Allama Iqbal Ka Tasawwur-e-Islam | علامہ اقبال کا تصورِ اسلام

علامہ اقبال ایک اسلامی ماحول میں پیدا ہوئے اور اسی ماحول میں پروان چڑھے۔ ان کی روح اور ان کی سرشت میں عشقِ اسلامی رچا بسا تھا۔ ان کے نزدیک دینِ اسلام ایک مکمل نظامِ حیات اور ضابطۂ زندگی ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ دین ہدایت سے مالا مال ہے۔ اسلام کی تفہیم کے حوالے سے سب سے بہترین طریقۂ کار خود حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے زمانے سے ملتا ہے۔

اسلامی فکر کی تفہیم میں اقبال کو واقعی مکمل بصیرت حاصل تھی۔ اقبال کی فکر میں اسلام کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ اقبال نہ صرف پیامبر، شاعر اور فلسفی تھے، بلکہ انہوں نے ہمت و جرأت کے ساتھ عمل اور خدمتِ اسلام کی بھی دعوت دی۔ انہیں اسلام کے بتائے ہوئے اصولوں پر غیر متزلزل یقین تھا۔ ان کے نزدیک فرد کی زندگی میں کامیابی کا مطلب یہ ہے کہ اس کی ذات کا کمال ہو جائے، اور اس مقصد کو حاصل کرنے کا اقبال کی نظر میں صرف ایک راستہ تھا – اور وہ تھا اسلامی تعلیمات پر کار بند رہنا۔ نظمِ “زہد و رندی” میں اقبال کے متعلق ایک مولوی صاحب نے اپنے خیال کا اظہار کچھ اس طرح کیا تھا:

اقبال نے مذہبی عقائد کو جس انداز سے پیش کیا، وہ عام ملاؤں اور فقیہوں کے انداز سے بالکل الگ تھا، اور یہ ان کا انوکھا انداز آخر تک قائم رہا۔ اسی وجہ سے وہ شروع سے ہی یہ کہتے آئے ہیں

اقبال کے نزدیک اسلام ہی انسانی زندگی کے بنیادی مسائل حل کرتا ہے۔ کمیونزم، فاشزم یا دورِ حاضر کے دیگر ساختہ نظریاتِ حیات اسلام کے آگے کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ صرف اسلام ہی ایک ایسی حقیقت ہے جو پوری انسانیت کے لیے باعثِ نجات ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اسلام اور اس کے دیے ہوئے دستور کو دنیا کے سارے سیاسی و معاشی مسائل کا حل سمجھا۔ انہوں نے اسلام کو کوئی فرسودہ اور رفتہ نظام نہیں سمجھا جو اس زمانے میں کام نہ کر سکے، بلکہ اپنے کلام کے ذریعے مسلمانوں کے ذہن نشین کیا کہ اسلام ازلی اور ابدی اصولوں کا حامل دین ہے۔ اقبال نے مسلمانوں سے مخاطب ہو کر واضح طور پر کہا کہ تمہاری پریشانیوں اور مصیبتوں کا اگر کوئی حل ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ تم قرآن کی پیروی کر کے اپنی زندگیوں پر اسلام کو نافذ کرو۔

علامہ اقبال ابتدا ہی سے مختلف نظریات اور افکار سے باخبر رہے، البتہ اسلام ان کی رگ رگ میں بس گیا تھا۔ اقبال کے مطابق اسلام سے وابستگی کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے بدلے جنت مل جائے، بلکہ ان کے پیشِ نظر بات یہ تھی کہ وہ مسلمان کو بےغرض دیکھنا چاہتے تھے۔ بےغرض ہونے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان کا ہر عمل خدا کی رضا اور خوشنودی کے لیے ہو، نہ کہ حور و قصور یا کسی دنیوی فائدے کے لیے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں

علامہ اقبال کے نزدیک اسلام ایک حرکی دین ہے۔ اسی لیے انہوں نے اسلام کو مسلمانوں کی زندگی کے لیے ایک فعال قوت کے طور پر پیش کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ اقبال کے پورے کلام کو دیکھا جائے تو اس کی اساس اسلام اور قرآن پر ہی استوار نظر آتی ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو چار عناصر سے متصف ہونے کی تمنا کرتے ہوئے فرمایا

اسلام اعتدال کا مذہب ہے۔ اقبال کے نزدیک اسلام ایک عملی، روشن خیال اور ترقی پسند دین ہے، جبکہ جاہل پیروں کا دین جامد نظامِ خانقاہی پر استوار ہے۔ 29 دسمبر 1930 کو علامہ اقبال نے الٰہ آباد کانفرنس میں یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ اسلام ہی ایک ایسا دین ہے جس نے مصائب و مشکلات کے باوجود مسلمانوں کی زندگی کو قائم رکھا ہے۔ انہوں نے اسلام کے جمود کو کوئی اہمیت نہیں دی، بلکہ اس کے اندر موجود اجتہاد کی خوبیوں کے قائل رہے۔

اقبال کے پیشِ نظر بنیادی اور ابدی اسلام قرآن میں موجود ہے۔ اقبال کے دل میں یہ بات تھی کہ مسلمانوں کے دل میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے ایک ایسی جماعت ہو، جو علم و حکمت والی اور صاحبِ ایثار جذبہ رکھتی ہو۔ اقبال کے نزدیک اسلام ہمیں محبت کی رسم کو عام کرنے کی تلقین کرتا ہے، اور کچھ نہیں بلکہ یہی اس کی فضیلت ہے، جیسا کہ اقبال کے اس شعر سے پتا چلتا ہے

اقبال کہتے ہیں کہ محبت کی فراوانی اور جہاں گیری کا نام ہی اسلام ہے۔ اقبال کے مطابق مسلمانوں کے غلط نمائندوں نے اس دین کو تنگ نظر کر دیا، یا فقہی و فروعی اختلافات کی بنا پر ایک دوسرے کو کافر قرار دیا، اور جن مکتبوں میں ایسی تعلیم رائج ہو گئی، ان کے بارے میں یوں گویا ہیں

اچھے زمانوں میں انہیں مکتبوں اور خانقاہوں کی بنا پر غیر مسلم متاثر ہو کر اسلام میں داخل ہوتے تھے، لیکن آج انہی کی وجہ سے خود مسلمان بھی ان سے دور بھاگ رہا ہے، کیونکہ اب ان خانقاہوں میں غیر اسلامی طور طریقوں نے جنم لے لیا ہے، اور اب صرف قوالیاں ہوتی ہیں اور کرامات کا بیان کیا جاتا ہے، اب صرف ذکر کی طرف توجہ مبذول کرائی جاتی ہے اور فکر سے اجتناب کیا جا رہا ہے۔ اقبال ان سے خفا ہیں اور کہتے ہیں

اسلام جمود کا نام نہیں ہے، اور نہ ہی یہ خانقاہوں میں مردے کی طرح پڑے رہنے کا نام ہے، بلکہ اسلام زندگی میں حرارت پیدا کرنے کا نام ہے۔ اقبال کے نزدیک اسلام سراپا حرکت اور جدوجہد کا نام ہے۔

اقبال کی فکر پر اسلام کا گہرا رنگ چڑھا ہوا تھا۔ اسی لیے اقبال شناس کہتے ہیں کہ اقبال کی فکر کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ اسلام پر استوار ہے۔ ان کی شاعری میں تنوع تو ہے، لیکن اس کی اساس اسلام اور قرآن پر ہی قائم ہے۔ ان کے نزدیک اسلام اور اس کا دیا ہوا دستورِ حیات دنیا کے تمام سیاسی و معاشی مسائل کا حل ہے۔ انہوں نے دین اور سیاست کو شانہ بشانہ چلانے کے پیغام سے ملت کو آراستہ کرنے کی کوشش کی۔ اسی سلسلے میں ان کا یہ مشہور شعر زبان زدِ خاص و عام ہے

اسلام صرف پانچ فرائض ادا کرنے کا درس نہیں دیتا، بلکہ یہ زندگی گزارنے کے تمام طریقوں اور اصولوں کو واضح طور پر بیان کرتا ہے۔ اس کے لیے اقبال نے اپنے کلام میں جگہ جگہ قرآن کو پیش کیا۔ انہیں قرآن سے اس قدر لگاؤ تھا کہ ہر بڑی مجلس اور کانفرنس میں قرآن کو سب سے پہلے مقدم رکھتے تھے۔ چنانچہ جب اقبال دوسری گول میز کانفرنس میں شرکت کرنے کے لیے جا رہے تھے، اور ہندوستان کے ایک نمائندے کے طور پر جا رہے تھے، تو ان سے کہا گیا کہ آپ کو اس کانفرنس میں شرکت کرنے کے لیے کوئی خاص بات لے کر جانا ہے۔ تو اقبال نے ان سے کہا کہ میرے پاس کچھ نہیں، لیکن قرآن ہے، میں اسی کو پیش کروں گا۔ اقبال کہتے ہیں

اقبال قرآن کے دماغ سے سوچنے والے اور قرآن کی نظر سے دیکھنے والے مفکر شاعر ہیں۔ وہ قرآن میں خطِ زریں (سنہری لکیر) ہونے کی ترغیب دیتے ہیں تاکہ مسلمان کی زندگی میں ایک نیا پن ظاہر ہو جائے۔ وہ اپنے ضمیر پر ہمہ وقت قرآن کے نزول کی خواہش رکھتے نظر آتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر ایک مسلم اس دنیا میں زندہ رہنا چاہتا ہے، تو یہ قرآن کے بغیر ممکن نہیں۔ اقبال نے مسلمانوں کے ذہن نشین کیا کہ اس امت کے مصائب کا کوئی حل نہیں، سوائے اس کے کہ وہ قرآن کی پیروی کریں اور اپنی زندگیوں کو اسلام پر کار بند رکھیں۔ اقبال کو اس معاملے میں مضبوط عقیدہ اور حق الیقین تھا کہ قرآن، قیودِ زمان و مکان کے بغیر، ایک رہبری و منہج ہے۔ وہ ایک ایسی کتاب ہے جو ہر ماحول میں ایک نیا عالم پیدا کر دیتی ہے، اور ہر زمانے کے مطابق حق اور ہدایت کے اصول فراہم کرتی ہے۔ اقبال کا نظریہ تھا کہ مسلمانوں کی حقیقی فلاح و بہبود قرآنی تعلیمات سے وابستہ ہے، اس لیے جو گروہ اس کے احکام کے پابند ہوں گے، وہی زمانے پر فتح پا سکتے ہیں۔

اقبال نے اسلام کے پیشِ نظر جو باتیں بتائیں، ان میں سے ایک نماز ہے، اور انہوں نے اسے پابندی سے ادا کرنے کی تاکید کی ہے، مگر آج ہر مسلمان اسی سے بھاگ رہا ہے۔ اس سے نظر آتا ہے کہ نماز صرف اخلاق اور مذہب کا ذریعہ نہیں، بلکہ ملتِ اسلامیہ کی شیرازہ بندی کا ذریعہ بھی ہے – اسی کی بدولت اتحادِ ملت اور عالمگیر اخوت کا پرچار کیا جا سکتا ہے۔ اسی وجہ سے نماز ہی ایک ایسا ذریعہ ہے جس سے یہ ساری باتیں واضح ہوتی ہیں

اقبال کے نزدیک انسانوں کے اتحاد کے لیے اسلام ہی ایک مضبوط لائحہ عمل ہے۔ اقبال جب بھی اسلام کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو اس سے مراد اس کا روحانی نظام ہی ہوتا ہے۔ اسلام اور مسلم اقبال کے لیے خاص اصطلاحات ہیں، جنہیں انہوں نے اپنے کلام میں کئی جگہ استعمال کیا ہے۔

اقبال نے اسلامی ممالک، اکابرینِ اسلام اور ان کے کارناموں، متبرک مقامات، تعمیرات اور بلادِ ارضِ اسلامیہ سے متعلق کئی موضوعات کو اپنے کلام سے آراستہ کیا۔ انہیں اسلام سے نہایت محبت تھی۔ انہوں نے دلی جذبے سے دہلی، بغداد، قرطبہ، بطحہ اور مدینہ کی عظمتوں اور رفعتوں کا پُرسوز تذکرہ کیا۔

اقبال کے نزدیک قوم و ملت کی بنیاد نسل، زبان یا وطن نظر نہیں آتی، بلکہ توحید نظر آتی ہے۔ اسلام نسلی، خاندانی، لسانی، علاقائی اور باقی تمام تعصبات کا قلع قمع کر کے ایک عالمگیر برادری کو قائم کرتا ہے۔ اقبال نے اسلام کو ایک قابلِ تفہیم اکائی سمجھا، اور یہ بتایا کہ ان امتیازات کی کوئی حقیقت نہیں، اور نہ ہی شیعہ سنی امتیاز میں کوئی خوبی ہے۔ انہوں نے ہمیشہ یہی درس دیا کہ سب قرآن سے وابستہ رہ کر ملیں، اور فرقہ بندی اور طبقاتی امتیازات کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیں۔

اقبال کے نظریۂ اسلام کے پیشِ نظر ان کی اپنی حیدہ نظیر تفسیرِ قرآن اور خود حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس سے یہ وابستگی ہے کہ اقبال سچے عاشقِ رسول کی مانند اسلام کی پاسداری اور آبیاری کی خاطر کوشاں رہے۔ اقبال نے اسلام کی حقیقت کو سمجھا تھا کیونکہ وہ اسلام کے پیغام اور نورِ حضور سے آشنائی حاصل کر چکے تھے۔ اقبال نے “ضربِ کلیم” میں “اسلام” کے عنوان پر ایک نظم لکھی ہے، جس سے اسلام کی حقیقت سمجھی جا سکتی ہے

اقبال نے اسلام کی حقیقت بیان کرتے ہوئے اسلام کا دوسرا نام “فقرِ غیور” رکھا ہے۔ اس فقرے سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ مسلمان کی شناخت یہ ہے کہ وہ اللہ کے سوا کسی کے آگے سرنگوں نہیں ہوتا۔ اسلام سے یہی سبق پیدا ہوتا ہے، اور یہی فقر کی اساس اور اسلامی فکر کی شان ہے۔ اقبال کی فکری اساس اسلام اور قرآن پر ہی استوار ہے۔

اقبال کے نزدیک اسلام مسلمانوں کی پناہ گاہ کی حیثیت رکھتا ہے، اور اسلام ہی کے ذریعے مسلمانوں کی زندگی قائم رہ سکتی ہے۔ اقبال کے کلام میں اسلام سے مراد امن و سلامتی ہے۔ سچ بات تو یہ ہے کہ اقبال جس نظام کو چاہتے تھے، وہ اسلام میں نظر آتا ہے۔ اس کے لیے انہوں نے اپنے غور و فکر اور تلاشِ فطرت کی تحقیق سے دینِ صداقت کو بھی حاصل کیا تھا۔ یہ وہ دینِ فطرت ہے جسے نازل کرنے والا خود خالقِ کائنات ہے، اور جسے آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تکمیل تک پہنچایا۔ یہی وہ دینِ حق ہے جسے اقبال نے اپنی فکر کا منبع، روح کا سکون اور اپنے دل کی دھڑکن کے طور پر پیش کیا ہے۔

دیکھا جائے تو اقبال کی شاعری کا بیشتر حصہ ملتِ اسلامیہ سے وابستہ ہے۔ غرض یہ کہ اقبال خود مسلمان ہیں، اور تمام عالمِ اسلام کو اس کے زیرِ سایہ دیکھنے کے متمنی ہیں۔ ان کا نظریہ یہ ہے کہ اسلام ہی ایک ایسا دین ہے جس کے ذریعے دنیا کی نجات ہو سکتی ہے۔ ان کا ایمان ہے کہ انسانیت، صداقت اور حقیقت کا آسان ترین راستہ اسلام ہی ہے۔

جواب۔ اقبال کے نزدیک اسلام ایک حرکی (Dynamic) دین ہے، جو مسلمانوں کی زندگی کے لیے ایک فعال قوت کے طور پر کام کرتا ہے، اور یہ زندگی گزارنے کے تمام طریقوں اور اصولوں کو واضح طور پر بیان کرتا ہے۔

جواب۔ اقبال کے نزدیک بےغرض عمل کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان کا ہر عمل خدا کی رضا اور خوشنودی کے لیے ہو، نہ کہ حور و قصور یا کسی دنیوی فائدے کے لیے۔

جواب۔ اقبال کے نزدیک قوم و ملت کی بنیاد نسل، زبان یا وطن نہیں بلکہ توحید ہے، اور اسلام نسلی، خاندانی، لسانی اور علاقائی تمام تعصبات کا خاتمہ کر کے ایک عالمگیر برادری قائم کرتا ہے۔

جواب۔ اقبال نے اپنی نظم “اسلام” میں اسلام کا دوسرا نام “فقرِ غیور” رکھا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اللہ کے سوا کسی کے آگے سرنگوں نہیں ہوتا۔

جواب۔ اقبال کے نزدیک نماز صرف اخلاق اور مذہب کا ذریعہ نہیں بلکہ ملتِ اسلامیہ کی شیرازہ بندی، اتحادِ ملت اور عالمگیر اخوت کے پرچار کا ذریعہ بھی ہے۔

جواب۔ اقبال کے نزدیک دین اور سیاست کو ساتھ ساتھ چلنا چاہیے، اور ان کا مشہور شعر ہے کہ جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی۔

A complete and easy Urdu explanation of Allama Iqbal’s concept of Islam (Tasawwur-e-Islam) covering his views on Islam as a dynamic faith, the Quran, prayer and unity, and nationhood based on Tawheed, along with his famous verses, explained in simple Urdu for students of Bihar Board, UGC-NET/JRF Urdu, and other Urdu literature exams.