Urdu Novel Nigari Ka Aghaz o Irtiqa, اردو ناول نگاری کا آغاز و ارتقا

اُردو کی جدید نثری اصناف میں ناول ایک ترقی یافتہ صنف ہے۔ ناول کی فنی تکمیل اگرچہ پریم چند کے ناولوں سے ہوتی ہے لیکن انیسویں صدی کی چھٹی دہائی سے ہی اُردو میں ناول نگاری کا باقاعدہ آغاز ہو چکا تھا۔ اس دور میں نذیر احمد، پنڈت رتن ناتھ سرشار، عبد الحلیم شرر اور مرزا ہادی رسوا جیسے بڑے ادیبوں نے اس میدان میں کوشش کی۔ ان کے ناولوں کے نہ صرف انگریزی بلکہ دنیا کی دوسری زبانوں میں بھی ترجمے کیے گئے۔ اسی سلسلے کے ناول نگاروں میں محمد علی طبیب (جعفر عباسہ، خضر خاں، دیول دیوی، گورا)، سجاد حسین کسمنڈوی (نشتر)، مرزا عباس حسین ہوش (فسانہ نادر جہاں، ربط ضبط)، مرزا محمد سعید (خواب ہستی)، مهدی حسین تسکین (حسن پرست) اور سرفراز حسین عزمی (شاہد رعنا) وغیرہ کے نام آتے ہیں۔ پریم چند نے اپنے دور کے سماجی مسائل کو موضوع بنایا اور ایک حقیقت پسند فکشن نگار کے طور پر اپنی ایسی پہچان بنائی کہ آج تک اُردو ہندی میں اُن کا کوئی مقابل نہیں ہے۔

پریم چند کے بعد بھی اُردو میں ناول لکھے جاتے رہے ہیں۔ بعض ایسے ناول بھی سامنے آئے جنہیں ہندوستان کی تمام زبانوں میں لکھے جانے والے ناولوں میں بہترین مقام حاصل ہوا۔

اُردو میں ناول نگاری کی ابتدا کے بارے میں جب بھی بات ہوتی ہے ہماری زبانوں پر بے ساختہ ڈپٹی نذیر احمد اور اُن کے ناول مراۃ العروس کا نام آجاتا ہے۔ اردو کے پہلے ناول نگار اور پہلے ناول کے بارے میں کچھ شک اور سوال ضرور ہیں لیکن تمام بحث اور دلائل کے بعد اتفاق کے ساتھ ڈپٹی نذیر احمد کو اُردو کا پہلا ناول نگار اور اُن کے ناول مراۃ العروس کو اُردو کا پہلا ناول مانا جاتا ہے۔ نذیر احمد کے بعد جن ناول نگاروں کے نام آتے ہیں اُن میں پنڈت رتن ناتھ سرشار، عبد الحلیم شرر اور مرزا ہادی رسوا خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اُردو ناول کی عمارت انہی چار اہم ستونوں کی وجہ سے بلند اور شاندار ہو سکی ہے۔

ڈپٹی نذیر احمد ترقی پسند تحریک کے باقاعدہ آغاز سے ٹھیک ایک سو سال پہلے 1836 ء میں تحصیل نگینہ ضلع بجنور (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی میں دہلی منتقل ہو گئے اور یہیں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ اُنہوں نے ملازمت کے سلسلے میں مختلف شہروں مثلاً کا پور، الہ آباد اور حیدر آباد میں قیام کیا۔ اُنہوں نے انڈین پینل کوڈ کا انگریزی سے اُردو میں ترجمہ کیا جسے بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس کے بعد انہیں ڈپٹی کلکٹر کے باعزت عہدے پر مقرر کیا گیا۔ اسی وجہ سے ڈپٹی اُن کے اصل نام نذیر احمد کا حصہ بن گیا۔ نذیر احمد کی غیر معمولی علمی قابلیت اور شہرت کے سبب نواب سالار جنگ نے (وزیر اعظم مملکت آصفیہ) انہیں ریاست حیدر آباد بلا کر افسر بند و بست مقرر کیا تھا مگر اُن کے انتقال کے بعد نذیر احمد دہلی واپس ہو گئے اور پھر یہیں کے ہو رہے۔ باقی عمر لکھنے پڑھنے میں گزار دی۔ انہیں علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں شمس العلماء کے خطاب سے نوازا گیا تھا جبکہ ایڈنبرا یونیورسٹی نے ڈی اویل کی اعزازی ڈگری سے نوازا تھا۔ شمس العلماء ڈپٹی نذیر احمد 1912 ء میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

ڈپٹی نذیر احمد کی تخلیقات اُردو ناول کے ابتدائی نمونے ہیں۔ اُن کے ناول مراۃ العروس (1869) ء کو اُردو کا پہلا ناول تسلیم کیا جاتا ہے۔ اُن کے دیگر ناولوں میں توبتہ النصوح، ابن الوقت، رویائے صادقہ، فسانہ مبتلا اور بنات النعش خاصے مشہور ہیں۔ بیان کے انداز میں لکھے گئے ان کے ناولوں میں بات چیت اور لمبی لمبی تقریروں کا استعمال کیا گیا ہے۔ مکالموں نے بیان میں اثر پیدا کیا ہے جبکہ تقریروں نے بے رونقی پیدا کی ہے۔ تاہم مسلمانوں کے متوسط طبقے کی گھریلو زندگی کو دہلی کی صاف زبان اور محاوروں میں پیش کرنے میں ان کی فنی کامیابی کا راز چھپا ہوا ہے۔ ان کے زیادہ تر ناول اخلاقی اور اصلاحی موضوعات کے تحت آتے ہیں جن میں وہ مختلف بلکہ ایک دوسرے سے مختلف کرداروں کے ذریعے سماجی یا اخلاقی حالات کے اچھے اور برے پہلو دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے اکثر کردار فرضی مثالوں جیسے ہیں جن کی توجہ اخلاقی قدروں پر زیادہ ہوتی ہے۔

نذیر احمد نے اپنے ناول اپنی بیٹیوں کی دلچسپی اور اصلاح و تربیت کے لیے لکھے تھے۔ اس لیے ان ناولوں میں اچھائی برائی، نیکی بدی اور اخلاقی بلندی و پستی کی مثالیں جگہ جگہ موجود ہیں۔ دراصل اپنے کرداروں کی خوبیوں اور خامیوں کے ذریعے وہ اپنی بیٹیوں کو خوبی اور خامی کے مطلب سمجھاتے تھے اور اس طرح ان کی تربیت کرتے تھے۔ وہ عورتوں کے حقوق کے حامی اور لڑکیوں کی گھریلو تعلیم و تربیت کے نہ صرف حامی ہیں بلکہ اس کے لیے وہ اپنے ناولوں میں دلیل کے ساتھ بحث بھی کرتے ہیں۔ منظر کشی، فطرت نگاری، زبان و بیان پر قدرت، مخصوص تہذیب کی تصویر کشی نذیر احمد کے ناولوں کی خاص بات ہے۔ دہلی کی صاف زبان اور محاوروں کے صحیح استعمال پر انہیں قدرت حاصل ہے۔ انہیں اردو ناول پیش کرنے کا جتنا خیال تھا اس سے کہیں زیادہ ان کے ذہن میں یہ بات تھی کہ داستانی، جادوئی اور غیر حقیقی عناصر سے بھرے واقعات سے بچتے ہوئے سماجی حقیقتوں پر لکھا جائے اور سماج کے اندر پیدا ہونے والی خامیوں اور خرابیوں کی اصلاح کی جائے۔ نذیر کے ناولوں میں اگرچہ ناول کے بنیادی عناصر پلاٹ، کردار، مکالمہ، منظر نگاری وغیرہ موجود ہیں لیکن مثالی کرداروں کی زیادتی اور نصیحتوں کی بھرمار کے سبب ان کے فن پر اعتراض کیا جاتا رہا ہے۔ ان کے کردار اگر اچھے ہوتے ہیں تو صرف اچھائیوں سے بھرے ہوتے ہیں اور اگر برے ہوتے ہیں تو ان میں صرف خامیاں ہی ہوتی ہیں۔ وہ حقیقی دنیا کے انسان نہیں بلکہ خیالی کردار معلوم ہوتے ہیں۔ دوسری طرف ان کے ناولوں میں اکثر مرکزی کردار نصیحت کرنے والے یا اصلاح کرنے والے کا کام بھی کرتے ہیں جس کے سبب ان کے ناولوں کو ناول نہیں بلکہ نصیحت اور وعظ کی کتاب کہا گیا۔ ان اعتراضات کے باوجود زیادہ تر ادب کے ماہرین انہیں اردو کا اہم اور پہلا ناول نگار تسلیم کرتے ہیں۔ مثلاً پروفیسر احتشام حسین کا بیان ہے۔

اس عہد میں ان کے ناول خاصے مقبول ہوئے ۔ گو کہ آج بھی ان کے ناول کم مقبول نہیں ہیں لیکن ناول کا فن اس تیزی سے ارتقا پذیر ہے اور اس میں اتنے تجربے ہو رہے ہیں کہ نذیر کے ناول تاریخی اہمیت کے حامل ہو کر رہ گئے ہیں۔

ڈپٹی نذیر احمد کے بعد جس ناول نگار کا نام سامنے آتا ہے وہ یقیناً پنڈت رتن ناتھ سرشار (1902 ء ۔ 1846ء) ہیں جو اپنے ناولوں سیر کہسار، جام سرشار، کامنی اور فسانہ آزاد کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ سرشار کا تعلق لکھنو کے ایک عزت دار کشمیری خاندان سے تھا۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ایک اسکول میں پڑھانے سے کیا لیکن جلد ہی مضمون لکھنے اور ترجمہ کرنے کی طرف مائل ہو گئے۔ 1878 ء میں وہ منشی نول کشور کے اودھ اخبار لکھنؤ کے ایڈیٹر ہوئے۔ روزگار کی تلاش کے سلسلے میں حیدر آباد بھی آئے اور یہاں سے دبدبہ آصفی نکالا۔ لیکن یہ سلسلہ زیادہ دنوں تک جاری نہ رہ سکا۔ شراب ان کی کمزوری تھی۔ وہ بیماریوں میں مبتلا ہو گئے اور اسی حالت میں ان کا انتقال ہو گیا۔

سرشار نے اپنی مشہور تصنیف ”فسانہ آزاد“ قسطوں میں لکھی جو اودھ اخبار میں شائع ہوتی رہی۔ 1880ء میں فسانہ آزاد کتابی شکل میں شائع ہوئی۔ بقول آل احمد سرور سرشار نے بہت سی کتابیں لکھی ہیں مگر فسانہ آزاد ہی ان کا بہترین کام ہے۔ اسی وجہ سے وہ زندہ ہیں۔ ان کی دوسری کتابیں بھی اسی کی وجہ سے زندہ ہیں۔ فسانہ آزاد اور ان کے کرداروں کو بلاشبہ بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی مگر فنی سطح پر اس میں خامیوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ سرشار جب فسانہ آزاد لکھتے ہیں تو انہیں قاری کی دلچسپی کا خیال کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے اور اس وجہ سے وہ فن کو بھول جاتے ہیں۔ منظر نگاری، خوبصورت زبان، مزاح، دلچسپ اشعار، واقعات پر واقعات اور لکھنے کی مہارت دکھانے میں وہ تخلیق کے فنکارانہ اصولوں سے دور ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنی اس تحریر میں کسی واضح خیال کو پیش کرنے کے حامی نظر نہیں آتے۔ ان کے ذہن میں جو مواد ہوتا ہے اسے وہ قاری کی پسند اور ناپسند کا خیال کرتے ہوئے لکھتے چلے جاتے ہیں۔ فسانہ آزاد میں پلاٹ کی آزادی کی وجہ سے سرشار پر کسی قسم کی پابندی یا رکاوٹ کا احساس نہیں ہوتا۔ وہ آسانی سے اپنے قلم کی صلاحیت دکھاتے ہیں۔ مزاحیہ کردار سامنے لاتے ہیں، تہذیبی تصویر پیش کرتے ہیں لیکن اس انداز تحریر سے فن کو نقصان پہنچتا ہے۔ یہ درست ہے کہ اس بے فکری کی وجہ سے خوجی کا لازوال کردار سامنے آیا ہے لیکن ناول کے فن کے جو تقاضے ہوتے ہیں اس پر فسانہ آزاد پورا نہیں اترتا۔ پلاٹ کی بے ترتیبی، فکری عناصر کی کمی، نقطۂ نظر کی غیر موجودگی کی وجہ سے اس میں ربط و تسلسل کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ سرشار کے یہاں قصے کی بے ترتیبی، پھیلاؤ اور بہت سے چھوٹے واقعات کی وجہ سے جہاں چند خامیاں پیدا ہو گئی ہیں وہیں جذبات کی مختلف شکلوں، کرداروں کی رنگا رنگی اور مزاح و خوبصورتی نے انہیں منفرد مقام عطا کیا ہے۔ انہوں نے شعوری یا غیر شعوری طور پر لکھنؤ کی زوال پذیر تہذیب کی غیر معمولی تصویر کشی کی ہے۔ جس کے لیے کوئی سیدھا سادہ پلاٹ کافی نہیں تھا۔ انہیں چونکہ تہذیبی زندگی کے ہر پہلو اور ہر حصے کو سامنے لانا تھا اس لیے انہوں نے خوجی اور آزاد جیسے گھومنے پھرنے والے کردار بنائے اور ناول میں اکثر ڈرامائی انداز اختیار کیا۔

سرشار کے ناولوں کا موضوع لکھنوی معاشرہ اور وہاں کی اجتماعی زندگی ہے۔ ان کی تخلیقات میں لکھنؤ کی زندگی کے تمام پہلو موجود ہیں۔

خاص طور پر جاگیردارانہ نظام، وہاں کے رہن سہن اور طرز زندگی پر پوری روشنی پڑتی ہے۔ انہوں نے امرا اور نوابوں کے عیش و آرام کے ہنگاموں اور بے فکری کے مشغلوں کے ساتھ ساتھ زندگی کی ساری چہل پہل کی تصویر پیش کی ہے۔ ان کے کردار بہت متحرک ہیں اور وہ کردار کے علاوہ ماحول اور سماج کی تصویر بھی مؤثر انداز سے پیش کرتے ہیں۔ شاید اسی لیے انہیں ایک باکمال بھی کہا گیا ہے۔ ان کے کرداروں میں رمال، صراف، ساہوکار، طوائفیں، مولوی، مجاور، شاعر، قوال اور ڈومنیوں سے لے کر بیرسٹر، گارڈ، میونسپل کمشنر اور پروفیسر تک موجود ہیں۔ انہوں نے جس معاشرے کی تصویر پیش کی ہے اس میں محل، بازار، حرم سرا، کوٹھے، عیار معشوق، پردہ نشیں حسین اور زاہد خشک وغیرہ لازمی حصہ تھے۔

فسانہ آزاد کے علاوہ سرشار کے دو ناول مسیر کہسار اور جام سرشار کو بھی کافی مقبولیت حاصل ہوئی۔ فسانہ آزاد کے پلاٹ میں جو پیچیدگی ہے وہ سیر کہسار میں نہیں ہے کیونکہ سیر کہسار کا ایک ہی پلاٹ ہے جس میں ایک نواب زادے کی عیاشی کا قصہ بیان ہوا ہے۔ جام سرشار میں اصلاحی پہلو زیادہ ہے۔ اس کا موضوع زیادہ شراب پینے کے عبرت ناک انجام کو بیان کرنا ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو سرشار کی تحریروں میں مزاح زیادہ نمایاں ہے۔ ان کی زبان، کردار اور مکالموں کی تعریف کرتے ہوئے پروفیسر یوسف سرمست لکھتے ہیں۔

سرشار کی طرح عبد الحلیم شرر (1926ء – 1860ء) کا تعلق بھی لکھنو سے تھا اور وہ بھی منشی نول کشور کے اودھ اخبار سے وابستہ رہے۔ شرر نے محشر اور دل گداز نامی رسالے بھی جاری کیے۔ وہ اپنے تاریخی ناول ملک العزیز، جینا شوقین، ملکۂ حسن، انجلینا، منصور موہنا، فردوس بریں، عزیز مصر، فلورا فلورنڈا، فتح اندلس، زوال بغداد، ایام عرب وغیرہ کی وجہ سے مشہور ہوئے۔ مولانا کی تخلیقات تعداد کے لحاظ سے زیادہ ہیں اور بقول فراق گورکھپوری ” وہ مٹی کے پہاڑ ہی لیکن آپ کو انہیں رک کر دیکھنا ضرور پڑے گا۔ (بحوالہ علی عباس حسینی، اُردو ناول کی تاریخ اور تنقید، لاہور 1964 ص 232) لیکن شرر کے ناولوں کو مٹی کا پہاڑ قرار دینا درست نہیں لگتا۔ ناول نگاری کے ابتدائی دور میں شرر کی کوششیں بہت اہم ہیں۔ وہ اُردو کے پہلے ادیب ہیں جنہوں نے ناول کی شکل اور فن کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔ پروفیسر قمر رئیس نے لکھا ہے۔

شر کو تاریخ اسلام سے غیر معمولی دلچسپی تھی لیکن واقعہ نگاری اور ناول کی ضرورت نے انہیں بعض تاریخی حقیقتوں میں تبدیلی کرنے پر مجبور کر دیا۔ شرر ایک مذہبی انسان تھے۔ اصلاح، تبلیغ اور قومی بھلائی کا جذبہ اُن کے مقاصد میں شامل تھا۔ اُن کے سامنے متوسط طبقے کے مسلمانوں کے مسائل تھے اور وہ ان کی معاشرتی، اخلاقی اور معاشی ترقی کے خواہاں تھے۔ ان مسلمانوں کے اندر شرر امید کی وہ روشنی پیدا کرنا چاہتے تھے جس سے ان کے اندر اعتماد پیدا ہو سکے اور وہ مایوس زندگی گزارنے پر مجبور نہ رہیں۔ اپنے خیال کو سمجھانے اور پہنچانے کے لیے اُنہوں نے فن ناول نگاری کا سہارا لیا اور مسلمانوں کے بزرگوں کی شان و شوکت کو اپنے ناولوں کا موضوع بنایا۔ اس پورے عمل میں شرر فن کو بھی سامنے رکھتے ہیں۔ تاریخ لکھنے کے طریقے کا سہارا لے کر انہوں نے تاریخی واقعات کو ناول کی شکل دی جس میں ان کے خیالات کی وضاحت بھی ہوتی ہے۔

شرر نے تاریخی ناول کے علاوہ معاشرتی ناول بھی لکھے لیکن ان کی پہچان تاریخی ناول نگار کی حیثیت سے ہی قائم ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اُنہیں زندگی اور معاشرے کی پیچیدگیوں اور گہرائیوں کا صرف عام اور کم علم تھا۔ ایسے ناولوں کے لیے جس سمجھ، تخیل اور مشاہدے کی ضرورت ہوتی ہے وہ اُن کے یہاں موجود نہیں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کے ناولوں کی زبان بھی ادبی خوبصورتی سے خالی اور سادہ بیان والی ہے۔ البتہ ان کا ایک ناول فردوس بریں ادبی خوبیوں سے بھرپور ہے۔ اس کا انداز اور توازن دوسرے ناولوں سے بہتر ہے اور اس کی کردار نگاری اور مناظر کی تصویر کشی اپنی طرف توجہ دلاتی ہے۔

نذیر، سرشار اور شرر کے بعد اُردو ناول نگاری کا ایک بہت اہم نام مشہور ناول ”امراؤ جان ادا“ کے خالق مرزا محمد ہادی رسوا کا ہے۔ رسوا 1858ء میں لکھنو میں پیدا ہوئے اور یہیں 1931 ء میں اُن کا انتقال ہوا۔ رسوا کا مطالعہ وسیع اور مشاہدہ گہرا تھا۔ وہ عربی و فارسی کے عالم اور ریاضی کے ماہر تھے۔ علم طب میں انہیں مہارت حاصل تھی، تو سائنس اور موسیقی سے وہ بہت دلچسپی رکھتے تھے۔ گویا رسوا کا ذہن بہت کھلا ہوا تھا۔ ان کے مزاج میں تجسس کا جذبہ اور نئی معلومات حاصل کرنے کی لگن تھی۔ ادب اور شاعری سے انہیں گہرا تعلق تھا اور اسی دلچسپی نے ان سے امراؤ جان ادا کی تخلیق کرائی۔ امراؤ جان ادا میں رسوا نے ناول کی تکنیک کو ایک نیا راستہ دیا اور اردو ناول میں آپ بیتی بیان کرنے کی روایت شروع کی۔ اردو ناول نگاری کی تاریخ میں شکل کے اعتبار سے بھی امراؤ جان ادا کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ اب تک ناولوں کی شکل خالص بیانیہ ہوا کرتی تھی۔ ناول نگار سادہ کہانی کار کی طرح قصہ بیان کرتا چلا جاتا تھا۔ درمیان میں کہیں کہیں مکالمے سے کام لیا جاتا تھا مگر مذکورہ ناول مکمل طور پر آپ بیتی کے بیان پر مشتمل ہے۔

امراؤ جان ادا کے علاوہ انہوں نے مزید پانچ ناول افشائے راز، اختری بیگم، ذات شریف، شریف زادہ اور بہرام کی رہائی بھی لکھے لیکن ان کی شہرت، مقبولیت اور ہمیشہ زندہ رہنے کی وجہ ناول امراؤ جان ادا ہی قرار پایا۔ اپنے پہلے ناول نگاروں کے اصلاح اور تبلیغ کے رجحان و مقصد کے برعکس رسوا نے امراؤ جان ادا میں اپنی فنکاری کا کمال دکھایا اور ایک طوائف کی آپ بیتی کے پیچھے زوال پذیر اور خراب ہوتی ہوئی لکھنوی معاشرے کی مکمل تصویر بڑے مؤثر انداز میں پیش کی ہے۔ رسوا نے ایک طوائف کا انتخاب کیا جو بوڑھی ہو رہی ہے۔ بوڑھی طوائف کا انتخاب بہت معنی رکھتا ہے، اس لیے کہ اس دور کی لکھنوی تہذیب کی جو حالت تھی اس کے لیے ایسی بوڑھی طوائف بہت مناسب علامت ہے جس نے اپنی جوانی کے دنوں میں حسن و عشق کے تجربے کیے، عیش و خوشی کے مرحلے سے گزری اور مستی و خوشی میں زندگی گزاری، اور اب جب کہ اس کا بازار ختم ہو چکا ہے تو ماضی کی کہانی سنا رہی ہے۔

بیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی اردو ادب کے میدان پر جو نام سامنے آتا ہے وہ پریم چند ہیں۔ وہ 31 جولائی 1880 ء کو اتر پردیش کے ضلع بنارس میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصلی نام دھنپت رائے تھا مگر گھر کے لوگ انہیں نواب یا نواب رائے بھی کہتے تھے۔ انہوں نے دھنپت رائے اور نواب رائے کے نام سے بھی لکھا لیکن آگے چل کر دیا نرائن نگم کے مشورے سے قلمی نام پریم چند اختیار کر لیا اور دنیائے ادب میں اسی نام سے مشہور ہوئے۔ ان کا پہلا ناول اسرار معابد اور افسانوں کا پہلا مجموعہ سوز وطن ہے۔ 8 اکتوبر 1936 ء کو ان کا انتقال ہوا۔

پریم چند اپنے زمانے کے سیاسی، سماجی اور معاشرتی حالات سے اچھی طرح واقف تھے اور ذاتی طور پر گاؤں کی زندگی سے جڑے ہوئے تھے۔ جہاں زمین دارانہ نظام نے جگہ بنا لی تھی۔ انگریزی ناول نگاروں جارج ایلیٹ اور تھیکرے اور روسی ناول نگاروں ٹالسٹائی اور گور کی طرح پریم چند نے بھی اپنے ناولوں میں بڑے دائرے پر قومی زندگی کے تمام واقعات، مسائل اور مشکلات کو پیش کرنے کے لیے بیانیہ انداز سے کام لیا ہے۔ ناول کی تکنیک پر ان کی مکمل مہارت کا سب سے بہترین نمونہ گئو دان ہے جس میں آزادی سے پہلے کے شمالی ہندستان کی زندگی کی ایسی سچی اور خوبصورت تصویر سامنے آئی ہے جس کی دوسری مثال ہندی اور اردو ادب میں نہیں ملتی ہے۔ دھنیا، گوبر اور گاؤں کے دوسرے کرداروں کی اندرونی اور بیرونی زندگی کی صاف تصویر کشی میں ناول کی تکنیک پر مصنف کی مہارت ظاہر ہے۔

گئودان کے علاوہ پریم چند کے ناولوں میں اسرار معابد، بازار حسن، چوگان ہستی، نرملا، میدان عمل، پردۂ مجاز، غبن اور گوشۂ عافیت شامل ہیں۔ گوشۂ عافیت گاندھیائی اثرات کا ایک منفرد نمونہ ہے۔ ”پردۂ مجاز“ میں انہوں نے ہندستانی تہذیب کے بعض پرانے تصورات مثلاً آواگون اور کایا کلپ سے بھی کام لیا ہے۔ ”نرملا“ حقیقت نگاری کا بہترین نمونہ ہے جس میں ہندوستانی عورت کے استحصال، اس کی بے بسی اور پریشانی کو گہرائی سے پیش کیا گیا ہے۔ چوگان ہستی ایک گہرا ناول ہے جس میں دیہی معاشرہ اور شہر میں پھیلتے ہوئے صنعتی نظام کے فرق کو نمایاں کیا گیا ہے۔ میدان عمل اس عہد کی سیاسی اور سماجی زندگی کی مشکلات اور عوامی جدوجہد کو حقیقت پسندانہ انداز سے پیش کرتا ہے۔ دراصل پریم چند اپنے ناولوں میں معاشرے، فرد اور زندگی کی تصویر پیش کرتے ہیں اور اس راستے میں ان کے گہرے مشاہدے، سوچ، تخیل اور جذبات کے متوازن ملاپ نے ناول نگاری کے فن کو اپنی بلندی تک پہنچا دیا۔

Explore the history and development of Urdu novel writing, from its early beginnings to its growth as a major literary genre. This post highlights the contributions of prominent Urdu novelists, including Deputy Nazeer Ahmad, Pandit Ratan Nath Sarshar, Abdul Halim Sharar, Mirza Muhammad Hadi Ruswa, and Munshi Premchand, along with their famous works and their influence on Urdu literature. It presents how Urdu novels reflected social, cultural, and historical realities of their time.