Abdul Halim Sharar ke Adabi Khidmaat, عبد الحلیم شرر کے ادبی خدمات

عبد الحلیم شرر، کثیر الجہات شخصیت کے مالک تھے ۔ موصوف کا مشاہدہ ، تجربہ اور مطالعہ بہت گہرا تھا۔ انھوں نے حصول تعلیم اور ذریعہ معاش کے لیے مختلف مقامات کا سفر کیا ۔ ان کی شخصیت سازی میں مذکورہ عوامل کا بہت دخل تھا۔ انھوں نے متعدد شعبہ جات میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ شرر کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے جس فن میں بھی طبع آزمائی کی اس میں اپنا ایک منفرد مقام بنایا۔ تاریخ میں ان کی گہری دلچسپی تھی ۔ انہوں نے متعدد تاریخی کتا بیں تصنیف کیں ۔ وہ تاریخی ناول نگاری کے نہ صرف موجد تھے بلکہ اس میدان میں اپنے نام کا پرچم بھی لہرایا۔ دراصل شرر کی حیثیت تہذیب کے مورخ کی ہے۔ انھوں نے لکھنوی تہذیب کو جس طرح اپنی تخلیقات میں پیش کیا ہے، یہ انھیں کا حصہ ہے۔ تاریخ، تہذیب، ناول ، ڈراما، رپورتاژ اور سوانح وغیرہ پر مبنی ان کی تصانیف کا ذیل میں مختصر تعارف پیش کیا گیا ہے۔

عبد الحلیم شرر کی اسلامی تاریخ پر گہری نظر تھی۔ تاریخ میں ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ ان کی تاریخی تصانیف میں تاریخ بغداد شریف، تاریخ سندھ، تاریخ تیونس، تاریخ عصر قدیم ، تاریخ بیهود، عرب قبل از اسلام، تاریخ ارض مقدس، مصر کی قدیم تاریخ، مستقلیہ میں اسلام، تاریخ خلافت ، خلافت عمرو بن سعید ، تاریخ اسلام ( جلد اول دوم ) وغیرہ شامل ہیں ۔

شرر نے سوانح نگاری کے میدان میں بھی کارہائے نمایاں انجام دیے۔ ان کی سوانحی تصانیف ، ان کی علمیت اور افکار و نظریات کی مؤثر ترجمان ہیں۔ انھیں تاریخی شخصیات کو صفحہ قرطاس پر نمایاں کرنے میں مہارت حاصل تھی۔ ان کی سوانحی تصانیف میں جنید بغدادی ، ملکہ زنو بیہ، لارڈ بیکن ، حالات اقوام گردتر کان آل عثمان، ابو بکر شبلی، خواجہ قطب الدین بختیار کا کی ، آغائی صاحب ، سوانح امام ابوالحسن الاشعری، حسن بن صباح ، افسانہ قیس ، سکینہ بنت حسین ، خواجہ معین الدین چشتی ، سوانح عمری رستم تهم تن، قرة العین ، خاتم المرسلین ، ثانی اثنین ، ابوالحسنین حجاج بن یوسف ، حضرت عائشہ صدیقہ، مشرق کے چاند ، مغرب کی حوریں ، جان عالم ، شیریں ملکہ نجم و غیرہ کا شمار کیا جاتا ہے۔

شرر کی حیثیت ایک مستند مترجم کی ہے۔ انھوں نے متعدد شعبہ جات میں ترجمہ نگاری کی خدمات انجام دی ہیں۔ ان کے نام سے نثری اور شعری ترجمے منسوب ہیں۔ ان کے نثری تراجم میں کتاب التوحید، در گیش نندنی، ڈاکو کی دلہن، لارڈ بیکن ، جروب صلیبی ، الحكم الرفاعیہ، سفرنامه امام شافعی وغیرہ اہم ہیں۔ ان کے شعری تراجم میں اسیری بابل اور ولادت سرور عالم کے نام اہم ہیں ۔

شرر کے سفر ناموں میں چند گھنٹے جبرالٹر میں، اٹلی کی مختصر سیر، ہمارا سفر پالن پور، اور سوئٹزر لینڈ خصوصی اہمیت کے حامل ہیں ۔ شرر کے مضامین بڑی تعداد میں منظر عام پر آچکے ہیں ۔ مبارک علی شاہ نے مضامین شرر کے عنوان سے آٹھ جلدوں میں ان کے مضامین کے مجمو عے لاہور سے شائع کیے ہیں۔ شرر نے شاعری بھی کی ۔ ان کے شعری کارناموں میں شب غم ، شب وصل ، زمانہ اور اسلام ، مثنوی نغمہ زار شامل ہیں۔ شرر نے دو ڈرامے میوہ تلخ اور شہید وفا لکھے۔ ان کے متعدد خطبات شائع ہو چکے ہیں۔ لیکن شرر کا سب سے بڑا کارنامہ تاریخی ناول نگاری ہے۔

عبد الحلیم شرر کو اردو میں تاریخی ناول کے موجد کی حیثیت حاصل ہے۔ انھوں نے متعدد اصناف میں طبع آزمائی کی لیکن انھیں سب سے زیادہ مقبولیت تاریخی ناول نگاری میں ملی ۔ شرر کی ادبی شناخت تاریخی ناول نگاری سے ہے ۔ شرر کا زمانہ اصلاح معاشرت کا زمانہ تھا۔ شرر نے بھی اپنی تخلیقات سے اصلاح کا کام کیا۔ اس کے تحت انھوں نے تاریخ نویسی ، سوانح نگاری اور تاریخی ناول نگاری کی ۔ انھوں نے بڑی تعداد میں تاریخی ناول لکھے۔ ان کا خیال تھا کہ ناول کے ذریعے کسی تہذیب یا تاریخ کو دلچسپ اور مؤثر پیرائے میں بیان کیا جا سکتا ہے اور تابناک تاریخ و نامور شخصیات کے ذریعے اصلاح بھی کی جاسکتی ہے۔ چناں چہ وہ لکھتے ہیں

شرر نے مسلمانوں کو پستی ، بد عملی اور حرماں نصیبی سے باہر آنے کے لیے اسلامی تاریخ و تہذیب کو اپنا موضوع بنایا۔ انھوں نے تابناک ماضی، اسلامی فتوحات اور عظیم کارناموں کو نمایاں کر کے مسلمانوں میں جوش و ولولہ پیدا کرنے کا کام کیا۔ شرراپنے پہلے ناول ملک العزیزور جنا کے متعلق لکھتے ہیں کہ

شر کو تاریخی ناول نگاری کی تحریک والٹر اسکاٹ کے ناول طلسمان سے ملی۔ انگلستان میں قیام کے دوران یہ ناول شرر کی نظر سے گزرا۔ انھیں اس ناول میں اسلام کے تئیں ناگوار باتیں پڑھنے کو ملیں ۔ انھوں نے اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنے کے لیے متعدد تاریخی ناول لکھے۔ بقول احسن فاروقی ”مولانا کو یہ کتاب پڑھ کر محسوس ہوا کہ اس میں اسلام کا مذاق اڑایا گیا ہے۔ مذہبی جوش میں آکر انھوں نے اس ناول کی رد میں ایسی ناولیں لکھنے کی ٹھان لی جن میں اسلامی تاریخ کو زندہ کیا جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ شرر نے اپنے تاریخی ناولوں میں عظیم کرداروں کی بہادری ، شجاعت ، اولوالعزمی ، جنگی معرکوں اور حیرت انگیز کارناموں کو خصوصی جگہ دی ہے۔

شرر نے جب تاریخی ناول نگاری کی بنیاد رکھی اس وقت فنی اعتبار سے ناول کا کوئی پختہ خاکہ موجود نہیں تھا۔ ناول کے فنی تقاضوں کو مکمل طور پر پورا کرنا کسی کے لیے آسان نہ تھا۔ شرر کی پوری کوشش رہی کہ وہ قارئین کی دلچسپی کو قائم رکھ سکیں۔ انھوں نے اپنے ناولوں میں تاریخ اور رومان کا ایک حسین امتزاج پیدا کیا اور پلاٹ میں رابط و تسلسل اور تجس کو قائم رکھنے کی پوری کوشش کی اور جنگی معرکوں کی تصویر کشی میں فنی مہارت کا ثبوت دیا ہے۔ عام طور پر ان کے ناول افسانویت اور ڈرامائیت سے آراستہ ہوتے ہیں۔ انھیں کردار کو ابھارنے اور خدو خال کو نمایاں کرنے کا سلیقہ آتا ہے۔ شرر کے یہاں پیکر تراشی ، کردار سازی اور واقعات بیانی کا بہترین نمونہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان کے یہاں کردار کی داخلی و خارجی تصویر اور نفسیات کی مؤثر پیش کش نظر آتی ہے۔

شر کا تاریخی واقعات کے بیان پر خصوصی زور ہوتا ہے۔ اگر چہ وہ ناول میں دلچسپی قائم رکھنے کے لیے بعض اوقات تاریخیت سے بھی گریز کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ ان کے ناولوں میں تاریخی رومان کا غلبہ ہے۔ شرر اپنے کردار کے حسن و جمال کی پیش کش میں فنکاری کا خوب مظاہرہ کرتے ہیں۔ ان کے یہاں تاریخی واقعات کی پیش کش میں تاریخ اور فکشن میں کچھ حد تک اعتدال نظر آتا ہے لیکن کہیں کہیں تاریخی لغزشیں بھی در آئی ہیں۔ ان کی یہ کوشش رہی کہ اہل اسلام کی عدل پسندی ، اخوت، بھائی چارگی ، اخلاق ، اعلیٰ کردار اور شجاعت کو نمایاں کیا جائے اور اس عمل میں وہ اکثر کامیاب نظر آتے ہیں۔ شرر کا تاریخی شعور بہت پختہ تھا۔ انھوں نے اپنے ناولوں میں تاریخی فضا اور ماحول کو قائم رکھا ہے، جو تاریخی ناول کا خاصا ہے۔ وہ جس عہد یا معاشرے کو اپنا موضوع بناتے ہیں، اس کی جیتی جاگتی تصویر نمایاں کر دیتے ہیں۔

شرر اپنے تاریخی ناولوں کو ادبی مجلہ دلگداز میں قسط وار شائع کرتے تھے۔ قارئین کو ان کے ناولوں کا بے صبری سے انتظار رہتا تھا۔ شرر کا پہلا ناول دلچسپ ہے، جو دو حصووں پر مشتمل ہے۔ اس ناول کا پہلا حصہ 1885 اور دوسرا حصہ 1886 میں شائع ہوا۔ اس کے علاوہ سماجی و اصلاحی ناولوں میں بدر النسا کی مصیبت (1901) ، آغا صادق کی شادی (1908) ، غیب دان دلہن (1911) اور طاہرہ (1923) وغیرہ اہم ہیں۔

شرر کا ناول ملک العزیز ور جنا (1888) ، اردو کا پہلا تاریخی ناول ہے۔ ناول کے پلاٹ کا تانا باناصلیبی جنگ سے تیار کیا گیا ہے ۔اس میں مسیحی اور اہل اسلام کے جنگی معرکوں کے ساتھ ساتھ سلطان صلاح الدین کے بڑے بیٹے ملک العزیز اور شاہ رچرڈ کی بہن ور جنا کے رومان کو بھی پیش کیا گیا ہے۔ ور جناء اسلام قبول کر لیتی ہے اور آخر میں ملک العزیز اور ور جنا کی شادی ہو جاتی ہے۔

ناول حسن انجلینا (1889) کا پلاٹ پندرہویں صدی کے جنگی معرکوں پر بنی ہے۔ اس میں روس بہ مقابلہ تر کی وایران کی جنگوں میں روس کی شکست کو پیش کیا گیا ہے۔ ناول کے مرکزی کردار حسن اور انجلینا ہیں۔ حسن ترکی فوج کی قیادت کرتا ہے۔ جس کی فہم وفراست سے ترکی اور ایران میں اتحاد ہوتا ہے اور روس کی فوج کو شکست ملتی ہے۔

منصور موہنا (1890) کا پلاٹ محمود غزنوی کے ہندوستان پر حملے کے پس منظر میں تیار کیا گیا ہے۔ منصور ، غزنوی کی فوج کی ایک ٹکڑی کا کمانڈ ر ہے۔ جب کہ موہنا ، راجا اجمیر کی اکلوتی بیٹی ہے۔ موہنا ، منصور سے عشق کرتی ہے۔ منصور ایک جنگ میں جے رام کے ہاتھوں ہلاک ہو جاتا ہے۔ موہنا اپنی تلوار سے زخمی جے رام کو قتل کر کے خود کو ہلاک کر لیتی ہے۔ اس طرح ناول کا اختتام المیے پر ہوتا ہے۔

فلورا فلورنڈا (1899) میں اسپین کے شہر طلیطلہ میں عبدالرحمن ثانی کے دور حکومت کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ یہ عیسائی مبلغین کے سیاہ کردار کو انتہائی بے باکی سے نمایاں کرتا ہے۔

ناول ایام عرب، دو جلدوں میں شائع ہوا ہے۔ ناول کے پہلے حصے میں ملک غسان کے بادشاہ حارث اعرج اور ملک حیرہ کے بادشاہ نعمان بن منذر کے مابین جنگی معرکے کو پیش کیا گیا ہے۔ جب کہ دوسرے حصے میں عرب اور ایران کے مابین جنگ وجدل کا احاطہ کیا گیا ہے۔

مذکورہ ناولوں کے علاوہ شرر نے متعدد ناول لکھے ہیں ، جن میں زوال بغداد، قیس ولینٹی ، دلکش، فردوس بریں، مقدس نازنین ، شوقین ملکه، ماه ملک، یوسف و نجمه، فلپانہ، حسن کا ڈاکو ، رومتہ الکبری، الفانسو، فاتح مفتوح ، فتح اندلس، جو پائے حق ، لعبت چین، با بک خرمی ، شهزاده حبش، طاهره، عزیز مصر اور مینا بازار وغیرہ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔

شرر کے تاریخی ناولوں میں عام طور پر تاریخ اسلام کے ابتدائی زمانے کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ان کے ناولوں میں اسلامی حکومت کے عروج ، میں جنگی معرکوں اور تاریخ کے حیرت انگیز کارناموں کی مؤثر تصویر کشی کی گئی ہے۔ انھیں پلاٹ سازی اور کرداری نگاری کا فن آتا ہے۔ ان کے ناولوں اس قدر تجس اور دلچسپ پیرایہ بیان اختیار کیا گیا ہے کہ قاری مبہوت ہو جاتا ہے۔ انھیں لفظیات پر گہری دسترس حاصل ہے ۔ وہ موقعے کی مناسبت سے لفظ کے انتخاب اور بہترین فضا سازی میں کامیاب نظر آتے ہیں۔ شرر کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ انھوں نے نہ صرف تفریح و تفنن کے لیے تاریخی ناول لکھے بلکہ ان سے قوم وملت کی اصلاح کا بھی کام لیا ہے۔ مختصر یہ کہ شر کا تخلیقی کارنامہ اس قدر عظیم ہے کہ اردو ادب میں ہمیشہ ان کا نام زندہ و جاوید رہے گا۔

Abdul Halim Sharar was a famous Urdu writer, historian, novelist, translator, and journalist. This post explains his literary services, contribution to historical novel writing, and his role in promoting Islamic history and culture through literature. It highlights his important works, novels, and his unique style of storytelling in Urdu literature.