Nazm Masjid-e-Qurtaba Ki Tashreeh | نظم مسجدِ قرطبہ کی تشریح

علامہ اقبال کی نظم “مسجدِ قرطبہ” ان کے شعری مجموعے “بالِ جبریل” میں شامل ہے، اور اسے اردو شاعری کی بلند ترین اور فنی اعتبار سے سب سے مکمل نظموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ نظم اقبال نے 1932 اور 1933 میں اسپین کے سفر کے دوران لکھی، جب وہ قرطبہ کی تاریخی اور شاندار مسجد دیکھنے پہنچے تھے۔ یہ مسجد 785ء میں عبدالرحمٰن اول نے تعمیر کرائی تھی، اور صدیوں تک مسلمانوں کے علم و تہذیب کا مرکز رہی، لیکن اسپین سے مسلمانوں کے زوال کے بعد اسے گرجا گھر میں تبدیل کر دیا گیا۔ اسی تاریخی پس منظر نے اقبال کے دل میں گہرے جذبات پیدا کیے اور اسی کیفیت میں انہوں نے یہ نظم تخلیق کی۔

نظم “مسجدِ قرطبہ” میں اقبال نے وقت کی حقیقت، عشق کی طاقت، مسجدِ قرطبہ کی عظمت، مردِ مومن کی صفات اور ملتِ اسلامیہ کے عروج و زوال جیسے گہرے فکری موضوعات کو خوبصورت شاعرانہ انداز میں بیان کیا ہے۔ نظم سات بندوں پر مشتمل ہے، اور ہر بند اپنے اختتام پر ایک مختصر دو مصرعوں والے فقرے پر ختم ہوتا ہے جو اس بند کے مرکزی خیال کو سمیٹ دیتا ہے۔ ذیل میں نظم کے ہر بند کی آسان اور سلیس اردو میں تشریح پیش کی جا رہی ہے، تاکہ طلبہ اور قارئین اس عظیم نظم کے پیغام کو بخوبی سمجھ سکیں۔

نظم کا آغاز اقبال وقت یعنی “سلسلۂ روز و شب” (دن رات کے سلسلے) کے تصور سے کرتے ہیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ یہی دن رات کا سلسلہ دراصل تمام حادثات اور واقعات کو جنم دینے والا ہے، اور یہی زندگی اور موت کی اصل بنیاد بھی ہے۔ وقت ایک ایسے دو رنگے ریشمی دھاگے کی طرح ہے جس سے ذاتِ باری تعالیٰ اپنی صفات کی قبا (پوشاک) بناتی ہے، اور یہی وقت ازل کے ساز کی وہ فریاد ہے جس کے ذریعے ذاتِ خداوندی اپنی کائنات کے تمام امکانات کے نشیب و فراز دکھاتی ہے۔ اقبال وقت کو کائنات کا صراف (جوہری، پرکھنے والا) کہتے ہیں جو ہر ایک کو پرکھتا ہے – چاہے وہ کھرا ہو یا کھوٹا، سب اسی کی کسوٹی پر پرکھے جاتے ہیں، اور موت ہر ایک کے نام آنے والی برات (دعوت نامہ) ہے، چاہے وہ کم عیار ہو یا زیادہ۔ اقبال آگے کہتے ہیں کہ ایک ایسا زمانہ بھی ہے جس میں نہ دن ہے نہ رات، یعنی وقت سے ماورا ازلی و ابدی حقیقت – اس کے مقابلے میں ہمارے دن رات کی کیا حقیقت رہ جاتی ہے؟ دنیا کے تمام کرشمے اور ہنر آنی جانی چیزیں ہیں، دنیا کا ہر کام بےثبات (غیر مستقل) ہے۔ آخر میں اقبال یہ نتیجہ دیتے ہیں کہ ہر نقش، چاہے وہ پرانا ہو یا نیا، فنا ہونے والا ہے – اول و آخر، ظاہر و باطن سب فنا کے تابع ہیں، اور دنیا کی کوئی بھی چیز حقیقی معنوں میں منزل نہیں بلکہ فنا ہی سب کا انجام ہے۔

پہلے بند میں یہ بتانے کے بعد کہ دنیا کی ہر چیز فانی ہے، دوسرے بند میں اقبال ایک اہم استثنیٰ بیان کرتے ہیں – وہ ہے عشق۔ اقبال کہتے ہیں کہ اگر کسی مردِ خدا نے اپنے نقش کو عشق کے رنگ سے مکمل کر دیا ہو تو اس نقش کو دوام اور ثبات حاصل ہو جاتا ہے، یعنی عشق ہی وہ واحد قوت ہے جو فانی چیز کو ہمیشگی بخش دیتی ہے۔ مردِ خدا کا ہر عمل عشق ہی کی وجہ سے روشن اور جاندار ہوتا ہے، کیونکہ عشق ہی اصل زندگی ہے اور موت کو عشق پر کوئی اختیار نہیں۔ اقبال آگے ایک نہایت خوبصورت نکتہ بیان کرتے ہیں: اگرچہ زمانے کی رفتار تیز اور ہلکی ہے، مگر عشق خود ایک ایسا سیلاب ہے جو ہر سیلاب کو تھام لیتا ہے – یعنی عشق کی طاقت وقت کی طاقت سے بھی بڑھ کر ہے، عشق وقت پر غالب آ جاتا ہے۔ عشق کے اپنے ایک الگ کیلنڈر (تقویم) میں موجودہ زمانے کے علاوہ ایسے زمانے بھی شامل ہیں جن کا کوئی نام تک نہیں – یعنی عشق کی رسائی زمان و مکان کی حدود سے کہیں آگے تک ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ عشق ہی جبرائیل علیہ السلام کا سانس ہے، عشق ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کی حقیقت ہے، عشق ہی اللہ کا رسول ہے اور عشق ہی اللہ کا کلام ہے – یعنی عشق کا تعلق دین کے سب سے مقدس مقامات سے ہے۔ عشق کی مستی سے ہی مٹی کے پتلے (انسان) کا وجود روشن و تابناک ہو جاتا ہے، عشق وہ خالص شراب ہے جو صرف باعزت اور معزز لوگوں کا جام ہے۔ عشق ہی حرم کا فقیہہ (عالمِ دین) بھی ہے اور عشق ہی لشکروں کا امیر بھی ہے، عشق کی راہ کا مسافر بھی ہزاروں مقام رکھتا ہے۔ آخر میں اقبال کہتے ہیں کہ عشق کے ساز سے ہی زندگی کے نغمے پیدا ہوتے ہیں – عشق سے ہی زندگی کی روشنی حاصل ہوتی ہے اور عشق سے ہی زندگی کی حرارت اور جوش و جذبہ ملتا ہے۔

تیسرے بند میں اقبال براہِ راست مسجدِ قرطبہ کو مخاطب کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اے حرمِ قرطبہ، تیرا وجود بھی عشق ہی سے ہے، اور عشق سراپا دوام ہے جس میں کبھی زوال یا تبدیلی نہیں آتی – یہی وہ راز ہے جس کی وجہ سے تو صدیوں سے قائم ہے اور کبھی فنا نہیں ہوا۔ چاہے یہ رنگ ہو یا اینٹ پتھر، ساز ہو یا حرف و آواز – ہر فنی کرشمہ دراصل دل کے خون یعنی عشق و درد سے ہی پیدا ہوتا ہے۔ عشق کی ایک بوند ہی پتھر کو دل بنا دیتی ہے، اور دل کے خون سے ہی سوز، سرور اور نغمہ پیدا ہوتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ تیری فضا دل کو روشن کرنے والی ہے، اور میری آواز سینے کو جلانے والی – تجھ سے دلوں کو حضوری (قربِ الٰہی) نصیب ہوتی ہے اور مجھ سے دلوں کی گتھیاں سلجھتی ہیں۔ اقبال ایک نہایت گہری بات کہتے ہیں: انسان کا سینہ عرشِ معلیٰ سے کم نہیں، اگرچہ ظاہری طور پر انسان محض خاک کی مٹھی ہے جس کی حد نیلگوں آسمان تک ہے – یعنی انسان کا باطنی مقام آسمانوں سے بھی بلند ہو سکتا ہے۔ اقبال یہاں فرشتوں پر انسان کی برتری بھی بیان کرتے ہیں: نورانی وجود رکھنے والے فرشتوں کو سجدہ تو میسر ہے، لیکن انہیں وہ سوز و گداز اور حقیقی تڑپ نصیب نہیں جو انسان کے سجدے میں ہوتی ہے۔ آخر میں اقبال اپنے آپ کو “کافرِ ہندی” کہتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگرچہ وہ ہندوستان سے تعلق رکھنے والے ہیں، مگر ان کا ذوق و شوق بھی دیکھو – ان کے دل میں بھی نماز اور درود ہے، اور ان کے ہونٹوں پر بھی نماز اور درود جاری رہتا ہے۔ اسی بند کا اختتام اس خوبصورت بات پر ہوتا ہے کہ ان کا یہ شوق ان کی لَے (سُر) میں بھی ہے اور ان کے سانس میں بھی، اور اللہ کا ذکر (نغمۂ اللہ ہو) ان کی رگ رگ اور ہر سانس میں بسا ہوا ہے۔

چوتھا بند نظم کا سب سے طویل بند ہے۔ اس کا آغاز اقبال مسجد کے جلال و جمال کی تعریف سے کرتے ہیں – وہ کہتے ہیں کہ تیرا جلال و جمال مردِ خدا کے وجود کی دلیل ہے، تو بھی جلیل و جمیل ہے اور وہ (مردِ خدا) بھی جلیل و جمیل ہے۔ تیری بنیاد پائیدار اور تیرے ستون بےشمار ہیں، ایسے جیسے شام کے صحرا میں کھجوروں کا ہجوم ہو۔ تیرے دروازوں اور چھتوں پر وادیِ ایمن کا نور ہے (وہی نور جو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے طور پر دیکھا تھا)، اور تیرا بلند مینار جبرائیل علیہ السلام کی جلوہ گاہ معلوم ہوتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ مسلمان کبھی مٹ نہیں سکتا، کیونکہ اس کی اذانوں سے حضرت موسیٰ اور حضرت ابراہیم علیہما السلام کا راز بھی ظاہر ہوتا ہے۔ مسلمان کی زمین بےحد و حساب اور اس کا افق بےکنار ہے، اس کے زمانے عجیب اور اس کے فسانے انوکھے ہیں۔ اس کے سمندروں کی موجیں دجلہ، ڈینوب اور نیل جیسے عظیم دریا ہیں، اور اس نے پرانے زمانے کو رخصت کا پیغام دے دیا۔ اقبال اہلِ ذوق کو ساقی اور میدانِ شوق کا شہسوار کہتے ہیں، جس کی شراب خالص رحیق ہے اور جس کی تلوار تیز اور خالص ہے۔ وہ ایک سپاہی ہے جس کی زرہ “لا الہ” ہے، اور تلوار کے سائے میں بھی جس کی پناہ “لا الہ” ہی ہے۔

اس کے بعد اقبال اسی مسجد کے حوالے سے “بندۂ مومن” یعنی سچے مسلمان کی صفات کھول کر بیان کرتے ہیں۔ تجھ سے ہی بندۂ مومن کا راز آشکار ہوا – اس کے دنوں کی تپش اور اس کی راتوں کی نرمی و گداز، اس کا سرور، اس کا شوق، اس کا نیاز اور اس کا ناز، سب تجھ ہی سے ہیں۔ اس کا مقام بلند اور اس کا خیال عظیم ہے۔ بندۂ مومن کا ہاتھ دراصل اللہ کا ہاتھ ہے – وہ غالب، کارآفریں (تخلیق کرنے والا)، مشکلات حل کرنے والا اور ہر کام بنانے والا ہے۔ وہ خاکی بھی ہے اور نوری بھی، اسی مولا کی صفات کا حامل بندہ ہے، اور دونوں جہانوں سے بےنیاز اپنے دل میں غنا (بےنیازی) رکھتا ہے۔ اس کی امیدیں کم مگر مقاصد بہت بلند ہیں، اس کا انداز دلفریب اور اس کی نگاہ دل کو موہ لینے والی ہے۔ وہ گفتگو میں نرم اور جستجو میں پرجوش ہے، جنگ ہو یا صلح – وہ ہر حال میں پاک دل اور کھرا رہتا ہے۔ وہ حق کے پرکار کا نقطہ (مرکز) ہے، اس کا یقین کامل ہے، جبکہ باقی دنیا وہم، طلسم اور فریب میں الجھی رہتی ہے۔ آخر میں اقبال کہتے ہیں کہ عقل کی منزل بھی وہی بندۂ مومن ہے اور عشق کا حاصل بھی وہی ہے – کائنات کے حلقے میں اسی سے محفل کی گرمی ہے۔

پانچویں بند میں اقبال مسجدِ قرطبہ کو “کعبۂ اربابِ فن” یعنی فن کاروں کا کعبہ قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس مسجد سے دینِ مبین کی عظمت اور رعب ظاہر ہوتا ہے، اور یہی مسجد اندلس کے تمام حرموں میں سب سے بلند مرتبے کی زمین ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ اگر آسمان کے نیچے کہیں تیری خوبصورتی کی کوئی نظیر ہے تو وہ صرف مسلمان کے قلب میں ہے، کہیں اور نہیں۔ آہ! وہ حق پر قائم مرد اور وہ عرب کے شہسوار، جو اعلیٰ اخلاق، سچائی اور کامل یقین کے مالک تھے۔ اقبال کہتے ہیں کہ ان اہلِ دل کی حکومت میں شاہی رعب نہیں تھا بلکہ فقر (سادگی و درویشی) تھا – انہی کی حکمرانی نے ہی یہ عجیب راز ظاہر کیا کہ دلوں پر حکومت کرنے کے لیے فقر درکار ہے، بادشاہت نہیں۔ ان اہلِ دل کی نگاہوں نے مشرق اور مغرب دونوں کو عقل کی راہ سکھائی، جبکہ یورپ کی تاریکی میں ابھی عقل کا راستہ ہی معلوم نہیں تھا۔ اقبال کہتے ہیں کہ آج بھی جو اندلسی لوگ خوش دل، ملنسار، سادہ اور روشن پیشانی والے ہیں، وہ دراصل انہی عربوں کے خون کی وجہ سے ہیں۔ آج بھی اس سرزمین میں ہرن جیسی آنکھوں والی خوبصورتی عام ہے، اور آج بھی نگاہوں کے تیر دلوں میں اتر جاتے ہیں۔ آخر میں اقبال کہتے ہیں کہ یمن کی خوشبو آج بھی اس مسجد کی ہواؤں میں محسوس ہوتی ہے، اور حجاز کا رنگ آج بھی اس کی نواؤں (آوازوں) میں موجود ہے – یعنی عرب کی اصل روحانیت اور تہذیب کا اثر اب بھی اس مسجد اور اس خطے میں باقی ہے۔

چھٹے بند میں اقبال تاریخ کے اتار چڑھاؤ پر غور کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ستاروں کی نگاہ میں تیری زمین بھی آسمان جیسی ہے، مگر معلوم نہیں کہ یہ کس وادی اور کس منزل میں ہے۔ افسوس! صدیوں سے تیری فضا اذان سے خالی ہے، اور عشق کے بلاخیز قافلے نے بہت سخت جان سفر طے کیا ہے۔ اسپین اور دنیا نے دین کی اصلاح کے نام پر ایسی شورشیں (ہنگامے) بھی دیکھے جنہوں نے پرانے نقش کا کوئی نشان تک باقی نہ چھوڑا۔ کہیں غلط بات ہی کلیسا کی عصمت (تقدس) بن گئی، اور فکر کی نازک کشتی رواں ہو گئی۔ فرانس کے انقلاب کی آنکھوں نے بھی وہ انقلاب دیکھا جس نے مغرب والوں کی پوری دنیا بدل کر رکھ دی۔ رومی نسل کی ملت جو پرانی روایتوں کی وجہ سے بوڑھی ہو چکی تھی، وہ بھی تجدید (نئے پن) کی لذت سے دوبارہ جوان ہو گئی۔ اقبال کہتے ہیں کہ آج مسلمان کی روح میں بھی وہی اضطراب اور بےچینی ہے – اور یہ اللہ کا ایسا راز ہے جسے زبان بیان نہیں کر سکتی۔ آخر میں اقبال ایک نہایت پرامید سوال چھوڑتے ہیں: دیکھیں اس سمندر کی گہرائی سے اب کیا نکل کر سامنے آتا ہے، اور کیا آسمان کا نیلگوں گنبد اب اپنا رنگ بدلنے والا ہے – یعنی کیا وقت کے ساتھ مسلمانوں کی حالت میں بھی کوئی بڑی تبدیلی آنے والی ہے۔

آخری اور ساتویں بند میں اقبال ایک خوبصورت اور علامتی منظر پیش کرتے ہیں۔ پہاڑی وادی میں بادل شام کی سرخی میں ڈوبے ہوئے ہیں، اور سورج غروب ہوتے ہوئے بدخشاں کے سرخ لعل جیسا رنگ چھوڑ گیا ہے۔ کسی دہقان کی بیٹی کا گیت سادہ اور دردبھرا ہے، اور دل کی کشتی کے لیے جوانی کا زمانہ ایک سیلاب کی مانند ہے۔ کوئی عظیم بہتا دریا تیرے کنارے کسی اور ہی زمانے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ نئی دنیا ابھی تقدیر کے پردے میں چھپی ہوئی ہے، مگر ان کی اپنی نگاہوں میں یہ نئی صبح بغیر کسی پردے کے صاف نظر آ رہی ہے۔ اگر وہ اپنے افکار کا پردہ اٹھا دیں تو مغرب (فرنگ) میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ ان کی آواز کی گونج کا مقابلہ کر سکے۔ اقبال ایک نہایت اہم اصول بیان کرتے ہیں: جس زندگی میں انقلاب نہ ہو، وہ دراصل موت کے برابر ہے – قوموں کی زندہ روح کی اصل زندگی ہی مسلسل کشمکش اور انقلاب میں ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ وہی قوم تقدیر کے ہاتھ میں تلوار کی صورت اختیار کر لیتی ہے جو ہر زمانے میں اپنے عمل کا حساب خود کرتی رہتی ہے۔ نظم کے آخری دو مصرعوں میں اقبال یہ عظیم پیغام دیتے ہیں کہ ہر تخلیق، ہر کارنامہ جگر کے خون یعنی محنت، قربانی اور درد و جذبے کے بغیر ادھورا اور نامکمل رہتا ہے، اور ہر نغمہ بھی جگر کے خون کے بغیر محض ایک خام اور نامکمل خواہش کے سوا کچھ نہیں – یعنی کسی بھی عظیم کام یا تخلیق کے لیے دلی جذبے، محنت اور قربانی کا ہونا لازمی ہے۔

جواب۔ نظم “مسجدِ قرطبہ” علامہ اقبال کے شعری مجموعے “بالِ جبریل” میں شامل ہے۔

جواب۔ یہ نظم اقبال نے 1932-1933 کے اسپین کے سفر کے دوران، قرطبہ کی تاریخی مسجد دیکھ کر لکھی تھی۔

جواب۔ مسجدِ قرطبہ 785ء میں عبدالرحمٰن اول نے تعمیر کروائی تھی۔

جواب۔ نظم “مسجدِ قرطبہ” سات بندوں پر مشتمل ہے، اور ہر بند اپنے اختتام پر ایک مختصر دو مصرعوں والے فقرے پر ختم ہوتا ہے۔

جواب۔ نظم کا مرکزی خیال یہ ہے کہ عشق ہی وہ واحد قوت ہے جو فانی چیز کو دوام بخشتی ہے، اور یہی عشق مسجدِ قرطبہ کے وجود، مردِ مومن کی عظمت اور ملتِ اسلامیہ کی تاریخ میں کارفرما نظر آتا ہے۔

جواب۔ بندۂ مومن کی صفات میں بلند مقام، عظیم خیال، پاک دلی، حق پر یقینِ کامل، دنیا سے بےنیازی اور اللہ کے حکم پر عمل کرنا شامل ہیں۔

A complete band-by-band Urdu Tashreeh of Allama Iqbal’s famous poem Masjid-e-Qurtaba from Bal-e-Jibril, covering the concept of time, ishq, the mosque’s beauty, the qualities of Mard-e-Momin, and the rise and fall of Muslim civilization, explained in simple Urdu for students of Bihar Board, UGC-NET/JRF Urdu, and other Urdu literature exams.