تمہید
یہ پوسٹ ضربِ کلیم (اقبال کا تیسرا شعری مجموعہ) کا مکمل تعارف پیش کرتی ہے۔ اس میں مجموعے کا پس منظر (1936ء میں اشاعت، بالِ جبریل سے فرق)، اسے دورِ حاضر کے خلاف “اعلانِ جنگ” کیوں کہا گیا، اس کی نظموں کے چھ موضوعاتی زمرے، نظموں کا مختصر اور بے لاگ اسلوب، پروفیسر یوسف سلیم چشتی کی رائے، اور “ضربِ کلیم” نام رکھنے کی وجہ یہ سب کچھ آسان اردو میں بیان کیا گیا ہے۔ آخر میں خلاصہ اور اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQ) کا حصہ بھی شامل ہے۔
اس مضمون میں ہم اقبال کے تیسرے شعری مجموعے ضربِ کلیم کا تعارف آسان اور عام فہم زبان میں پیش کریں گے، تاکہ طلبہ کو یہ موضوع سمجھنے میں آسانی ہو۔
اس مضمون میں
ضربِ کلیم کا تعارف
ضربِ کلیم علامہ اقبال کا تیسرا شعری مجموعہ ہے، جو 1936ء میں منظرِ عام پر آیا۔ اس مجموعے میں شامل نظمیں اور غزلیں اپنی نوعیت کے اعتبار سے بالِ جبریل سے کافی فرق رکھتی ہیں۔ جہاں بالِ جبریل میں زیادہ تر غزلیں اور کچھ طویل نظمیں شامل ہیں، وہیں ضربِ کلیم میں زیادہ تر نظمیں اور تعداد میں کم غزلیں ہیں۔ اس میں شامل غزلوں کی تعداد پانچ ہی ہے، جن میں سے اس اکائی میں چار غزلوں کا تجزیاتی مطالعہ کیا جاتا ہے۔
ضربِ کلیم کو علامہ اقبال نے دورِ حاضر کے خلاف اعلانِ جنگ قرار دیا ہے۔ اقبال کے خیال میں مغرب نے دنیا بھر میں جو مادہ پرستی پھیلائی ہے، اسی وجہ سے دنیا کا اخلاقی اور روحانی لحاظ سے زوال ہو رہا ہے۔ تہذیبِ حاضر کے اسی شکار افراد کے بارے میں اقبال کہتے ہیں
مجھے تہذیبِ حاضر نے عطا کی ہے وہ آزادی کہ ظاہر میں تو آزادی ہے باطن میں گرفتاری
ضربِ کلیم کی اشاعت کے محض ایک سال کے فرق سے اور ان دونوں مجموعوں کے درمیان اقبال کے فارسی کلام کا کوئی مجموعہ حائل نہیں ہے۔ بالِ جبریل اور ضربِ کلیم دونوں میں ایک اور خاص نوعیت کا فرق ہے۔ بالِ جبریل میں زیادہ تر غزلیں اور کچھ طویل نظمیں ہیں، جبکہ ضربِ کلیم میں اس کے برعکس زیادہ تر نظمیں ہیں۔
اقبال نے ضربِ کلیم کو دورِ حاضر کے خلاف اعلانِ جنگ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق دورِ حاضر کی خاص اصطلاح ہے، جس سے مراد وہ عہد ہے جو مغرب سے دنیا بھر میں پھیلا۔ اقبال نے اسی تہذیب حاضر کے شکار افراد کو بہت گمراہ خیال کیا ہے۔
اقبال نے اس بڑی تفصیل کو ضربِ کلیم میں موضوع بنایا ہے اور متعدد نظمیں لکھ کر مختلف پہلوؤں کا احاطہ کیا ہے۔ ذیل میں ان نظموں کو درج ذیل زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
امتِ مسلمہ سے متعلق
اس زمرے میں شامل نظمیں کلمہ، عقیدہ، معراج، ایک فلسفۂ زندہ سیدزادہ کے نام، زمینِ آسمان اور مسلمان کا زوال، شکایات و اجتہاد، شکر و اجتہاد، حیات ابدی، سلطانی صوفی سے افرنگ زدہ، تصوف، ہندی اسلام، دینا، نماز، وحی، شکست، عقل ودل، مستی، کردار، قبر، قلندر کی پہچان، فلسفہ، مردانِ خدا، مرد مومن، کافر ومومن، برحق مومن، محمد علی باب، تقدیری اسلام، امدادِ اسلام، امامت، فقر وراہبی، تسلیم ورضا، نکتہ توحید، البام اورآہ، حیدر، سلام اور آزادی، جان وطن، لا اور کراچی، نبوت، آدم، مکہ اور جنیوا، امیر حرم، مہدی، مردِ مسلمان، پنجابی مسلمان، اشاعت، آزادی، اسلام فرنگستان میں، لا دِ الّا، امرائے عرب سے احکام الٰہی، موت اور تُم باذنِ اللہ جیسی نظمیں شامل ہیں۔
تعلیم و تربیت سے متعلق
اس زمرے میں مقصدِ زمانہ حاضر کا انسان، اقوامِ مشرق، آگاہی مصلحینِ مشرق، مغربی تہذیب، اسرارِ پیدا، سلطان ٹیپو کی وصیت، خودی کی تربیت، آزادیِ فکر، خودی کی زندگی، حکومت، ہندی مکتب، تربیت، خوب وزشت، مرگِ خودی، اسا تذہ، دین وتعلیم اور جاوید جیسی نظمیں شامل ہیں۔
طبقہ نسواں سے متعلق
اس زمرے میں مردِ فرنگ، ایک سوال، خلوت، پردہ، آزادیِ نسواں، حفاظتِ عورت اور تعلیمِ عورت جیسی نظمیں شامل ہیں۔
ادبیات اور فنونِ لطیفہ سے متعلق
اس زمرے میں دین و ہنر، تخلیق، جنون، اپنے شعر سے، مسجد کی پیرس، مسجدِ ادبیات، نگاہ، قوتِ اسلام، شعاعِ امید، تیاتر، امید، نگاہِ شوق، اہلِ ہنر، وجود، سرود ونیم، مصرِ مخلوقات، اہرام، اقبال فنونِ لطیفہ، ہنر، روی، خاقانی، صبح چین، جدت، مرزا بیدل، جلال ومزار، وقتِ نظر، ذوقِ موسیقی، رقص وشعر اور ضبط ورقص جیسی نظمیں شامل ہیں۔
سیاستِ مشرق و مغرب سے متعلق
اس زمرے میں اشتراکیت، کارل مارکس کی آواز، انقلاب، خوشامد، مناصب، یورپ اور یہود، نفسیاتِ غلامی، بلشویک روس، آج اور کل، سیاستِ افرنگ، خواجگی، غلاموں کے لیے، اہلِ مصر سے، ابلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام، جمعیتِ اقوامِ مشرق ومغرب، جمہوریت، یورپ اور سوریا، مسولینی، لا دین سیاست، انتداب، گلہ، نصیحت، دامِ تہذیب، ایک بکری قزاق اور سکندر، نصیحتِ اقوام، جمعیتِ اقوامِ مشرق اور مغرب اور نفسیاتِ فلسطینی، سیاستِ عرب، فلسطینی عرب، مشرق و مغرب اور نفسیات جیسی نظمیں شامل ہیں۔
محرابِ گل افغان کے افکار سے متعلق
اس حصے میں صرف ایک ہی نظم ہے، جس کا عنوان بھی “محرابِ گل افغان کے افکار” ہے، جس کا شمار ضربِ کلیم کی طویل نظموں میں ہوتا ہے۔ ان نظموں کے علاوہ اس مجموعے میں پانچ غزلیں بھی شامل ہیں۔
ضربِ کلیم کی نظموں کا اسلوب
ضربِ کلیم کی اکثر نظمیں بے حد مختصر ہیں۔ زیادہ تر نظمیں دو، تین بند یا اشعار پر مشتمل ہیں۔ اس میں شامل تمام نظمیں ہر طرح کے حشو و زوائد سے بالکل پاک ہیں۔ اگر چہ اس انداز بیان میں عمدہ شاعرانہ رنگ رکھی گئی ہے، اس کے باوجود ان نظموں کو مطالعہ کے دوران یہ احساس نہیں ہوتا کہ یہ کان شاعرانہ ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں ایک الگ طرح کے جذبات سے پیش کیا گیا ہے، جو پڑھنے والوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔
ماہرین کی رائے میں ضربِ کلیم کی اہمیت
ضربِ کلیم کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ اس مجموعے کے بارے میں اقبال کے سب سے معتبر شارح پروفیسر یوسف سلیم چشتی کے مطابق ضربِ کلیم 1936ء میں شائع ہوئی۔ اس میں شعریت اور تغزل کم ہے، اور فلسفہ زیادہ ہے۔ بعض نظمیں اس مجموعے میں اس قدر بلند اور فکر انگیز ہیں کہ ان کا سرحدِ الہام سے ملی ہوئی ہونا معلوم ہوتا ہے، مگر مختصر طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ضربِ کلیم چوں کہ عمر کا پختہ کلام ہے، اس لیے اس قدرتی طور پر اس میں خیالات کی گہرائی اور پختگی نظر آتی ہے۔ ان کے اعتبار سے اس کتاب میں علامہ نے اس دنیا کے تمام مسائل پر اسلامی نگاہ سے تنقید کی ہے۔
پروفیسر یوسف سلیم چشتی مزید لکھتے ہیں کہ ضربِ کلیم، بقول علامہ مرحوم، دورِ حاضر کے خلاف اعلانِ جنگ ہے، اور یہ بات درست ہے کہ اس کتاب پر اس سے مختصر الفاظوں میں اس سے بہتر تبصرہ ممکن نہیں ہے۔
نام “ضربِ کلیم” کیوں رکھا گیا؟
ضربِ کلیم کے تعارفی باب میں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ علامہ اقبال نے اس مجموعے کا نام “ضربِ کلیم” کیوں رکھا۔ دراصل علامہ اقبال نے یہ محسوس کر لیا تھا کہ مسلمانوں کی راہِ راست سے اور مغرب کی پھیلائی گمراہی سے مغربی قوتوں نے مسلمانوں کو بھٹک جانے دیا ہے۔ اس لیے انہوں نے مسلمانوں کو بیدار کرنے اور انہیں صحیح راستے پر لانے کے لیے اس مجموعے کا عنوان “ضربِ کلیم” رکھا، جس طرح حضرت موسیٰؑ کی لاٹھی نے فرعونی قوتوں کو زیر کیا تھا، اسی طرح اقبال نے اپنی اس تصنیف کو بھی اسی دورِ حاضر کی فرعونی قوتوں پر ضرب لگانے کی کوشش کے طور پر پیش کیا۔
پروفیسر یوسف سلیم چشتی اس مجموعے کے نام کی وجہ تسمیہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس کتاب کا نام “ضربِ کلیم” رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ اقبال مسلمانوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اس کتاب میں جو اشعار ہیں وہ بالکل صحیح الفاظ میں ان خیالات کو ظاہر کیے گئے ہیں جو عصرِ حاضر کے بتوں کو پاش پاش کرنے کے لیے، اور علامہ یہ چاہتے ہیں کہ مسلمان ان خیالات کے عامل ہوکر اپنے اندر وہ طاقت پیدا کریں، جس کی بدولت وہ دورِ حاضر کے بتوں کو پاش پاش کر سکیں۔
خلاصہ
ضربِ کلیم علامہ اقبال کا تیسرا شعری مجموعہ ہے جو 1936ء میں شائع ہوا۔ یہ مجموعہ بالِ جبریل کے مقابلے میں زیادہ نظموں اور کم غزلوں پر مشتمل ہے، اور اسے اقبال نے خود دورِ حاضر کے خلاف اعلانِ جنگ قرار دیا۔ اس مجموعے میں امتِ مسلمہ، تعلیم و تربیت، طبقہ نسواں، ادبیات و فنونِ لطیفہ، سیاستِ مشرق و مغرب، اور محرابِ گل افغان کے افکار جیسے موضوعات پر نظمیں شامل ہیں۔ نظموں کا اسلوب نہایت مختصر اور بے لاگ ہے، اور مجموعے کا نام حضرت موسیٰؑ کی لاٹھی کی علامت سے لیا گیا ہے، جو دورِ حاضر کی گمراہیوں پر ضرب لگانے کی علامت ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
سوال 1۔ ضربِ کلیم کب شائع ہوئی؟
جواب ۔ ضربِ کلیم 1936ء میں شائع ہوئی۔
سوال 2 ۔ ضربِ کلیم، بالِ جبریل سے کیسے مختلف ہے؟
جواب ۔ بالِ جبریل میں زیادہ تر غزلیں اور کچھ طویل نظمیں شامل ہیں، جبکہ ضربِ کلیم میں زیادہ تر نظمیں اور صرف پانچ غزلیں شامل ہیں۔
سوال 3 ۔ ضربِ کلیم کے کتنے موضوعاتی حصے ہیں؟
جواب ۔ ضربِ کلیم کو چھ زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: امتِ مسلمہ، تعلیم و تربیت، طبقہ نسواں، ادبیات و فنونِ لطیفہ، سیاستِ مشرق و مغرب، اور محرابِ گل افغان کے افکار۔
سوال 4 ۔ مجموعے کا نام “ضربِ کلیم” کیوں رکھا گیا؟
جواب ۔ یہ نام حضرت موسیٰؑ کی لاٹھی کی علامت سے لیا گیا ہے، جیسے موسیٰؑ کی لاٹھی نے فرعونی قوتوں کو زیر کیا، اسی طرح اقبال نے اپنی اس تصنیف کو دورِ حاضر کی گمراہیوں پر ضرب لگانے کے استعارے کے طور پر پیش کیا۔
سوال 5 ۔ ضربِ کلیم کو “اعلانِ جنگ” کیوں کہا جاتا ہے؟
جواب ۔ اقبال نے خود اسے دورِ حاضر کی مادہ پرست تہذیب کے خلاف اعلانِ جنگ قرار دیا، کیونکہ اس میں مغربی تہذیب کے منفی اثرات پر کھل کر تنقید کی گئی ہے۔
Zarb-e-Kaleem ka Taaruf covers Allama Iqbal’s third poetry collection, published in 1936. This post explains its background as Iqbal’s “elan-e-jung” against the modern age, its six major thematic categories, the style of its nazms, and the meaning behind the title Zarb-e-Kaleem in simple, easy Urdu for students.