Nazm Khizr-e-Rah Ka Pas-e-Manzar | نظم خضرِ راہ کا پس منظر

علامہ اقبال کی نظم “خضرِ راہ” کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ نظم کن تاریخی اور سیاسی حالات میں لکھی گئی۔ اس مضمون میں نظم “خضرِ راہ” کا مکمل پس منظر آسان اردو میں پیش کیا جا رہا ہے۔

بیسویں صدی اپنے دامن میں کئی بڑے انقلاب لے کر آئی، جنہوں نے پوری دنیا کو بری طرح متاثر کیا۔ پہلی عالمگیر جنگ نے انسانیت کی بربادی کی نئی تاریخ رقم کر دی۔ اسی دور میں عالمِ اسلام کے لیے یہ بہت نازک وقت تھا – خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے ساتھ ہی امتِ مسلمہ کا شیرازہ بکھر گیا تھا۔ مغربی طاقتیں عالمِ اسلام کے خلاف سازشیں کر رہی تھیں، اور زیادہ تر مشرقی و یورپی ممالک غلامی کا شکار تھے۔ دوسری طرف مغربی طاقتیں دنیا کے سامنے جمہوری نظام کا آڑ لے کر استعماریت اور ملوکیت کی تشکیلِ نو میں مصروف تھیں۔ مادہ پرستی نے طبقاتی کشمکش کو جنم دیا تھا – سرمایہ داری نے غریب مزدوروں کے حقوق چھینے ہوئے تھے، تاہم انہی حالات میں بغاوت اور انقلاب کی صدائیں بھی بلند ہونے لگی تھیں۔ ترکِ خلافت کی تحریک اور ترکِ موالات کا دور چل رہا تھا، ہندوستان کی آزادی کی تحریک اپنے شباب پر تھی، اور غلام قوموں میں آزادی کے لیے سخت جدوجہد کی کیفیت تھی۔

کسان، مزدور، اور دبے لوگ اپنے حقوق کے لیے بغاوت پر آمادہ تھے، اور سر مایہ داری کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے۔ آزادی کے لیے دنیا بھر میں جدوجہد جاری تھی، اور غلام قومیں اپنے حاکموں کی جبری حاکمیت کو آنکھیں دکھا رہی تھیں۔ پہلی عالمگیر جنگ کے بعد انقلابِ روس، خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ – یہ ایسے غیر معمولی واقعات تھے جن کے اثرات پوری دنیا پر ہوئے اور ایک نئے سیاسی و سماجی عہد کا آغاز ہوا۔ انقلابِ روس نے ایشیائی قوموں میں آزادی کا ایک نیا شعور پیدا کیا اور ایشیا اور کئی مما لک کو غلام قوموں کی غلامی کی نیند سے بیدار ہونے میں مدد دی۔ اقبال انقلابِ روس کے زیرِ اثر اپنی شاعری کے ذریعے مزدوروں کے اعلانِ حمایت اور ان کے آواز کو آگے بڑھا رہے تھے۔

اقبال نے اپنی شاعری میں ظلم و جبر، مادی وسائل کی غیر مساوی تقسیم، محنت کش طبقے کے استحصال، سرمایہ دارانہ نظام اور فاشزم کی بھرپور مخالفت کی۔ انقلابِ روس (1917) کے بعد اقبال نے ان مذکورہ مسائل کو خاص طور پر اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔ اقبال نے سرمایہ دارانہ نظام کی سخت مخالفت اور مزدوروں کی حمایت میں اپنے اظہاراتِ شاعری کیے، جن میں “خضرِ راہ” کے علاوہ “ضربِ کلیم” اور “ارمغانِ حجاز” جیسی نظمیں بھی مادہ پرستی کے خلاف نظمیں ملتی ہیں۔ اسی نظم “خضرِ راہ” میں اقبال نے “زندگی”، “سلطنت” اور “سرمایہ و دولت” کے نام سے باقاعدہ ذیلی عنوان قائم کیے ہیں۔

اقبال کی یہ نظم بیسویں صدی میں رونما ہونے والے اسی عظیم انقلاب کی صدائے بازگشت ہے۔ اس دور کی مجموعی صورتِ حال اقبال کے دورِ حیات کا محرک ہے۔ اس نظم کا مقصد یہ ہے کہ اقبال خضر کے ذریعے جو دانائے راز ہے، عالمِ اسلام اور دیگر پسماندہ طبقوں کی رہنمائی کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کے لیے ایک لائحہ عمل پیش کرتے ہیں۔ اقبال نے اس نظم میں زندگی کا اجتماعی طبیعیاتی تصور پیش کیا ہے۔ یہ نظم اقبال نے انجمن حمایتِ اسلام کے 37 ویں سالانہ اجلاس منعقدہ 12 اپریل 1922 میں ترنم کے ساتھ پڑھ کر سنائی تھی۔ نظم کے اشعار پر رقتِ طاری تھی اور سامعین و زار و قطار رو رہے تھے۔ اس نظم میں اقبال ایک شاعر، ایک مفکر، ایک فلسفی اور ایک انقلابی مفکر کے طور پر نظر آتے ہیں۔ اس نظم میں اقبال کی انقلابی فکر بہت واضح ہر جگہ ہوئی ہے لیکن اس کا لب و لہجہ دھیما اور بہت سنجیدہ ہے۔

جواب۔ یہ نظم بیسویں صدی کے ان بڑے انقلابات کے پس منظر میں لکھی گئی جن میں پہلی عالمگیر جنگ، انقلابِ روس (1917) اور خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ شامل ہیں۔

جواب۔ یہ نظم انجمن حمایتِ اسلام کے 37ویں سالانہ اجلاس میں 12 اپریل 1922 کو ترنم کے ساتھ پڑھی گئی تھی۔

جواب۔ انقلابِ روس (1917) کے بعد اقبال نے سرمایہ دارانہ نظام، ظلم و استحصال اور مزدوروں کے حقوق جیسے موضوعات کو خاص طور پر اپنی شاعری کا حصہ بنایا، جن میں “خضرِ راہ” کے علاوہ “ضربِ کلیم” اور “ارمغانِ حجاز” بھی شامل ہیں۔

جواب۔ اس نظم میں اقبال ایک شاعر، ایک مفکر، ایک فلسفی اور ایک انقلابی مفکر کے طور پر نظر آتے ہیں۔

A detailed Urdu account of the historical and political background of Allama Iqbal’s poem Khizr-e-Rah from Bang-e-Dara, covering the Russian Revolution, the fall of the Ottoman Caliphate, the exploitation of the working class, and the events that shaped Iqbal’s thought, explained in simple Urdu for students of Bihar Board, UGC-NET/JRF Urdu, and other Urdu literature exams.