Urdu NET Notes

Meer Taqi Meer, Hamare Aage Tera Jab Kaso Ne Ghazal Ki Tashreeh, میر تقی میر ہمارے آگے ترا جب کسو نے غزل کی تشریح

غزل کی تشریح ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیادل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا تشریح شاعر کہتا ہے کہ جب بھی کسی نے میرے سامنے میرے محبوب کا نام لیا تو میرا دل جو پہلے ہی محبت کے دکھوں سے زخمی تھا تڑپ اٹھا۔ میں نے بڑی مشکل سے اپنے […]

Meer Taqi Meer, Hamare Aage Tera Jab Kaso Ne Ghazal Ki Tashreeh, میر تقی میر ہمارے آگے ترا جب کسو نے غزل کی تشریح Read More »

Meer Taqi Meer, Faqeerana Aaye Sada Kar Chale, Ghazal Ki Tashreeh,  میر تقی میر، فقیرانہ آئے صدا کر چلے،غزل کی تشریح

غزل کی تشریح فقیرانہ آئے صدا کر چلےکہ میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے تشریح اس شعر میں میر اپنی زندگی اور موت دونوں کا نقشہ کھینچتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ ہم دنیا میں فقیروں کی طرح آئے یعنی ہمارے آنے کا کوئی شور و ہنگامہ نہ ہوا، نہ دولت و جاہ و

Meer Taqi Meer, Faqeerana Aaye Sada Kar Chale, Ghazal Ki Tashreeh,  میر تقی میر، فقیرانہ آئے صدا کر چلے،غزل کی تشریح Read More »

Wali Dakni Yaad Karna Har Ghadi Us Yaar Ghazal Ki Tashreeh, ولی دکنی یاد کرنا ہر گھڑی اس یار  غزل کی تشریح

غزل کی تشریح یاد کرنا ہر گھڑی اس یار کا ہے وظیفہ مجھ دل بیمار کا تشریح شاعر اپنے محبوب کے ذکر اور یاد کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا معمول قرار دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میرا دل چونکہ عشق کی شدت میں بیمار ہے اس لیے ہر وقت محبوب کو یاد

Wali Dakni Yaad Karna Har Ghadi Us Yaar Ghazal Ki Tashreeh, ولی دکنی یاد کرنا ہر گھڑی اس یار  غزل کی تشریح Read More »

Khwaja Meer Dard, Jag Me Aakar Idhar Udhar Dekha Ghazal Ki Tashreeh جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا غزل کی تشریح

غزل کی تشریح جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھاتو ہی آیا نظر جدھر دیکھا تشریح اس شعر میں شاعر اپنے کائناتی مشاہدے کا ذکر کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ میں نے اس دنیا میں آ کر ہر طرف نگاہ ڈالی مختلف جلوے اور مناظر دیکھے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر جگہ صرف

Khwaja Meer Dard, Jag Me Aakar Idhar Udhar Dekha Ghazal Ki Tashreeh جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا غزل کی تشریح Read More »

Wali Dakni Muflisi Sab Bahar Khoti Hai Ghazal Ki Tashreeh, ولی دکنی مفلسی سب بہار کھوتی ہے غزل کی تشریح

غزل کی تشریح مفلسی سب بہار کھوتی ہے مرد کا اعتبار کھوتی ہے تشریح اس شعر میں شاعر نے مفلسی (غربت) کے اثرات کو بیان کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جب انسان غربت میں مبتلا ہوتا ہے تو اُس کی زندگی کی تمام خوشیاں اور بہاریں ختم ہو جاتی ہیں۔ غربت نہ صرف انسان

Wali Dakni Muflisi Sab Bahar Khoti Hai Ghazal Ki Tashreeh, ولی دکنی مفلسی سب بہار کھوتی ہے غزل کی تشریح Read More »

Urdu Novel Agaz Ke Asbab, اردو ناول آغاز کے اسباب

اردو میں ناول اردو میں ناول کی شروعات کی کئی وجوہات ہیں۔ اگرچہ یہ صنف صنعتی دور میں پیدا ہوئی اور انگریزی میں اس کا آغاز صنعتی انقلاب کے بعد آنے والی سماجی اور معاشی تبدیلیوں کی وجہ سے ہوا لیکن اردو میں اس کی مختلف وجوہات رہی ہے۔ اردو میں ناول کا آغاز انیسویں

Urdu Novel Agaz Ke Asbab, اردو ناول آغاز کے اسباب Read More »

Urdu Novel Nigari Ki Riwayat, اردو ناول نگاری کی روایت

اردو میں ناول نگاری کی روایت اردو ناول کی ابتدا انیسویں صدی کے وسط میں ہوئی جب برصغیر میں سماجی و سیاسی تبدیلیوں کا ایک نیا دور شروع ہو رہا تھا۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد کے ہندوستانی معاشرے خاص طور پر مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی پسماندگی نے ایسی ادبی صنف کی ضرورت

Urdu Novel Nigari Ki Riwayat, اردو ناول نگاری کی روایت Read More »

Novel Ki Tareef Aur Ajzaye Tarkeebi ناول کی تعریف اور اجزائے ترکیبی

ناول کی تعریف ناول انگریزی زبان کا لفظ ہے جو لاطینی زبان کے لفظ نووس سے نکلا ہے، جس کا مطلب ہے نئی چیز۔ روم کے پرانے بادشاہوں ہیڈریم اور جسٹی نین کے زمانے میں جو نئے فرمان یا قانون جاری ہوتے تھے، انھیں “ناولاس” کہا جاتا تھا۔ بعد میں جب انگریزی ادب میں رومانس

Novel Ki Tareef Aur Ajzaye Tarkeebi ناول کی تعریف اور اجزائے ترکیبی Read More »

Meer Aman, Bagh O Bahar Ki Ahmiyat, میر امن، باغ و بہار کی اہمیت

باغ و بہار کی فنّی خصوصیت اور اسکی اہمیت باغ و بہار اردو نثر کی ایک اہم اور بنیادی تصنیف ہے جسے میر امن دہلوی نے فورٹ ولیم کالج کے لیے تصنیف کیا۔ یہ کتاب اپنی سادہ، سلیس اور عام فہم زبان کی وجہ سے اردو ادب میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ اس کا

Meer Aman, Bagh O Bahar Ki Ahmiyat, میر امن، باغ و بہار کی اہمیت Read More »

Sare Jahan Se Acha Hindu Sita Hamara Nazam Ki Tashreeh, سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا نظم کی تشریح

ترانئہ ہندی سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا نظم کی تشریح سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا  تشریح یہ شعر علامہ اقبال کی مشہور نظم ’ترانۂ ہندی‘ سے لیا گیا ہے جو 1904ء میں لکھی گئی۔ اس نظم میں اقبال نے وطن سے محبت اور اس پر

Sare Jahan Se Acha Hindu Sita Hamara Nazam Ki Tashreeh, سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا نظم کی تشریح Read More »