Nazm Khizr-e-Rah Ka Tajziyati Mutalea | نظم خضرِ راہ کا تجزیاتی مطالعہ

علامہ اقبال کی نظم “خضرِ راہ” کے فنی و فکری پہلوؤں کو سمجھنے کے لیے اس کا تنقیدی مطالعہ ضروری ہے۔ اس مضمون میں نظم کی ساخت، علامتی نظام، خضر کا کردار، حضرت موسیٰ علیہ السلام سے متعلق قرآنی واقعہ، نظم کے پانچ سوالات اور ہر عنوان کا تفصیلی جائزہ آسان اردو میں پیش کیا جا رہا ہے۔

اقبال کی نظم “خضرِ راہ” ان کے شعری مجموعے “بانگِ درا” میں شامل ہے۔ ترکیبِ بند کے اعتبار سے یہ نظم بہت شاندار ہے – ترکیبِ بند کا ہر بند اپنی آخری شعر کے قافیے کو بدل کر نئے بند کا آغاز کرتا ہے۔ نظم کے 11 بند ہیں۔ پہلے دو بند “شاعر” کے عنوان کے تحت ہیں، اور اس کے بعد کے نو بند “جوابِ خضر” کے عنوان کے تحت ہیں، جن میں پانچ ذیلی عنوانات (خضر، پسِ منظر، زندگی، سلطنت، سرمایہ و محنت اور دنیائے اسلام) قائم کیے گئے ہیں۔ عام طور پر اس نظم کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔  ایک حصہ شاعر اور خضر کے درمیان سوالات پر مشتمل ہے، اور دوسرا حصہ خضر کے جوابات پر مشتمل ہے۔

نظم “خضرِ راہ” کا آغاز اس طرح ہوتا ہے کہ اقبال شدید بےچینی اور کیفیت بیان کرتے ہیں کہ عالمِ اضطراب میں دریا کے کنارے بیٹھے ہوئے ہیں۔ دریا اقبال کی نظموں میں ایک اہم کردار کے طور پر نظر آتا رہا ہے – دریا جوہ وقت کی علامت ہے، دریا تاریخ کی علامت ہے، دریا مسلسل حرکت و عمل ہے، اضطراب اور انقلاب کی بھی علامت ہے، اور اسرار و رموز کی بھی علامت ہے۔ گہرائی کی علامت ہے، شاعر کی موجوں پر سکوت طاری ہے اور شاعر کا فکرِ التزام خیز اور مضطرب ہے۔ دریا کا سکوت دراصل مسلمانوں کے فکری اور عملی جمود کی علامت ہے، جس نے اقبال کو سخت بےچین کر دیا ہے۔ نظم میں دو پہلو ہیں – ایک پہلو میں اقبال مضطرب نظر آتے ہیں اور سوال اٹھاتے ہیں، دوسرے پہلو میں اقبال ایک فلسفی اور مفکر کے طور پر علامتی پیکر خضر کے روپ میں ظاہر ہوتے ہیں۔ اقبال خضر سے پانچ سوالوں کے جوابات کے اعتبار سے اس نظم کو پانچ ذیلی عنوانات کے تحت نظم کیے ہیں ۔  صحرانوردی، زندگی، سلطنت، سرمایہ و محنت اور دنیائے اسلام۔

اولین دو بند شاعر کی اضطرابی کیفیت، بےچینی، محوِ جستجو ہونے، دریا کنارے رات کی پراسرار فضا میں خضر کے نمودار ہونے اور ان سے سوال پوچھنے سے متعلق ہیں۔ رات کی خاموشی اور دریا کے ساحل پر آب پر اقبال دریائے سکوت کی کیفیت اس طرح بیان کرتے ہیں ۔

اس عالم میں پرندے اپنے آشیانوں میں سکون سے کاٹ سو گئے اور ستارے تاریک چاند کے طلسم میں گرفتار تھے۔ اقبال نے دلکش تشبیہات کا استعمال کیا ہے اور خوبصورتی سے منظر کشی کی ہے۔ اس کشمکش کے عالم میں اور اس عالم میں اس پراسرار فضا میں خضر نمودار ہوتے ہیں۔ اقبال خضر کو کچھ اس طرح رنگِ عمل ظاہر کرتے ہیں ۔

اقبال کہتے ہیں کہ عالم پُراسرار منظر اور بےچینی کے عالم میں سیر کرنے والے خضر ہر عالم میں جن کے پیری بھی میں جوانی کی سی رنگ و شباب موجود ہے۔ خضر شاعر کو مضطرب اور بےچین دیکھ کر کہتے ہیں کہ اے وہ جوئے اسرار ازل (یعنی رازوں کی جستجو کرنے والے) دل کی آنکھیں روشن ہوں تو انسان تو کائنات کے مظاہر کا پیچھے مضمر حقیقت کو بھی دیکھ لیتا ہے۔ کائنات کی تقدیر یا سب کے پردہ نظر آتی ہے بےحجاب یعنی کوئی نگاہِ نظر آتی نہیں، پردہ درمیان میں حائل نہیں ہاتا تا اور اس اسرارِ ازل تمام اسرار کے کھل جاتے ہیں۔ پہلے بند کے آخری شعر میں خضر یعنی جامِ زندگی کا استعارہ لے کر اس زندگی حیاتِ انسانی کے مسلسل گردش یا مسلسل جدو جہد کا راز بتاتے ہیں، ہمیشہ رہنے والی جدوجہد کا راز پنتہ ہوتا ہے ۔

دوسرے بند میں اقبال خضر کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ باطن کا علم رکھتے ہیں، آپ پر تو کائنات کے تمام راز منکشف ہیں اور مستقبل میں ظہور پذیر ہونے والے واقعات بھی آپ پر واضح ہیں۔ کشتیِ مسکین، دیوارِ یتیم اور جانِ پاک کے ذریعے اقبال نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر سے متعلق ان واقعات کا اشارہ کیا ہے، جن کا قرآن مجید کی سورۃ الکہف میں تفصیلی بیان ہوا ہے۔ ان واقعات کا تعلق اس دور سے ہے جب ایک قوم بنی اسرائیل کا ظلم کا شکار تھی۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ایک بندہ ملا جہاں دوسمندر ملتے ہیں کہ وہاں میرا ایک بندہ ہے جسے زیادہ علم و حکمت والا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے عرض کیا کہ اے پروردگار! سے یارا کی رسائی تک بند نہیں کرا، اللہ نے فرمایا کوا جہاں تو نشان دیکھے کہ مچھلی زندہ ہو گئی، وہیں اس شخص سے ملاقات ہوگی۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مچھلی ڈھونڈ کر اسے اپنے ہمراہ خادم یوشع بن نون صالح کے ساتھ اس شخص کی تلاش میں روانہ ہوگئے۔ بالآخر جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جناب خضر کو تلاش کرلیا تو آپ نے ان سے علم حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ حضرت خضر نے جواب دیا کہ آپ سے ساتھ رہ کر صبر نہیں کر سکو گے۔ حضرت موسیٰ نے کہا کہ آپ مجھے صابر پائیں گے۔ حضرت خضر نے منظور کرلیا اور دونوں ایک کشتی پر سوار ہوگئے۔ ملاح نے حضرت خضر سے واقفتہا کی وجہ سے کرایہ لینے سے انکار کردیا۔ کچھ مسافت طے کرنے کے بعد حضرت خضر نے کشتی کا ایک تختہ توڑ کر اس میں شگاف ڈال دیا۔ حضرت موسیٰ نے سختی سے ضبط نہ ہوسکا اور اس سوال کیا کہ ان لوگوں نے تو ہمیں کرایہ نہیں لیا اور آپ نے ان کا احسان اس کشتی میں سوراخ کر کے بدلا۔ حضرت خضر نے انہیں یاد دلایا اور عہد یاد دلایا کہ میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے۔

اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر دونوں کشتی سے اترکر آگے چلے تو وہاں ایک لڑکا کھیلتا ہوا نظر آیا۔ حضرت خضر نے اس بچے کو ذبح کردیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام یہ دیکھ کر گوارا نہ کرسکے اور ان سے پھر سوال کردیا۔ حضرت خضر نے انہیں یہ کہ کر وعدہ یاد دلایا اور پھر دونوں روانہ ہوگئے یہاں تک کہ ایک بستی میں پہنچے۔ وہاں کے لوگوں سے غذا اور مہمان نوازی کی درخواست کی مگر انکار کردیا گیا۔ اس بستی سے گزرتے ہوئے ایک مکان نظر آیا جس کی دیوار جھکی ہوئی تھی۔ حضرت خضر نے اس دیوار کو درست اور سیدھا کردیا۔ اس پر بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ اس بستی والوں نے ہمارے ساتھ بہتر سلوک نہیں کیا اور آپ نے ان کی دیوار بغیر کسی اجرت کے درست کردی۔

حضرت خضر نے کہا کہ اب ہماری جدائی کا وقت آگیا ہے اور پھر انہوں نے ان تینوں واقعات کی حقیقت بتائی ۔  کشتی میں اس نے عیب پیدا کیا کیونکہ اس راستے سے ایک بادشاہ جا رہا تھا جو ہر اچھی کشتیوں کو چھین لیتا تھا۔ بچے کے قتل کے بارے میں فرمایا کہ اس کا معاملہ یہ تھا کہ اس کے والدین مومن تھے اور یہ بچہ سرکش اور کافر پیدا ہونے والا تھا، سو مجھے اندیشہ ہوا کہ وہ اپنے والدین کو اپنی سرکشی اور کفر میں مبتلا کر دے گا۔ اللہ چاہیں تو انہیں اس سے بہتر و پاکیزہ اور محبت میں بڑھ کر عطا فرمائیں گے۔ اور دیوار کے بارے میں بتایا کہ وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی جس کے نیچے ان کا خزانہ دفن تھا۔ ان کا باپ ایک نیک شخص تھا، تمہارے پروردگار نے چاہا کہ اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا خزانہ محفوظ نکال لیں۔

یہ وہ واقعات ہیں جن کی طرف اقبال نے اشارہ کیا ہے۔ اقبال نے حضرت خضر سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے علم کا تقابلہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ تو باطن کا علم رکھتے ہیں، تمام اسرار و رموز کے واقف ہیں، آپ کے آگے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا علم بھی ہیچ ہے۔ اس کے بعد اقبال خضر سے پانچ سوال کرتے ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں ۔

پہلے سوال کرتے ہوئے اقبال کہتے ہیں کہ اے خضرِ آبادی چھوڑ کر آپ ریگستانوں میں کیوں گھومتے ہیں اور آپ کی زندگی کی قید سے آزاد ہے۔ اس کے بعد دیگر سوال پوچھتے ہیں ۔

بادشاہت و ملوکیت کو اقبال سخت ناپسند کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ابھی بھی ملوکیت ختم نہیں ہوئی، ابھی بھی وہی نظام چل رہا ہے اور انسان غلام بنے ہوئے ہیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ اگرچہ سکندرِ اعظم آج زندہ نہیں ہے لیکن فطرتِ اسکندری یعنی نظامِ ملوکیت اب بھی قائم ہے، حکمراں طبقہ عیش دے رہا ہے اور محنت کش کو غلام بنائے ہوئے ہے ۔

اقبال مسلمانوں کے باہمی اختلافات اور دشمنی سے سخت نالاں اور پریشان نظر آتے ہیں۔ اقبال نے عربوں کی عثمانیوں سے غداری کو بھی موضوع بنایا ہے۔ اقبال نے اس غداری اور مغرب کو دینِ اسلام کو غلامی کے دین فروشی کے متراد ف قرار دیا ہے ۔

اقبال ملتِ اسلامیہ کی باہمی نااتفاقی، عربوں کی خلافتِ عثمانیہ کے ساتھ غداری، مغربی قوتوں کے ساتھ ان کے اتحاد اور ترکوں کے زوال آمادہ ہونے اور ان کے ساتھ ملتِ اسلامیہ کا بدحالی کا ذکر کرتے ہوئے خضر سے سوال کرتے ہیں اور اسلام کے دشمن مسلمانوں کی قوت برداشت کو آزمانے کے دوسری طرف باطنی طاقتوں کی صفتِ ہستی سے مثال کے طور پر دریتے ہیں ۔

تیسرے بند سے خضر کا جواب شروع ہوتا ہے۔ سب سے پہلے خضر اپنی صحرانوردی پر اظہار خطاب کرتے ہوئے شاعر کو بتاتے ہیں کہ مجھے میری صحرا نوردی پر تجھے تعجب کیوں ہے۔ میری یہ حرکت جدوجہد بھاگ اور دوڑ زندگی دوام کی دلیل ہے۔ اے گھر کے عیش و آرام میں قید رہنے والے تو نے قید نہیں دیکھا وہ منظر جب صحرا میں گلوں کی افواں دواں کے قافلوں میں اضطراب کے عالم میں سکوت طاری ہوتی اور ریت کے ٹیلے پر اپنی خوفی و بےنیازی سے ہرن بھاگا چال چل رہا ہوتا ہے اور قافلے بغیر سامان اور بغیر سنگِ میل کے بغیر رہنمائی و میل سے سفر کرتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ ہر طرح کی پابندیوں سے آزاد ہوتے ہیں، جب صبح کا وقت حاملِ سیمابی فطرت کے آفتاب طلوع ہوتا ہے، اور جیسے آسان بلندی کی پیشانی نمودار ہو رہی ہو، صحرا کے منظر سے خضر شاعر سے پیش کرتے ہیں۔ خضر کہتے ہیں کہ اس منظر میں کیا کہا وہ صحرا میں سکوت اضافہ ہوا۔ اس واقعے میں غروب کا اشارہ ہے، جب چاند اور سورج و غروب ہوتے ہیں اور جب قافلہ تھک کر چشمے کی پانی سے قیام کرتا ہے تو یہ احساس ہوتا ہے جیسے سلسبیل کے گرداہل ایمان جمع ہوں۔ جو عشق و محبت اور نئے صحراؤں کی جستجو میں سرگرداں رہتے ہیں تو آبادیوں میں رہتے ہیں اور باغوں و کھیتیوں کی اسیر ہے۔ حقیقتاً یہ کہ پنتہ گردش عمل و حرکتی اور صحرا نوردی حرکت و عمل کی دلیل ہے اور یہی زندگی کا راز ہے۔

دوسرے سوال کے جواب میں خضر زندگی کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ زندگی کا زبانی کہتے ہیں کہ زندگی نفع و زیاں یعنی سود و نقصان سے بلندتر ہے۔ بھی عظیم مقاصد کے لیے جان کی قربانی بھی پیش کرنی پڑتی ہے جیسے حضرت امام حسینؓ نے جامِ شہادت نوش فرمایا، حضرت ابراہیمؑ نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کی جان بارگاہِ الٰہی میں پیش کردی تھی۔ اور بھی ہجرت کرکے جان کی حفاظت کرنی پڑتی ہے۔ زندگی کو آج اور کل یعنی وقت کی پیمائش سے تولو کیوں کہ زندگی جاوداں، مسلسل رواں دواں اور ہر دم جوان ہے۔ انسانی زندگی ارتقا پذیر ہے۔ یہ خرچ سے پیدا ہوتی ہے اور اسی راز میں انسانی زندگی کا راز پنہاں ہے ۔

اگرتم چاہتے ہو کہ تمہارا زندوں میں شمار ہو تو اس کے لیے ضروری ہے کہ محنت اور مسلسل جدوجہد کرو۔ آدم جبد کرو اور اپنی تخلیق و ایجاد کی صلاحیت کو اجاگر کرو، آدم کا یہ راز کائنات کی حقیقت اس عبارت سے عیاں ہے – زندگی کی حقیقت اسی جانی حیات ہے، جس کو فرہاد سے پوچھو جس نے پہاڑ کاٹ کر نہرِ شیر نکالی تھی ۔

آگے خضر آزادی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آزادی کے بغیر زندگی کا تصور ممکن نہیں۔ آزادی زندگی کی عظیم نعمت اور زندگی کی روح ہے ۔

غلامی میں زندگی کا امل گھٹ کے رہ جاتا ہے یعنی محدود ہوکر رہ جاتا ہے اور آزادی میں یہی زندگی بیکراں و سیع ترین اور لامحدود بن جاتی ہے۔ اگرچہ زندگی کا عنصرِ خاک ہے، لیکن اس کے اندر کائنات کو مسخر کرنے کی بےپناہ صلاحیت موجود ہے، اور وجود میں انسان ایک بلبلے کی مانند بھرا ہے۔ یہاں شاعر نے انسانی زندگی کو عالم و جود کی ایک بلبلہ یعنی حباب کہا ہے۔ زندگی کی انتہائی مختصر، پرخطر اور مختصر تر ہوتی ہے۔ اس عالم میں مسلسل عمل اور امتحانات درکار ہوتی ہیں۔ اس بند کے آخر میں خضر کہتے ہیں کہ اگر تو نہ پتا تو یعنی محض توکل کا کام نا کافی ہے، اگر پتا ہو جائے یعنی جہاد کارکی و مضبوط تلوار کے مانند کبھی مضحمکر ہونے کے قابل ہوسکتا ہے۔

پانچویں بند میں خضر کہتے ہیں کہ جس شخص کے دل میں صداقت کے لیے وہ مرنے کو یعنی خدا کے لیے اپنے جسم میں خاکی زندگی پیدا کرے یعنی قوت ارادہ اور عزم کرے – مستعار اشیاء یعنی افعالِ عمل بغیر حاصل ہوگی، اسے یہ کیوں ڈالا وجلاء ان کو کہ ذریعے اپنی محنت اور جدوجہد سے یعنی خود اپنا جہاں تخلیق کرے۔ زندگی کی جو پوشیدہ صلاحیتیں اور قوتیں ظاہر کر دیں اور انہیں اپنی محنت یعنی اپنی محنت کے ذریعے کار پر لائے تا کہ یہ جنگاری قوتیں تیز رفتار ترقی کے ہمکنار کردے۔

اقبال نے زندگی کا مابعدالطبیعیاتی تصور پیش کیا ہے۔ اقبال کے نزدیک زندگی حیاتِ وقت کی قید سے آزاد اور سود و زیاں سے مبرا ہے۔ اقبال زندگی کا اجتماعی تصور اور شعور پیش کرتے ہیں۔ مابعدالطبیعیاتی سطح پر زندگی کو معتارف کرنے کے ساتھ اقبال زندگی کے اجتماعی شعور پر آ جاتے ہیں اور ان تناظر میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں – یہی زندگی کا آفاقی اور کائناتی تصور ہے ۔

مشرق سے جس طرح آفتاب طلوع ہوتا ہے اسی طرح امتِ مشرق خاک مشرق سے اپنی ماضی کی طرح کرے پھر سے اسی رفعت حاصل کرسکتی ہے۔ بدخشاں افغانستان کا ایک خطہ ہے جہاں کے لعل مشہور ہیں یعنی وسط ایشیا، چین اور پاکستان کا سنگم پر واقع ہے۔ خضر کہتے ہیں کہ اس رات کے وقت کے لطف اندوز ہو رہے ہو ہوا وقت آرام کرنے کا نہ بچائے یہ زاری کرتا ہے کہ تیری آہ و فریاد آسان ہو رہا ہو ورج سفیر بن کرآسانوں کے درمیان اسرارِ زیر پیدا ہوں۔ اس بند کے آخری شعر میں خضر یہ کہتے ہیں کہ عصرِ حاضر قیامت کی مانند ہے، جس طرح یہ ریگ بخشش کرنے میں کوئی عمل پیش کرنا اہم ہے۔ اقبال نے یہاں زندگی کو زبانی طور پر ہی نہیں بلکہ فلسفے کے مختلف زاویوں سے روشنی ڈالی ہے اور زندگی کو حرکت و عمل کا مترادف بتایا ہے۔

اقبال نے زندگی کا اجتماعی شعور پیش کیا ہے، اس لیے وہ انسانی زندگی کے تمام شعبہ ہائے حیات پر اپنے فرمانے بیان کرتے ہیں۔ اب وہ سلطنت کے راز کو فاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں – ملوکیت جبر و جارحیت اور ظلم سے عبارت ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ کہ ہم اس آیتِ سلطنت اور حکومت کی حقیقت بتاتا ہے، ایک جادوگری ہے، بہرا حاکم عوام کے مصلحتوں اور طریقوں کا استعمال کرتا ہے۔ کبھی ظاہرا منصف اور رعایا پرور بھی بنتا ہے – یہ سب اس ہتھکنڈے ہیں تاکہ عوام بیدار نہ ہونے پائیں۔ اگر لوگ بیدار ہونے لگیں تو حکمراں کوئی ترکیب کر کے سلا دیتے ہیں۔ اقبال نے سورۃ النمل کی آیت “ان الملوک اذا دخلو قریۃ افسدوہا وجعلو اعزۃ اھلھا اذلۃ وکذالک یفعلون” کا حوالہ دیا ہے (ترجمہ ۔  یقیناً بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو اسے تباہ کردیتے ہیں اور وہاں کے معزز لوگوں کو ذلیل کردیتے ہیں اور وہ ایسا ہی کرتے ہیں)۔

اقبال سامراج کی چالاکیوں اور سازشوں سے دنیا کو آگاہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور مغرب کے نام نہاد جمہوری نظام میں محض دھوکہ اور آزادی و دھوکہ پر مبنی قرار دیتے ہیں۔ اقبال نے سلطنت اور حکومت کے بارے میں فرمایا ہے ۔

اقبال کہتے ہیں کہ ملوکیت اپنی سحر انگیزی سے انسان سے احساس آزادی اور احساس خودی تک چھین لیتی ہے۔ اس طرح طلسم ڈالتا ہے کہ ایاز یعنی غلام غلامی میں ہی فخر محسوس کرنے لگتا ہے۔ اقبال نے محمود اور ایاز کی تلمیح کا سہارا لیا ہے – محمود غزنوی کا ایاز نامی خاص و چہیتا غلام تھا ۔

لیکن یہ بھی نہ کبھی طلسم ٹوٹتا ضرور ہے، یہ کیفیت زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتی، غلاموں پر حقیقت منکشف ہوجاتی ہے اور ان میں سے کوئی اٹھ کھڑا ہوتا ہے جو انہیں اس ظلمانی استحصالی اور استبدادی قوتوں سے آزاد کرتا ہے – جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سامری کا طلسم توڑ کر لوگوں کا حق اور انصاف کی طرف بلایا ۔

سامری حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور کا ایک جادوگر تھا جس نے لوگوں کو ایک بچھڑا (گائے کا بچہ) بنا کر لوگوں سے اس کی پرستش پر لگا دیا تھا۔ خضر آگے کہتے ہیں کہ حکمرانی دراصل رب ذوالجلال کی ہے، اس کے علاوہ سب کی حکمرانی عارضی اور ناپائیدار ہے۔ دنیا کے یہ سب بنائے ہوئے آڑ کے حاکم ان بتوں کی مانند ہیں جن میں قدرت اور فنا ہونا مقدر ہے۔

اللہ نے انسان کو آزاد پیدا کیا ہے، اس لیے اسے اپنی غلامی اختیار کرکے اپنی فطرت آزادی کو سوامت کرو اور اکرتم خدا کے علاوہ کسی حکمرانی کی منت ماننے یا برے سے بہرا برا خواہ کافر ہو – اقبال نہ صرف ظلم، جبر اور استحصال کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں بلکہ خود دساختہ حاکمانہ نظام کو بھی مسترد کر دیتے ہیں۔ اقبال جمہوری نظام کے قابل نہیں گراں جمہوریت مغرب کے تصور سے مختلف تصور پیش کرتے ہیں۔ مغرب کا جمہوری نظام ایک فریب تھا جو مغربی طاقت فاشسٹ اقوام دنیا کو دبا نے رہی تھیں۔ دوسرے ملکوں سے غلام بنا کر رکھنا ممکن نہیں تھا اس لیے اس ذہنی طور پر عوام کے فرضی تصور کے آڑ لیا یا فریب دیا اور غریبوں، کاسانوں و خاص طور پر ایشیائی اور افریقی ملکوں کو جو آزادی حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے، ان کو دھوکہ دے کر رکھتے، اور ان کے استحصال کرنے کے لیے یہ ترتیب دیا گیا، اس طرح یہ نیا غلبہ عدم مساوات، ظلم و استحصال کے نئے عہد میں داخل ہوگئی۔ اقبال مغرب کے فوق شخصی نظامِ حکومت اور بادشاہت کو ہی توسیع قرار دیتے ہیں ۔

ہے وہی ساز کہن مغرب کا جمہوری نظام جس کے پردوں میں نہیں غیر از نوائے قیصری

اقبال خضر کی زبانی کہتے ہیں کہ جمہوریت قیام میں کوئی ظالم و جابر ولی چار رہا ہے اور اسے غافل تو نیلم پری سمجھ رہا ہے۔ افسوس کہ تو نے سراب کو گلستاں اور قفس کو آشیاں سمجھ لیا ہے۔ نظامِ جمہوریت، حقوقِ انسانی، اصلاح واثقات اور دعوے محض فریب اور دھوکا ہیں ۔

خضر کہتے ہیں کہ آزادی اس کا پیغام بر تو ہے اور حقوق فراہم کرنے والا ہے، ان کی زندگی کو منظم کرنے والا ہے اور ایسا ہر گز نہیں ہے، یہ استعماریت کا ہی جدید نسخہ ہے جس کا اثر بظاہر شیریں ہے لیکن آزادی و حقوق سے غافل کرنے والا ہے۔ یہ جمہوری ادارے وہ ہونے والی جوش تقریریں، جن میں لوگوں کی فلاح کے لیے کرایا جانے والا نعرے سننے میں یہ لگتا ہے جیسے مساوات عام ہوگی، غریبوں اور مظلوموں کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ سب سرمایہ داروں کے مزید دولت کی نئی چالیں ہیں۔

ساتواں بند سرمایہ و محنت کے عنوان سے ہے۔ خضر اقبال سے کہتے ہیں کہ جا کر مزدور کو صدا دے اور میرا پیغام سناؤ، اور یہ پیغام صرف میرا نہیں بلکہ پوری کائنات کا پیام ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اے مزدور! ہمیشہ تو نے اپنی محنت سے دنیا کا کاثنات کا پھل تیری محنت کا سرمایہ گر ہمیشہ حیلہ گر پھل نہیں ملا بلکہ تو اپنی محنت سے دولت پیدا کرتا رہا، لیکن بادلا میں تارا صرف مزدوری ملتی تھی جبکہ اس کے مالک کو وہ بھی معاوضہ ادا کرتا تھا جیسے اہلِ ثروت احسان کرکے یا بھیک دے کر غریب کو زکوٰۃ دیتے ہیں ۔

خضر آگے کہتے ہیں کہ ساحر الموت نے تجھے بن ہوش کر دیا اور اس نے مانند بہشت کی عارضی نعمتوں کا وعدہ کیا۔ سرمایہ دار مزدور کو حقوق سے غافل رکھنے کے لیے انہیں نشے کی طرح مختلف طریقوں سے ایجاد کیا ہے۔ مذہب، قومیت، رنگ ونسل اور تہذیب کے نام پر ایسا نشہ ایجاد کر رکھا ہے جن میں مزدور پی کر سرمست ہوجاتے ہیں۔ خضر کہتے ہیں کہ یہ سرمایہ داری اور استعماریت نے اپنی جبر و استبداد کی عمارتیں قائم کرتی ہیں جن پر یہ نادان محنت کش اور نسل کی تعصبات کے نشے میں چور ہوکر باطل قوتوں کو خدا اور اپنا تمام اثاثہ لٹا بیٹھے ہیں۔

سرمایہ داری اور معاشی عدم مساوات کا تعلق سے اقبال کا نظریہ بہت واضح ہے۔ وہ سرمایہ دارانہ نظام کو مزدوروں، غریبوں اور پسماندہ طبقوں کی پسماندگی اور ذلت کا سبب مانتے ہیں اور ان کی رحم قابل حالت ہیں اور اس نظام کو ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ اقبال کے سامنے زمینداری اور سرمایہ داری کی صدیوں پرانی استحصال ہے جس کی تاریخ کی جبر و روشنی میں وہ کہتے ہیں ۔

سرمایہ دار ہوشیار اور چالاک ہوتا ہے جبکہ مزدور سادہ لوح ہوتا ہے۔ محنت کش اور سرمایہ دار میں فرق و لوچ کا ہوتا ہے جب سرمایہ دار اپنے چالوں میں آ جاتا ہے اور اپنی سادہ لوچی کی وجہ سے مات کھا جاتا ہے کہ جب سرمایہ دار سے منکر سے جیت جاتا ہے ۔

خضر مزدوروں، کسانوں اور پسماندہ طبقوں کو انقلاب کا دعوت دیتے ہیں، انہیں معاشی ظلم، جبر اور استحصال کے خلاف اٹھ کھڑا ہونے کا حوصلہ دیتے ہیں۔ ان کے سامنے روشن اور پرشین گوئی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آنے والا وقت تیرا ہے، مشرق اور مغرب ہر طرف تیرے دور کا آمد کا زیر خیمہ تیار ہو رہا ہے۔ اقبال خضر کے پیغام سے ذریعے دنیا بھر کے مزدوروں اور کسانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔

آٹھواں بند بھی سرمایہ داری سے متعلق ہے۔ خضر اپنے پیغام کو مزید وسعت دیتے ہیں کہ اگر تو اپنی بلند عزم رکھے اور اگر ترین سمندر لہ ہو، اسے وسیع ترین قطعات کو بھی قبول نہیں کرتا تو اس شخم اور تو شخم معمولی مراعات پر قطاعت کرتار ہے گا۔ دراصل عیش وعشرت کا حقیقی سامان عوام کی بیداری کے نغموں اور نعروں میں پوشیدہ ہے۔ اگے خضر عصرِ حاضر کی صحیح طلوع اور تو اس کے یتیم ستاروں کا ماتم کب تک کرتے رہو گے یعنی اس نئے آفتاب یعنی نئے اسلاف نورکرو – آج کتاب نوفتا سے حرص کی بات آخر کا غم اداکار نے دکھلا دیا۔ اگر جواں انسان کا نکالا کیا جاتا کاغم کہ کاٹ کو یوں پیدا زنجیروں کو توڑ دیا ہے۔ اگر جوان انسان کا نکالا کیا جاتا اگر انسان کی فطرت اپنی بیداری امرِ فطری ہے، اسے بالکل اسی طرح جیسے پھولوں کے کھلنے کا اور اسے راستے سے کوئی روک نہیں سکتا۔

اقبال خضر عالمِ اسلام سے متعلق سے پانچواں سوال پوچھتے ہیں کہ مسلمانوں کے درمیان اختلاف شدید باہمی اختلاف اور بغاوت خلافتِ عثمانیہ کا زوال کا سبب ملت کا شیرازہ بکھر چکا تھا۔ مغربی طاقتوں کی سازش نے تحتِ مسلمانوں کی سیاسی طاقت کو زمین دوز کردیا اور مغرب کی اس سازش میں عرب کے ترکوں کے خلاف ان اپنے شانہ بشانہ کھڑے تھے۔ خضر کہتے ہیں کہ تجھے آگے عرب یعنی عالمِ اسلام کے عرب و ترک کی داستان سناتا ہوں۔ مجھے فرزندِ ابراہیم اب حضرت عیسیٰؑ کے زندہ یعنی میراث ان کی خوبیوں اور اخلاقِ حسنہ کے حال میں جو کبھی مسلمانوں کا ہوا کرتی تھیں۔ اب مسلموں نے اپنی راثت سے مہ پھیرلیا اور کلیسا خاک حجاز کی بنیاد کی اینٹ بن گئی – یعنی عربوں نے ان کی غلامی اختیار کرلی ہے، جس کی وجہ سے کلا لالہ رنگ جو باعث افتخار سمجھی جاتی تھی، رسوا ہو کر رہ گئی ہے۔ عثمانی سرخ ٹوپی لگاتے تھے، کلاہ لالہ رنگ خلافتِ عثمانیہ کا استعارہ ہے۔ خضر آگے کہتے ہیں کہ کاہ فارس انگریزوں سے ایسی شراب کے طلبگار ہیں جو اسلامی تہذیب سے دور کررہی ہے اور نافرمان بنارہی ہے۔ مراد یہ ہے کہ وہ مغرب کی نقالی میں اپنی تہذیبی قدریں کھو رہے ہیں – یہ وہ تمام اسباب ہیں جن کی وجہ سے امتِ مسلمہ شیرازہ بکھر چکا ہے، جس طرح شیراز ابھی سونے اب پارہ کردیتا ہے۔ آج دنیا بھر میں امتِ مسلمانوں کا خون پانی کی طرح بہ رہا ہے اور تو اس صورتِ حال پر مضطرب اور بے چین ہے کہ تیرا دل اس کے لیے آ گاہ نہیں۔ اس تخریب کے پہلونمایاں ہو رہے ہیں۔ دنیائے اسلام کا پہلا بند اس فارسی شعر کے ساتھ ختم ہوتا ہے ۔

رومی کے حوالے سے خضر کہتے ہیں کہ رومی کا قول ہے کہ کسی عمارت کو از سرِنو تعمیر کرنا ہو تو اس سے پہلے اس عمارت کو گرا دیا جاتا ہے، اس کے بعد اس تعمیرِ نو عمل میں لائی جاتی ہے یعنی تخریب ہی تعمیر سے پہلے کامل ہے۔ امتِ مسلمہ کا زوال اس انتہا پر پہنچے گا اس انتہا کے بعد اب عروج کی طرف بڑھے گی۔

اگلے بند میں خضر مسلمانوں کو اپنے اندر خود اعتمادی، شعورِ خودی پیدا کرنے، دین کی طرف رجوع کرنے اور باہمی اتحاد و وفاق پر زور دیتے ہیں – مسلمان بےسروسامانی کے عالم میں ہیں، سلطنت ان کے ہاتھوں سے جا چکی ہے لیکن خضر پیامِ اُمید دیتے ہوئے اس قوم کی روحِ زوال کو بیدار کرتے ہیں۔ خضر کہتے ہیں کہ اگرچہ سلطنت مسلمانوں کے ہاتھوں سے چھن گئی ہے، اقتدار ان کے ہاتھوں سے چھن گیا ہے، یہ اہم ضرور ہے کہ امت مسلمہ کو اس کا فائدہ ضرور ہوا ہے کہ مسلمانوں کی آنکھیں کھل گئی ہیں اور وہ بیدار ہونے لگی ہیں، یعنی مسلمانوں کے مد کو دوا کی بھیک مانگنا اچھا ہے، لیکن اپنا وقار نہ کھونا۔ اس لیے اگر تیرا دوجدو گر اگرا ایک معمولی چیونٹی کو بھی حضرت سلیمانؑ جیسے عظیم حکمراں کے سامنے حاجت روائی پیدا نہیں چاہیے۔ خضر دوسروں پر انحصار کرنے کے بجائے اور ان اپنے دستِ طلب نہ پھیلانے کی تلقین کرتے ہیں۔

آگے کہتے ہیں کہ اہلِ مشرق یعنی اہلِ اسلام کو یہ نکتہ ابھی تک سمجھ نہیں آسکی ہے، لیکن افسوس اتفاق اور اتحاد ان لوگوں تک اس نکتہ تک ابھی تک نہیں آ سکی ہے۔ خضر کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو اب سیاست چھوڑ کر دین کی طرف رجوع کریں یعنی اپنے دین کو محفظ کریں کیوں کہ ملک و سلطنت سب دین یعنی حرم کے تحفظ کے لیے ہیں۔ اس لیے اگر دین پر عمل ہوگا تو تمہیں سب کچھ پیر ہوگا۔ خضر کہتے ہیں کہ حرم کی پاسبانی کے لیے زمین کے روئے پر آباد بلاتفریق رنگ و نسل اور نسب کا حساب کرو تمام مسلمانوں کا متحد ہونا چاہیے، حرم کا تحفظ اسی صورت میں ممکن ہے جب ساحل نیل سے دریا کاشغر تک سارا مسلمان بلاتفریق متحد ہوں ۔

خضر انتشار اور اختلاف کی صورت میں ہونے والے انجام سے بھی باخبر کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اگر اقوام میں اختلافات باقی رہے تو قوم مسلم ہمیشہ کے لیے مٹ جائے گی اور اس میں کوئی تخصیص نہیں ہے، خواہ شاہی نسب کے ترک ہوں یا اعلیٰ نسب عرب سب فنا ہو جائیں گے۔ رنگ، نسل، وطنی تفریق پرستی کی لعنت اگر دین پر مقدم ہوگئی تو ملتِ اسلامیہ اسی طرح صحرا رات جیسے پرِپژمردہ ہستی سے مٹ کر رہ جائے گا اور پارہ پارہ ہوکر ادھر اُدھر بکھر جائے گا۔ خضر کہتے ہیں کہ اپنے اسلاف جیسی جرات پیدا کرو اور حوصلہ کرو تاکہ اسلامی سلطنت اور خلافت کا نظام پھر سے قائم ہوسکے۔

اقبال نے ملتِ اسلامیہ کے درمیان نسل اور دیگر بنیادوں پر تفریق پرستی کو ساتھ سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ خضر کی زبانی کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر اور حضرت علی کی عظمت کا بیان کر کے ان کا اختلاف اور جھگڑا کرنے والوں کو باور کراتے ہیں اور ان اختلاف کرتے ہوئے ان کی اپنی توانائی اور صلاحیت ضائع کرتے ہیں۔

نظم کے آخری بند تک آتے ہیں تو نظم میں آتے پاس اور ناامیدی کے پردے سے زائل ہونے لگتے ہیں، اس کی فریادِ بلب تاثیر میں بدل میں چکی ہے، افسردگی کی فضا چھٹنے لگتی ہے۔ مغرب کے افق پر زوال کی سیاہ لکیریں نظر آ رہی ہیں، حریت کا خواب تعبیر کے مراحل طے کر رہا ہے ۔

خضر کہتے ہیں کہ عشق کو حقیقی رب ذوالجلال سے وابستگی کا فریاد کر جوش سے کہ سب کچھ ہوچکی ہے، اب اس فریاد کی تاثیر کا وقت دیکھ۔ مغرب کی عظمت و بلندی دیکھ اور بلندی دیکھ لے، اب دیکھو نہ موجِ مضطر جیسے صف بندی خوانِ اسلام دشمنوں کے لیے کس طرح زنجیر بنتی جا رہی ہے۔ اسلام کی بنیادی مقصد تمام انسانوں کی حریت اور نجات کا تھا، اب وہ منزل کے قریب تر ہو رہا ہے، اب سمندر کیڑا ایک آگ جو مشعلِ راہ اور اپنے راستے کو خاک کر جاتا ہے اور اس میں جل کر خاک ہو جاتا ہے۔ امتِ مسلمہ بھی کچھ ایسی ہی مثال ہے – وہ بھی ملتِ اسلامیہ اپنے میدان زوال کے بعدسمندر کی مانند دوبارہ عروج حاصل کرے گی۔ خضر آگے یہ کہتے ہیں کہ آسمان بہت پاس یعنی آ یہی آنمود پُتہ موجود ہے جس کا نام تقدیر ہے اور تقدیر پر تمام تر حرب و ضرب اور نا اور کام ہوکررہ جاتے ہیں۔ خضر آخری اشعار میں پیام دیتے ہیں کہ تو مسلمان ہو تو اسلام اور سربلندی و عظمت کی آرزو دل میں زندہ رکھ اور قرآن پر کامل ایمان رکھ، جس میں یقین رکھتا ہے کہ اللہ کبھی وعدہ خلافی نہیں فرماتا۔

نظم میں اقبال نے خوبصورتی کے ساتھ امتِ مسلمہ کے پیغام دیا ہے اور انہیں ان کی کمزوریوں اور خامیوں سے آگاہ کیا ہے، اور زوال کے اسباب اور اس سے ترقی ممکن ہے، یہ بتانے کی کوشش کی ہے۔

“خضرِ راہ” اردو شاعری کے بہترین نظموں میں شمار ہوتی ہے۔ اقبال کی اس نظم کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ان کی انقلاب کی ترین نمائندہ نظم ہے۔ اس کے باوجود اس نظم میں مشرق و مغرب کی کشمکش، عالمِ اسلام کا زبوں حالی، آزادی اور سرمایہ دار کی جنگ کی جدو جہد جیسے سنجیدہ موضوعات کو جس سنجیدگی سے پیش کیا گیا ہے، وہ اس نظم کی فنی اور فکری صلاحیتوں کی غیر معمولی دلیل ہے۔ فنی اعتبار سے بھی یہ نظم انتہائی اہم ہے۔ پوری نظم فنی محاسن سے آراستہ نظر آتی ہے۔ اس نظم میں اقبال نے تلمیحات کو خوب کام میں لایا ہے اور اپنے مضمون کو پراثر بنانے کی کوشش کی ہے۔ نادر تشبیہیں، استعارے اور اس نظم کی دلکشی میں چار چاند لگاتے ہیں۔ اس نظم میں اقبال نے صنعتوں کا خوب استعمال کیا ہے، ساتھ ہی اس میں نادر تراکیب استعمال کیں ہیں جیسے شہیدِ جستجو، قلزمِ ہستی، ضمیرِ کن فکاں، اقوامِ نو دولت، ساز دلبری وغیرہ۔ نظم ہر اعتبار سے عمدہ اور بہترین نظم ہے – یہ نظم دنیائے شعرِ کائ فنِ پاروں میں سے ایک ہے۔

جواب ۔  نظم “خضرِ راہ” ترکیبِ بند کی صورت میں لکھی گئی ہے اور اس کے کل 11 بند ہیں۔ پہلے دو بند “شاعر” کے عنوان کے تحت ہیں جبکہ باقی نو بند “جوابِ خضر” کے عنوان کے تحت پانچ ذیلی عنوانات میں تقسیم ہیں۔

جواب ۔  دریا وقت، تاریخ، مسلسل حرکت و عمل اور اسرار و رموز کی علامت ہے، جبکہ دریا کا سکوت مسلمانوں کے فکری و عملی جمود کی علامت ہے۔

جواب ۔  اس واقعے کے ذریعے اقبال یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ خضر کا علم عام عقلِ انسانی سے بلند اور غیبی نوعیت کا ہے، تاکہ ان کے جوابات کی اہمیت اجاگر ہو۔

جواب ۔  شاعر خضر سے صحرانوردی، زندگی، سلطنت، سرمایہ و محنت اور دنیائے اسلام کے زوال سے متعلق پانچ سوالات کرتا ہے۔

جواب ۔  اس نظم میں اقبال نے تلمیحات، نادر تشبیہات، استعارے اور خوبصورت تراکیب کا بھرپور استعمال کیا ہے، جو اسے اردو شاعری کی بہترین نظموں میں شامل کرتے ہیں۔

A complete Urdu analytical study (Tajziyati Mutalea) of Allama Iqbal’s poem Khizr-e-Rah, covering its structure (tarkeeb-e-band), the symbolism of the river and night, the character of Khizr, the Quranic story of Khizr and Musa (AS), the poem’s five questions, and its artistic features, explained in simple Urdu for students of Bihar Board, UGC-NET/JRF Urdu, and other Urdu literature exams.