پڑے۔ اس گروہ کے مشہور نام آربند و گھوش، بین چندر پال، لالہ لاجپت رائے اور بال گنگا دھر تلک وغیرہ تھے۔ نرم رویے والوں کا ماننا تھا کہ آزادی ستیہ گرہ اور بھوک ہڑتال کے ذریعے، یعنی امن کے ساتھ تحریک چلا کر حاصل کی جائے۔ ان کے نزدیک بات چیت اور سمجھوتہ سب سے مضبوط طریقہ تھا۔ گاندھی جی اس میں آگے تھے۔ بہرحال دونوں کا مقصد آزادی حاصل کرنا ہی تھا، اس لیے پورے ملک میں آزادی کی خواہش بیدار ہوگئی اور گاؤں گاؤں اور بستی بستی سے آزادی کی آواز اٹھنے لگی۔ کہیں ہندوستانی جھنڈے لگائے جاتے اور کہیں برطانوی جھنڈے جلائے جاتے۔ کہیں نعرے لگتے اور کہیں قومی گیت گائے جاتے۔ اس طرح پورا ملک عملی یا فکری طور پر تحریک آزادی میں شامل ہوگیا تھا۔

ہندوستان میں پہلی جنگ عظیم 1914ء کا بھی اثر پڑا۔ اس موضوع پر مضمون لکھنے کی وجہ سے بال گنگا دھر تلک کو چھ سال کی سزا ہوئی۔ ملک کے سوت کے کارخانوں میں ہڑتالیں شروع ہوگئیں۔ اسی دوران جلیانوالہ باغ کا واقعہ پیش آیا جو ہندوستانیوں کے لیے بہت دکھ کا باعث بنا۔ جنرل ڈائر نے ہزاروں نہتے ہندوستانیوں پر گولیاں چلوا دیں۔ 1917ء میں انقلاب روس نے بھی ہندوستانیوں کے جذبے کو اور بڑھایا اور لوگ ایک آزاد ملک کا خواب دیکھنے لگے۔ قومی اور عالمی دونوں سطحوں پر یہ زمانہ ٹوٹ پھوٹ اور کشمکش کا دور تھا۔ ہندوستان کا ہر طبقہ اس سے متاثر ہوا۔ دانشور اور ادیب بھی اس اثر سے بچ نہ سکے۔ اور پھر جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا ہے، لندن میں موجود ہندوستانی طلبہ نے میٹنگ کی اور آہستہ آہستہ یہ تحریک پورے ہندوستان کے ادیبوں تک پھیل گئی۔ پروفیسر رشید احمد صدیقی لکھتے ہیں کہ

ہندوستانی حالات کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تحریک ایک ساتھ ادبی اور سماجی دونوں سطحوں پر کام کر رہی تھی۔ ادیبوں نے ہمیشہ ادب کی اصل حیثیت کو اہم سمجھا ہے، لیکن پہلے ادیب لوگ ادب کے ذریعے اخلاقی اصلاح کی کوشش کرتے تھے۔ ترقی پسند تحریک کے اثر سے لکھنے والوں نے سماجی انصاف اور برابری کے پیغام کو بھی عام کرنا شروع کر دیا۔ ڈاکٹر خلیل الرحمن اعظمی اپنی معروف کتاب اُردو میں ترقی پسند ادبی تحریک کے مقدمہ کی ابتدا ان الفاظ سے کرتے ہیں کہ

ترقی پسند تحریک کے پس منظر کے بیان کے دوران آپ کو انگارے کے بارے میں بھی معلوم ہوا۔ آئیے اب یہ دیکھتے ہیں کہ انگارے میں ایسی کیا بات تھی جس نے اُس زمانے کے ادب میں ہلچل مچا دی۔ لوگوں نے اُسے ایک نہایت بے خوف آواز کہا اور اُس نے بعد کے اُردو فکشن پر گہرا اثر ڈالا۔ انگارے کی اشاعت 1932ء میں ہندوستان کے شہر لکھنو میں ہوئی۔ اس میں چار افسانہ نگاروں کی 9 کہانیاں شامل تھیں۔ پانچ کہانیاں سجاد ظہیر کی، دو احمد علی کی، ایک رشید جہاں کی اور ایک محمود الظفر کی تھیں۔ آخر میں رشید جہاں کا ایک ڈرامہ بھی کتاب میں شامل تھا، یعنی کتاب کل دس تخلیقات پر مشتمل تھی۔ اس کے بانی، مرتب اور ناشر خود سجاد ظہیر تھے۔ ممتاز ترقی پسند ادیب پروفیسر قمر رئیس نے اپنے مضمون اُردو افسانہ میں انگارے کی روایت (مشمولہ تلاش و توازن) میں لکھا ہے کہ

قمر رئیس نے انگارے کو ترقی پسند تحریک کی خوشخبری قرار دیا ہے، یعنی اس مجموعے نے تحریک کے لیے پس منظر اور ماحول تیار کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ انگارے کی زبان کھلی اور صاف تھی، اس کا انداز بے خوف تھا، اس میں حاکم طبقے پر سیدھا تنقید کی گئی تھی اور مذہب کے بارے میں بھی صاف الفاظ میں بات کی گئی تھی، اسی وجہ سے اس پر کافی اعتراضات کیے گئے۔ اس کے خلاف بہت سے مضامین لکھے گئے اور اسے ضبط کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ نتیجے کے طور پر اگلے ہی سال کتاب پر حکومت کی طرف سے پابندی لگا دی گئی۔ جہاں جہاں یہ کتاب پہنچی تھی، وہاں سے اسے واپس لے لیا گیا اور جہاں اس کی کاپیاں موجود تھیں، وہاں انہیں جلا دیا گیا۔

ترقی پسند تحریک کا باقاعدہ آغاز اپریل 1936ء کی اس کانفرنس سے ہوتا ہے جس کی صدارت پریم چند نے کی تھی۔ پریم چند نے اپنے صدارتی خطبے میں ادب کا مقصد اور اہمیت بیان کی، ادیبوں کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا اور اس جلسے کو ادب کی تاریخ کا ایک یادگار واقعہ قرار دیا۔ اس خطبے میں انہوں نے کہا کہ

انہوں نے ادیبوں اور فنکاروں کے لیے حسن و جمال کے بدلتے ہوئے معنی، بدلتے حالات اور اُس زمانے کے احساسات کے پس منظر میں ادب کی تعریف بھی بیان کی۔ اس کانفرنس میں پریم چند کے علاوہ چودھری محمد علی ردولوی، سید سجاد ظہیر، احمد علی، فراق گورکھپوری، محمود الظفر، حسرت موہانی، جوش ملیح آبادی، ساغر نظامی اور بنگال، مہاراشٹر، گجرات اور مدراس وغیرہ کے نمائندے شامل تھے۔ اس کانفرنس میں سجاد ظہیر انجمن ترقی پسند مصنفین کے جنرل سکریٹری منتخب کیے گئے۔

لکھنو کانفرنس کی اچھی کامیابی کے بعد مختلف شہروں میں انجمن کی کانفرنسیں منعقد ہوئیں اور اس کی شاخیں قائم کی گئیں۔ دہلی، ممبئی، کلکتہ، بھیڑی، حیدر آباد، الہ آباد، لکھنو، جے پور، رانچی وغیرہ میں آہستہ آہستہ کانفرنسیں اور سمینار ہوتے رہے۔ بہت سے شاعر اور ادیب اس تحریک سے جڑ گئے اور اسے کامیاب بنانے کے لیے سچے دل سے خدمات انجام دیں۔ اسی وجہ سے اس تحریک نے تنظیمی اور علمی سطح پر ترقی کی اور بیسویں صدی کی سب سے کامیاب تحریک بن گئی۔

لیکن جس طرح دن کے بعد رات اور شام کے بعد صبح آتی ہے، اسی طرح عروج کے بعد زوال بھی آتا ہے۔ اس تحریک کا آغاز ہوا، اسے عروج ملا، اس نے کئی نسلوں کو متاثر کیا، ادب کی فضا پر چھا گئی اور پھر آہستہ آہستہ کمزور پڑ گئی۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ 1947ء کے بعد جو تحریکیں اور ادارے رُکاؤ اور بکھراؤ کا شکار ہوئے، ان میں ترقی پسند تحریک بھی اہم ہے۔ اس تحریک کے اہم رہنما سید سجاد ظہیر ہجرت کر کے پاکستان چلے گئے۔ کچھ ادیب اور شاعر وفات پا گئے اور اسی طرح چھٹے عشرے میں نظریاتی طور پر بھی اس تحریک میں اختلاف کے آثار نظر آنے لگے۔ 1948ء کے بعد رندوے کی قیادت میں کمیونسٹ پارٹی جس سختی اور دباؤ کا شکار ہوئی، اس کی وجہ سے بہت سے ادیب انجمن ترقی پسند مصنفین سے الگ ہو گئے۔ آزادی کے بعد خود ترقی پسند مصنفین نے ایک نئی قرارداد کے ذریعے غیر کمیونسٹ ادیبوں کے لیے انجمن کے دروازے بند کر دیے۔ اس فیصلے نے انجمن اور تحریک کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔ اس تحریک کو پروپگنڈہ اور نعرہ بازی بھی کہا گیا۔ بعض ادیبوں اور شاعروں نے جب محسوس کیا کہ یہ تحریک صرف نعرہ بن گئی ہے اور اس سے ادب کو نقصان ہو رہا ہے تو انہوں نے اس سے الگ ہونا بہتر سمجھا۔ اس طرح آٹھویں عشرے تک آتے آتے ترقی پسند تحریک ختم ہو چکی تھی اور جدیدیت پوری طرح سامنے آ چکی تھی۔

یہ بات یاد رہے کہ یہاں تحلیل کا لفظ اس لیے استعمال کیا گیا ہے کہ تحلیل ہونے والی چیز بظاہر ختم ہو جاتی ہے، لیکن اس کا کچھ نہ کچھ اثر باقی رہتا ہے۔ یہ تحریک آج بھی کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے اور اس سے نظریاتی طور پر جڑے ہوئے ادیبوں کی اچھی تعداد موجود ہے۔ انسان دوستی کا نظریہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔ مظلوم اور بے بس لوگوں کی حمایت کا سلسلہ کبھی بند نہیں ہو سکتا۔ ظلم اور استحصال کے خلاف آواز ہمیشہ اٹھتی رہے گی۔ شاعر اور ادیب ہمارے سماج کا سب سے زیادہ حساس طبقہ ہوتے ہیں۔ معاشرے میں ہونے والی کوئی بھی ناانصافی انہیں بے چین کر دیتی ہے اور وہ اپنی اس بے چینی کو اپنی تحریروں کے ذریعے ظاہر کرتے ہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اگرچہ آج ترقی پسند تحریک اپنی پرانی باقاعدہ شکل میں موجود نہیں ہے، لیکن اس کے پیغام کو آگے بڑھانے والے ادیب ہر دور میں موجود رہیں گے۔

ترقی پسند تحریک کی بنیاد لندن میں رکھی گئی ۔ یہ 1930 ء کی بات ہے۔ اس وقت ہندوستان کے چند نوجوان تعلیم حاصل کرنے کے لیے لندن گئے ہوئے تھے۔ ان نوجوانوں میں سجاد ظہیر ملک راج آنند محمد دین تاثیر پر مودسین گپتا جیوتی گھوش تھے۔ انہوں نے پہلی بار ملک کے سیاسی اور سماجی حالات کو دیکھتے ہوئے انسانیت کی خدمت کا خواب دیکھا اور اکیلے کوشش کرنے کے بجائے مل کر اور تمام زبانوں کے لکھنے والوں کو ساتھ لے کر ہندوستانیوں کو پستی غلامی مظلومی اور استحصال سے نجات دلانے کا ارادہ کیا اور اس کے لیے کوشش کی۔ اس گروہ نے انڈین پروگریسیورائٹرز ایسوسی ایشن بنائی، بعد میں مینی فیسٹو بنایا اور ہندوستان میں باقاعدہ ماحول بنایا ۔ اس ماحول کی بنیاد عالمی سطح پر ہونے والے ٹوٹ پھوٹ کے حالات سے بھی پڑی جن میں انقلاب روس اور پہلی جنگ عظیم شامل ہیں۔ ہندوستان میں انگریزوں کے ظلم و زیادتی اور ملک کی تحریک آزادی نے بھی ترقی پسند سوچ کو بڑھایا۔ 1932 ء میں سجاد ظہیر کے شائع کردہ دس تخلیقات پر مشتمل اس مجموعے نے بھی ترقی پسند تحریک کی بنیاد مضبوط کی تھی جس کا نام انگارے تھا انگارے تھا۔ اُس میں شامل کہانیوں اور ایک ڈرامے نے ادیبوں کی سوچ پر اثر ڈالا ۔ البتہ اپریل 1936 ء میں اس تحریک کا باقاعدہ آغاز ایک یادگار اور تاریخی کانفرنس سے ہوا جس میں پریم چند نے صدارتی خطبہ دیا ۔ اس کا نفرنس کے بعد ہی اس تحریک نے اپنی منظم شکل اختیار کی اور معروف شاعروں ادیبوں نے اس کی حمایت کی۔ ان میں پریم چند مولوی عبدالحق، حسرت موہانی، جوش، فراق، فیض، سجاد ظہیر، محمد حسن، قمر رئیس وغیرہ کے نام اہم ہیں۔
الہٰ آباد ، حیدر آباد، لکھنو، جے پور، رانچی وغیرہ میں بتدریج کا نفرنسیں اور سمینار ہوتے رہے۔ اور اس طرح اس تحریک نے تنظیمی اور علمی سطح پر ترقی کی اور بیسویں صدی کی سب سے کامیاب تحریک بن گئی ۔ لیکن 1947 کے بعد یہ تحریک رُکاؤ اور بکھراؤ کا شکار ہوگئی اور آٹھویں دہائی کے آتے آتے یہ تحریک ختم ہو چکی تھی ۔ البتہ تحریک کے اثرات اور اُس کے پیغامات اب بھی باقی ہیں اور مختلف شعرا و ادبا کے ذریعے اُن کا اظہار ہمیشہ ہوتا رہے گا۔

This post explains the background, origin, and development of the Progressive Writers’ Movement (Taraqqi Pasand Tahreek) in Urdu literature. It traces its foundation in London in 1930 by Indian students such as Sajjad Zaheer and Mulk Raj Anand, its formal launch at the 1936 Lucknow conference presided over by Munshi Premchand, and its aim to promote social justice, equality, and anti-colonial thought through literature. The article also discusses the influence of the controversial collection Angarey, the movement’s rapid growth across India, its ideological links with global events, and its decline after 1947, while highlighting its lasting impact on modern Urdu writing.