NCERT Class 9 Urdu Jamuna Chapter 1 Panchayat | افسانہ ، پنچایت

منشی پریم چند کا اصل نام دھنپت رائے تھا۔ وہ 1880ء میں بنارس کے ایک گاؤں لمہی میں پیدا ہوئے اور 1936ء میں ان کا انتقال ہوا۔ انٹرمیڈیٹ پاس کرنے کے بعد انھوں نے محکمۂ تعلیم میں ملازمت کی۔ انگریزی دورِ حکومت میں سرکاری ملازمت کی وجہ سے حق بات کے اظہار میں رکاوٹ محسوس ہوئی تو ملازمت ترک کر کے تصنیف و تالیف میں مصروف ہو گئے۔

اردو افسانے کا باقاعدہ آغاز پریم چند سے ہوا۔ وہ سماجی حقیقت نگاری کے نمائندہ افسانہ نگار تھے اور انھوں نے دیہی معاشرت اور پسماندہ طبقات کی زندگی کے مسائل کو اپنا موضوع بنایا۔ ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ “سوزِ وطن” (1907ء) ہے۔ شروع میں انھوں نے کچھ افسانے نواب رائے کے نام سے بھی لکھے، پھر “پریم چند” قلمی نام اختیار کیا اور اسی نام سے مشہور ہوئے۔

انھوں نے تقریباً ساڑھے تین سو افسانے اور ایک درجن ناول لکھے۔ ان کے افسانوی مجموعوں میں واردات، پریم پچیسی، پریم بتیسی، آخری تحفہ، نجات اور زادِ راہ، اور ناولوں میں چوگانِ ہستی، نرملا، بیوہ، گؤدان، میدانِ عمل، غبن اور بازارِ حسن مشہور ہیں۔ ان کی نثر سادہ اور آسان ہے، جسے انھوں نے اپنے انداز بیان سے پُرلطف بنا دیا ہے۔

اصل نام۔ دھنپت رائے

سنِ پیدائش و وفات۔ 1880ء – 1936ء

جائے پیدائش۔ لمہی، بنارس

پہلا افسانوی مجموعہ۔ سوزِ وطن (1907ء)

مشہور ناول۔ گؤدان، نرملا، میدانِ عمل، غبن

دوستی کا پس منظر

شیخ جمّن اور الگو چودھری میں گہری دوستی تھی۔ دونوں کی ساجھے میں کھیتی ہوتی تھی اور لین دین بھی ساجھا تھا۔ جمّن حج کو جاتے تو گھر الگو کے سپرد کر جاتے، اور الگو کہیں جاتے تو جمّن پر بھروسا کرتے۔ وہ ہم نوالہ یا ہم مشرب نہیں تھے، صرف ہم خیال تھے، اور یہی ان کی دوستی کی اصل بنیاد تھی۔

خالہ کا معاملہ

جمّن کی ایک بوڑھی بیوہ خالہ تھیں جن کے پاس کچھ ملکیت تھی مگر کوئی قریبی وارث نہ تھا۔ جمّن نے وعدوں کا سبز باغ دکھا کر ہبہ نامہ اپنے نام کرا لیا، یعنی ساری ملکیت کی رجسٹری اپنے نام کروا لی۔ جب تک رجسٹری نہ ہوئی خالہ کی خوب خاطر داریاں ہوتی رہیں، مگر رجسٹری کی مہر لگتے ہی سب بدل گیا۔ جمّن کی بیوی فہیمن روٹیوں کے ساتھ تلخ باتیں بھی دینے لگی اور رفتہ رفتہ روٹیاں بھی کم ہونے لگیں۔ خالہ نے کچھ دن صبر کیا، پھر جمّن سے شکایت کی۔ جمّن نے بے اعتنائی سے ٹال دیا۔ آخر خالہ نے الگ پکانے کے لیے خرچ مانگا تو جمّن نے طنز سے جواب دیا۔ اس پر خالہ نے پنچایت کی دھمکی دی اور جمّن نے بے پروائی سے کہا کہ ہاں ضرور پنچایت کرو۔

الگو چودھری کا امتحان

خالہ کئی دن لاٹھی ٹیکتی گاؤں گاؤں پھریں، مگر لوگوں نے ہاں ہوں کر کے ٹال دیا۔ آخر وہ الگو چودھری کے پاس پہنچیں۔ الگو کو دوستی کی وجہ سے ہچکچاہٹ تھی، لیکن خالہ نے طعنہ دیا کہ کیا بگاڑ کے ڈر سے ایمان کی بات نہ کہو گے؟ وہ لاجواب ہو گئے۔ شام کو پنچایت بیٹھی، خالہ نے اپنا حال سنایا اور جمّن نے کہا کہ جسے چاہیں پنچ بنا لیں، مجھے کوئی عذر نہیں۔ خالہ نے الگو کو سرپنچ بنایا۔ الگو کے سامنے دوستی اور انصاف کی کشمکش تھی۔ انھوں نے آخر انصاف کو چنا اور فیصلہ دیا کہ جمّن خالہ کا ماہانہ خرچ مقرر کرے، ورنہ ہبہ نامہ منسوخ ہو جائے گا۔

دوستی میں دراڑ

اس فیصلے سے دونوں کی دوستی کی جڑیں ہل گئیں۔ جمّن کے دل سے دوست کی غداری کا خیال دور نہ ہوتا تھا اور انتقام کی خواہش چین نہ لینے دیتی تھی۔

الگو کا بیل اور سمجھو سیٹھ

الگو نے بٹیسر کے میلے سے بیلوں کی ایک اچھی جوڑی خریدی تھی۔ پنچایت کے ایک مہینے بعد ایک بیل مر گیا، اور الگو کو شک ہوا کہ جمّن نے زہر دلوا دیا ہے۔ دوسرے بیل کا جوڑ نہ ملا تو مجبوراً اسے سمجھو سیٹھ کے ہاتھ بیچ دیا۔ سیٹھ نے قیمت بعد میں دینے کا وعدہ کیا اور بیل سے بے تحاشا کام لیا۔ دن بھر بھوکا پیاسا بیل جوتا گیا اور ایک دن بھاری بوجھ کے ساتھ راستے میں گر کر مر گیا۔ سیٹھ اور سیٹھانی نے الٹا الگو کو قیمت دینے سے انکار کر دیا۔

دوسری پنچایت اور انصاف

معاملہ پنچایت میں گیا۔ سمجھو سیٹھ نے سرپنچ کے لیے شیخ جمّن کا نام لیا۔ الگو کا دل دھک سے ہو گیا، مگر مجبوراً کہنا پڑا کہ مجھے کوئی عذر نہیں۔ سرپنچ کی کرسی پر بیٹھتے ہی جمّن کو ذمہ داری کا احساس ہوا۔ اس نے سوچا کہ میں انصاف کی مسند پر ہوں اور میری زبان سے نکلی بات خدا کا حکم ہے۔ اس نے دوستی اور دشمنی کو الگ رکھ کر فیصلہ سنایا کہ بیل جب سیٹھ کے ہاں گیا تو بیمار نہ تھا، اس لیے سمجھو اس کی پوری قیمت ادا کرے۔

انجام

فیصلہ سنتے ہی الگو خوشی سے بول اٹھے۔ جمّن الگو کے گلے لگ گئے اور کہا کہ جب سے تم نے میری پنچایت کی تھی میں تمھارا جانی دشمن تھا، مگر آج معلوم ہوا کہ پنچایت کی مسند پر بیٹھ کر نہ کوئی کسی کا دوست ہوتا ہے نہ دشمن۔ دونوں رونے لگے، دل صاف ہو گئے اور دوستی کا مرجھایا ہوا درخت پھر ہرا ہو گیا۔

مرکزی خیال

انصاف کی مسند پر بیٹھنے والے کو دوستی اور دشمنی سے اوپر اٹھ کر صرف حق کا ساتھ دینا چاہیے۔ ذمہ داری کا احساس انسان کو بہتر بناتا ہے اور سچی دوستی انصاف کی بنیاد پر ہی قائم رہتی ہے۔

الف) سعادت حسن منٹو
ب) کرشن چندر
ج) منشی پریم چند
د) راجندر سنگھ بیدی

الف) نواب رائے
ب) دھنپت رائے
ج) جمّن رائے
د) الگو رائے

الف) واردات
ب) پریم پچیسی
ج) آخری تحفہ
د) سوزِ وطن

الف) زندگی بھر روٹی کپڑا دینے کے
ب) حج کرانے کے
ج) نقد رقم دینے کے
د) شادی کرانے کے

الف) جمّن خالہ کو گھر سے نکال دے
ب) جمّن خالہ کا ماہانہ خرچ مقرر کرے، ورنہ ہبہ نامہ منسوخ ہو جائے گا
ج) خالہ پنچایت چھوڑ دیں
د) جمّن کو جیل بھیج دیا جائے

الف) رام دھن مصر
ب) گودڑ شاہ
ج) سمجھو سیٹھ
د) شیخ جمّن

الف) شیخ جمّن
ب) الگو چودھری
ج) رام دھن مصر
د) گودڑ شاہ

الف) الگو بیل کی قیمت نہ مانگے
ب) سمجھو سیٹھ بیل کی پوری قیمت ادا کرے
ج) الگو سیٹھ کو جرمانہ دے
د) سیٹھ بیل کی آدھی قیمت دے

الف) تھوڑی مدت
ب) آج تک
ج) زندگی بھر
د) مرنے کے بعد

الف) دوستی ہر حال میں انصاف سے بڑھ کر ہے
ب) انتقام لینا ضروری ہے
ج) دولت سب سے اہم ہے
د) انصاف کی مسند پر بیٹھ کر دوستی اور دشمنی سے اوپر اٹھ کر حق کا ساتھ دینا چاہیے

الف) 1875ء – 1930ء
ب) 1880ء – 1936ء
ج) 1887ء – 1966ء
د) 1900ء – 1950ء

الف) بنارس کے ایک گاؤں لمہی میں
ب) دہلی میں
ج) لکھنؤ میں
د) الہ آباد میں

الف) پچاس
ب) ایک سو
ج) ساڑھے تین سو
د) پانچ سو

الف) امراؤ جان ادا
ب) آگ کا دریا
ج) اداس نسلیں
د) گؤدان

الف) رومانیت
ب) سماجی حقیقت نگاری
ج) علامت نگاری
د) تجریدیت

الف) فہیمن
ب) سکینہ
ج) رضیہ
د) زبیدہ

الف) رام دھن مصر
ب) جگو سنگھ
ج) گودڑ شاہ
د) شیخ جمعراتی

الف) گودڑ شاہ
ب) جگو سنگھ
ج) سمجھو سیٹھ
د) رام دھن مصر

الف) رام دھن مصر
ب) شیخ جمعراتی
ج) گودڑ شاہ
د) سمجھو سیٹھ

الف) ایک ساتھ کھانے پینے والے
ب) ایک عقیدے کے لوگ
ج) ایک جیسی سوچ رکھنے والے
د) رشتے دار

الف) قرض کی رسید
ب) شادی کا دعوت نامہ
ج) وہ کاغذ جس میں کسی چیز کو بخشنے کا اقرار لکھا جائے
د) عدالت کا حکم نامہ

سوال 22۔ “اُوسر” کے معنی کیا ہیں؟

الف) سرسبز زمین
ب) پھلوں کا باغ
ج) کھیت کی فصل
د) بنجر زمین جس میں کچھ پیدا نہ ہوتا ہو

الف) جھوٹی امید دلا کر لالچ دینا
ب) باغ کی سیر کرانا
ج) خوشی منانا
د) تحفہ دینا

الف) سوالیہ
ب) طنز
ج) دعا
د) حکم

الف) جمّن کی طرف سے
ب) الگو کی طرف سے
ج) اللہ کی طرف سے
د) گاؤں والوں کی طرف سے

جمّن کو اندیشہ اس لیے نہیں تھا کہ وہ اپنے علاقے میں بااثر شخص تھا اور اسے یقین تھا کہ فیصلہ اس کے خلاف نہیں جا سکتا۔ گاؤں اور آس پاس میں شاید ہی کوئی ایسا تھا جو اس کا احسان مند نہ ہو، اس لیے کوئی اس کی دشمنی مول لینے کی ہمت نہیں کر سکتا تھا۔ وہ یہ بھی سمجھتا تھا کہ خالہ ایک بے سہارا بوڑھی عورت ہیں جن کی طرف سے کوئی کھڑا ہونے والا نہیں، اور “آسمان کے فرشتے تو پنچایت کرنے آئیں گے نہیں”۔ اسی خود اعتمادی میں اس نے خالہ کی دھمکی کو ہنسی میں اڑا دیا اور کہا کہ ہاں ضرور پنچایت کرو۔

اگر انصاف نہ ہوتا تو خالہ کی حالت بہت بدتر ہو جاتی۔ ان کی ساری ملکیت جمّن کے نام ہو چکی تھی اور ان کے پاس نہ کوئی جائیداد بچی تھی، نہ کوئی قریبی وارث۔ جمّن اور اس کی بیوی کا سلوک پہلے ہی سخت ہو چکا تھا، پنچایت سے انصاف نہ ملنے پر ان کا ظلم اور بڑھ جاتا اور خالہ کو پیٹ کی روٹیاں تک نصیب نہ ہوتیں۔ ان کی واحد امید پنچایت تھی، وہ ٹوٹ جاتی تو انھیں بھوک اور بے بسی میں زندگی گزارنی پڑتی۔ ساتھ ہی گاؤں والوں کا پنچایت پر اعتماد بھی کمزور ہو جاتا۔

خالہ ایک بے کس اور غریب بیوہ تھیں۔ تھانے اور کچہری کے چکر کاٹنے کے لیے پیسہ، وکیل، وقت اور جسمانی طاقت چاہیے، اور ان کے پاس ان میں سے کچھ نہ تھا۔ ان کا کوئی قریبی رشتہ دار بھی نہ تھا جو ان کی مدد کرتا۔ اس لیے انھوں نے کہا کہ میں سوائے تم لوگوں کے اور کس سے اپنا دکھ درد روؤں۔ ان کے نزدیک پنچایت ہی وہ جگہ تھی جہاں بغیر خرچ اور بغیر پیچیدگی کے انھیں انصاف مل سکتا تھا۔

دونوں کی دوستی بہت گہری تھی، لیکن جب جمّن کے خلاف خالہ کا معاملہ پنچایت میں آیا تو الگو نے سرپنچ کی حیثیت سے دوستی کے بجائے انصاف کو ترجیح دی اور خالہ کے حق میں فیصلہ سنایا۔ جمّن کو توقع تھی کہ دوست ہونے کے ناطے الگو اس کا ساتھ دے گا، اس لیے اس نے فیصلے کو دوست کی غداری سمجھا۔ اس کے دل میں انتقام کی خواہش پیدا ہو گئی جو اسے چین نہ لینے دیتی تھی۔ افسانے کے الفاظ میں “تناور درخت حق کا ایک جھونکا بھی نہ سہہ سکا”، یعنی انصاف کی آندھی نے دوستی کی جڑیں ہلا دیں۔

الگو جانتا تھا کہ پچھلی پنچایت میں اس کا فیصلہ جمّن کے خلاف گیا تھا، اس لیے جمّن اس سے ناراض ہے اور دل میں بدلہ لینے کا خواہاں ہے۔ اسے یہ بھی شبہ تھا کہ جمّن نے اس کا بیل زہر دلوا کر مروایا ہے۔ جب سمجھو سیٹھ نے سرپنچ کے لیے جمّن کا نام لیا تو الگو کا کلیجہ دھک سے رہ گیا، گویا کسی نے اچانک تھپڑ مار دیا ہو۔ اسے لگا کہ اب جمّن کو اپنا انتقام لینے کا موقع مل گیا ہے، اس لیے فیصلہ اس کے حق میں نہیں ہو گا۔ مگر جمّن نے مسندِ انصاف پر بیٹھ کر ذاتی دشمنی بھلا دی اور حق کا فیصلہ کیا۔

موقع۔ جمّن نے خالہ سے ہبہ نامہ اپنے نام کرایا تو رجسٹری ہوتے ہی ان کی خدمت بند ہو گئی۔

مفہوم۔ جب تک جمّن کو خالہ کی جائیداد اپنے نام نہیں کرانی تھی، وہ ان کی خوب خاطر داری کرتا رہا۔ جیسے ہی رجسٹری ہوئی اور اس کا مطلب پورا ہو گیا، خالہ کی ساری آؤ بھگت ختم ہو گئی۔ مطلب یہ کہ جمّن کی خدمت سچی نہیں بلکہ لالچ پر مبنی تھی۔

موقع۔ جب خالہ نے پنچایت کی دھمکی دی تو جمّن نے ہنس کر یہ بات کہی۔

مفہوم۔ جمّن کہتا ہے کہ روز روز کے جھگڑے اور جھنجھٹ مجھے بھی پسند نہیں، اس لیے پنچایت بیٹھے اور فیصلہ ہو جائے۔ یہ بات اس نے بے فکری اور اعتماد سے کہی، کیونکہ اسے یقین تھا کہ پنچایت میں کوئی اس کے خلاف نہیں بولے گا۔

موقع۔ یہ الگو کے بیل کا حال ہے جب وہ سمجھو سیٹھ کے ہاں پہنچا۔

مفہوم۔ الگو چودھری کے ہاں بیل کو اچھا چارہ، صاف پانی اور آرام ملتا تھا اور وہ چین سے رہتا تھا۔ سمجھو سیٹھ کے یہاں اسے دن رات کام میں جوتا گیا اور پیٹ بھر چارہ بھی نہ ملا۔ جملے میں پرانی آسودہ زندگی اور نئی سخت زندگی کا موازنہ ہے۔

موقع۔ یہ دوسری پنچایت کی کارروائی کا بیان ہے، جب بیل کی قیمت پر الگو اور سمجھو سیٹھ کا مقدمہ پیش ہوا۔

مفہوم۔ پنچایت میں دونوں فریقوں سے سوال و جواب ہوئے، گواہوں نے بیان دیے، اور دونوں طرف کے حمایتیوں نے اپنے اپنے مؤقف کے حق میں خوب بحث کی۔ یعنی کارروائی پوری سنجیدگی اور عدالت کے انداز میں ہوئی۔

موقع۔ افسانے کا آخری حصہ، جب جمّن کے فیصلے کے بعد دونوں گلے ملے۔

مفہوم۔ پنچایت کے فیصلے کے بعد دونوں کی ٹوٹی ہوئی دوستی دوبارہ زندہ ہو گئی، جیسے سوکھا ہوا درخت پھر ہرا ہو جائے۔ اب ان کی دوستی کی بنیاد ریت جیسی کمزور چیز (شکوک، ناراضی یا مفاد) پر نہیں بلکہ حق اور انصاف کی مضبوط زمین پر ہے، اس لیے یہ رشتہ پہلے سے زیادہ پائیدار ہے۔

خالہ نے تاک کر نشانہ مارا  بیٹا کیا بگاڑ کے ڈر سے ایمان کی بات نہ کہو گے؟

اس جملے میں طنز کا پہلو شامل ہے۔ ایسا جملہ جو وضاحت یا طنز کے لیے لکھا یا بولا جاتا ہے، اسے طنزیہ جملہ کہتے ہیں۔ اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ گفتگو کیجیے اور پانچ جملے معلوم کر کے لکھیے جن میں طنز کا پہلو شامل ہو

جمّن خالہ کے خرچ مانگنے کا مذاق اڑا رہا ہے کہ پیسہ کوئی درخت پر نہیں اگتا۔

خالہ کو طعنہ ہے کہ تم اتنی لمبی عمر لے کر آئی ہو اور میرے لیے بوجھ بن گئی ہو۔

خالہ کے احسان کی ناقدری کرتے ہوئے ان کی عمر اور ان کی دی ہوئی زمین کا مذاق اڑایا گیا ہے۔

جمّن الگو کے فیصلے کو دوست کی غداری قرار دے کر اس پر چوٹ کر رہا ہے۔

خالہ کو لالچی کہہ کر ان کے زخم پر نمک چھڑکا گیا ہے۔

آپ پڑھ چکے ہیں کہ جملے کے دو حصے ہوتے ہیں ایک مبتدا اور دوسرا خبر ۔ مثال کے طور پر تناور درخت حق کا ایک جھونکا بھی نہ سہہ سکا۔

اس جملے میں درخت مبتدا ہے۔ اس کی وضاحت کے لیے تناور “ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ جو لفظ درخت کی توسیع ہے۔ جب مبتدا کی مزید وضاحت کے لیے کوئی لفظ آئے تو اس کو توسیع مبتدا کہتے ہیں۔

سبق سے ایسے جملے تلاش کر کے لکھیے جن میں توسیع مبتدا کے الفاظ شامل ہوں۔

جملہمبتداتوسیعِ مبتدا
شیخ جمّن کی ایک بوڑھی بیوہ خالہ تھیں۔خالہشیخ جمّن کی، ایک بوڑھی بیوہ
بوڑھی خالہ لکڑی لیے آس پاس کے گاؤں کے چکر لگاتی رہیں۔خالہبوڑھی
پنچایت کی صدا کس کے حق میں اٹھے گی؟صداپنچایت کی
سمجھو سیٹھ کے ایک عزیز گودڑ شاہ بولے۔گودڑ شاہسمجھو سیٹھ کے ایک عزیز
دوستی کا مرجھایا ہوا درخت پھر سے ہرا ہو گیا۔درختدوستی کا مرجھایا ہوا

سبز باغ دکھاکر خالہ اناں سے وہ ملکیت اپنے نام کرائی تھی۔

اتنی ہی دیر میں ایسی کایا پلٹ ہوگئی کہ میری جڑ کھودنے پر آمادہ ہے۔

سبز باغ دکھانا ، کایا پلٹ ہو جانا اور جڑ کھودنا محاورے ہیں۔ ایسے ہی کچھ اور محاورے اس افسانے میں استعمال ہوئے ہیں۔ ان محاوروں کو تلاش کیجیے، ان کے مفہوم لکھیے اور جملوں میں استعمال کیجیے۔

مفہوم۔ دکھی انسان کو مزید دکھ دینا۔
جملہ۔ ہار جانے والے کھلاڑی کا مذاق اڑا کر لوگوں نے اس کے زخم پر نمک چھڑک دیا۔

مفہوم۔ اچانک خوف یا صدمے سے دل دہل جانا۔
جملہ۔ امتحان کا نتیجہ سنتے ہی احمد کا کلیجہ دھک سے ہو گیا۔

مفہوم۔ دھوکا دینا۔
جملہ۔ دکان دار نے پرانا مال دے کر گاہک کی آنکھ میں دھول جھونک دی۔

مفہوم۔ موقع دیکھ کر ٹھیک جگہ چوٹ کرنا۔
جملہ۔ استاد نے سب کے سامنے تاک کر نشانہ مارا اور شرارتی طالب علم خاموش ہو گیا۔

مفہوم۔ شدید افسوس یا غم کا اظہار کرنا۔
جملہ۔ بیٹے کے نقصان کی خبر سن کر ماں نے چھاتی پیٹ لی۔

دو پنچو! آج تین سال ہوئے میں نے اپنی سب جائیداد اپنے بھانجے جمن کے نام لکھوا دی تھی اسے آپ لوگ جانتے ہی ہوں گے۔ جمن نے مجھے تاحین حیات روٹی، کپڑا دینے کا وعدہ کیا تھا۔ سال چھ مہینے تو میں نے اس کے ساتھ کسی طرحرو دھو کر کاٹے مگر اب مجھ سے رات دن کا رونا نہیں سہا جاتا، مجھے پیٹ کی روٹیاں تک نہیں ملتیں۔ بے کس بیوہ ہوں۔ تھانہ کچہری کر نہیں سکتی سوائے تم لوگوں کے اور کس سے اپنا دکھ درد روؤں تم لوگ جو راہ نکال دو اس راہ پر چلوں، اگر میری برائی دیکھو میرے منھ پر تھپڑ مارو، جمن کی برائی دیکھو تو اُسے سمجھاؤ۔ کیوں ایک بے کس کی آہ لیتا ہے۔“

جواب۔ “تاحینِ حیات” کے معنی ہیں زندگی بھر۔ اس جملے سے مراد یہ ہے کہ جمّن نے خالہ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ اپنی ملکیت اس کے نام کر دیں تو وہ ان کی زندگی بھر کھانے پہننے کی ذمہ داری اٹھائے گا۔ اس وعدے پر بھروسا کر کے خالہ نے ہبہ نامہ جمّن کے نام کر دیا، مگر رجسٹری ہوتے ہی جمّن اپنا وعدہ بھول گیا۔

جواب۔ خالہ ایک بے سہارا اور غریب بیوہ تھیں، جن کا اپنا کوئی نہ تھا۔ انھوں نے یہ بات پنچوں سے کہی تاکہ وہ جان لیں کہ مظلوم اور بے کس کی آہ بہت اثر رکھتی ہے اور اس کا نتیجہ برا ہوتا ہے۔ اس جملے کے ذریعے خالہ پنچوں کو متوجہ کرنا چاہتی تھیں کہ جو شخص کسی بے سہارا کا حق مارتا ہے، وہ اپنے لیے اس کی بددعا اور آہ مول لیتا ہے، اس لیے انصاف کرو۔

جواب۔ خالہ پنچوں سے کہتی ہیں کہ میں اپنی غلطی ماننے کو تیار ہوں، اگر مجھ میں کوئی برائی ہے تو مجھے سب کے سامنے ڈانٹ دو، چاہے منہ پر تھپڑ ہی کیوں نہ مارو۔ لیکن اگر جمّن کی غلطی ہے تو اسے بھی سمجھاؤ اور اسے بھی غلط راستے سے روکو۔ مقصد یہ ہے کہ فیصلہ بے لاگ ہو اور کسی کی طرف داری نہ کی جائے۔ خالہ ظاہر کرتی ہیں کہ وہ اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ حق اور انصاف کے لیے پنچایت میں آئی ہیں۔

عنوان۔ “بیوہ خالہ کی فریاد”

وجہ۔ اس اقتباس میں خالہ پنچایت کے سامنے اپنا حال بیان کر رہی ہیں۔ جائیداد لے کر جمّن کا وعدہ توڑنا، روٹی تک کو ترسنا، اور تھانہ کچہری نہ کر سکنے کی بے بسی۔ یہ سب ایک مظلوم کی فریاد ہے، جس میں وہ پنچوں سے انصاف کی التجا کرتی ہیں۔ عبارت کا بنیادی خیال خالہ کی فریاد اور ان کی بے کسی ہے، اس لیے یہی عنوان سب سے مناسب ہے۔

جواب۔ افسانہ “پنچایت” کے مصنف منشی پریم چند ہیں۔ ان کا اصل نام دھنپت رائے تھا اور وہ 1880ء میں پیدا ہوئے اور 1936ء میں ان کا انتقال ہوا۔

جواب۔ شیخ جمّن نے اپنی بوڑھی خالہ سے روٹی کپڑے کے وعدے پر ملکیت اپنے نام کرائی، مگر بعد میں انھیں تنگ کیا۔ خالہ نے پنچایت بلائی اور جمّن کے دوست الگو چودھری سرپنچ بنے، جنھوں نے انصاف کرتے ہوئے خالہ کے حق میں فیصلہ سنایا۔ بعد میں الگو کا معاملہ پنچایت میں آیا تو جمّن سرپنچ بنے اور انھوں نے بھی انصاف سے فیصلہ کیا، جس سے دونوں کی دوستی پھر قائم ہو گئی۔

جواب۔ انصاف کی مسند پر بیٹھنے والے کو دوستی اور دشمنی سے اوپر اٹھ کر حق کا ساتھ دینا چاہیے۔ ذمہ داری کا احساس انسان کو بہتر بناتا ہے اور سچی دوستی انصاف پر ہی قائم رہتی ہے۔

جواب۔ اس افسانے کے اہم کردار شیخ جمّن، الگو چودھری، جمّن کی بوڑھی خالہ، جمّن کی بیوی فہیمن، سمجھو سیٹھ اور رام دھن مصر ہیں۔

جواب۔ الگو نے سرپنچ کی حیثیت سے خالہ کے حق میں فیصلہ دیا تو جمّن اسے دوست کی غداری سمجھ کر دل میں انتقام کا خیال رکھنے لگا۔ بعد میں جب جمّن خود سرپنچ بنا تو ذمہ داری کے احساس سے اس نے الگو کے حق میں بے لاگ فیصلہ دیا۔ اس کے بعد دونوں گلے ملے اور دوستی دوبارہ قائم ہو گئی۔

جواب۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پنچ کی مسند پر بیٹھ کر انسان جو فیصلہ کرتا ہے وہ حق اور انصاف پر مبنی ہونا چاہیے، کیونکہ اس کی بات کو خدا کے حکم کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔ اسی لیے پنچ کو ذاتی تعلقات سے اوپر اٹھ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔

جواب۔ “تاحینِ حیات” کے معنی زندگی بھر یا جیتے جی ہیں۔ “اُوسر” اس بنجر زمین کو کہتے ہیں جس میں کچھ پیدا نہ ہوتا ہو۔

جواب۔ پریم چند کے افسانوں کا پہلا مجموعہ “سوزِ وطن” ہے، جو 1907ء میں شائع ہوا۔

Read the complete NCERT Class 9 Urdu Chapter 1 “Panchayat” notes by Munshi Premchand. This post includes the Panchayat chapter summary, afsana ka khulasa, important questions and answers, MCQs, and an introduction to Munshi Premchand. These Class 9 Urdu notes are helpful for students preparing for exams and understanding the story.

Scroll to Top