
اس مضمون میں
انتظار حسین کا تعارف
انتظار حسین کی پیدائش اتر پردیش کے ضلع بلند شہر کے قصبہ ڈبائی میں ہوئی۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی۔ ہاپوڑ سے ہائی اسکول اور میرٹھ کالج سے اردو میں ایم اے کی سند حاصل کی۔ تقسیم کے بعد وہ لاہور چلے گئے اور وہیں ان کا انتقال ہوا۔
انتظار حسین ممتاز افسانہ نگار اور ناول نگار تھے۔ وہ ایک معروف مضمون نگار بھی تھے۔ ان کے افسانوں میں داستانوی فضا ملتی ہے۔ انھوں نے اساطیری روایات کو بھی عصری تناظر میں پیش کیا ہے۔ قدیم روایات اور لوک کہانیوں کے اثرات، پراسراریت، علامتی انداز، تاریخی و اساطیری کرداروں اور موضوعات کا استعمال ان کے افسانوں کی امتیازی خصوصیات ہیں۔
ان کا پہلا افسانہ “قیوما کی دکان” اور پہلا افسانوی مجموعہ “گلی کوچے” تھا۔ اس کے بعد ان کے کئی مجموعے “کنکری”، “آخری آدمی”، “شہرِ افسوس”، “خیمے سے دور”، “خالی پنجرہ” اور “شہرزاد کے نام” وغیرہ کے نام سے شائع ہوئے۔ “چاند گہن”، “بستی”، “دن اور داستان”، “تذکرہ” اور “آگے سمندر ہے” ان کے مشہور ناول ہیں۔ انھوں نے کئی کتابوں کے ترجمے بھی کیے۔
حکیم اجمل خاں کی سوانح حیات “اجملِ اعظم” کے نام سے لکھی۔ ان کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ “علامتوں کا زوال” اور کالموں کا مجموعہ “ذرّے” کے نام سے شائع ہوئے ہیں۔ افسانہ “مانوس اجنبی” ان کے افسانوی مجموعے “شہرزاد کے نام” میں شامل ہے۔
چند اہم باتیں
نام۔ انتظار حسین
سنِ پیدائش و وفات۔1925ء – 2016ء
جائے پیدائش۔ قصبہ ڈبائی، ضلع بلند شہر، اتر پردیش
پہلا افسانہ۔ قیوما کی دکان
پہلا افسانوی مجموعہ۔ گلی کوچے
مشہور ناول۔ چاند گہن، بستی، دن اور داستان، تذکرہ، آگے سمندر ہے
سوانح حیات۔ اجملِ اعظم (حکیم اجمل خاں)
تنقیدی مضامین کا مجموعہ۔ علامتوں کا زوال
کالموں کا مجموعہ۔ ذرّے
زیرِ نظر افسانہ۔ مانوس اجنبی (مجموعہ۔ شہرزاد کے نام)
افسانہ “مانوس اجنبی” کا خلاصہ
محفل کا خود بخود سج جانا
راوی نے گھر میں آ کر برآمدے میں بیٹھ کر ناشتہ کرنا شروع کیا تو صحن میں ایک امرود کا درخت کھڑا تھا اور قریب ہی اس نے ایک کیاری بنائی تھی جس میں مختلف پودے لگائے تھے۔ اسے صبح کھلی فضا میں بیٹھ کر ناشتہ کرنا اور اخبار پڑھنا اچھا لگتا تھا۔ راوی کہتا ہے کہ اس میں اس کے ارادے کا کوئی دخل نہ تھا، بس محفل خود بخود ہی آراستہ ہوتی چلی گئی۔
پرندوں کی آمد
ایک دن ایک چڑیا ناشتے کے وقت اس کے آس پاس منڈلانے لگی۔ راوی نے توس کے کچھ ریزے فرش پر بکھیر دیے۔ پھر اور چڑیاں آ گئیں اور راوی نے ان کی سہولت کے لیے ریزے امرود کے سائے تلے ڈالنے شروع کر دیے۔ اس کے بعد بلبلوں کا جوڑا بھی آ گیا۔ راوی نے درخت تلے پانی کا کونڈا رکھ دیا تو چڑیاں اس میں جماعت بنا کر اشنان کرنے لگیں۔ فاختہ بھی کبھی کبھی آتی، مگر اسے دانے سے غرض نہ تھی، وہ بس پانی کے دو گھونٹ پی کر کچھ دیر ٹہلتی اور اڑ جاتی۔ راوی نے اس کے لیے باجرے کا اہتمام بھی کیا مگر فاختہ نے بے نیازی برتی، اور چڑیاں بھی توس اور روٹی کے ریزوں سے اتنی مانوس ہو چکی تھیں کہ انھیں باجرہ پسند نہ آیا۔ پھر ایک گڑسل کے جوڑے نے بھی یہ گھر دیکھ لیا۔
گلہری کی آمد اور کوے کا مسئلہ
ایک صبح اچانک گلہری نمودار ہوئی اور امرود کی شاخوں سے سرسراتی ہوئی تنے کے سہارے نیچے اتر آئی۔ چڑیاں اسے دیکھ کر پریشان ہو گئیں، مگر خیریت رہی کہ وہ جلد چلی گئی۔ پھر وہ روز آنے لگی اور چڑیاں بے چاری پریشان ہو جاتیں۔ ایک کوے نے بھی اس صحن میں آنا شروع کیا۔ وہ جارحانہ رویہ رکھتا تھا اور چڑیوں کو دانے کے قریب نہ آنے دیتا۔ راوی کو اس کا یہ رویہ پسند نہ آیا، اس لیے جب بھی وہ آتا راوی چھڑی لے کر کھڑا ہو جاتا اور کوے کو بھاگتے ہی بنتی۔ کوے کو اس نے اپنی حد تک برداشت نہ کیا، مگر گلہری کے معاملے میں وہ ایسا نہ کر سکا۔ اسے سری رام چندر کی کہانی یاد تھی کہ لنکا کی چڑھائی کے وقت ہندوستان اور لنکا کے درمیان جو پل بنا اس کی تعمیر میں گلہری نے بھی حصہ لیا، اور رام چندر جی نے اس کی دل جوئی کی۔ راوی نے سوچا کہ چڑیاں بھی عزیز ہیں اور گلہری بھی، اس لیے وہ دونوں کے بیچ غیر جانب دار ہو گیا۔ آہستہ آہستہ چڑیوں نے بھی حالات سے سمجھوتا کر لیا۔
طوطوں کا شور اور امرود کا درخت
صبح کے وقت راوی کو آسمان کی بلندیوں میں طوطوں کی قطار شور مچاتی تیزی سے گزرتی نظر آتی، مگر وہ کبھی اس کے امرود کے درخت پر نہیں اترے تھے۔ اسے خیال ہوتا کہ بستی میں کھڑا یہ درخت ان کی نظروں میں کیا سمائے گا۔ ایک صبح اچانک امرود کا پیڑ زندگی سے بھر گیا، بہت سے طوطے شور مچاتے ہوئے شاخوں کے بیچ آ اترے۔ راوی خوش بھی ہوا کہ امرود کو بھی آخر شرفِ قبولیت حاصل ہو گیا، مگر وہ اداس بھی ہوا کیونکہ دم کے دم میں طوطوں نے کچے پکے امرودوں کا فرش پیڑ تلے بچھا دیا۔ اس شرفِ قبولیت کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی۔
سڑک کی چوڑائی اور درختوں کا کٹنا
پھر ایک دن اربابِ شہر کو خیال آیا کہ آبادی بڑھ گئی ہے اور سڑکوں پر ٹریفک بہت ہو گیا ہے، اس لیے سڑکیں چوڑی ہونی چاہئیں۔ جو سڑکیں تنگ نظر آئیں ان میں راوی کی سڑک بھی تھی۔ بلڈوزر، پھاوڑوں، کلہاڑیوں اور آروں سے لیس بہت سے مزدور آ پہنچے۔ درخت کٹنے لگے، کلہاڑیاں چلتیں، دن بھر پھاوڑا بجتا، اور بڑے بڑے درخت دم کے دم میں زمین بوس ہو گئے۔ درختوں کے گرنے، کلہاڑیوں اور پھاوڑوں کا شور اور اوپر سے گرد کا طوفان تھا۔ اس قیامت میں کتنے پرندے بے گھر ہو گئے اور کتنے آشیانے اجڑ گئے۔ پرندے شور مچاتے اڑتے، کچھ دیر اسی علاقے میں حواس باختہ چکر لگاتے رہتے، پھر دور نکل جاتے۔ اس علاقے سے پرندوں کی ہجرت شروع ہو گئی۔
پرندوں کا ایک ایک کر کے رخصت ہونا
راوی کا چھوٹا سا سبزہ زار اچھا خاصا ریگ زار بن گیا۔ بلبلیں، گڑسلیں، گلہری سب پریشان تھے، فاختائیں الگ خفا، مگر گلہری سب سے نازک مزاج نکلی اور سب سے پہلے اس نے کنارہ کیا۔ پھر بلبلیں کچھ دن حواس باختہ نظر آئیں اور اس کے بعد وہ بھی نظروں سے اوجھل ہو گئیں۔ فاختہ کا جوڑا بھی غائب ہو گیا۔ چڑیوں نے البتہ خاصی ثابت قدمی دکھائی اور کافی دنوں تک پرانے دستور کے مطابق چیں چیں کرتی آتی رہیں۔ مگر آہستہ آہستہ انھوں نے بھی صبر کا دامن چھوڑ دیا، ان کی چیں چیں کی لہک غائب ہو گئی اور تعداد کم ہو گئی۔ آخر صبح خاموش گزرنے لگی اور راوی کو لگا کہ اس علاقے ہی سے سارے پرندے ہجرت کر گئے ہیں، حتیٰ کہ جہاں وہ سب گئے وہاں اس آنگن میں اترنے والے پرندے بھی چلے گئے۔
سڑک کی تکمیل اور راوی کی کیفیت
سڑک کی تعمیر کا کام لمبا ہوتا چلا گیا۔ راوی سوچتا رہا کہ کیا سڑک کو آخری چڑیا کی رخصتی کا انتظار ہے؟ آخر کام خدا خدا کر کے مکمل ہوا۔ راوی باہر نکلا تو سڑک دیکھ کر دل دھک سے رہ گیا، وہ واقعی جدید عہد کی شاہراہ تھی، مگر دور دور تک کوئی درخت نظر نہ آیا، بس کھمبے ہی کھمبے تھے۔ سڑک اب درختوں سے خالی اور کھمبوں سے معمور تھی۔
پرندوں کی واپسی
چڑیوں کی آمد اب یکسر موقوف تھی، پھر بھی راوی کونڈے میں پانی بھرتا رہا۔ ایک صبح ایک چڑیا پھر پھر کرتی آئی اور کونڈے کے کنارے بیٹھ کر چونچ پانی میں ڈبوئی اور اڑ گئی۔ راوی نے اطمینان کا سانس لیا اور طے کر لیا کہ یہ آج آئی ہے تو کل بھی آئے گی اور اکیلی نہیں آئے گی۔ یہی ہوا، وہ بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوئی۔ پھر چڑیاں آتی ہی چلی گئیں۔ پھر ایک صبح بلبلوں کا جوڑا نمودار ہوا، اور زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ امرود کی شاخ پر دو گڑسلیں بیٹھی نظر آئیں۔ پہلے ایک نیچے اتری اور توس کے ریزے چگنے میں شامل ہو گئی، اسے دیکھ کر دوسری نے بھی ہمت پکڑی۔
انجام
راوی بہت خوش تھا کہ سب پرندے ایک ایک کر کے واپس آ گئے۔ ایک نہیں آئی تو گلہری نہیں آئی، اور سل کٹھیا کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے۔ راوی کو اب یوں لگتا ہے کہ وہ ماضیِ قدیم کی کسی منڈیر سے، یا شاید حضرت سلیمان کے محل کی فصیل سے اڑ کر آئی تھی اور وہیں واپس چلی گئی۔ اور گلہری؟ شاید وہ بھی کہیں دور سے آئی تھی، شاید لنکا کے پل کی تعمیر کے کام سے تھک کر ادھر نکل آئی تھی اور وہیں واپس چلی گئی ہو گی۔
مرکزی خیال
یہ افسانہ ماحولیات کے بارے میں شعور اور آگاہی پیدا کرتا ہے۔ انسانی زندگی چرند، پرند اور نباتات کے وجود کے بغیر ممکن نہیں، اور پیڑ پودے ماحول کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔ ترقی کے نام پر درختوں کی کٹائی سے پرندوں کی زندگی تباہ ہوتی ہے، اور انسان کو چاہیے کہ فطرت سے رشتہ قائم رکھے۔ عنوان “مانوس اجنبی” ان پرندوں کی طرف اشارہ ہے جو راوی کے لیے اتنے مانوس ہو گئے تھے مگر پھر اجنبی بن کر رخصت ہو گئے۔
Objective (MCQs)
معروضی سوال و جواب
سوال 1۔ افسانہ “مانوس اجنبی” کے مصنف کون ہیں؟
الف) منشی پریم چند
ب) سعادت حسن منٹو
ج) انتظار حسین
د) قرۃ العین حیدر
جواب۔ ج) انتظار حسین
سوال 2۔ انتظار حسین کا سنِ پیدائش اور سنِ وفات کیا ہے؟
الف) 1880ء – 1936ء
ب) 1925ء – 2016ء
ج) 1887ء – 1966ء
د) 1930ء – 2010ء
جواب۔ ب) 1925ء – 2016ء
سوال 3۔ انتظار حسین کی پیدائش کس قصبے میں ہوئی؟
الف) لمہی
ب) میرٹھ
ج) ہاپوڑ
د) ڈبائی
جواب۔ د) ڈبائی
سوال 4۔ تقسیم کے بعد انتظار حسین کہاں چلے گئے؟
الف) لاہور
ب) کراچی
ج) دہلی
د) بنارس
جواب۔ الف) لاہور
سوال 5۔ انتظار حسین کا پہلا افسانہ کون سا ہے؟
الف) آخری آدمی
ب) قیوما کی دکان
ج) خالی پنجرہ
د) کنکری
جواب۔ ب) قیوما کی دکان
سوال 6۔ انتظار حسین کا پہلا افسانوی مجموعہ کون سا ہے؟
الف) کنکری
ب) شہرِ افسوس
ج) گلی کوچے
د) شہرزاد کے نام
جواب۔ ج) گلی کوچے
سوال 7۔ ان میں سے انتظار حسین کا مشہور ناول کون سا ہے؟
الف) گؤدان
ب) نرملا
ج) غبن
د) بستی
جواب۔ د) بستی
سوال 8۔ افسانہ “مانوس اجنبی” ان کے کس افسانوی مجموعے میں شامل ہے؟
الف) گلی کوچے
ب) خالی پنجرہ
ج) شہرزاد کے نام
د) کنکری
جواب۔ ج) شہرزاد کے نام
سوال 9۔ راوی کے صحن میں کون سا درخت کھڑا تھا؟
الف) آم
ب) امرود
ج) نیم
د) جامن
جواب۔ ب) امرود
سوال 10۔ راوی کو صبح کے وقت کیا کرنا اچھا لگتا تھا؟
الف) باغ میں ٹہلنا
ب) کتابیں لکھنا
ج) کھلی فضا میں بیٹھ کر ناشتہ کرنا اور اخبار پڑھنا
د) کھیتی کرنا
جواب۔ ج) کھلی فضا میں بیٹھ کر ناشتہ کرنا اور اخبار پڑھنا
سوال 11۔ ناشتے کے وقت سب سے پہلے کون سا پرندہ راوی کے آس پاس منڈلانے لگا؟
الف) فاختہ
ب) طوطا
ج) کوا
د) چڑیا
جواب۔ د) چڑیا
سوال 12۔ راوی نے پرندوں کے پینے کے لیے درخت تلے کیا رکھ دیا؟
الف) پانی کا کونڈا
ب) حوض
ج) نل
د) کنواں
جواب۔ الف) پانی کا کونڈا
سوال 13۔ فاختہ کا رویہ کیسا تھا؟
الف) ریزوں پر ٹوٹ پڑتی تھی
ب) گھونسلا بناتی تھی
ج) صرف پانی پیتی اور دانے سے بے نیازی برتتی تھی
د) راوی کے پاس آ بیٹھتی تھی
جواب۔ ج) صرف پانی پیتی اور دانے سے بے نیازی برتتی تھی
سوال 14۔ چڑیوں کی تعداد دیکھ کر راوی نے ان کے راشن میں اضافہ کیا، اس کے بعد کس پرندے کا جوڑا آ پہنچا؟
الف) بلبلوں کا
ب) کوے کا
ج) طوطوں کا
د) فاختہ کا
جواب۔ الف) بلبلوں کا
سوال 15۔ گلہری کے معاملے میں راوی کو کس کی کہانی یاد آئی؟
الف) حضرت سلیمانؑ
ب) ملکہ بلقیس
ج) سری رام چندر
د) شہرزاد
جواب۔ ج) سری رام چندر
سوال 16۔ کوے کے آنے پر راوی کیا کرتا تھا؟
الف) اسے دانہ دیتا تھا
ب) چھڑی لے کر کھڑا ہو جاتا تھا
ج) اسے نظر انداز کرتا تھا
د) اسے پنجرے میں بند کرتا تھا
جواب۔ ب) چھڑی لے کر کھڑا ہو جاتا تھا
سوال 17۔ طوطوں کے اترنے کے بعد امرود کے پیڑ تلے کیا بچھ گیا؟
الف) پتوں کا ڈھیر
ب) دانوں کا ڈھیر
ج) پھولوں کا فرش
د) کچے پکے امرودوں کا فرش
جواب۔ د) کچے پکے امرودوں کا فرش
سوال 18۔ “شرفِ قبولیت” کے معنی کیا ہیں؟
الف) نفرت
ب) تنہائی
ج) قبول کرنے کا اعزاز، منظوری کا اعزاز
د) ملک، وطن
جواب۔ ج) قبول کرنے کا اعزاز، منظوری کا اعزاز
سوال 19۔ اربابِ شہر کو سڑکیں چوڑی کرنے کا خیال کیوں آیا؟
الف) آبادی بڑھ گئی تھی اور سڑکوں پر ٹریفک بہت ہو گیا تھا
ب) پرندوں کی تعداد بڑھ گئی تھی
ج) درخت بہت زیادہ ہو گئے تھے
د) شہر میں بارش زیادہ ہو رہی تھی
جواب۔ الف) آبادی بڑھ گئی تھی اور سڑکوں پر ٹریفک بہت ہو گیا تھا
سوال 20۔ سڑک کی تعمیر کے دوران درخت کٹنے سے پرندوں نے کیا کیا؟
الف) نئے گھونسلے بنانے لگے
ب) اس علاقے سے ہجرت کرنے لگے
ج) شور مچانا بند کر دیا
د) راوی کے گھر میں آ بسے
جواب۔ ب) اس علاقے سے ہجرت کرنے لگے
سوال 21۔ علاقے کے حالات بگڑنے پر سب سے پہلے کس نے کنارہ کیا؟
الف) بلبلوں نے
ب) فاختہ نے
ج) گلہری نے
د) چڑیوں نے
جواب۔ ج) گلہری نے
سوال 22۔ “ریگ زار” کے معنی کیا ہیں؟
الف) سبزہ زار
ب) باغ
ج) جنگل
د) ریت کا میدان، ریگستان
جواب۔ د) ریت کا میدان، ریگستان
سوال 23۔ سڑک مکمل ہونے کے بعد وہ کیسی نظر آ رہی تھی؟
الف) درختوں سے بھری اور سایہ دار
ب) تنگ اور کچی
ج) ٹوٹی پھوٹی
د) درختوں سے خالی اور کھمبوں سے معمور
جواب۔ د) درختوں سے خالی اور کھمبوں سے معمور
سوال 24۔ سڑک بننے کے بعد پرندوں کی واپسی کا سلسلہ سب سے پہلے کس نے شروع کیا؟
الف) بلبلوں کے جوڑے نے
ب) گڑسلوں نے
ج) ایک چڑیا نے
د) طوطوں نے
جواب۔ ج) ایک چڑیا نے
سوال 25۔ افسانہ “مانوس اجنبی” کا مرکزی پیغام کیا ہے؟
الف) پرندوں کو پنجرے میں رکھنا چاہیے
ب) شہر کی آبادی بڑھانی چاہیے
ج) ماحول کا توازن برقرار رکھنے کے لیے پیڑ پودے اور پرندے ضروری ہیں
د) سڑکیں چوڑی کرنا سب سے ضروری ہے
جواب۔ ج) ماحول کا توازن برقرار رکھنے کے لیے پیڑ پودے اور پرندے ضروری ہیں
سوچیے اور بتائیے
سوال 1۔ چڑیوں کی سبھا درہم برہم کیوں ہو جاتی تھی؟
جواب۔ چڑیاں راوی کے صحن میں جماعت بنا کر دانہ چگتیں اور اشنان کرتی تھیں، مگر کئی چیزیں ان کی اس محفل میں خلل ڈال دیتی تھیں۔ سب سے پہلے گلہری کی اچانک آمد نے انھیں پریشان کیا، کیونکہ وہ ان کے بیچ آ دھمکتی اور ان کے کھانے دانے میں شریکِ غالب بن جاتی تھی۔ پھر ایک کوا آنے لگا جو جارحانہ رویہ رکھتا تھا اور چڑیوں کو دانے کے قریب نہ آنے دیتا، اس لیے وہ سہم کر بکھر جاتیں۔ کوے نے دو ڈھائی دفعہ ان کی سبھا کو درہم برہم کیا۔ آخر میں سڑک کی تعمیر کے شور، گرد اور درختوں کی کٹائی نے بھی چڑیوں کو بے چین کر دیا اور ان کی محفل بکھر گئی۔
سوال 2۔ بلندی میں اڑتے ہوئے پرندے دوسری دنیا کی مخلوق کیوں نظر آتے ہیں؟
جواب۔ بلندی پر اڑتے پرندے زمین سے بہت دور ہوتے ہیں اور تیزی سے گزر جاتے ہیں، اس لیے راوی کو وہ کسی اور ہی دنیا کے باسی لگتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ ہمیشہ بلندیوں ہی میں رہتے ہوں۔ جب وہ نیچے اترتے ہیں تو بھی یوں لگتا ہے کہ کسی دور کی اقلیم میں اتر رہے ہیں، ایسی اقلیم جو زمین پر آسمان کا ٹکڑا ہو، جس کی جھیلیں آسمانی ہوں اور جس کے باغ ماورائی شان رکھتے ہوں۔ ان کی قطاروں کا شور مچاتی تیزی سے گزرنا اور یہ معلوم نہ ہونا کہ وہ کس باغ سے آئے ہیں اور کس باغ میں اتریں گے، انھیں پراسرار اور اجنبی بنا دیتا ہے۔
سوال 3۔ امرود کے پیڑ کو شرفِ قبولیت بخشنے سے کیا مراد ہے؟
جواب۔ “شرفِ قبولیت” کے معنی قبول کرنے کا اعزاز یا منظوری کا اعزاز ہیں۔ راوی نے طوطوں کو ہمیشہ بلندیوں میں اڑتے دیکھا تھا، مگر وہ کبھی اس کے امرود کے درخت پر نہیں اترے تھے، اور راوی سمجھتا تھا کہ بستی میں کھڑا یہ پیڑ ان کی نظروں میں کیا سمائے گا۔ جب ایک صبح بہت سے طوطے شور مچاتے ہوئے امرود پر اتر آئے تو راوی کو لگا کہ طوطوں نے اس درخت کے وجود کو تسلیم کر لیا ہے اور اسے قبولیت کا اعزاز بخش دیا ہے۔ مگر یہ اعزاز مفت نہ ملا، کیونکہ طوطوں نے دم کے دم میں کچے پکے امرود گرا کر درخت تلے فرش بچھا دیا اور راوی کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑی۔
سوال 4۔ آبادی بڑھنے اور نئے شہروں کے بسنے سے ماحولیات کو کیا نقصان پہنچ رہا ہے؟
جواب۔ آبادی بڑھنے اور نئے شہر بسنے سے ٹریفک بڑھتا ہے اور سڑکوں کو چوڑا کرنا پڑتا ہے، جس کے لیے بڑی تعداد میں درخت کاٹ دیے جاتے ہیں۔ درخت کٹنے سے سبزہ ختم ہو جاتا ہے اور علاقہ سبزہ زار سے ریگ زار بن جاتا ہے۔ ہر درخت کے گرنے کے ساتھ کتنے ہی پرندوں کے آشیانے اجڑ جاتے ہیں اور وہ بے گھر ہو کر اس علاقے سے ہجرت کر جاتے ہیں۔ شور، گرد اور دھول سے فضا آلودہ ہوتی ہے اور پرندوں کی چہچہاہٹ کی جگہ خاموشی چھا جاتی ہے۔ سبق کے مطابق کاغذ کے کارخانوں کے لیے جنگلات کا خاتمہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ اس طرح ماحول کا توازن بگڑتا ہے، حالانکہ انسانی زندگی چرند پرند اور نباتات کے وجود کے بغیر ممکن نہیں۔
پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے
جب ہم کسی چیز کا نام لیتے ہیں تو ہمارے ذہن میں اس سے متعلق کئی الفاظ آتے ہیں۔ مثال کے طور پر قوسِ قزح کا نام آتے ہی بارش، بادل ، بجلی ، سورج، سات رنگ، د رنگ ، چمک، دهنگ و غیره الفاظ ہمارے ذہن میں آتے ہیں۔ اپنے دوستوں کے ساتھ گفتگو کیجیے اور ہر لفظ کے آگے اس سے متعلق پانچ الفاظ لکھیے
| متعلق پانچ الفاظ | لفظ |
| سمندر، چاند، لہریں، ساحل، پانی | مد و جزر |
| باغ، پھول، خوشبو، بہار، سبزہ | گل و گلزار |
| راستہ، سڑک، سواری، مسافر، ٹریفک | آمد و رفت |
| فصل، کسان، ہل، گاؤں، اناج | کھیت کھلیان |
| حیرت، تعجب، آنکھیں، ٹکٹکی، نظارہ | چشمِ حیراں |
آپ کو معلوم ہے کہ محاورہ الفاظ کا وہ مجموعہ ہے جو فعل پر ختم ہوتا ہے اور اپنے لغوی معنی کے بجائے دوسرے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے مثلاً بغلیں جھانکنا، ہاتھوں کے طوطے اڑنا۔اسی طرحضرب المثل، یا کہاوت وہ فقرہ ، جملہ یا قول ہوتا ہے، جسے بات میں زور پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ کہاوت کے پیچھے کوئی واقعہ یا کہانی ضرور ہوتی ہے۔ مثلاً جیسی کرنی ویسی بھر نی، آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا۔ افسانے کو دوبارہ پڑھیے اور محاوروں اور ضرب الامثال کو تلاش کر کے نیچے لکھیے
محاورے
اطمینان کا سانس لینا
مفہوم۔ فکر یا پریشانی دور ہونے پر سکون محسوس کرنا۔
افسانے میں ۔ “میں نے اطمینان کا سانس لیا۔”
زمین بوس ہو جانا
مفہوم۔ گر کر زمین کے برابر ہو جانا۔
افسانے میں۔ “بڑے بڑے درخت دم کے دم میں زمین بوس ہو گئے۔”
دل دھک سے رہ جانا
مفہوم۔ اچانک صدمے یا خوف سے دل دہل جانا۔
افسانے میں۔ “دل دھک سے رہ گیا۔” (سڑک کو درختوں سے خالی دیکھ کر(
آنکھیں ترس جانا
مفہوم۔ کسی کو دیکھنے کی شدید خواہش رہنا۔
افسانے میں۔ “بلبل کے تو دیکھنے کو آنکھیں ترس گئیں۔”
کنارہ کرنا
مفہوم۔ الگ ہو جانا، تعلق ختم کر لینا۔
افسانے میں۔ “سب سے پہلے یہاں سے اس نے کنارہ کیا۔” (گلہری کے بارے میں(
ضرب الامثال۔
اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت
مفہوم۔ نقصان ہو جانے کے بعد پچھتانے کا فائدہ نہیں۔
موقع۔ درخت کٹنے کے بعد سایہ اور پرندے لوٹ کر نہیں آتے، پچھتانا بے کار ہے۔
جو بوؤ گے وہی کاٹو گے
مفہوم۔ جیسا عمل ہو گا ویسا ہی نتیجہ ملے گا۔
موقع۔ انسان نے درخت کاٹے تو اسے ویران سڑک اور خاموش صبحیں ملیں۔
صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے
مفہوم۔ صبر کرنے والے کو آخر اچھا نتیجہ ملتا ہے۔
موقع۔ راوی انتظار کرتا رہا اور آخر پرندے ایک ایک کر کے لوٹ آئے۔
نیکی کر دریا میں ڈال
مفہوم۔ نیکی بغیر کسی غرض کے کرنی چاہیے۔
موقع۔ راوی نے بغیر کسی مطلب کے پرندوں کو دانہ پانی دیا۔
گیا وقت پھر ہاتھ نہیں آتا
مفہوم۔ گزرا ہوا موقع واپس نہیں آتا۔
موقع۔ کٹے ہوئے درختوں کا پرانا ماحول دوبارہ نہیں مل سکتا۔
مرکب لفظ اور تابع مہمل
| تابع مہمل | مرکب لفظ |
|---|---|
| دانہ دنکا | کچے پکے |
| پرندے ورندے | کھانا پینا |
| ناشتہ واشتہ | آنا جانا |
| پودے ودے | اٹھنا بیٹھنا |
| پتے وتے | لین دین |
جملوں میں استعمال۔
مرکب لفظ۔
طوطوں نے کچے پکے امرود گرا دیے۔
پرندوں کا کھانا پینا راوی کے صحن میں ہوتا تھا۔
سڑک بننے سے پرندوں کا آنا جانا بند ہو گیا۔
راوی کا اٹھنا بیٹھنا برآمدے میں ہوتا تھا۔
پڑوسیوں سے ہمارا لین دین اچھا ہے۔
تابع مہمل۔
چڑیاں صحن میں دانہ دنکا چگتی رہیں۔
اب اس علاقے میں پرندے ورندے نظر نہیں آتے۔
راوی ناشتہ واشتہ کر کے اخبار پڑھنے بیٹھا۔
صحن میں پودے ودے لگانے کا شوق ہے۔
آندھی سے پتے وتے بکھر گئے۔
جملوں کو غور سے پڑھیے
پھر تو گلہری کو چاٹ لگ گئی۔ “، ” مجھے چاٹ پسند ہے۔“
ان جملوں میں خط کشیدہ لفظ چاٹ الگ الگ معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ اس سے زبان کی وسعت ظاہر ہوتی ہے۔ اسی طرح کے پانچ الفاظ معلوم کر کے لکھیے جو الگ الگ کیفیتوں میں استعمال کیے جاتے ہوں
ایک لفظ، مختلف معنی
جملوں میں “چاٹ” کا مطلب “عادت/لت” بھی ہے اور “ایک چٹپٹا کھانا” بھی۔
ہار
کھلاڑی کو آخری میچ میں ہار ہو گئی۔ (شکست)
دلہن کے گلے میں پھولوں کا ہار تھا۔ (گلے کا زیور)
کل
ہم کل بازار چلیں گے۔ (آنے والا یا گزرا ہوا دن)
گھڑی کی کل خراب ہو گئی ہے۔ (مشین کا پرزہ)
سونا
سونا بہت مہنگا ہو گیا ہے۔ (ایک قیمتی دھات)
بچہ رات کو جلدی سونا چاہتا ہے۔ (نیند لینا)
بال
اس کے بال لمبے اور گھنے ہیں۔ (سر کے بال)
بچے میدان میں بال سے کھیل رہے تھے۔ (گیند)
کان
شور سن کر اس نے کان بند کر لیے۔ (سننے کا عضو)
مزدور سونے کی کان میں کام کرتے ہیں۔ (معدنیات کا ذخیرہ)
کچھ اہم سوال و جواب
سوال 1۔ انتظار حسین کا مختصر تعارف لکھیے۔
جواب۔ انتظار حسین 1925ء میں اتر پردیش کے ضلع بلند شہر کے قصبہ ڈبائی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی، ہاپوڑ سے ہائی اسکول اور میرٹھ کالج سے اردو میں ایم اے کیا۔ تقسیم کے بعد لاہور چلے گئے اور وہیں 2016ء میں ان کا انتقال ہوا۔ وہ ممتاز افسانہ نگار، ناول نگار اور معروف مضمون نگار تھے۔ ان کے افسانوں میں داستانوی فضا، لوک کہانیوں کے اثرات، پراسراریت اور علامتی انداز ملتا ہے۔ ان کا پہلا افسانہ “قیوما کی دکان” اور پہلا مجموعہ “گلی کوچے” ہے۔ “چاند گہن”، “بستی”، “دن اور داستان”، “تذکرہ” اور “آگے سمندر ہے” ان کے مشہور ناول ہیں۔
سوال 2۔ افسانہ “مانوس اجنبی” کا خلاصہ مختصراً لکھیے۔
جواب۔ راوی اپنے صحن میں امرود کے درخت تلے ناشتہ کرتا ہے اور ایک چڑیا کے لیے توس کے ریزے ڈالتا ہے، پھر آہستہ آہستہ چڑیاں، بلبلیں، گڑسلیں، گلہری اور کبھی کبھی فاختہ بھی آنے لگتی ہیں اور اس کا صحن پرندوں سے آباد ہو جاتا ہے۔ ایک دن شہر میں سڑک چوڑی کرنے کے لیے درخت کاٹ دیے جاتے ہیں، شور اور گرد سے پرندے بے گھر ہو کر ہجرت کر جاتے ہیں اور صحن ویران ہو جاتا ہے۔ سڑک مکمل ہونے کے بعد راوی پھر بھی کونڈے میں پانی بھرتا رہتا ہے۔ آخر ایک چڑیا لوٹتی ہے، پھر چڑیاں، بلبلیں اور گڑسلیں بھی آ جاتی ہیں، مگر گلہری اور سل کٹھیا واپس نہیں آتیں۔
سوال 3۔ راوی نے پرندوں کو اپنے صحن میں کیسے مانوس کیا؟
جواب۔ راوی نے پہلے صرف اس لیے برآمدے میں ناشتہ شروع کیا کہ اسے کھلی فضا میں بیٹھنا اور اخبار پڑھنا اچھا لگتا تھا۔ جب ایک چڑیا ناشتے کے وقت منڈلانے لگی تو اس نے توس کے ریزے فرش پر بکھیر دیے، پھر ریزے امرود کے سائے تلے ڈالنے لگا تاکہ چڑیوں کو سہولت رہے۔ چڑیوں کی تعداد بڑھی تو اس نے راشن میں اضافہ کیا اور درخت تلے پانی کا کونڈا رکھ دیا۔ اس طرح بلبلیں، گڑسلیں اور دوسرے پرندے بھی آنے لگے اور راوی کی محفل خود بخود آراستہ ہوتی چلی گئی۔
سوال 4۔ چڑیوں کے ساتھ گلہری اور کوے کا معاملہ بیان کیجیے۔
جواب۔ گلہری ایک صبح اچانک امرود کی شاخوں سے اتر کر چڑیوں کے کھانے دانے میں شریکِ غالب بن گئی، جس سے چڑیاں پریشان ہو جاتیں۔ راوی نے گلہری کو روکا نہیں، کیونکہ اسے رام چندر جی اور گلہری کی کہانی یاد آ گئی اور وہ چڑیوں اور گلہری، دونوں کے بیچ غیر جانب دار ہو گیا۔ کوا جارحانہ رویہ رکھتا تھا اور چڑیوں کو دانے کے قریب نہ آنے دیتا، اس لیے راوی اس کے آتے ہی چھڑی لے کر کھڑا ہو جاتا اور کوے کو بھاگنا پڑتا۔ یوں راوی نے کوے کو برداشت نہ کیا مگر گلہری کو برداشت کیا۔
سوال 5۔ طوطوں کی آمد اور امرود کے “شرفِ قبولیت” کی وضاحت کیجیے۔
جواب۔ راوی نے طوطوں کی قطاریں ہمیشہ بلندیوں میں شور مچاتے گزرتی دیکھی تھیں، مگر وہ کبھی اس کے امرود پر نہیں اترے تھے۔ ایک صبح بہت سے طوطے شور مچاتے ہوئے درخت پر اتر آئے تو راوی خوش ہوا کہ امرود کو بھی آخر شرفِ قبولیت حاصل ہو گیا۔ مگر دم کے دم میں طوطوں نے کچے پکے امرودوں کا فرش پیڑ تلے بچھا دیا۔ راوی کو افسوس ہوا کہ اس اعزاز کی بھاری قیمت چکانی پڑی۔
سوال 6۔ سڑک کی تعمیر کا پرندوں پر کیا اثر ہوا؟
جواب۔ سڑک چوڑی کرنے کے لیے مزدور بلڈوزر، کلہاڑیوں اور آروں کے ساتھ آ پہنچے اور بڑے بڑے درخت دم کے دم میں زمین بوس ہو گئے۔ کلہاڑیوں، پھاوڑوں اور درختوں کے گرنے کا شور اور اوپر سے گرد کا طوفان تھا۔ ہر درخت کے ساتھ کتنے ہی آشیانے اجڑ گئے اور پرندے بے گھر ہو کر شور مچاتے اڑتے رہے، پھر دور نکل گئے۔ اس علاقے سے ہجرت شروع ہو گئی۔ راوی کا سبزہ زار ریگ زار بن گیا اور سب سے پہلے گلہری نے کنارہ کیا۔ پھر بلبلیں، فاختہ اور آخر میں چڑیاں بھی رخصت ہو گئیں۔
سوال 7۔ سڑک مکمل ہونے کے بعد پرندوں کی واپسی کیسے ہوئی؟
جواب۔ سڑک بن گئی تو وہ درختوں سے خالی اور کھمبوں سے معمور تھی۔ راوی نے پھر بھی کونڈے میں پانی بھرنا نہ چھوڑا۔ ایک صبح ایک چڑیا آئی، چونچ پانی میں ڈبو کر اڑ گئی، اور راوی نے اطمینان کا سانس لیا کہ وہ بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہو گی۔ پھر چڑیاں آتی چلی گئیں، پھر بلبلوں کا جوڑا آیا اور آخر میں دو گڑسلیں بھی امرود پر اترنے کے بعد توس کے ریزے چگنے میں شامل ہو گئیں۔ ایک نہیں آئی تو گلہری، اور سل کٹھیا کے بارے میں بھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
سوال 8۔ افسانے کا عنوان “مانوس اجنبی” کس حد تک مناسب ہے؟
جواب۔ “مانوس” کے معنی ہیں جس سے انس ہو جائے اور “اجنبی” کے معنی ہیں انجانا۔ افسانے کے پرندے پہلے راوی کے لیے اجنبی تھے، مگر دانہ پانی ملنے سے وہ اتنے مانوس ہو گئے کہ راوی کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن گئے۔ پھر درخت کٹنے اور شور کی وجہ سے وہ رخصت ہوئے تو دوبارہ اجنبی ہو گئے۔ گلہری اور سل کٹھیا تو ایسے گئے کہ لوٹے ہی نہیں۔ انسان اور پرندوں کا یہی بدلتا رشتہ عنوان میں سمٹ آیا ہے، اس لیے یہ عنوان بہت مناسب ہے۔
سوال 9۔ افسانہ “مانوس اجنبی” کا مرکزی خیال لکھیے۔
جواب۔ یہ افسانہ ماحولیات کے بارے میں شعور اور آگاہی پیدا کرتا ہے۔ انسانی زندگی چرند، پرند اور نباتات کے وجود کے بغیر ممکن نہیں، اور پیڑ پودے ماحول کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔ ترقی کے نام پر بے دریغ درخت کاٹنے سے پرندے بے گھر ہوتے ہیں اور فطرت سے انسان کا رشتہ ٹوٹتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ درختوں اور پرندوں کی حفاظت کریں۔
سوال 10۔ افسانے میں حضرت سلیمانؑ اور ہدہد کا ذکر کیوں آیا ہے؟
جواب۔ ہدہد ایک پرندے کا نام ہے جس نے حضرت سلیمانؑ کو ملکہ بلقیس کی خبر دی تھی اور حضرت سلیمانؑ کا خط ملکہ بلقیس کے پاس لے گیا تھا۔ راوی سل کٹھیا کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اسے ہدہد کہہ دیں تو اس کا مرتبہ اتنا بلند ہو جائے کہ حضرت سلیمانؑ اور ملکہ بلقیس کا حوالہ دینا پڑے، مگر وہ اتنی اونچی اڑان نہیں چاہتا۔ آخر میں وہ سوچتا ہے کہ شاید یہ پرندہ حضرت سلیمانؑ کے محل کی فصیل سے اڑ کر آیا تھا اور وہیں واپس چلا گیا۔ اس سے پرندوں اور انسانی تاریخ و روایت کا گہرا رشتہ ظاہر ہوتا ہے۔
This concludes our guide to NCERT Class 9 Urdu Chapter 2, Manoos Ajnabi. Revise the summary, practise the question answers, and test your knowledge with 25 MCQs. You can also explore Intizar Hussain’s biography and our free NCERT Urdu notes for other chapters.