Meer Taqi Meer, Faqeerana Aaye Sada Kar Chale, Ghazal Ki Tashreeh, میر تقی میر، فقیرانہ آئے صدا کر چلے،غزل کی تشریح
غزل کی تشریح فقیرانہ آئے صدا کر چلےکہ میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے تشریح اس شعر میں میر اپنی زندگی اور موت دونوں کا نقشہ کھینچتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ ہم دنیا میں فقیروں کی طرح آئے یعنی ہمارے آنے کا کوئی شور و ہنگامہ نہ ہوا، نہ دولت و جاہ و