Novel Godan Ka Khulasa, ناول گئودان کا خلاصہ

اس پوسٹ میں ہم پریم چند کے شہرہ آفاق ناول گئودان کا خلاصہ اور اس کے اہم موضوعات طبقاتی تضاد، غربت و افلاس، دیہی و شہری زندگی کی کشمکش، تعلیم نسواں اور تہذیب و معاشرت  پر آسان الفاظ میں روشنی ڈالیں گے، ساتھ ہی ناول کے اہم اقتباسات بھی پیش کریں گے۔ یہ نوٹس دیگر امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ کے لیے خاص طور پر مفید ہیں۔

گئودان کے کرداروں میں روپا-سونا (ہوری کی بیٹیاں)، جھنیا (ہوری کی بہو اور گوبر کی بیوی)، بھولا (اہیر جس سے ہوری گائے لیتا ہے)، سوبھا (ہوری کا بھائی)، ہیرا (ہوری کے بھائی کا بیٹا جو گائے زہر دے کر مار دیتا ہے)، رام سیوک (ایک ضعیف منافق)، رائے اگر پال (زمیندار)، داتادین، ماتادین (پنڈت، جس کا اپنے ناجائز تعلق کی وجہ سے مذہب سے سروکار نہیں رہا)، جھنگری سنگھ، مستری منگرو شاہ، ان کے علاوہ مسٹراونڈرناکار (ایک انگریز افسر)، بینک منیجر، شیام بہاری (وکیل) وغیرہ شامل ہیں۔1936ء میں شائع ہونے والا یہ ناول 596 صفحات پر پھیلا ہوا ہے، اور پریم چند کے سب سے بہترین ناولوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس ناول کو پریم چند نے آٹھ ابواب میں تقسیم کیا ہے، جس کے ابتدائی چار ابواب میں وہ ناول کے تمام اہم کرداروں کا تعارف کراتے ہیں۔ اس ناول میں پریم چند نے دیہی زندگی کی حقیقت پسندانہ فنکارانہ انداز میں پیش کیا ہے۔ انہوں نے گاؤں کے پاس والے رشتوں، ذات پات کے پہلوؤں، خوبصورت مناظر اور معمولات کو نہایت خوبی سے بیان کیا ہے۔ وہ کسانوں کی بے کیف اور مشکلات بھری زندگی کی تصویر کشی کرتے ہیں۔

اس ناول کے کردار واضح طور پر دو طبقاتی گروہوں کی علامتیں ہیں ہوری اور دوسرا طبقہ زمینداروں، مذہبی پیشواؤں اور سرمایہ کاروں کا، رائے صاحب، دھنیا اور منگرو شاہ جیسے دانشوروں اور رہنماؤں کا۔ حالانکہ ناول کا مرکزی کردار ہوری ہے جو جوٹھشالی ہندوستان کے گاؤں سے تعلق رکھتا ہے، اس میں جو مسائل ہیں وہ ہی سارے ہندوستان کے آم کسان کے مسائل ہیں۔ ہوری اور اس کا خاندان بھر دن جدوجہد کرتا رہتا ہے، اپنی بنیادی ضرورتوں کی تکمیل کرنے میں ناکام رہنے پر بھی ہمت نہیں ہارتا۔ پریم چند کی اس محرومیوں اور ناکامیوں کا ذکر کرتے ہیں اوران حالات پر جو کسانوں کی حالت زار کے ذمہ دار ہیں۔ ناول کا مرکزی کردار ہوری کے دو بھائی ہیں: ہیرا اور سوبھا، جن کی شادی کے لیے ہوری قرض لیتا ہے، قرض کی ادائیگی نہیں ہو پاتی ہے اور سود در سود سے یہ اصل رقم بدولت قرض بڑھ چکا ہے۔ ابھی وہ پہلے والا قرض ادا نہیں کر پاتا کہ بنیادی ضروریات کے سبب دوسرا قرض لینا پڑتا ہے۔

اسی خواہش کی تکمیل کے لیے ہوری، بھولا اہیر کو دوسری شادی کرانے کا لالچ دے کراس سے گائے حاصل کر لیتا ہے۔ دوسری جانب بھولا کی بیٹی جھنیا کی منگنی ٹوٹ جاتی ہے، تو وہ گوبر کو کچھ کہے بغیر جال بنتی ہے اور گوبر اپنے جال میں پھنسا لیتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ گوبرا سے اپنے گھر لے آتا ہے، جھنیا کو گھر میں رکھے سے ہوری اور اس کے خاندان میں مزید مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔

ہوری کی گائے کو ہیرا زہر دے کر مار دیتا ہے۔ گاؤں کے پنچایت اس واقعہ کی جانچ کرتی ہے، لیکن انصاف نہیں ہو پاتا۔ ہوری اپنے مفاد کے لیے غریبوں کا استحصال کرتا ہے، اس کا ایک مثال یہ ہے کہ جب دھنیا اپنے گھر میں آتی ہے تو جھنیا اسے پناہ دیتی ہے۔ داتادین کا رویہ اس کے خلاف بہت سخت ہو جاتا ہے، لیکن دھنیا نہ صرف اسے قبول کرتی ہے بلکہ اپنے شوہر کو بھی سمجھاتی ہے۔ داتادین نے مذہب کی آڑ میں سلیا کا استحصال کرنا چاہا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ گاؤں کے لوگ سلیا کو بہکانے والوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔

بہرحال، ہوری بہت مظلوم ہے اور اس کے مفادات کوئی نہیں سمجھتا۔ پولیس اور محکمہ کو معلوم ہوتا ہے کہ ہوری کی حالت بہت خراب ہے، اس کے گھر میں کھانے کا کوئی ناج نہیں ہے، جسے ہوری ساری فصل جرمانے میں دے دیتا ہے۔ اس کے کمانے کے تمام ذرائع ختم ہو چکے ہیں، مگر جھنو رجت شریک روزبروزخراب ہوتی جاتی ہے، قرض اور لگان بڑھتا ہی جاتا ہے، ہوری کا شیکار مزدور بن جاتا ہے اور اس کی حالت روز بروز خراب ہوتی جاتی ہے۔

مصنف اپنی داستان کو تمام رشتوں اور رسم و رواج کی مثال کے ساتھ سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل کے احاطے میں لکھتے ہیں۔ ناول کے آخری حصے میں ہوری کی موت ہوتی ہے، جسے اس کی محنت اور مشقت نے کھو دیا۔ دھنیا اپنے شوہر کے لیے آخری رسومات ادا نہیں کر پاتی کیونکہ گھر میں گئودان کے لیے پیسے نہیں ہوتے۔ اس تمام ریشانیوں کے خاتمے پر دھنیا اپنے ہاتھ میں جو کچھ بچا تھا، اسے سب کچھ بیچ کر گئودان کرتی ہے۔ اسی موقع کا ذکر کرتے ہوئے پریم چند نے یہ الفاظ لکھے ہیں

اسی موت کے دن کو کہانی کا اختتام قرار دیا جا سکتا ہے، جسے پریم چند نے دنیا کا سب سے بڑا اور جذبات پرور دراوز کہا ہے۔

گئودان ایک وسیع موضوع پر لکھا جانے والا بہترین ناول ہے، جیسا کہ اس میں ان کا فن اوج کمال کو پہنچا ہوا ہے۔ گویا ناول کے مطالعے کا لب لباب ہے کہ یہ کسانوں کی دیہاتی زندگی کی کہانی ہے۔ دیہی معاشرت کے ساتھ ساتھ پریم چند نے شہری زندگی کے سفارتی اور دیستوں کو بھی بیان کیا ہے۔ گئودان کا اصل موضوع کسانوں کی زندگی ہے، جس میں ساجی اور معاشی زندگی کے تمام پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ یہ ناول اپنے حقیقت پسندی کے پیرائے سے بھر پور معاشرتی پہلوؤں پر محیط ہے جو دور حقیقت ہندوستان کے کہانی کی روح ہے۔

بنیادی ضروریات سے محروم لیڈر، جاگیردارانہ نظام، زمیندار، غرض ہر اعلیٰ طبقہ ادنیٰ طبقہ کولوٹنے کے لیے ہر وقت تیار رہتا ہے۔ اس ناول میں کئی زندگی کے ذاتی تجربے کے ذریعے پریم چند نے تصویر کشی سے حقیقتی سی جو حقیقی ہے اور شاید کسی اور ناول میں نظر نہیں آتا۔

گئودان کا ایک اہم موضوع ہندوستانی معاشرے کے اعلیٰ طبقات کا ادنیٰ طبقات کے ساتھ جبر و زیادتی کا رویہ کاروبار ہے۔ ناول میں ایک طرف جاگیردارانہ ساجھ کی پرتقیش زندگی کو پیش کیا گیا ہے جہاں نفسانی خواہشات کی تکمیل ہے، ووسری طرف مزدور، مدھارور کوشکار کنیزیوں کا شکار ہیں، جن کی کوئی خبر لینے والا اور نہ کوئی خیر خبر لینے والا ہے۔ ناول میں ہوری کے کردار کاواضح طور پر دوروداور ناتھ متوسط طبقے کے دانشوروں اور رقمی رہنماؤں کو نمائندگی کرتے ہیں۔ ناول میں گئودان کا مرکزی کردار ہوری ہے جو جوٹھشالی ہندوستان سے تعلق رکھتا ہے۔

منگرو شاہ مذہبی پیشواؤں اور ساہوکاروں کی رائے، اگر پال سنگھ زمینداروں کی، کھنہ سرمایہ داروں کی، مہتا اور مرزاخورشید نیز اونٹھ ناتھ متوسط طبقے کے دانشوروں اور رقمی رہنماؤں کو نمائندگی کرتے ہیں۔ پریم چند نے موت پرناودپہ یثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ غریب کس کیثیکاروں کے علاوہ مذہب کے عناصر ذات پات کہانی بنایا ہے۔ پریم چند نے ناول میں اس ناول میں سماجی رشتوں کو پیش کیا ہے، ساجی مذہبی مناظر کے پیس منظر میں بلاتفریق مذاہب دیہی زندگی کے عام دیہی آدمی کے مسائل کا احاطہ کیا ہے۔

گئودان کے موضوعات میں ایک طرف مہا جنوں کی ریا کاریاں اور جاابازیاں ہیں تو دوسری طرف کسانوں کی معصومیت و مظلومیت بھی ہے۔ جواب طاقت کے غلط استعمال کے ادنیٰ طبقہ کا استحصال کرتے ہیں۔ اس ناول میں پریم چند حقیقت نگاراویب کی شکل میں سامنے آتے ہیں۔ اس ناول کا ہر ایک فرد بڑھ سے بڑھ ہندوستان کے دیہات کے اجتماعی نفسیات، صبر، برداشت، سادگی، ستم رسیدگی اور جبر کے باوجود حالات کا مقابلہ کرنے اور رشتوں کا احترام کرنے کی علامت ہے۔

پریم چند نے ‘گئودان’ کے دیہی معاشرے میں غربت اور افلاس کو موضوع بنایا ہے، اور رافلاس کے ذریعے اس عام کسانوں کے جواں حالت کا جائزہ لیا ہے اور ان محرکات و عوامل کا جائزہ لیا ہے جو اس حالت کے ذمہ دار ہیں۔ ناول ‘گئودان’ کا موضوع کسانوں اور مزدور کی غربت و افلاس، بے بسی اور بے چارگی اور مجبوری کی طرح پیش کیا گیا ہے کہ اس طبقے کا استحصال کرنے والوں کے احساس ہونے لگتا ہے۔ پریم چند وہاں کچانوں کی زندگی کی شدید احساس دلاتا ہے، کہ استحصال زندگی بھر محنت کرتا ہے، لیکن اس کا اجرت نہیں ملتا۔ زمیندار، ساہوکار، سرمایہ دار اور راکٹ سب اس کا استحصال کرتے ہیں۔ اس فریاد سننے والا اوراناہیں اس کی زندگی اسی دکھ اور تکلیف میں گزرتی ہے۔

پریم چند نے مظلوم کسانوں کے ان حقوق کے لیے بھی آواز اٹھائی ہے کہ اس نظام کی کوشش کے ذریعے پیدرن سے درساتے، ناول میں پریم چند نے یہ درساتے کہ اس نظام کو بدرس بنانا ہے کہ زمینداروں، ساہوکار اور سرمایہ دار کے مفادات باہم مشترک ہیں اور کسان اور مزدور کے حالات ایک جیسے ناگفتہ بہ ہیں۔

دیہی زندگی کے ساتھ پریم چند نے چند شہری زندگی کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ انہوں نے شہر کے سرمایہ داروں، مل مالکوں اور کارخانہ داروں کے استحصالی نظام کی کاری ضرب لگائی۔ صنعتی نظام کے چکی میں مزدور پستے ہیں اور اپنے لیے اچھی صحت مندگی زندگی حاصل نہیں کر پاتے۔ اس زاویے سے تفصیلات پیش کرتے ہوئے پریم چند نے ان مزدوروں کی کشمکش اور بھری قوت کو بھی ظاہر کیا ہے۔ مزدور بھی شیکاروں سے ہی تعلق رکھتے ہیں ۔ کسان جب زمینداروں اور ساہوکاروں سے ظلم کرتا ہے، پھر بھی اس کے پیچھے شعور بیدار نہ کر لیتا کہ استحصالی طبقات کی عیاری سے واقف نہیں۔

گئودان میں پریم چند نے تعلیم نسواں کو بھی موضوع بنایا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پریم چند نے تعلیم نسواں کو ضروری خیال کیا اور یہ اس تعلیم کا عملی دائرہ گھر کی چہاردیواری تک ہی محدود رکھا۔ وہ تعلیم سے مراد مغرب زدگی یا مغربی رویات کی پاسداری اور اندھی تقلید نہیں لیتے بلکہ وہ ان اوصاف کو اپنانے پر زور دیتے ہیں جو خواتین کی تربیت کریں اور انہیں گھر اور معاشرے کے بہتر رکن بنائیں، اپنے خاوند کے ساتھ بہتر نباہ کر سکیں۔

ایسی تعلیم، روایات اور مغرب کے سخت خلاف تھے، جو عورتوں کو گھر سے بیزار کر دیتی ہے۔ ان کے نزدیک ایک عورت گھر میں زیادہ محفوظ ہے، جو عورتیں باہر کی دنیا کو ترجیح دیتی ہیں انہیں وہ قابل ملامت قرار دیتے ہیں۔ ‘گئودان’ کی مس مالتی ایک ایسی ہی مغربی کردار ہے، جس کے نزدیک ایک ہی تقلید، بے راہ روی، مساوات یاحقوق نسواں کا مساوی ہے۔ ‘گئودان’ میں وہ لکھتے ہیں

ہر ناول میں کوئی نہ کوئی تہذیب اور معاشرت کی عکاسی ضروری ہوتی ہے۔ ڈپٹی نذیر احمد نے دہلی میں ایسے ایک گھرانے کی عکاسی کی ہے جو پہلے تو نذہب نہ کہنے کافرودصوح جب فتنہ ہے اورا پنے بچوں کو راہ راست پر لانے کی کوشش کرتا ہے، سوائے ایک کے سب سدھر جاتے ہیں۔ اسی طرح سدھر امراؤ جان ادا میں بھی لکھنؤ کے طوائفوں کا ذکر ملتا ہے۔ پریم چند نے گئودان میں ہندو مذہب اور رچن رواج کی کوشش کی ہے کہ فرد وصوح جب فرد وصوح جب فتنہ ہونے کے علاوہ خاص طور پر ادواتنبیوں نے اپنا خاص طور پر ادرانہوں نے پیرانہ طور پر مذہبی تخصیوں پرطنز بھی کیا ہے کہ جن کوکھانے پینے کے لالے پڑے ہوں کیسے وہ لال ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح مذہب میں ڈوب سکتے ہیں۔ اس میں مذہب کے نام پر ہونے والی لوٹ کھسوٹ کا نداق بھی اڑایا گیا ہے۔ ہندو مذہب میں گائے کو گات مقدس مانا گیا ہے اس لیے گائے کو پال کراس کی خدمت کرنا یعنی ثواب کا کام مانا جاتا ہے۔ یعنی اس عقیدے پرایک کاردگرگھومتا ہے کہ گئودان کے عقیدے کی نمائندگی کرتاہے۔ مفلسی کی وجہ سے وہ اپنے مرنے سے پہلے گائے کوکئل کرنے سے محروم رہتا ہے۔ مکمل ناول ہندو مذہب و تہذیب اور تہذیب کو پیش کرتا ہے کہ باپ کچھ مسلم ناول بھی کردار بھی ناول میں ہیں لیکن ہیں ناول کا ضمنی کردار ہیں۔ ناول کی تہذیب کے ذیل میں ایک اقتباس دیکھیں

جواب۔  گئودان 1936ء میں شائع ہوا اور 596 صفحات پر مشتمل ہے۔

جواب۔  گئودان کا مرکزی کردار ہوری ہے، جو ایک عام ہندوستانی کسان کی نمائندگی کرتا ہے۔

جواب۔  ناول میں ایک طرف زمینداروں، ساہوکاروں اور سرمایہ داروں کی پرتعیش زندگی دکھائی گئی ہے، دوسری طرف ہوری جیسے کسانوں کا استحصال اور مجبوری دکھائی گئی ہے۔

جواب۔  ناول کا اختتام ہوری کی موت پر ہوتا ہے، جس کے بعد دھنیا کے پاس گئودان کی رسم ادا کرنے کے لیے پیسے نہیں بچتے، تو وہ اپنی بچی کچی رقم دے کر یہ رسم پوری کرتی ہے۔

جواب۔  پریم چند نے تعلیم نسواں کو ضروری قرار دیا، لیکن اس کا دائرہ گھر کی چہاردیواری تک محدود رکھا اور مغربی رنگ میں ڈھلی آزادی کو ناپسند کیا۔

Godan, published in 1936, remains one of Premchand’s finest works. Through Hori’s tragic life, the novel captures rural India’s class conflict, poverty, and the clash between village and city life, while also touching on women’s education and cultural identity.