تعارف
مسجدِ قرطبہ اقبال کی مشہور ترین نظموں میں شمار ہوتی ہے، جو ان کے شعری مجموعے “بالِ جبریل” میں شامل ہے۔ اس نظم کی فضا سراسر علامتی ہے۔ اس میں ایجاز (اختصار)، علامتی پیرایۂ اظہار، استعاراتی اسلوب، جدہ و جلال، حسنِ و جمال، منظر کشی، فکر کی وسعت اور فنی کاریگری – سب کچھ یکجا نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے اقبال کے شاہکاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس نظم میں اقبال نے وقت کے مقابلے میں عشق کے دوام اور زندگی کے پیہم رواں دواں ہونے کا تصور پیش کیا ہے۔ اقبال نے اس نظم میں اجتماعیت، رجائیت (امید) اور قومیت کا تصور بھی پیش کیا ہے۔ نظم وقت کے سامنے عشق کی غیر معمولی قوت اور اس کی دائمی بقا کا اظہار کرتی ہے۔
نظم “مسجدِ قرطبہ” میں کئی بند ہیں، اور نظم کی ہیئت قصیدہ سے ملتی جلتی ہے۔ یہ نظم ایک عہد اور ایک تہذیب کے اجتماعی شعور کی نمائندگی کرتی ہے۔ اقبال نے اس میں فلسفیانہ اور حکیمانہ طرزِ اظہار اختیار کیا ہے – وقت کی برتری، عشق کی لازوال قوت، اور اس قوت سے سرشار بندۂ مومن کا جذبۂ ایمانی، یہی اس نظم کے مرکزی موضوعات ہیں۔
اس نظم کی تخلیق کا پس منظر یہ ہے کہ اندلس کی سرزمین پر، شام کے وقت، اقبال کے سامنے وہ عظیم تاریخی مسجد آ جاتی ہے جو صدیوں سے اذان سے محروم ہے۔ اس منظر کو دیکھ کر اقبال کے ذہن میں خیالات کی ایک بے کراں موج انگڑائی لینے لگتی ہے۔ یہاں تاریخ کے اوراق الٹتے چلے جاتے ہیں، اور یہ مسجد اس عہد کے مسلمانوں کے جذبۂ ایمانی، اخلاص اور عشقِ حقیقی کی سرشاری کی علامت بنتی چلی جاتی ہے۔
اس مضمون میں
پہلا بند۔ وقت کا فلسفہ
نظم کے پہلے بند میں شاعر نے وقت پر فلسفیانہ گفتگو کی ہے۔ وقت ہر شے کائنات کا احاطہ کیے ہوئے ہے – کائنات کی کوئی شے اس سے باہر نہیں۔ وقت ہی کے ذریعے خالقِ حقیقی اپنی قدرت کا اظہار کرتا ہے۔ اقبال نے یہاں یہ ظاہر کیا ہے کہ کائنات کی ہر شے بےمعنی اور وقت کے تابع ہے۔ اقبال نے وقت کو “سلسلۂ روز و شب” (دن اور رات کا سلسلہ) سے تعبیر کیا ہے۔
اقبال کہتے ہیں کہ اسی سلسلۂ وقت کے دائرے میں زندگی کے تمام حادثات و واقعات رونما ہوتے ہیں، تمام تغیرات وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ وقت اسی گردش سے نئے نقش تیار کرتا رہتا ہے، دنیا کے سارے انقلاب اسی سے ظاہر ہوتے ہیں – یہی حیات و موت کی اصل ہے۔ اسی گردشِ دوراں کے سبب پرانی چیزیں ختم ہوتی رہتی ہیں اور نئی چیزیں وجود میں آتی رہتی ہیں۔ وقت کا یہ تسلسل بستیوں کو ویرانوں میں اور ویرانوں کو بستیوں میں تبدیل کرتا رہتا ہے۔
یہ سلسلۂ روز و شب دراصل وہ ذریعہ ہے جس سے قدرت اپنی تخلیقی کارفرمائیاں ظاہر کرتی ہے – یہ ازل کے ساز کی وہ صدا و فغاں ہے جو کائنات کی تخلیق کے ساتھ ہی شروع ہو گئی تھی۔ یہ سلسلہ کائنات کا صراف (جوہری) بھی ہے، جو ہر ایک کو اس کے اعمال کے حساب سے پرکھتا ہے – چاہے وہ امیر ہو یا فقیر، کوئی بھی اس معیار سے باہر نہیں۔ جو اس معیار پر پورا نہیں اترتا، وہ فنا ہو جاتا ہے۔ لیکن جس زندگی میں عشق اور خودی کی سرشاری ہو، اسے دوام حاصل ہوتا ہے، موت اسے فنا نہیں کر پاتی۔ وقت کا یہ تسلسل دراصل ایک مسلسل حرکت اور بہاؤ ہے، جس میں کبھی تبدیلی نہیں آتی – اسی طرح زندگی کی حقیقت بھی مسلسل جدوجہد اور پیہم رواں دواں رہنے میں ہے، جیسا کہ اقبال کا یہ شعر بھی اسی خیال کی تصدیق کرتا ہے کہ زندگی کو آج اور کل کے پیمانے سے نہیں ناپنا چاہیے، کیونکہ یہ ہر دم جوان اور پیہم رواں ہے۔
اس بند کے آخری دو اشعار میں اقبال دنیا کی بےثباتی اور کم مائیگی کے بارے میں واضح طور پر اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انسان نے اپنے علم و ہنر سے جو نادر کارنامے انجام دیے ہیں، وہ سب عارضی اور فنا ہو جانے والے ہیں۔ کائنات کا یہ سارا سلسلہ عارضی اور فنا ہو جانے والا ہے – یہاں ہر شے فنا ہونے والی ہے، خواہ وہ اول ہو یا آخر، ظاہر ہو یا باطن، نیا نقش ہو یا پرانا – یہاں کسی شے کو ثبات نہیں، اور سب کی آخری منزل فنا ہے۔
اردو میں کم ہی نظمیں ایسی ہیں جو آغاز سے اس قدر پراثر ہوں۔ یہ نظم پہلی ہی مصرعے سے قاری کے حواس کو اس قدر متحرک کر دیتی ہے کہ گویا ہم کسی طوفان خیز دریا کے کنارے کھڑے ہوں، جو ہر چیز کو بہا لے جا رہا ہو، اور ہر مصرعے کے ساتھ اس کا بہاؤ تیز تر ہوتا جاتا ہے۔
نظم میں وقت کے جبر کا یہ پہلو اس قدر شدید ہو جاتا ہے کہ نظم میں پژمردگی اور ناامیدی کی فضا حاوی ہو جاتی ہے، اور وقت کے ویران صحرا میں قید ہونے کا احساس غالب آنے لگتا ہے۔ پھر اسی صحرا میں چند تصویریں نمودار ہوتی ہیں، اور اب یہ جبر اختیار میں تبدیل ہونے لگتا ہے – ناامیدی کے اندھیرے چھٹنے لگتے ہیں، اور انسان کی کم مائیگی کم پڑنے لگتی ہے۔ یہیں سے اگلے بند کا آغاز ہوتا ہے۔
دوسرا بند۔ عشقِ حقیقی کا تصور
دوسرے بند میں اقبال نے عشقِ حقیقی پر فلسفیانہ گفتگو کی ہے۔ اقبال کا یہ تصورِ عشق روایتی نہیں، بلکہ اردو شاعری کے مروجہ تصورِ عشق سے قطعاً منفرد ہے۔ یہ تصورِ عشق متحرک اور فعال ہے، بےپناہ قوت اور تخلیقی صفت کا حامل ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ اگرچہ کوئی بھی شے دوام کی حامل نہیں اور ہر شے فنا ہو جانے والی ہے، لیکن جس نقش کو، جس مردِ مومن نے عشقِ حقیقی سے کمال بخشا ہو، اسے دوام حاصل ہو جاتا ہے۔ اس دوام کا سبب یہ ہے کہ مردِ مومن کا کوئی بھی عمل لازوال عشقِ حقیقی کے ذریعے فروغ پاتا ہے، اور اس میں جگر کا خون شامل ہوتا ہے۔ عشق زندگی کی اصل روح ہے، عشق لافانی ہے، اور موت اس پر حرام ہے۔
اقبال کہتے ہیں کہ اگرچہ زمانہ بہت تیز اور تند رفتار رکھتا ہے، اور پیہم گردش کرتا رہتا ہے، اور ہر شے کو اپنے بہاؤ میں لے جا کر فنا کر دیتا ہے، لیکن عشق خود ایک ایسا سیلاب ہے جو وقت کے سیلاب کو بھی روک لیتا ہے – یعنی عشق زمانے کی گردشوں کو خاطر میں نہیں لاتا، بلکہ ان پر غالب آ جاتا ہے۔ عشقِ حقیقی کی اپنی ایک تقویم (کیلنڈر) ہے جس میں موجودہ زمانے کے علاوہ بھی ایسے زمانے پنہاں ہیں جن کو کوئی نام نہیں دیا جا سکتا۔ اس حقیقت سے صرف وہی آشنا ہو سکتا ہے جو عشقِ حقیقی سے سرشار ہو۔
اقبال عشقِ حقیقی کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ عشق حضرت جبرائیل علیہ السلام کا دم ہے – یعنی حضرت جبرائیل کی قوت و پاکیزگی عشق ہی کی مظہر ہے (حضرت جبرائیل کی یہ تخصیص اس لیے ہے کیونکہ وہ ملائکہ میں سب سے افضل ہیں، انبیاء و رسل تک اللہ کا پیغام پہنچاتے ہیں، اور اللہ نے انہیں خاص قوت عطا کی ہے)۔ یہی عشق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کی حقیقت بھی ہے، جو خدا کے پیغام سے سرشار اور کامل و پاکیزہ جذبۂ الٰہی سے مزین تھا۔ اقبال کہتے ہیں کہ اسی عشقِ حقیقی کے جذبے کی بدولت ہی اللہ کا رسول اور اللہ کا کلام معرضِ وجود میں آئے، اور اسی جذبے کی بدولت ہی انسان کو سربلندی، عظمت اور روحانیت ملی۔
عشق ہی کی بدولت خالص شراب کی لذت ہے، اور عشق ہی ساقی کا وہ پیالہ ہے جس سے ہر ایک اپنی ظرف کے مطابق فیض یاب ہوتا ہے۔ عشق ہی حرم کا فقیہہ ہے، جو لوگوں کی رہنمائی کرتا ہے، اور عشق ہی اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کا امیر اور سپہ سالار ہے۔ عشق ایک ایسا مسافر ہے جس کے ظاہر ہونے کی جگہیں بےشمار ہیں۔ اس بند کے آخری شعر میں اقبال کہتے ہیں کہ عشقِ حقیقی کے مضراب سے زندگی کے ساز کے تاروں میں نغمے پیدا ہوتے ہیں، اور یہی نغمے زندگی کو روشن کرتے ہیں – یعنی اسی کی بدولت انسان بلندی اور عظمت حاصل کرتا ہے، اور زندگی میں جوش و خروش پیدا ہو کر اسے متحرک اور فعال بناتا ہے۔
تیسرا بند۔ مسجد سے خطاب اور انسان کی عظمت
تیسرے بند تک آتے آتے نظم ویرانی اور پژمردگی کے حصار سے نکل آتی ہے۔ اقبال فلسفۂ حیات پر روشنی ڈالتے ہیں، اور اب مردِ مومن کی غیر معمولی قوت ظاہر ہونے لگتی ہے۔ اقبال عشق کے تصور کی وضاحت کرتے ہوئے مسجدِ قرطبہ کو براہِ راست مخاطب کرتے ہیں۔ اے حرمِ قرطبہ، تیرا وجود عشق سے قائم ہے، اسی لیے تیری تعمیر کو بھی عشق کی طرح دوام حاصل ہے – تیری تعمیر میں شامل معمار جگر کے خون یعنی عشق کے جذبے سے سرشار تھے۔
اقبال آگے اس حقیقت سے نقاب کشائی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ چاہے وہ رنگ ہو، اینٹ پتھر ہو، سنگ تراشی کا فن ہو، موسیقی ہو یا شاعری – ہر فن کا کمال اور معجزہ یہی ہے کہ اس کی تخلیق میں عشقِ حقیقی کارفرما ہو۔ جس فن میں عشق کا جذبہ شامل نہ ہو، وہ ناپائیدار رہتا ہے۔ “خونِ جگر” کی اصطلاح اقبال نے یہاں عشق کے مترادف کے طور پر استعمال کی ہے۔
اقبال اس بند میں انسان کی عظمت و شان کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مومن کا دل عرشِ اعظم کی طرح عظمت رکھتا ہے، کیونکہ مومن کے دل میں خدا جلوہ گر ہوتا ہے۔ اگرچہ انسان کی تخلیق خاک سے ہوئی ہے اور بظاہر اس کی حیثیت ایک ناچیز ذرے کی سی ہے، لیکن جب اس کا قلب عشقِ حقیقی سے سرشار اور مزین ہو جاتا ہے تو وہ عرش کی حدود سے بھی آگے نکل جاتا ہے، اور اللہ کے جلووں میں سما جاتا ہے۔ اس کا دل روشن ہو جاتا ہے اور وہ بذاتِ خود محرمِ راز بن جاتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ فرشتوں کو اگرچہ سجدہ میسر ہے اور وہ ہمیشہ عبادت میں مشغول رہتے ہیں، لیکن وہ سجدے کے سوز و گداز سے محروم ہیں – یہی وجہ ہے کہ اس معاملے میں انسان کا مرتبہ فرشتوں سے بھی بلند ہے۔
اس بند کے آخر میں اقبال اپنے ذاتی جذبۂ عشق اور جذبۂ ایمانی کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ ایک ہندوستانی “کافر” ہیں، اس کے باوجود ان کا ذوق و شوق دیکھو – ان کے دل میں بھی درود و سلام ہے اور لبوں پر بھی درود و سلام جاری ہے، ان کی رگ رگ میں عشق سمایا ہوا ہے اور ان کے سینے سے اللہ کا نغمہ گونج رہا ہے۔ اقبال خود کو “کافرِ ہندی” اس لیے کہتے ہیں کیونکہ وہ کسی عرب یا اسلامی ملک میں نہیں بلکہ ہندوستان میں پیدا ہوئے تھے، اور وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ عرب و یمن کے باشندوں کی طرح ان کے دل میں بھی جذبۂ ایمانی میں کوئی کمی نہیں۔
چوتھا بند۔ مسجد کا حسن اور امتِ اسلامیہ کی بقا
چوتھے بند میں اقبال مسجدِ قرطبہ کو مخاطب کر کے اس کی صفات بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس مسجد کا جلال و جمال دراصل اس کے معمار مردِ خدا کے جلال و جمال کی دلیل ہے – یعنی مسجد کو دیکھ کر ہی معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کے بنانے والے کتنے جلیل و جمیل تھے۔ مسجد کی بنیاد پائیدار ہے، اور اس کے بےشمار ستون ایسے ہیں جیسے صحرا میں کھجور کے درختوں کی قطاریں خوبصورت منظر پیش کرتی ہوں۔ مسجد کے دروازوں اور چھتوں پر وادیِ ایمن جیسا نور ہے، اور اس کا بلند مینار جبرائیل علیہ السلام کی جلوہ گاہ معلوم ہوتا ہے۔
اقبال آگے کہتے ہیں کہ اگرچہ اندلس کی سرزمین سے اسلامی سلطنت ختم ہو گئی، تاہم امتِ اسلامیہ ہمیشہ زندہ و جاوید رہے گی۔ یہ دین حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ علیہما السلام کے پیغام کی محافظت ہے، اور اذانوں میں اس کا نام گونجتا رہے گا۔ اہلِ ایمان کے لیے زمین و آسمان کی کوئی حد نہیں۔ دجلہ، ڈینوب اور نیل جیسے دریاؤں کی موجیں ان کے جذبۂ ایمانی کی گواہ ہیں۔ ان کا جذبۂ ایمان ایسا سپاہی ہے جس کی زرہ “لا الہ” ہے – وہ صرف اللہ کی ذات پر بھروسہ کرتا ہے، اور تلوار کے سائے میں بھی صرف اللہ ہی کی پناہ ڈھونڈتا ہے۔
پانچواں بند۔ بندۂ مومن کی مزید صفات
نظم کا پانچواں بند چوتھے بند سے مربوط ہے۔ اقبال مزید بندۂ مومن کے اوصاف اور صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ مسجدِ قرطبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اسی مسجد کی شان و عظمت کو دیکھ کر بندۂ مومن کے جذبۂ عشق، اس کے دنوں کے ذوق و شوق، اخلاص، اس کے شب و روز کی حقیقت اور اس کے ناز و نیاز اور عزم و حوصلے کا اندازہ ہوتا ہے – وہ اپنے دن عشق سے سرشار ہو کر اور اپنی راتیں یادِ الٰہی میں گزارتا ہے۔
اقبال کہتے ہیں کہ مردِ مومن صفاتِ الٰہیہ سے متصف ہو کر روحانی قوتوں کا حامل ہو جاتا ہے – یہ دراصل ایک حدیثِ قدسی کا مفہوم ہے، جسے اقبال نے شعری پیکر میں ڈھال دیا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ جب بندہ اللہ کا قرب حاصل کر لیتا ہے، تو اس کا ہاتھ اللہ کا ہاتھ، اس کا کان اللہ کا کان، اس کی آنکھیں اللہ کی آنکھیں، اور اس کی زبان اللہ کی زبان بن جاتی ہے – یعنی اس کے تمام اعضاء اسی سے کام لیتے ہیں، مگر ان میں اللہ کا حکم جاری رہتا ہے۔ ایسا بندہ اپنے رب کا قرب حاصل کر لیتا ہے اور اس مرتبے پر فائز ہو جاتا ہے کہ وہ اللہ کے پسندیدہ کاموں کے سوا کچھ نہیں کرتا، اور اپنی ایمانی قوت سے کائنات کو مسخر کر لیتا ہے۔ ظاہراً انسان کی تخلیق مٹی سے ہوئی ہے، لیکن وہ ایمانی قوت اور جذبۂ عشق کی بنیاد پر صفاتِ خدائی کا حامل ہو جاتا ہے، اور دنیا کی خواہشات سے بےنیاز ہو کر ہمیشہ اللہ کی خوشنودی کو پیشِ نظر رکھتا ہے۔
اس کی امیدیں بہت کم ہوتی ہیں، جبکہ اس کے مقاصد بہت عظیم اور غیر معمولی ہوتے ہیں۔ وہ انسان دوست، بنی نوعِ انسان کا ہمدرد، دلوں کو جیتنے والا اور خوش اخلاق ہوتا ہے۔ گفتگو میں وہ بہت نرم ہوتا ہے، اور جب حق کی تلاش میں نکلتا ہے تو پورے جوش و خروش سے تلاش کرتا ہے۔ خواہ میدانِ جنگ ہو یا بزم، مردِ مومن ہر جگہ بغض و عناد سے پاک اور نیک نیت رہتا ہے۔ مومن کا ایمانی یقین ہی اس کا مرکز ہے، جس کی بنیاد پر وہ رضائے الٰہی کے نصب العین پر قائم رہتا ہے، اور اس کے یقین کے سوا باقی ساری کائنات محض وہم و خیال اور فریب ہے۔ مردِ خدا ہی عقل کا سرچشمہ ہے، اور یہی عشق کا حاصل ہے – اسی سے کائنات کی تمام رونق اور عرفانی قوت قائم ہے۔ اقبال نے اس بند میں دراصل اولیاء اللہ اور صالحین کے اوصاف بیان کیے ہیں۔
چھٹا اور ساتواں بند۔ عرب کی عظمت اور تاریخ کے انقلابات
چھٹے اور ساتویں بند میں اقبال مردِ مومن کے جذبۂ پیہم جہد کی علامتوں کا ذکر قرطبہ کی سرشاری سے کرتے ہیں، اور تاریخ کے اوراق الٹتے ہوئے ان خدا رسیدہ عرب شہسواروں کی عظمت اور شان بیان کرتے ہیں جنہوں نے اندلس کی سرزمین فتح کی اور اپنے بلند عزائم، جذبۂ ایمانی اور غیر معمولی جرأت کی بنا پر یہ عظیم مسجد تعمیر کی۔ اندلس کی تاریخ اقبال کے ذہن میں کرب کا شدید ترین احساس پیدا کرتی ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ وہ عرب مردانِ حق عظیم اخلاق اور مجاہدینِ حق کا پیکر تھے، صدیق اور امین تھے۔ انہوں نے اپنے ایمان و کردار کے ذریعے دلوں پر حکومت کی۔ اللہ نے انہیں وسیع و عریض سلطنتیں عطا کیں، لیکن وہ فقیرانہ زندگی گزارتے تھے – دراصل حکمرانی یہی ہے کہ حاکم خود کو عوام کا خادم سمجھے۔ یہی وہ اہلِ ایمان تھے جنہوں نے اہلِ یورپ کو فکر و شعور عطا کیا اور انہیں علوم و معارف سکھائے۔
اقبال کہتے ہیں کہ ان ہی مردانِ حق نے دنیا کو تہذیب و تمدن اور علم و معرفت کا خزانہ عطا کیا۔ یورپ جو آج دنیا کی ترقی کی بلندیوں پر ہے، اسی مشعلِ راہ کا مرہونِ منت ہے جو ان مردانِ حق نے فراہم کی۔ وہ نیک دل، کشادہ ذہن اور خوش اخلاق تھے، اور آج بھی اندلس اور یمن کے باشندوں میں یہ خصلتیں نمایاں طور پر نظر آتی ہیں، اور وہاں کی فضا میں بوئے یمن اسی طرح بسی ہوئی ہے جیسے اندلس کے ساز میں حجاز کا رنگ نمایاں ہے۔
نظم کا موضوع جس طرح آگے بڑھتا ہے، اسی طرح اس کا نظم بھی ایک تدریجی فکری ارتقا سے گزرتا چلا جاتا ہے – جیسے کوئی معمار ایک کے بعد ایک پتھر جوڑتا چلا جائے۔
اقبال ماضی کے اوراق الٹتے حال میں واپس آ جاتے ہیں، اور بےاذاں مناروں اور مسجد کو دیکھ کر انتہائی افسردہ ہو جاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اے قرطبہ، تیری زمین ستاروں کی نظر میں آسمان کی مانند بلند ہے، لیکن افسوس کہ اس سرزمین میں صدیوں سے اذان کی آواز گونجی نہیں۔ وہ جذبۂ ایمانی اور عشق سے سرشار قافلہ اب کس مقام پر ہے، جو اس عظمتِ رفتہ کو بحال کرے اور بلند میناروں سے دوبارہ آواز گونجے؟
اسی بند میں اقبال عہدِ حاضر اور ماضیِ قریب کے انقلابات کا بھی ذکر کرتے ہیں – جن ممالک میں انقلاب برپا ہوئے، ان کی خصوصیات بیان کرتے ہیں۔ اقبال ایک ایسے انقلاب کی آرزو کرتے ہیں جو امتِ مسلمہ کو راہِ راست پر لے آئے اور اسے دوبارہ عروج بخشے۔ وہ جرمنی میں دینی اصلاح کی شورش کا ذکر کرتے ہیں، جس سے مذہبی اجارہ داری ختم ہو گئی اور لوگ اپنے مذہبی معاملات میں خود غور و خوض کرنے لگے۔ فرانس کے انقلاب کا بھی ذکر کرتے ہیں جس کے نتیجے میں شخصی حکمرانی کا خاتمہ ہوا اور پورے یورپ میں ایک نیا دور شروع ہوا – یعنی جمہوریت پرستی اور فکر و خرد کی نئی راہیں کھلیں۔
اقبال کہتے ہیں کہ امتِ مسلمہ میں بھی وہی اضطراب کا عنصر موجود ہے جو کسی طوفان یا انقلاب کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ اس بےقراری اور اضطراب کا نتیجہ کیا نکلے گا، یہ صرف اللہ ہی خوب جانتا ہے – یہ راز زبان بیان نہیں کر سکتی۔ اقبال نے امتِ مسلمہ کے لیے سمندر کا استعارہ استعمال کیا ہے – سمندر میں اضطراب تو آ رہا ہے، لیکن اس سے کیا نتیجہ نکلے گا، یہ کہا نہیں جا سکتا۔ دراصل شاعر پھر وقت کے سیل رواں کے کنارے آ کھڑا ہوتا ہے، اور ماضی کو تلاش کرنے لگتا ہے۔
آٹھواں بند۔ غروبِ آفتاب کا منظر اور نظم کا اختتام
آٹھویں بند میں اقبال دریا کنارے آفتاب کے غروب ہونے کا وہی منظر دوبارہ پیش کرتے ہیں جہاں سے نظم کا آغاز ہوا تھا – پہاڑی وادی میں آسمان کے افق پر شفق چھائی ہوئی ہے، گویا آفتاب بدخشاں کے لعل کا ڈھیر چھوڑ گیا ہو (بدخشاں افغانستان کا ایک خطہ ہے جہاں کے لعل مشہور ہیں، اسی لیے شفق کی سرخی کو لعلِ بدخشاں سے تشبیہ دی گئی ہے)۔ شام کے اس دھندلکے منظر میں ایک دہقان کی بیٹی کا سادہ مگر سوز و درد بھرا گیت فضا میں گونج رہا ہے، جو سننے والے پر بھی گہرا اثر چھوڑتا ہے۔ جوانی کا زمانہ ایک سیلاب کی مانند ہے جو انسان کو بہا لے جاتا ہے۔
نظم فلسفے سے شروع ہو کر ایک پراسرار منظر پر ختم ہوتی نظر آتی ہے۔ وقت کے دھندلکے میں ہر شے گم ہوتی محسوس ہوتی ہے، مگر شاعر پھر بھی طلوعِ صبح کے منتظر آثار کو تک رہا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ اگر وہ اپنے افکار کے چہرے سے پردہ اٹھا دیں تو مغرب (فرنگ) میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ ان کی آواز کی گونج کا مقابلہ کر سکے۔ اقبال یہاں یورپ پر مسلط ہونے والے زوال کی طرف اشارہ کرتے ہیں – جس عہد میں اقبال یہ افکار پیش کر رہے تھے، وہ یورپ کے عروج کا دور تھا، اور دنیا کی بیشتر اقوام و ممالک پر یورپی ریاستوں کی حکومت قائم تھی، جس کے خلاف اقبال ایک دبی ہوئی بغاوت محسوس کر رہے تھے۔
اس آخری بند میں اقبال فلسفۂ حیات پر روشنی ڈالتے ہوئے امتِ مسلمہ کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ جو قومیں اپنے عملی رویوں میں تبدیلی سے غافل رہیں، وہ زندگی کی حقیقت کو محسوس نہیں کر سکتیں۔ زندگی کی اصل کشمکش انقلاب میں ہے۔ جو قوم انقلاب کی اس کشمکش میں شریک ہوتی ہے وہی تلوار کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔ جس نقش میں جگر کا خون شامل نہ ہو، وہ ادھورا رہتا ہے – یعنی عشق، اخلاص اور عمل و حرکت کے بغیر ہر کام بےکار اور بےمعنی ہے۔
نظم ایک یقین پر اختتام پذیر ہوتی ہے – یہی وہ آخری منزل ہے جس کی تلاش میں شاعر ماضی، حال اور مستقبل کے صحراؤں میں بھٹکتا رہا۔ یہ یقین سخت ترین تاریکی اور وقت کے خوف کے باوجود امید کی ایک روشن جھلک بن جاتا ہے۔
مجموعی جائزہ
اقبال نے اس نظم میں تصورِ حیات اور فلسفۂ وقت پر حکیمانہ گفتگو کی ہے۔ عشقِ حقیقی اور مردِ مومن کا تصور اس میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اس نظم میں اقبال کی فکری بلندی کا عکس نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ اقبال نے اپنے فکری پیرائے کو ایک کشش آمیز شعری پیکر میں ڈھالا ہے۔ فنی محاسن کے اعتبار سے بھی یہ نظم بہت آراستہ نظر آتی ہے – اس میں کشش آمیز استعارے، نادر تشبیہیں اور موزوں الفاظ کا استعمال کر کے اقبال نے اس نظم کو نہایت مؤثر بنا دیا ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
سوال1۔ نظم “مسجدِ قرطبہ” کی ہیئت کیسی ہے؟
جواب۔ نظم “مسجدِ قرطبہ” کی ہیئت قصیدہ سے ملتی جلتی ہے، اور یہ نظم اپنی فضا میں سراسر علامتی ہے۔
سوال2۔ نظم کے پہلے بند کا مرکزی خیال کیا ہے؟
جواب۔ پہلے بند میں اقبال وقت پر فلسفیانہ گفتگو کرتے ہیں اور اسے “سلسلۂ روز و شب” سے تعبیر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ کائنات کی ہر شے وقت کے تابع اور فانی ہے۔
سوال3۔ اقبال کا تصورِ عشق روایتی اردو شاعری کے تصورِ عشق سے کیسے مختلف ہے؟
جواب۔ اقبال کا تصورِ عشق متحرک اور فعال ہے، بےپناہ قوت اور تخلیقی صفت کا حامل ہے، اور یہ وہ واحد طاقت ہے جو فانی چیز کو دوام بخشتی ہے۔
سوال4۔ اقبال خود کو “کافرِ ہندی” کیوں کہتے ہیں؟
جواب۔ اقبال خود کو “کافرِ ہندی” اس لیے کہتے ہیں کیونکہ وہ کسی عرب یا اسلامی ملک میں نہیں بلکہ ہندوستان میں پیدا ہوئے تھے، اور یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اس کے باوجود ان کے دل میں جذبۂ ایمانی میں کوئی کمی نہیں۔
سوال5۔ نظم “مسجدِ قرطبہ” کن فنی خصوصیات کی حامل ہے؟
جواب۔ اس نظم میں کشش آمیز استعارے، نادر تشبیہیں اور موزوں الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے، جس نے اسے فنی اعتبار سے نہایت مؤثر اور آراستہ بنا دیا ہے۔
A detailed Urdu analytical study (Tajziyati Mutalea) of Allama Iqbal’s famous poem Masjid-e-Qurtaba from Bal-e-Jibril, covering its philosophy of time, the concept of ishq, the symbolism of Mard-e-Momin, Arab history, and the poem’s artistic features, explained in simple Urdu for students of Bihar Board, UGC-NET/JRF Urdu, and other Urdu literature exams.