Abdul Halim Sharar ka Taruf, عبد الحلیم شررکا تعارف

عبد الحلیم شرر ایک ایسی شخصیت تھے جن میں کئی خوبیاں تھیں۔ انھیں ایک ساتھ ناول نگار، شاعر، مورخ، سوانح نگار، مترجم، مضمون نگار، صحافی، ڈراما نگار، رپورتاژ نویس، تاریخی ناول نگاری کا بانی اور سفر نامہ نگار کہا جاتا ہے۔ شرر کو سب سے زیادہ شہرت تاریخی ناول نگاری اور تہذیبی و تاریخی تحریروں کی وجہ سے ملی۔ انھیں تاریخی ناول نگاری کا امام بھی کہا جاتا ہے۔ انھوں نے بہت سے تاریخی ناول لکھے۔ اگرچہ ان کی کئی بہترین تخلیقات ہیں لیکن فردوس بریں کو تاریخی ناولوں میں خاص مقام حاصل ہے۔ انھوں نے فردوس بریں میں زبان و بیان اور فن کا جو انداز پیش کیا ہے وہ ان کی لکھنے کی صلاحیت اور فن کاری کا بہترین نمونہ ہے۔ عبد الحلیم شرر ایک ایسے تخلیق کار، فنکار اور لکھنے والے کا نام ہے جسے اردو ادب میں خاص مقام حاصل ہے۔

عبد الحلیم شرر کی ولادت بروز پنج شنبه 10 جنوری 1860 کو لکھنو کے جھوائی ٹولہ میں ہوئی تھی۔ ان کے والد کا نام تفضل حسین، دادا کا نام محمد اور پردادا کا نام نظام الدین تھا۔ شرر کے بزرگوں کا تعلق سرزمین حجاز سے تھا۔ شرر کے بزرگوں میں ایک نام مولوی معز الدین کا تھا جو حمد تغلق کے زمانے میں ہندوستان آئے تھے۔ جن کے بیٹے نظام الدین نے دہلی میں تعلیم حاصل کی اور پھر وہ لکھنو میں رہنے لگے۔ شرر کے والد تفضل حسین در بار اودھ سے وابستہ تھے۔ انگریزوں نے 30 جنوری 1856 کو جب اودھ پر قبضہ کر لیا تو تفضل حسین بھی مشکل حالات میں مبتلا ہو گئے۔ اودھ میں ان کے لیے روزگار کا کوئی ذریعہ نہیں رہا، اس لیے وہ نواب واجد علی شاہ کے ساتھ مٹیا برج، کلکتہ چلے گئے۔ اس وقت انگریزوں نے نواب کے لیے وظیفہ مقرر کر رکھا تھا۔ نواب واجد علی شاہ نے مٹیا برج میں ایک چھوٹا لکھنو آباد کر لیا تھا۔ شرر جب نو برس کے تھے، ان کے والد نے تعلیم و تربیت کے لیے انھیں کلکتہ بلا لیا۔ بقول شرر میں کلکتہ مٹیا برج پہنچا تو گویا ایک دنیا سے نکل کر دوسری دنیا میں چلا گیا اور میری زندگی کا دوسرا دور شروع ہوا۔ شرر کا گھرانہ نیک اور پرہیزگار، علم و ادب والا گھرانہ تھا، جن کا کام تعلیم دینا تھا۔ شرر اپنی تعلیم کے متعلق دلگداز (اپریل 1933) میں لکھتے ہیں والد نے میری تعلیم میں ایسی خاص کوشش کی کہ دو ہی سال کے اندر فارسی کی چند کتابیں ختم ہونے پائی تھیں کہ میزان الصرف اور منشعب شروع کروا دیں۔ یہ کتابیں ختم نہ ہوئی تھیں کہ منطق میں صغری اور کبری اور نحو میں مشرح قائد عامل پڑھا دیں۔

شرر کو بچپن سے ہی تعلیم حاصل کرنے میں خاص دلچسپی تھی۔ گھر کا ماحول بھی دینی اور مذہبی تھا۔ ان کی زندگی پر گھر اور آس پاس کے ماحول کا گہرا اثر تھا۔ وہ تفریح اور شوق کی چیزوں میں بھی خاص دلچسپی رکھتے تھے۔ انھوں نے اپنی تفریحی مصروفیات کے متعلق دلگداز (جون 1933) میں لکھا ہے کہ اس زمانے میں میری زندگی کا دوسرا رخ یہ تھا کہ منشی السلطان کے بیٹے سردار مرزا کو جو والد کے شاگرد تھے، بٹیر بازی کا بہت شوق تھا۔ ہر جمعہ کو داروغہ عباس علی خاں کے مکان پر بٹیر بازیوں میں بٹیر لڑاتے۔ میں جب سبق پڑھ کر آتا تو اس محفل میں شریک ہو جاتا۔ خود بٹیر پالتا۔ شرر کے لیے مٹیا برج کا ماحول بہت دلچسپ تھا۔ وہ ایسی محفلوں کا بھی حصہ ہوتے جہاں افیونیوں کا مجمع رہتا اور داستان گوئی کا باقاعدہ انتظام ہوتا تھا۔ دراصل شرر کی تربیت ایک ایسے ماحول میں ہو رہی تھی جہاں لکھنو کی تہذیب اور ثقافت کا رنگ نمایاں تھا۔ شرر کا تعلق شہزادوں سے بھی تھا۔ شرر نے ان کی زندگی سے بھی بہت اثر لیا۔ وہ دلگداز (جون 1933) میں خود کہتے ہیں کہ شہزادوں کی صحبت اور ہر وقت ان کی محفل میں رہنے سے مجھے اپنی زبان درست کرنے میں بہت مدد ملی۔ اتنا ہی نہیں تھا کہ میں صرف باہر سے مل کر چلا آتا، بلکہ محل کی خواصیں اور محل کے لوگ بار بار آ کر ملتے۔ ان سے بات کرنے کا طریقہ اور الفاظ دونوں کو سنتا اور لطف لیتا۔ شرر کے دل و دماغ اور زندگی کے طریقوں پر اس تعلیم و تربیت کا خاص اثر ہوا۔ شرر کی زندگی مختلف حالات اور کئی رنگوں سے بھری ہوئی تھی۔ وہ علم حاصل کرنے اور روزگار کی تلاش میں مسلسل کوشش کرتے رہے۔ شرر 1877 میں کلکتہ سے لکھنو چلے آئے اور یہاں کچھ وقت تک کتابوں کے مطالعے میں مصروف رہے۔ بعد میں دہلی گئے اور وہاں مولوی نذیر حسین کے مدرسے میں داخل ہو گئے۔ وہ دہلی میں ڈھائی برس تک رہے۔ 1883 میں وہ اودھ اخبار سے وابستہ ہو گئے لیکن ایک برس میں ہی اخبار سے تعلق ختم کر لیا۔ شرر نے روزگار کی تلاش میں 1891 میں حیدر آباد کا سفر کیا اور نواب وقار الامرا بہادر کے یہاں ملازمت اختیار کر لی۔ اس طرح کچھ وقت کے لیے مالی پریشانیوں سے نجات ملی۔ شرر نے نواب کے بیٹے ولی الدین خان کے ساتھ لندن کا سفر بھی کیا جہاں تین برس تک قیام رہا۔ شرر کا حیدر آباد آنے جانے کا سلسلہ جاری رہا۔ وہ 1899 میں لکھنو آگئے اور جنوری 1908 میں دوبارہ حیدر آباد گئے جہاں انھوں نے اسٹنٹ ڈائرکٹر تعلیمات کی حیثیت سے ملازمت کی۔ شرر کا دل ہمیشہ لکھنو کی فضا کو چاہتا تھا۔ لہذا وہ 1909 میں لکھنو واپس آگئے۔ انھوں نے دلگداز کی اشاعت کے کام کو مزید مضبوط کیا۔ شرر کا انتقال 24 دسمبر 1926ء کو ہوا۔

عبد الحلیم شرر اردو کے ایک مشہور ناول نگار، تاریخی ناول نگاری کے بانی اور تہذیب کے مورخ تھے۔ ان کا تاریخی ناول فردوس بریں ایک شاہکار کی حیثیت رکھتا ہے۔ فردوس بریں، رومانی ناول کا ایک بہترین نمونہ ہے۔ اس میں عشق و محبت کے معاملات کو بہت مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ ناول تاریخی پس منظر میں لکھا گیا ہے جس میں فرقہ باطنیہ کے خیالات، کاموں اور مذہبی معاملات کی تصویر پیش کی گئی ہے۔ دراصل اس ناول میں حسن بن صباح کی بنائی ہوئی مصنوعی جنت کی مکمل تصویر دکھائی گئی ہے۔ ناول فردوس بریں تاریخ اور رومانس کا ایک خوبصورت مجموعہ ہے۔ اسے تاریخی اور رومانی ناول ہونے کا درجہ حاصل ہے۔ ناول میں خیالی ماحول ہمیشہ قائم رہتا ہے اور ساتھ ہی فرقہ باطنیہ کی کوششیں اور ان کے فدائین کے حملے، تاریخ کے پس منظر میں نمایاں ہوتے ہیں۔ عبد الحلیم شرر کا سب سے بڑا کمال ان کا اندازِ تحریر ہے۔ انھوں نے لکھنے کے فن کا بہترین مظاہرہ کیا ہے اور رموز معرفت کی اصطلاحات کو بہت مناسب اور صاف انداز میں پیش کیا ہے۔ انھوں نے صوفیانہ خیالات کے اظہار میں بڑی مہارت اور فن کاری کا ثبوت دیا ہے۔ انھوں نے علم اور معرفت کے مشکل سے مشکل مسائل کو بہت آسانی سے پیش کیا ہے۔

Abdul Halim Sharar was a famous Urdu writer, historian, novelist, poet, and journalist. He is especially known as the pioneer of historical novel writing in Urdu literature. This post presents his life history, literary contributions, and his famous historical novel “Firdous-e-Bareen”. It highlights his writing style, creativity, and important role in the development of Urdu literature.