Armaghan-e-Hijaz ka Taaruf | ارمغانِ حجاز کا تعارف

علامہ ڈاکٹر محمد اقبال نے اردو اور فارسی، دونوں زبانوں میں شاعری کی۔ انہوں نے غزلوں کے ساتھ ساتھ بڑی نظمیں بھی لکھیں اور اپنے کلام کے ذریعے دنیا بھر میں اپنا لوہا منوایا۔ اس مضمون میں ہم اقبال کی رباعی گوئی اور ان کے آخری شعری مجموعے ارمغانِ حجاز کا تعارف آسان اور عام فہم زبان میں پیش کریں گے۔

ارمغانِ حجاز، اقبال کا آخری شعری مجموعہ ہے۔ اس مجموعے میں علامہ اقبال کے فکر و فلسفہ اور دعوت و پیغام کے متنوع اور کثیر الجہات نقوش کی رنگا رنگی دیکھی جا سکتی ہے۔ ارمغانِ حجاز کے معنی ہیں “حجاز کا تحفہ” اور اس مجموعے کا تعلق اقبال کی وفات کے تحت ہے، یہ مجموعہ اقبال کی 1938 میں وفات کے کچھ مہینے بعد شائع ہوا۔ اس مجموعے میں اقبال نے دونوں زبانوں (اردو اور فارسی) میں شاعری کی ہے۔ اس میں اقبال نے ایک جگہ مسلمانوں کی طرف اشارہ کر کے لکھا ہے

یہ اقبال کا ناتمام شعری مجموعہ ہے، کیونکہ علامہ اقبال کا ارادہ اپنے کلام میں ادا کرنے کا اور در بار رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حاضری کے بعد ہی مکمل کرنے کی آرزو رکھتے تھے۔ یہ کتابِ حجاز فراقِ پُر سوز نغموں سے معمور ہے، اقبال زندگی کے آخری برسوں میں حج اور زیارت کے لیے حجازِ مقدس کا سفر کرنا چاہتے تھے، لیکن ان کی صحت کی ناسازی نے انہیں اس سفر سے باز رکھا۔ البتہ خیالی طور پر وہ حجاز گویا رہے ہی۔ ارمغانِ حجاز اس خیالی سفر کی تصویر پیش کرتی ہے۔

یہ خیالی سفر پانچ حصوں پر تقسیم کیا گیا ہے، یعنی اس مجموعے کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: اللہ کے حضور، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں، مسلمان قوم سے، عالمِ انسانی سے، اور اپنے دوستوں سے۔ ارمغانِ حجاز میں “حضور رسالت مآب” والا حصہ اس کی جان سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ مجموعہ چودھری محمد حسین کی زیرِ نگرانی مرتب کیا گیا اور اس کی تدوین انجام دی گئی۔ اقبال کا ارادہ تھا کہ وہ ارمغانِ حجاز خود ترتیب دے کر اپنے ساتھ حجازِ مقدس لے جائیں، لیکن ان کی مشیت رب کی تھی کہ اقبال کی بیماری نے انہیں مہلت نہ دی اور وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

ارمغانِ حجاز دو حصوں پر مشتمل ہے: ایک فارسی حصہ اور دوسرا اردو حصہ۔ اس کے اردو والے حصے میں ایک مشہور نظم “ابلیس کی مجلسِ شوریٰ” ہے۔ مذکورہ نظم اقبال کی بہترین نظموں میں سے ہے، اور ارمغانِ حجاز کی یہ نظم 1936 میں کہی گئی تھی۔ اس میں اقبال نے کشمیر کے حالات کے تذکرے کو اشارات و کنایات میں بلند کیا ہے۔ اس حصے میں صرف قطعات اور مختصر نظمیں ہیں۔

فارسی حصے میں صرف قطعات اور فارسی مختصر نظمیں ہیں، جو پُرجوش، ولولہ خیز اور شاعرانہ ہیں۔ اس حصے کی فارسی نظموں کے عنوانات بلند، پُرجوش اور شاعرانہ ہیں: حضورِ ربِّ العالمین، حضورِ رسالت، حضورِ امت، حضورِ عالمِ انسانی اور بارگاہِ رفیقان کے عنوان کے تحت پانچ حصوں میں تقسیم ہیں۔ اس میں جو جذبات سامنے آتے ہیں وہ ان خیالات کو پیش کرتے ہیں، جیسے کوئی عالمِ تصور میں سفرِ حجاز کر رہا ہو اور بارگاہِ الٰہی و دربارِ رسالت مآب کی دید کے لیے خواہشمند ہو۔

حجازِ مقدس کا یہ تصوراتی سفر اقبال کی شاعری میں اس وقت زاہر ہونے لگا جب انہیں شاید یہ محسوس ہو گیا تھا کہ ان کی روح کا قبض ہو جائے گا۔ اسی احساس کے تحت انہوں نے اپنا آخری قطعہ لکھا، جو ان کی زندگی کا ترجمان اور ارمغانِ حجاز کی زینت ہے

ترجمہ ۔ اب گزرا ہوا سرود واپس آئے یا نہ آئے، حجاز کی طرف سے ٹھنڈی ہوا چلے یا نہ چلے۔ اس فقیر (اقبال) کی زندگی کا وقت ختم ہوا، اب کوئی اور دانا اور راز آشنا آئے یا نہ آئے۔

علامہ اقبال اردو شاعری کے ایک ایسے بڑ آبدار ہیرے کی مانند ہیں، جن کی چمک سے چمک سے متاثر ہوئیں۔ اقبال کے فکر کے ساتھ ان کے موضوعات اور فن میں بھی وسعت اور تنوع پایا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی سخنوری سے اردو شاعری کے مزاج ہی بدل دیا۔ اقبال کا کلام انسانی آزادی کا علم بردار ہے۔

رباعی عربی زبان کا لفظ “ربع” سے مشتق ہے، جس کے معنی چار کے ہیں۔ اس میں کل چار مصرعے ہوتے ہیں۔ رباعی اس صنفِ سخن کا نام ہے، جس میں چار مصرعوں میں ایک مکمل مضمون ادا کیا جاتا ہے۔ رباعی کے اوزان تھوڑے مخصوص اور دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں، جس کے معنی خوش آہنگ اور دلآویز ہونے کی وجہ سے یہ صنف مقبول ہوئی ہے۔

اقبال کی شہرت نہ صرف بحیثیت شاعر بلکہ پوری دنیا میں ممالک بین بھی ہوئی، وہ دنیا کے کسی بھی ملک میں بھی اقبال کو ان کی شاعری اور شاید ہی کسی اور شاعر یا ادیب کو ملا ہو۔ رباعیات اقبال کی دو بیتیاں بھی قطعہ نہیں بلکہ رباعی ہی ہیں، مگر اوزانِ ناضروری میں فرق ہے۔

مطابق تحقیق اقبال کی دو رباعیوں کو قطعہ نہیں بلکہ رباعی ہی کہا جا سکتا ہے، کیونکہ ڈاکٹر عندلیب کے مطابق ان کے وزن سے مسدس کے وزن سے یہ انکشاف کیا کہ انہوں نے بابا طاہر عریاں کے جیسے مجموعہ عارفانہ کلام ایران، یورپ اور ہندوستان کے لیے اپنے لیے رباعیات پر رواج ترکیب اپنایا ہے۔

فارسی شعرا کی اتباع اور اردو شعرا نے بھی رباعی گوئی میں طبع آزمائی کر کے رباعی گوئی میں طبع آزمائی کی۔ دیکھا جائے تو مشہور اردو رباعی گو شعرا میں میر تقی میر، سودا، میر دردؔ، میر انیس، غالبؔ، حالیؔ، اکبر الہ آبادی اور غیرہ شامل ہیں۔ البتہ جس شاعر نے اردو رباعی کی طرح غالبؔ کی طرح اردو اور فارسی میں واقعی کمال کیا ہے، وہ اقبال کی رباعیات، رباعی کے مروجہ اوزان کی قید میں نہیں ہیں، تاہم انہوں نے اپنی رباعیاں خود اپنا اہتمام کیا ہے۔

اقبال نے بالِ جبریل اور ارمغانِ حجاز میں شامل کیا ہے، جس سے پتا چلتا ہے کہ ان کے اندر رباعی گوئی کا فن بھی موجود تھا۔ اقبال نے اپنے کلام کے ذریعے اپنے فلسفیانہ اور اخلاقی معیار کا سراغ بھی ملتا ہے، انہوں نے فطرت نگاری کے حوالے سے بھی اپنے کلام کے ذریعے دنیا کو مالا مال کیا۔ چند اشعار ملاحظہ کیجیے:

اس کے بعد علامہ اقبال کی ایک رباعی اور دیکھیے کہ کس انداز سے انہوں نے سمندر کو الفاظ میں بند کر دیا ہے

علامہ اقبال نے رباعی کی اس صنف کے ذریعے اپنے پوری امت کواپنے اندر سدھارلانے اور محبت وشفقت کو عام کرنے کی ایک الگ اسلوب اور انداز سے کی ہے۔ وہ مسلمانوں میں اخوت کو قائم کرنے کے بڑے متمنی تھے۔ مثال کے لیے دیکھیے یہ رباعی، جس میں انہوں نے مسلمانوں سے فرمایا کہ محبت کا جنون باقی نہیں ہے

علامہ اقبال کے بعد اردو رباعی کا چلن بہت کم رہ گیا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ترقی پسندی اور جدیدیت کے فروغ کے سلسلے میں جب نئے اردو شعرا نے شاعری میں تجربات کر کے آزاد نظم کا چلن عام کیا تو اس کی بدولت کلاسیکی اصنافِ سخن کے استعمال میں کمی آ گئی، ایک تو ان کا رواج کم ہوا اور دوسرے انہیں فرسودہ از کار رفتہ سمجھا جانے لگا۔

اقبال نے رباعی کی صنف میں بھی اپنا مقام بنایا اور بالِ جبریل و ارمغانِ حجاز میں شامل اپنی رباعیات کے ذریعے فطرت نگاری، فلسفہ اور امت کی اصلاح جیسے موضوعات کو خوبصورتی سے بیان کیا۔ ارمغانِ حجاز اقبال کا آخری اور ناتمام شعری مجموعہ ہے، جو ان کی وفات کے بعد 1938 میں شائع ہوا۔ یہ مجموعہ اردو اور فارسی دونوں زبانوں پر مشتمل ہے اور اسے پانچ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: اللہ کے حضور، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں، مسلمان قوم سے، عالمِ انسانی سے، اور اپنے دوستوں سے۔ اس مجموعے میں شامل نظم “ابلیس کی مجلسِ شوریٰ” اقبال کی بہترین نظموں میں شمار ہوتی ہے۔

جواب ۔ رباعی عربی لفظ “ربع” سے مشتق ہے، جس کے معنی چار کے ہیں۔ یہ صنفِ سخن چار مصرعوں پر مشتمل ہوتی ہے، جن میں ایک مکمل مضمون ادا کیا جاتا ہے۔

جواب ۔ ارمغانِ حجاز اقبال کی وفات کے کچھ مہینے بعد، 1938 میں شائع ہوا۔

جواب ۔ ارمغانِ حجاز دو زبانوں (اردو اور فارسی) پر مشتمل ہے اور موضوعی اعتبار سے اسے پانچ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: اللہ کے حضور، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں، مسلمان قوم سے، عالمِ انسانی سے، اور اپنے دوستوں سے۔

جواب ۔ کیونکہ اقبال خود اسے ترتیب دے کر حجازِ مقدس کی زیارت پر لے جانا چاہتے تھے، لیکن ان کی بیماری اور وفات کی وجہ سے یہ کام ادھورا رہ گیا اور بعد میں چودھری محمد حسین نے اسے مرتب کیا۔

جواب ۔ اس مجموعے کے اردو حصے میں شامل نظم “ابلیس کی مجلسِ شوریٰ” اقبال کی بہترین اور مشہور نظموں میں شمار ہوتی ہے۔

Armaghan-e-Hijaz ka Taaruf explains Allama Iqbal’s last and posthumously published poetry collection. This post covers Iqbal ki rubai goi (quatrain writing), the background of Armaghan-e-Hijaz, and its five-part imaginative journey to Hijaz in simple, easy Urdu for students.