فارسی اصنافِ ادب کی پیروی میں اُردو میں مکتوب نگاری کی ابتدا ہوئی اور دوسری اصنافِ ادب کی طرح اُردو میں مکتوب نگاری کے ابتدائی نمونے بھی دکن ہی میں ملتے ہیں۔ لیکن صاف طور پر یہ کہنا مشکل ہے کہ پہلا خط کب اور کس نے لکھا تھا۔ ڈاکٹر عبد اللطیف اعظمی کے غیر مطبوعہ مقالے اردو مکتوب نگاری کے حوالے سے پروفیسر عنوان چشتی لکھتے ہیں کہ اُردو کا پہلا خط 6 دسمبر 1822ء کو لکھا گیا تھا۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں۔

یہ صحیح ہے اُردو کا پہلا اب تک دریافت شدہ خط 6 دسمبر 1822ء کا ہے۔ لیکن تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ اس سے بہت پہلے بھی اُردو میں مکتوب نگاری کارجحان عام تھا۔ اُردو کے قدیم ترین خطوط نظم کی ہئیت میں ملتے ہیں۔ شیر محمد خاں ایمان (متوفی 1121ھ م1806ء) کے ایک نامہ منظوم سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ 1806ء سے قبل بھی اُردو نظم و نثر میں مکتوب نگاری کی روایت رہی ہے۔

عام طور پر مرزا غالب کو اُردو میں مکتوب نگاری کا آغاز کرنے والا سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ غالب سے پہلے بھی اُردو میں مکتوب نگاری کی روایت موجود تھی۔ یہ بات درست ہے کہ ان خطوط میں غالب کے خطوط جیسی سادگی اور بے ساختگی نہیں تھی۔ غالب سے پہلے اُردو میں مکتوب نگاری کے حوالے سے دو نام خاص اہمیت رکھتے ہیں، ایک رجب علی بیگ سرور کا اور دوسرا غلام غوث بے خبر کا۔

رجب علی بیگ سرور کے مجموعۂ مکاتیب انشائے سرور کو مرزا احمد علی نے مرتب کر کے 1886ء میں نول کشور پریس لکھنو سے شائع کیا تھا۔ سرور ایک باصلاحیت مکتوب نگار تھے۔ وہ خطوط نویسی کے فن میں مہارت رکھتے تھے اور موقع کے مطابق مختلف انداز اختیار کرتے تھے۔ اسی وجہ سے ان کے مکاتیب میں کہیں سادہ اور صاف انداز نظر آتا ہے تو کہیں ہم قافیہ اور ہم آہنگ عبارت کی کثرت ملتی ہے۔ ڈاکٹر شہناز انجم لکھتی ہیں۔

غلام غوث بے خبر کے دو مجموعہ ہائے مکاتیب معلوم ہوتے ہیں، ایک فغانِ بے خبر ہے اور دوسرا انشائے بے خبر۔ پہلا مجموعہ نایاب ہے اور دوسرے کو مرتضیٰ حسین بلگرامی نے 1960ء میں علی گڑھ سے شائع کیا تھا۔ اس کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ بے خبر کے یہاں دو طرح کے انداز پائے جاتے ہیں۔ ایک وہ جو اس دور کا عام رائج انداز ہے اور جس پر فارسی کا گہرا اثر ہے۔ دوسرا وہ جس میں سادگی اور روانی کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ لیکن بے خبر کے مکاتیب میں فارسی کے اثرات اس قدر نمایاں ہیں کہ ان کے اسلوب کا دوسرا رنگ کمزور پڑ گیا ہے۔

آگے چل کر خطوطِ غالب میں جو سادگی، بے ساختگی اور بے تکلفی کے اعلیٰ نمونے ملتے ہیں، ان کے ابتدائی آثار سرور اور بے خبر کے مکاتیب میں نظر آتے ہیں۔ ڈاکٹر خواجہ احمد فاروقی لکھتے ہیں۔

مرزا غالب اردو کے جتنے بڑے شاعر تھے، اتنے ہی بڑے نثر نگار بھی تھے۔ اگر انہوں نے شاعری نہ کی ہوتی اور صرف اُردو خطوط ہی لکھے ہوتے، تب بھی تاریخِ ادبِ اُردو میں ان کا نام ہمیشہ باقی رہتا۔ غالب کے خطوط کے کئی مجموعے شائع ہوئے، جن میں ”مہرِ غالب“ مرتبہ عبد الغفور سرور (1862ء)، ”انتخابِ غالب“ (1866ء)، ”عودِ ہندی“ مرتبہ منشی ممتاز علی خاں (1868ء)، ”اُردوئے معلی“ مرتبہ حکیم غلام رضا خاں (1869ء)، ”مکاتیبِ غالب“ مرتبہ امتیاز علی عرشی (1937ء)، ”ادبی خطوطِ غالب“ مرتبہ مرزا محمد عسکری (1939ء)، ”خطوطِ غالب“ مرتبہ مہیش پرشاد (1941ء)، ”نادراتِ غالب“ مرتبہ آفاق حسین آفاق (1949ء)، ”خطوطِ غالب“ مرتبہ غلام رسول مہر (1951ء)، ”غالب کی نادر تحریریں“ مرتبہ خلیق انجم (1961ء) اور ”غالب کے خطوط“ مرتبہ خلیق انجم (1984ء) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ غالب کے اور بھی خطوط مختلف رسالوں اور کتابوں میں شائع ہوئے ہیں۔ ان مجموعوں میں سب سے زیادہ شہرت ”عودِ ہندی“ اور ”اُردوئے معلیٰ“ کو حاصل ہوئی اور ان کے کئی ایڈیشن شائع ہوئے۔

غالب کا شمار جدید اُردو نثر کے معماروں میں ہوتا ہے۔ ابتدائی زمانے میں وہ اپنے دوست احباب کو فارسی میں خط لکھتے تھے لیکن بعد میں جب بہادر شاہ ظفر کے کہنے پر مغلیہ خاندان کی تاریخ (مہرِ نیم روز) فارسی زبان میں لکھنے کی ذمہ داری انہیں دی گئی تو بڑھاپے اور وقت کی کمی کی وجہ سے انہوں نے اپنے دوستوں کو فارسی کے بجائے اُردو میں خط لکھنا شروع کر دیے۔ بقولِ حالی ۔

اس دور کی مکتوب نگاری پر فارسیت کا گہرا اثر تھا۔ اُردو خطوط میں عربی و فارسی کے مشکل اور اجنبی الفاظ و ترکیبیں، ہم قافیہ اور ہم آہنگ عبارت، پیچیدہ اندازِ بیان اور خطاب کے لیے لمبے فقرے یا القاب کا استعمال عام تھا۔ غالب کی جدت پسندی نے اس رجحان کے برخلاف نہ صرف بول چال کے انداز میں سادہ اور عام سمجھ میں آنے والی زبان استعمال کی بلکہ القاب و آداب بھی بہت مختصر کر دیے، جیسے: مرزا، میاں، مہاراج، اجی مولانا علائی، میری جان وغیرہ۔

غالب اپنے کلام کے آئینے میں ایک مشکل پسند شاعر نظر آتے ہیں۔ ان کے کلام کی جتنی شرحیں لکھی گئی ہیں اُردو کے کسی اور شاعر کی اتنی نہیں ملتی ہیں۔ لیکن جب ان کے خطوط کا مطالعہ کیا جائے تو وہ ایک ایسے نثر نگار کے طور پر سامنے آتے ہیں جو سادگی کو پسند کرتا ہے اور بناوٹ اور ضرورت سے زیادہ تکلف والی عبارت کو ناپسند کرتا ہے۔ خطوط میں غالب اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ گفتگو کے انداز میں سیدھے، سادے اور مختصر الفاظ میں اپنا دل کا حال بیان کر دیں۔ اس طرح گویا انہوں نے اپنی تحریر کو تقریر کا عکس اور خط کو مکالمہ بنا دیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں۔

اُردو مکتوب نگاری میں غالب نے جو مخصوص اسلوب بیان اختیار کیا تھا اور مراسلے میں مکالمے کا یا تحریر میں تقریر کا لطف پیدا کر دیا تھا۔ اس کی مکمل پیروی نہ تو ان کے معاصرین ہی کر سکے اور نہ ان کے بعد کسی نے کی۔ اسی لیے حامد حسن قادری کو کہنا پڑا ۔

حالی کے خطوط کے دو مجموعے جو ان کے آخری زمانے کے خطوط پر مشتمل ہیں، ان کے فرزند خواجہ سجاد حسین نے 1925ء میں شائع کیے تھے۔ یہ مجموعے کئی لحاظ سے ناقص ہیں۔ ایک تو اس لیے کہ ان کی کتابت وقت گزرنے کے ساتھ نا قابل قرآت ہو جاتی ہے۔ دوسرے یہ کہ مرتب نے خطوط کے ان مجموعوں میں جگہ جگہ خواتین اور ان شخصیتوں کے ناموں کی جگہ نقطے لگا دیے ہیں جو اس وقت حیات تھے۔ بہ قول صالحہ عابد حسین

ان مجموعوں کی اشاعت کے بعد حالی کے خطوط کا ایک اور مجموعہ مولوی اسمعیل پانی پتی نے مکاتیبِ حالی کے عنوان سے شائع کیا۔ جس میں انہوں نے حالی کے وہ خطوط جمع کیے ہیں جو پہلے مجموعوں میں شامل نہیں تھے۔ اس کتاب میں حالی کے 111 اُردو اور 38 عربی و فارسی خطوط شامل ہیں۔ ان خطوں میں زیادہ تعداد ایسے خطوط کی ہے جو حالی کے رشتہ داروں اور عزیزوں کے نام ہیں۔ ان میں اکثر روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی باتوں اور اپنے اور دوسروں کے دکھ درد کا ذکر ملتا ہے۔ اس کے علاوہ چند خطوط دوستوں اور ہم عصروں کے نام بھی ہیں جن کے مطالعے سے ان کے دلی جذبات اور احساسات کا اندازہ ہوتا ہے۔ بعض خطوں میں ادبی باتیں اور تنقید بھی ملتی ہے، لیکن ایسے خطوط کی تعداد بہت کم ہے۔ مولوی عبدالحق نے جب اُردو لٹریچر کے ہیروز کے عنوان سے ایک فہرست تیار کی اور ان کے ادبی کارناموں پر تنقیدی مضامین لکھوانے کی تجویز پیش کی تو حالی نے اس میں مولوی سید احمد کے نام کو شامل کرنے اور مولانا شبلی کے نام کو شامل نہ کرنے پر اعتراض کرتے ہوئے لکھا ہے۔

حالی کے مکاتیب میں غالب اور شبلی کے مکاتیب کی طرح رنگینی اور شوخی نہیں ملتی بلکہ سرسید کی تحریروں کی طرح سادگی اور پختگی نظر آتی ہے۔ ان کے کسی خط سے یہ محسوس نہیں ہوتا کہ یہ بہت زیادہ سوچ بچار کے بعد لکھا گیا ہے۔ انہوں نے کبھی غالب یا شبلی کی نقل بھی نہیں کی۔ اسی وجہ سے ان کے مکاتیب حقیقی معنوں میں سادگی، روانی اور بے ساختگی کی مثال ہیں۔ حالی کی سیرت اور شخصیت کی جھلک ان کے مکاتیب میں صاف نظر آتی ہے۔

حالی ایک درد مند دل رکھنے والے انسان تھے۔ ان کا دل پوری انسانیت کے لیے ہمدردی اور محبت کے جذبات سے بھرا ہوا تھا۔ جو بات جس طرح ان کے دل میں آتی، وہ اسی طرح سیدھے سادے انداز میں کاغذ پر لکھ دیتے تھے۔ ان کے خطوط ان کے مزاج کی سادگی، ہمدردی اور خلوص کو ظاہر کرتے ہیں۔ اپنے مکاتیب میں وہ غیر ضروری باتوں سے بچتے تھے اور مختصر القاب و آداب کے بعد اصل بات یا جواب طلب امور کی طرف آ جاتے تھے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا حالی کے مکاتیب کی نثر مجموعی طور پر سادہ اور کچھ حد تک خشک ہے، لیکن بعض جگہ ان کے قلم سے مزاحیہ جملے بھی نکل آتے ہیں۔ نواب محسن الملک کے نام ایک خط میں وہ لکھتے ہیں۔

اپنے بیٹے کو ایک خط میں لکھتے ہیں ۔

سرسید احمد خاں کے دور میں کئی شاعروں اور ادیبوں کے مجموعہ ہائے مکاتیب سامنے آئے، جیسے سرسید، محمد حسین آزاد، الطاف حسین حالی، محسن الملک، وقار الملک، شبلی نعمانی، اکبر الہ آبادی کے مکاتیب۔ ان سب کے مکاتیب کے مجموعوں میں شبلی کے مکاتیب کو اپنی اختصار پسندی، تازگی، دلکشی اور علمی وقار کی وجہ سے خاص اہمیت حاصل ہے۔
شبلی کے خطوط کے دو مجموعے ”مکاتیبِ شبلی“ اور ”خطوطِ شبلی“ کے نام سے شائع ہو چکے ہیں۔ پہلا مجموعہ دو جلدوں پر مشتمل ہے اور اس میں سرسید، حبیب الرحمان خال، پروفیسر عبد القادر، عبد الماجد دریا بادی، ابو الکلام آزاد اور مہدی افادی کے نام خطوط شامل ہیں اور دوسرے مجموعے میں بمبئی کی تعلیم یافتہ اور روشن خیال خواتین زہرہ بیگم اور عطیہ بیگم کے نام خطوط ہیں۔ پہلا مجموعہ شبلی کی ادبی اور علمی شخصیت کو ظاہر کرتا ہے اور دوسرا اُردو میں رومانوی نثر کے ابتدائی نمونوں میں شمار ہوتا ہے۔ بہ قول محمد اکرام، شبلی کی دو حیثیتیں تھیں، ایک عالم ہونے کے اعتبار سے اور دوسری اُردو کے نمایاں انشا پرداز ہونے کی حیثیت سے۔ اس سلسلے میں نظیر حسنین زیدی لکھتے ہیں۔

واقعہ یہ ہے کہ شبلی ایک کثیر الجہات ادبی شخصیت کے مالک تھے۔ وہ ایک زبر دست عالم دین، نقاد اور مورخ تھے اور اس کے پہلو بہ پہلو ایک باکمال شاعر بھی تھے۔ اسی لیے ان کے مکاتیب میں بھی ان کی شخصیت کے مختلف رنگوں کا پر تو دکھائی دیتا ہے۔

مہدی افادی، حالی اور شبلی کی طرح زیادہ کتابیں لکھنے والے نہیں تھے۔ اُردو دنیا میں ان کی پہچان زیادہ تر ان کی دو کتابوں ”افاداتِ مہدی“ اور ”مکاتیبِ مہدی“ کی وجہ سے ہے۔ یہ دونوں کتابیں ان کی وفات کے بعد شائع ہوئیں۔ پہلی کتاب ان کے مضامین کا مجموعہ ہے اور دوسری ان کے خطوط پر مشتمل ہے۔

مکتوب نگاری میں مہدی افادی شبلی کے انداز کو پسند کرتے تھے اور انہی کی پیروی کرتے تھے۔ وہ اپنے خطوط میں جسے خط لکھتے تھے اس کی شخصیت کو خاص اہمیت دیتے تھے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اچھے اندازِ بیان اور ادبی وقار پر بھی زیادہ توجہ دیتے تھے۔ ان کے تقریباً ہر خط میں ادبیت کی مٹھاس پائی جاتی ہے اور اپنے خاص طرزِ تحریر کی وجہ سے وہ ہمیشہ قارئین کی توجہ کا مرکز رہیں گے۔ شبلی کی طرح وہ حسن کے دلدادہ تھے اور ان کا ادبی ذوق نکھرا ہوا تھا۔ ان کے خطوط اس دور کے تقریباً تمام مشہور ادیبوں اور شاعروں کے نام ملتے ہیں، جن میں حالی اور شبلی کے علاوہ ریاض خیر آبادی، ہوش بلگرامی، ناصر علی دہلوی، عبد الرزاق کانپوری، عبد الماجد دریا بادی، سید سلیمان ندوی قابلِ ذکر ہیں۔

مہدی افادی پیشے کے لحاظ سے تحصیلدار تھے اور جب بھی انہیں سرکاری کام سے فرصت ملتی، وہ اپنا زیادہ تر وقت خطوط لکھنے میں گزارتے تھے۔ چنانچہ ایک خط میں وہ لکھتے ہیں ”صوبہ متحدہ ہی میں نئی قسم کا تحصیلدار ہوں کہ کاغذاتِ پٹواری کے ساتھ ساتھ یہ شریفانہ مشغلہ بھی بیگم کے بعد گلے کا ہار بنا رہتا ہے۔“ مکاتیبِ مہدی ان کی رنگین، جمالیاتی شخصیت اور خاص ذوق کی عکاسی کرتے ہیں۔ مہدی افادی محنت اور توجہ سے خطوط لکھتے تھے اور ان کی سجاوٹ اور بناوٹ میں بہت زیادہ نفاست اور خوب صورتی سے کام لیتے تھے۔ مہدی افادی کی مکتوب نگاری کی خصوصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر مظہر مہدی لکھتے ہیں۔

علامہ اقبال نہ صرف ایک عظیم شاعر تھے بلکہ ایک بلند پایہ نثر نگار بھی تھے۔ ان کے دوسرے نثری کاموں سے ہٹ کر، جن میں خطبات، مقالات و مضامین اور تقاریر و بیانات شامل ہیں ان کے مجموعہ ہائے مکاتیب کی تعداد ایک درجن سے زیادہ ہے اور ان کے خطوط کی تعداد ایک ہزار تین سو (1300) سے بھی زیادہ ہے۔
ان کے علاوہ اقبال کے کئی خطوط بکھری ہوئی حالت میں مختلف اخباروں، رسالوں، کتابوں اور ذاتی ذخائر میں موجود ہیں۔ حال ہی میں کلیاتِ مکاتیبِ اقبال کے نام سے ایک کتاب کئی جلدوں میں شائع ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ اقبال کے وہ خطوط بھی سامنے آئے ہیں جو انہوں نے پروفیسر تھامپسن کو انگریزی زبان میں لکھے تھے۔
اقبال بہت زیادہ خطوط لکھنے والے مکتوب نگار تھے۔ ان سے فائدہ اٹھانے والوں، چاہنے والوں اور دوستوں کا حلقہ خاصا بڑا تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں یقیناً ہزاروں خطوط لکھے ہوں گے۔ اقبال نے اُردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں خط لکھے۔ ان کی خط و کتابت نہ صرف برصغیر ہند و پاک کے ہم عصر لوگوں سے تھی بلکہ بیرونِ ملک کے اہلِ قلم سے بھی تھی۔ معاشرے کے ہر طبقے کے لوگ انہیں خط لکھتے تھے اور اقبال خط کا جواب دینے میں نہ صرف باقاعدگی دکھاتے تھے بلکہ جلدی کا بھی خیال رکھتے تھے۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر عبد اللہ چغتائی لکھتے ہیں ”میرے خیال میں آج تک کسی کو یہ شکایت نہیں ہوئی کہ اقبال کی طرف سے وہ جوابِ خط سے محروم رہا۔“ خط کا جواب دینے میں اقبال کی باقاعدگی اور تیزی کا یہ حال تھا کہ ان کے اکثر خطوط کے آغاز میں اس طرح کے جملے ملتے ہیں۔

علامہ اقبال کا اب تک دستیاب سب سے پہلا خط احسن مارہروی کے نام 28 فروری 1899ء کا ہے اور آخری خط انہوں نے اپنی وفات سے ایک دن پہلے لکھا تھا۔ اس طرح ان کے مکتوبات انتالیس برسوں (39) پر پھیلے ہوئے ہیں۔ اقبال خط کا جواب بہت کم لفظوں میں اور نہایت مختصر انداز میں لکھتے تھے۔ خطوط میں انہوں نے ہمیشہ بے ضرورت تکلف اور فالتو باتوں سے پرہیز کیا ہے۔ اسی وجہ سے ان کے ذخیرۂ مکاتیب میں زیادہ تر خطوط بہت مختصر ہیں، اور صرف چند خطوط طویل ہیں اور وہ بھی عطیہ فیضی کے نام۔ اقبال کا سب سے مختصر خط شاکر صدیقی کے نام ہے اور یہ صرف ایک جملے (میری رائے میں یہ استعارہ درست نہیں) پر مشتمل ہے۔

اقبال کی صاف بات کہنے کی عادت، پختگی اور بے خوفی ان کے خطوط سے واضح ہوتی ہے۔ مکاتیبِ اقبال سے ایک طرف خط لکھنے والے کی عاجزی، سادگی اور خلوص کا پتہ چلتا ہے تو دوسری طرف دوسروں کی حوصلہ افزائی، احترام اور نام و نمود سے بچنے کا انداز بھی سامنے آتا ہے۔ مکتوباتِ اقبال سے چند فقرے ملاحظہ ہوں جن سے اقبال کی شخصیت اور ان کے خیالات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

مولانا آزاد کی مکتوب نگاری بقول ڈاکٹر سید عبد الله اس بلند مقام تک پہنچتی ہے جہاں ادب کی عالمی سطح نمایاں ہو جاتی ہے۔ اگرچہ آزاد کے خطوط کے کئی مجموعے شائع ہوئے، لیکن جو مقبولیت اور شہرت غبارِ خاطر کو حاصل ہوئی، وہ کسی اور مجموعے کو نصیب نہ ہو سکی۔ غبارِ خاطر کے علاوہ مولانا کے خطوط کے اور بھی مجموعے کاروانِ خیال، مکاتیبِ ابو الکلام، نقشِ آزاد، تبرکاتِ آزاد اور میرِ عقیدہ کے نام سے شائع ہو چکے ہیں۔

کاروانِ خیال مولانا ابو الکلام آزاد اور نواب حبیب الرحمان خاں شروانی کے خطوط کا مجموعہ ہے، جسے مولوی محمد مجید حسن مالک، اخبار مدینہ بجنور نے 1943ء میں شائع کیا۔ مکاتیبِ ابو الکلام مولانا کے حالی، شبلی، سید سلیمان ندوی وغیرہ کے نام لکھے گئے خطوط کا مجموعہ ہے جو 1948ء میں ادبستان لاہور سے شائع ہوا۔ نقشِ آزاد اور تبرکاتِ آزاد کو چودھری غلام رسول مہر نے بالترتیب کتاب منزل لاہور اور ادبی دنیا دہلی سے 1963ء میں شائع کیا۔ میرِ عقیدہ مکتبہ جامعہ دہلی نے شائع کیا۔

غبارِ خاطر مولانا آزاد کے ان خطوط کا مجموعہ ہے جو انہوں نے قلعہ احمد نگر میں قید کے زمانے میں 3 اگست 1942ء اور 3 ستمبر 1945ء کے درمیان اپنے دوست مولانا حبیب الرحمان خاں شروانی کے نام لکھے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ جنہیں یہ خطوط لکھے گئے تھے انہیں یہ خطوط حکومت کی پابندی کی وجہ سے اسی وقت نہ مل سکے بلکہ بعد میں غبارِ خاطر کی صورت میں شائع ہونے پر ملے۔ مولانا کے لیے قلعہ احمد نگر کی قید کا یہ وہ زمانہ تھا جب نہ انہیں کسی سے ملنے کی اجازت تھی اور نہ خط و کتابت کی۔ شاید اسی لیے مولانا نے خطوط لکھنے کو اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کا ذریعہ بنایا، چنانچہ ایک خط میں لکھتے ہیں۔

مولانا آزاد ایک ہمہ جہت اور کئی پہلو رکھنے والی شخصیت کے مالک تھے۔ وہ ایک ساتھ ادیب بھی تھے اور مقرر بھی، سیاسی رہنما بھی تھے اور دانا مدبر بھی، مفکر بھی تھے اور فلسفی بھی۔ ان کی شخصیت کی یہ رنگا رنگی اور تنوع ان کے خطوط میں بھی صاف نظر آتی ہے۔ ان خطوط کے مطالعے سے مولانا کے زندگی کے تجربات، احساسات، خیالات، ارادے، سوچنے کا انداز اور ان کی پسند ناپسند کا اندازہ ہوتا ہے۔ مکاتیبِ غالب کے بعد تاریخِ ادبِ اُردو میں اگر کسی کے خطوط کو خاص اور غیر معمولی اہمیت حاصل ہے تو وہ مولانا آزاد کے مکاتیب ہیں۔ بہ قول ڈاکٹر سید عبد اللہ غبارِ خاطر کے خطوط کے مخاطب بظاہر حبیب الرحمان خاں شروانی ہیں لیکن اگر ان خطوط کے مضامین کو سامنے رکھا جائے تو ان کا مخاطب مشرق و مغرب اور حال و مستقبل کا ہر پڑھنے والا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ خود خط لکھنے والا ہی اپنا مخاطب ہو۔ ڈاکٹر سید عبد اللہ آگے چل کر غبارِ خاطر کی مقبولیت کی وجوہات اور اس کے اسلوبِ بیان کی خصوصیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

غبار خاطر کے اکثر خطوط کافی طویل ہیں۔ ان میں مکتوب الیہ پس پردہ چلا جاتا ہے اور مکتوب نگار کی شخصیت اور اس کے افکار و خیالات نمایاں ہو جاتے ہیں۔ ان خطوط میں ادب کے پہلو بہ پہلو مذہب، فلسفہ ، تاریخ، فنون لطیفہ سبھی کچھ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض نقادوں نے انہیں مضامین کہا ہے اور بعضوں نے انشائیے۔

خطوط میں مولوی عبدالحق کے صرف چند سو خطوط شامل ہو سکے ہیں۔ مولوی صاحب کے مکاتیب کی تعداد ہزاروں تک پہنچتی ہے۔ انہوں نے جتنے خطوط لکھے ہیں غالباً اُردو کے کسی اور لکھنے والے نے نہیں لکھے۔ ان کے بے شمار خطوط آج بھی مختلف رسالوں، کتابوں اور گھریلو ذخیروں میں بکھرے ہوئے ہیں۔

مولوی عبدالحق کے دل کی بات ان کے مکاتیب ہی میں سامنے آتی ہے اور ان کی شخصیت کے مختلف پہلو واضح ہوتے ہیں۔ مولوی صاحب کے خطوط کے مطالعے سے ایک طرف ان کی عادتوں، طریقوں اور مصروفیات کے بارے میں معلومات ملتی ہیں تو دوسری طرف ان کے خیالات، جذبات، رجحانات اور اُردو زبان سے ان کی محبت اور وابستگی کا بھی پتا چلتا ہے۔ ایک خط میں انہوں نے لکھا ہے کہ وہ اُردو زبان کی ترویج و اشاعت میں اس لیے لگے ہوئے ہیں کہ یہ زبان برصغیر ہند و پاک کے لوگوں کے درمیان میل جول اور اتحاد پیدا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ بقول ڈاکٹر رحیم بخش اُردو کی اسی اہمیت کے احساس نے انہیں انجمن ترقی اُردو کی معتمدی قبول کرنے پر آمادہ کیا اور وہ مناسب مرکز کی تلاش میں علی گڑھ سے اورنگ آباد، اورنگ آباد سے دہلی اور پھر کراچی تک بھٹکتے رہے بلکہ انہوں نے اپنا سب کچھ اسی مقصد کے لیے وقف کر دیا۔

مولوی عبد الحق ایک تیز لکھنے والے مکتوب نگار تھے۔ وہ اپنے خطوط میں اصل بات پر اکتفا کرتے اور غیر ضروری باتوں سے بچتے تھے۔ ان کی خط نویسی مقصد کو واضح طور پر بیان کرنے کی عمدہ مثال ہے۔ انہوں نے ضرورت کے مطابق طویل خطوط بھی لکھے اور مختصر بھی۔ ان کے مکاتیب میں سچائی، حقیقت پسندی اور خلوص صاف جھلکتا ہے۔ مولوی صاحب کے خطوط میں نہ تو بناوٹی انشا پردازی ملتی ہے اور نہ خطیبانہ انداز اور نہ ہی خشک موضوعات اور فلسفیانہ بحثیں۔ بلکہ ان میں سادگی، روانی، خوش مزاجی اور بے تکلفی پائی جاتی ہے۔ مکتوب نگاری میں وہ بات چیت جیسا انداز اختیار کرتے ہیں۔ ان کے خطوط غیر ضروری لفظوں اور بناوٹ سے پاک ہوتے ہیں۔ مولوی عبدالحق کے مکاتیب ان کی شخصیت، کردار اور ان کی علمی و عملی زندگی کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ڈاکٹر سید عبد اللہ نے عبد الحق کے مکاتیب کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے۔

رشید احمد صدیقی کے اب تک چھ مجموعہ ہائے مکاتیب شائع ہو چکے ہیں۔ پہلا مجموعہ سلیمان اطہر جاوید نے شائع کیا ہے، جس میں مسعود حسین خاں کے نام رشید صاحب کے خطوط جمع کیے گئے ہیں۔ دوسرا مجموعہ مکاتیب بنام خلیق احمد نظامی ہے۔ تیسرا مجموعہ رقعاتِ رشید احمد صدیقی ہے جس میں سلیمان اطہر جاوید کے مرتبہ مجموعہ مکاتیب میں شامل تمام خطوط کے علاوہ مسعود حسین خاں کے نام چند نئے خطوط بھی شامل ہیں۔ چوتھا مجموعہ لطیف الزماں نے مرتب کیا ہے جس میں رشید صاحب کے بچوں کے نام لکھے گئے خطوط بھی شامل ہیں۔ حالیہ عرصے (1995-96ء) میں رشید صاحب کے خطوط کے دو اور مجموعے شائع ہوئے جن میں بالترتیب خلیل الرحمان اعظمی اور آل احمد سرور کے نام مکتوبات شامل ہیں۔ آخر الذکر کے نام مجموعہ مکاتیب تمام مجموعہ ہائے مکاتیب میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اس میں سرور صاحب کے نام رشید احمد صدیقی کے 211 خطوط شامل ہیں، جو چالیس سال کے عرصے میں لکھے گئے ہیں۔

رشید احمد صدیقی کے خطوط میں ہر جگہ ان کا خاص اور جداگانہ اندازِ تحریر نمایاں نظر آتا ہے۔ بعض خطوط میں انہوں نے اپنے ہم عصروں پر کھل کر اعتراض کیا ہے کہیں طنز کیا ہے اور کہیں تعریف بھی کی ہے۔ مکتوب نگاری رشید صاحب کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ بابائے اردو مولوی عبدالحق کے بعد غالباً انہوں نے ہی سب سے زیادہ خطوط لکھے اور اپنے جذبات و احساسات کو پوری طرح ظاہر کیا ہے۔ تاہم اپنے خطوط کی اشاعت انہیں پسند نہیں تھی۔ وہ اکثر اپنے دوستوں کو ہدایت کرتے تھے کہ ان خطوط کو ضائع کر دیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں۔

رشید احمد صدیقی کے خطوط کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر مظہر مہدی نے لکھا ہے

رشید احمد صدیقی کے خطوط میں بڑا تنوع اور رنگانگی ہے۔ ذاتی، علمی، ادبی، معاشرتی اور تمدنی مسائل کا بیان ملتا ہے۔ انہوں نے اپنے خطوں میں طنز و مزاح اور شوخ و شنگ جملوں سے بھی کام لیا ہے۔ ( بیسویں صدی میں اُردو ادب ، ص 348)

This post presents a comprehensive study of the origin and evolution of Maktoob Nigari (Urdu letter writing). It traces the tradition from its early beginnings under Persian influence to its gradual development in Urdu literature, highlighting important milestones and scholarly opinions. The article critically discusses major letter writers such as Mirza Ghalib, Altaf Hussain Hali, Shibli Nomani, Allama Iqbal, Maulana Abul Kalam Azad, Molvi Abdul Haq, and Rashid Ahmad Siddiqui, explaining their distinctive styles, themes, and contributions. Overall, the post shows how Urdu maktoob nigari evolved from formal, ornate prose into a natural, conversational, and expressive literary form.