تعارف
علامہ اقبال کی نظم “مسجدِ قرطبہ” کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ نظم کن حالات اور کس تاریخی پس منظر میں لکھی گئی۔ اس مضمون میں نظم کا مکمل پس منظر – اقبال کا اسپین سے تعلق، ان کا سفرِ اسپین، اور مسجدِ قرطبہ کی تاریخ – آسان اردو میں پیش کیا جا رہا ہے۔
اس مضمون میں
علامہ اقبال کی نظم مسجدِ قرطبہ کا پس منظر
علامہ اقبال کی نظم “مسجدِ قرطبہ” کا موضوع مسجدِ قرطبہ ہے، جو اسپین کے عظیم اسلامی دور کی ایک بڑی نشانی ہے، اور مسلمانوں کے عروج، ان کے اخلاص اور ایمانی جذبے کی یادگار ہے۔ اس مسجد کے نقش و نگار میں مسلمانوں کے عروج اور عظمت کی وہ داستان پوشیدہ ہے جسے اقبال اس نظم کے ذریعے واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اسپین کئی صدیوں تک اسلامی تہذیب و تمدن کا مرکز رہا۔ اقبال کو اسپین اور اس کی فتح سے قدرتی طور پر خاص لگاؤ تھا، اسی لیے انہوں نے اسپین سے متعلق چند اور نظمیں بھی لکھیں، مثلاً “طارق کی دعا”، “ہسپانیہ” اور “عبدالرحمٰن اول کا بھجوایا ہوا کھجور کا پہلا درخت سرزمینِ اندلس میں” کے عنوان سے۔ ان کی ایک نظم کا عنوان بھی عبدالرحمٰن اول سے متعلق ہے – یہ نظم دراصل عبدالرحمٰن اول کی تصنیف کردہ اشعار کا آزاد منظوم ترجمہ بھی ہے۔
اقبال 1932 میں تیسری گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن گئے تھے۔ کانفرنس میں شرکت کے بعد 1933 میں اسپین پہنچے۔ وہاں اسپین کے وزیرِ تعلیم پروفیسر آسن کی درخواست پر میڈرڈ یونیورسٹی میں انہوں نے “دی ہسٹاریکل ریلیشن اینڈ اسلام اینڈ اسپین” کے موضوع پر لیکچر دیا۔ اسی سفر میں اقبال نے اسپین کے مختلف شہروں – طلیطلہ، قرطبہ، غرناطہ اور اشبیلیہ کی سیاحت کا موقع پایا۔
مسلمان 711ء میں جب اندلس میں داخل ہوئے تو عموماً ایک عیسائی گرجا گھر کا ایک حصہ نماز کے لیے استعمال کر لیا کرتے تھے۔ 785ء میں عبدالرحمٰن اول نے وہ گرجا ایک لاکھ دینار کے عوض خرید لیا اور گرجا کی تعمیر کے لیے دوسری جگہ دے دی۔ اس طرح اس مسجد کا سنگِ بنیاد عبدالرحمٰن اول نے رکھا۔ اس مسجد کی تعمیر و توسیع کا کام عبدالرحمٰن اول کے دور سے شروع ہو کر ہشام اول، عبدالرحمٰن دوم اور الحکم کے ادوار سے ہوتے ہوئے 987ء میں منصور کے دور میں تکمیل کو پہنچا۔ یہ مسجد وادیِ کبیر پر تعمیر شدہ ہے، اور خلافتِ بنی امیہ کے خاتمے کے قریب یعنی اس سے تقریباً 20 سال پہلے واقع ہوا۔
نوجوان عبدالرحمٰن نے 750ء میں عباسیوں کے مظالم سے بچنے کے لیے افریقہ کا رخ کیا۔ وہاں سے گزرتے ہوئے وہ پانچ سال بعد اندلس کے ساحل پر پہنچا۔ وہاں اموی دور کی شاہی افواج موجود تھیں۔ انہوں نے عبدالرحمٰن کو اپنا کمانڈر بنا لیا، اور 756ء میں امارتِ قرطبہ کے قائم ہونے پر وہ وہاں کا امیر بن گیا۔ یہ خطہ اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کے دور میں خلافتِ بنی امیہ کا ایک صوبہ تھا۔ عبدالرحمٰن اموی خلیفہ ہشام بن عبدالملک کا پوتا تھا۔
ولید بن عبدالملک کے دور میں موسیٰ بن نصیر شمالی افریقہ کے گورنر رہے۔ اسپین کے حکمران عیش پرست اور ظالم تھے، اس لیے وہاں کی معاشی صورتِ حال ابتر ہو چکی تھی۔ امرا اور پادریوں نے عوام کو ٹیکس کے بوجھ تلے دبا رکھا تھا۔ اس ظلم اور بدحالی سے تنگ آ کر لوگ موسیٰ بن نصیر کے زیرِ انتظام شمالی افریقہ میں پناہ لینے لگے۔ ان حالات میں موسیٰ بن نصیر نے وہاں کے عوام کو ظلم سے نجات دلانے کا منصوبہ بنایا، اور انہوں نے مشہور بربر جنرل طارق بن زیاد کو 7000 فوج کے ساتھ اسپین پر لشکر کشی کے لیے روانہ کر دیا۔ ان کا سامنا وہاں کے حاکم کی ایک لاکھ سے زیادہ فوج سے ہوا۔ 19 جولائی 711ء کو طارق بن زیاد نے فتح حاصل کی۔ اندلس کا شہرِ قرطبہ اکتوبر 711ء کو عبدالملک بن مروان کے غلام مغیث بن حارث رومی کے ہاتھوں فتح ہوا، جہاں یہ تاریخی مسجد واقع ہے۔
اقبال نے کئی صدیوں بعد اس مسجد میں اذان دینے اور نماز ادا کرنے کا شرف حاصل کیا۔ اقبال نے یہ نظم ہسپانیہ (اسپین) کی سرزمین پر قائم اسی مسجدِ قرطبہ میں تخلیق کی تھی۔ یہ نظم ان کی اندلس کی سیاحت کی یادگار ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
سوال1 ۔ اقبال اسپین کب اور کیوں گئے تھے؟
جواب۔ اقبال 1932 میں تیسری گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن گئے تھے، اور کانفرنس کے بعد 1933 میں اسپین پہنچے، جہاں انہوں نے میڈرڈ یونیورسٹی میں ایک لیکچر بھی دیا۔
سوال2 ۔ مسجدِ قرطبہ کی بنیاد کس نے رکھی؟
جواب۔ مسجدِ قرطبہ کی بنیاد 785ء میں عبدالرحمٰن اول نے رکھی، اور اس کی تعمیر و توسیع کا کام کئی حکمرانوں کے ادوار سے ہوتے ہوئے 987ء میں منصور کے دور میں مکمل ہوا۔
سوال 3 ۔ قرطبہ شہر پر مسلمانوں نے کب فتح حاصل کی؟
جواب۔ طارق بن زیاد نے 19 جولائی 711ء کو اسپین کے حکمران پر فتح حاصل کی، اور قرطبہ شہر اکتوبر 711ء میں عبدالملک بن مروان کے غلام مغیث بن حارث رومی کے ہاتھوں فتح ہوا۔
سوال 4 ۔ اقبال نے یہ نظم کہاں لکھی؟
جواب۔ اقبال نے یہ نظم اسپین کی سرزمین پر قائم مسجدِ قرطبہ میں ہی تخلیق کی، جہاں انہیں اذان دینے اور نماز ادا کرنے کا شرف بھی حاصل ہوا۔
سوال5 ۔ اقبال کی کون سی دوسری نظمیں اسپین سے متعلق ہیں؟
جواب۔ اقبال کی اسپین سے متعلق دیگر نظموں میں “طارق کی دعا”، “ہسپانیہ” اور “عبدالرحمٰن اول کا بھجوایا ہوا کھجور کا پہلا درخت سرزمینِ اندلس میں” شامل ہیں۔
A detailed Urdu account of the historical background of Allama Iqbal’s poem Masjid-e-Qurtaba from Bal-e-Jibril, covering Iqbal’s 1933 visit to Spain and the history of Masjid-e-Qurtaba from its founding by Abdur Rahman I to its conquest by Tariq bin Ziyad, explained in simple Urdu for students of Bihar Board, UGC-NET/JRF Urdu, and other Urdu literature exams.